ریاست پر استحقاق

محمد تہامی بشرIMG-20160602-WA0027

ریاست کے اصلا سیکولر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ریاست کسی مذہبی کی بهی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ کسی غیر مذہبی کی، ریاست نہ اہل مذهب کو الاٹ کردہ رحمانی پلاٹ ہے کہ منکرین مذهب کے لیے برابری کا استحقاق ممنوع ٹهہرے اور نہ ہی لبرلز کے افکار کی تجربہ گاہ ہے کہ وہاں مذهبی نظریات کا چلن حرام ہو. ریاست اصلا خدا کی دی ہوئی اک دنیوی نعمت ہے جس پر بلاتفریق نسل و مذهب سبهی انسانوں کا برابر حق ہے . کسی مذهبی یا لبرل کو یہ حق نہیں کہ انسانوں کے اس ثابت شدہ حق کی نفی کرے. اس مرحلے پراہل مذهب کا تصور اپنی تمام تر منطقوں کے باوجود زیادہ خطرناک ہے جوکسی ریاست کو اصلا مذهبی چیز باور کرتے اور اس کےجملہ حقوق بحق اہل مذهب محفوظ سمجهتے ہیں.پهر وہ اپنے تئیں اپنی اس جاگیر میں سے حقوق بانٹتے بانٹتے اقلیتوں کو  بهی دے دیتے اور پهر جتاتے پهرتے ہیں.حالآنکہ کسی مذهبی یا غیر مذهبی اکثریت کو ریاست اپنے قبضے میں رکهہ کر پهر اس پر حقوق لینے یا دینے کا حق نہیں وہ اگر پابند ہے تو اسی کی کہ ریاست پر اس کے باشندوں کے ثابت شدہ حقوق کی نگہبانی کرے .اہل مذهب ریاست پر کسی انسان کے مساوی حق کی نفی مذهب کی بنیاد پر کرتے ہیں اور اس جسارت پر خدا کی طرف سے کے علاوہ بے شمار منطقی ، نفسیاتی اورانتقامی براهین رکهتے ہیں. کسی ریاست میں بستے خدا کے سبهی بندوں کو اس دنیوی نعمت میں برابر کا شریک سمجهتے ہوئے اہل مذهب مصر ہوں تو ریاست کو اسلامی قرار دینے کا ارماں بهلے پورا کر لیں، چونکہ مسئلہ محض اسلامی نام سے نہیں بلکہ اس نام سے وابسطہ دیگر غیر اسلامی لوازم سے ہے .
اگلی بات یہ کہ کیا یہ لازم ہے کہ ریاست کے سبهی باشندے کسی ایک طرز حیات پر ہی جینے پر مجبورہوں..؟ خدا اپنے بندوں پر کسی طرز حیات کا جبرا نفاذ برا جانتا اور ممنوع ٹهہراتا ہے، لبرل و مذهبی عقلوں کی تو خبر نہیں تاہم عقل عام کا فیصلہ بهی یہی ہے. عقل و مذهب کی رو سے کسی مذهبی غیر مذهبی کو انسان کو دی گئی اس عقیدہ و مذهب کی آزادی میں مداخلت کی اجازت نہیں . بات انفرادی طرز حیات کی ہو تو کهپ سکتی ہے ،جو جس تصور پر چاہے اپنی ذاتی زندگی کی تشکیل کرسکتا ہے، پر ریاست کے نظم اجتماعی کی تشکیل ریاست میں بستے سبهی افراد کی متضاد و مختلف تصورات پرکر دینا عملا ممکن نہیں.تو پهر ریاست پر سبهی باشندوں کے مساوی حق کے باوجود نظم اجتماعی کو تشکیل دینے کا حق کسے دیا جائے..؟ ہر باشندے کو مساوی حق دینا ناممکن اور کسی ایک کو ترجیح دینا باعث نزاع. اس  نزاع سے نکلنے کا ممکنہ حل کیا ہو؟ عقل عام کا کہنا تها جس طرز حیات کو ریاست کی اکثریت قبول کر رہی ہو حکومت بنانا اور نظم اجتماعی کی تشکیل کرنا اسی کا حق ہے مذهب نے امرهم شوری بینهم کہہ کر اسی کی تائید کر دی. جمہور کو اس حق کے ملنے کا مقصد جمہور کو حق کا معیار قرار دے دینا نہیں بلکہ فصل نزاع کی اک ممکنہ حکمت عملی کی تعیین ہے.  مگر عقل و مذهب کی رو سے اکثریت یہ فصل نزاع کی خاطر ملا ہوا حق ، اقلیت کے کسی ثابت شدہ حق کی نفی کرنے میں استعمال نہیں کر سکتی. اگر کسی ریاست کی اکثریت نظم اجتماعی کی تشکیل میں مذهب کی تعلیمات کی پیروی کرنا چاہتی ہے تو اس کے اس مذهبی حق کی نفی کا حق نہ کسی اقلیت کو ہے اور نہ کسی لبرل کو. نظم اجتماعی میں مسلمانوں سے مطلوب خالص مذهبی امورکے مخاطب مسلمان ہی ہوں گے نہ کے غیر مسلم. نظم اجتماعی کے چند مذهبی قوانین پر عمل درآمد کرنے کے لیے غیر مسلموں کو ریاست پر ہی ثانوی حیثیت دینے کی جسارت کی ضرورت ہے اور نہ ہی ریاست کا اصلا سیکولر ہونا مذهب کی نظم اجتماعی سے متعلق هدایات پرعملداری سے مانع ہے. اب اگر مذهبی کہیں کہ مسلم اکثریت کی برکت سے کوئی بهی ریاست قلب ماهیت کر کے مذهبی بن جاتی اور غیر مسلموں کی حیثیت اس میں ثانوی ہو جاتی ہے تو یقینا وہ اک مقدس جسارت پر اتر آئےہیں. اور اگر لبرلز کا اصرار ہو کہ کسی ریاست کی اکثریت سرے سے اپنے مذهب کے مطابق نظم اجتماعی تشکیل دے ہی نہیں سکتی تو بلاشبہہ وہ انسانوں کی حق تلفی اور توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں . انفرادی معاملہ ہو یا اجتماعی قضیہ ، انسانوں پر جبرا نافذ کرنا یا جبرا نافذ نہ کرنے دینا اک بدترین جرم اور خدا کے انسانوں کو دی ہوئی آزادی میں ناجائز مداخلت ہے . انسانوں پر کسی "حق" کا جبرا نفاذ اسی طرح ناحق ہے جس طرح کسی "ناحق" کا جبرا نفاذ حق نہیں .

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *