بدعنوانی کا ادراک

Ayesha Siddiqa

ایسا لگتا ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے نہایت برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بدعنوانی کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی کردیا ہے ۔’’فارن سروس جنرل ‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں بہت سے مضامین بدعنوانی کی نشاندہی کرتے ہیں، بلکہ کئی ایک تو اسے ’’مواقع کو تباہ کرنے اور انتہا پسندی بڑھانے والا عامل اور بدترین سماجی خطرہ ‘‘قرار دیتے ہیں۔ بہت جلد ہم دنیا بھر میں امریکی کلائنٹس کو دعویٰ کرتے سنیں گے کہ دہشت گردی کا اور بدعنوانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ چنانچہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف کارروائیاں ترجیحی بنیادوں پر کی جارہی ہیں اور اوباما انتظامیہ نے اس مسلے کواجاگر کرتے ہوئے جمہوریت کو مضبوط کرنے کی وسیع تر کوشش کی ہے ۔
اگرچہ اس میں کوئی دوآرا ہوہی نہیں سکتیں کہ بدعنوانی، چاہے اس کا ارتکاب کوئی بھی کرے، ایک خوفناک جرم ہے ۔ تاہم بدعنوانی کا تعلق صرف وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہی نہیں بلکہ ریاست اور معاشرے میں پھیلی ہوئی بے انصافی بھی بدعنوانی کی ہی ایک شکل ہے ۔ یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ بدعنوانی عام افراد کو متاثر نہیں کرتی۔ یقیناًکرتی ہے ، کیونکہ اس کی وجہ سے آگے بڑھنے کے مواقع ضائع ہوجاتے ہیں اور احساسِ محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ تاہم امریکہ کی طرف سے اس پر زور دیے جانے کے بعدچند ایک معاملات کو مدِ نظر رکھنا ہوگا۔ سب سے پہلا سوال تو یہ طے کرنا ہے کہ بدعنوانی کا نظام کیا ہے ؟درحقیقت یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں نہ صرف افراد یا گروہ وسائل کی لوٹ مار میں براہِ راست ملوث ہوتے ہیں بلکہ وہ بھی جن کے ذمے اس نظام کی نگرانی ہوتی ہے ۔ چنانچہ بدعنوانی صرف معاشی ہی نہیں ، سیاسی اور فکری پہلو بھی رکھتی ہے ۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جس کا سد باب کرنے کے لیے اس کے تمام پہلووں کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے ۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ معاشروں کو اپنے اداروں کو توانا کرنا چاہیے، اور سماجی ذمہ داری کے احساس کی آبیاری کرتے ہوئے اس خطرے کو جڑسے اکھاڑنے کا چارہ کرنا چاہیے ۔ پاکستان میں ہمارے سامنے جو سوال ہے ، اور جو ہمیں خود سے ضرور پوچھنا چاہیے ، وہ یہ ہے کہ 1980کی دہائی سے بدعنوانی کے خاتمے کی مسلسل کوششوں کے باوجود کیوں مختلف حکومتیں(فوجی اور سولین)یہ مسلۂ حل کرنے میں ناکام رہیں؟ایسا اس لیے نہیں ہوا کہ یہ چند افراد کا مسلۂ نہیں ہے ، تمام نظام اس کے خاتمے کی ذمہ داری اٹھانے میں ناکام رہا۔ کئی برسوں سے ، آنے والے ہر حکمران نے بدعنوانی کے خاتمے کا نعرہ لگا کراپنے سیاسی مخالفین کی سرکوبی کی کوشش تو کی ، لیکن اس کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نہ اٹھائے ۔اس کا نقصان یہ ہو ا کہ اوّل کو سیاسی مخالفین کو پکڑا ہی نہ جاسکا، اور جن پر ہاتھ ڈالا گیا، وہ سزا سے صاف بچ نکلے ۔ اس سے عوام میں یہ تاثر تقویت پاگیا کہ ریاست کے وسائل لوٹ کر سزا سے بچنا بہت آسان ہے ۔
واپس بدعنوانی کے حوالے سے امریکی دباؤ پر آجائیں، تو یہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے کہ آخر امریکہ نے اتنی دیر تک اس مسلے سے صرفِ نظر کیوں کیے رکھا حالانکہ لاطینی امریکہ، جنوبی امریکہ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں اس کے پارٹنر ہوشربا بدعنوانی میں ملوث تھے؟یہ بھی ممکن ہے کہ اوباما انتظامیہ نے پرانی فائلوں کو کھولا ہو کہ تاکہ پتہ چلاسکیں کہ بدعنوانی کتنا خطرناک مسلۂ ہے ، جیسا کہ انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ برائے سولین سکیورٹی، جمہوریت اور ہیومین رائٹس، ساراسویل (Sarah Sewall) کاکہنا ہے ...’’شہریوں کے لیے اس سے زیادہ کوئی عامل حوصلہ شکن، تباہ کن اور مایوس کن نہیں ہوتا جتنا یہ دیکھنا کہ ان کا ریاستی نظام آلودہ ہے ، اور اربابِ اقتدار اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے اپنے عوام کے مستقبل پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور ناجائز ذرائع سے چرائی گئی دولت کے انبار دنیا بھر میں موجود بظاہر جائز مالیاتی اداروں میں محفوظ کررہے ہیں۔ ‘‘حقیقت یہ ہے کہ لاطینی امریکہ میں کئی ایک باغی تحریکیوں کے ابھرنے کی وجہ امریکی عظیم کمپنیوں کی بدعنوانی رہی ہے ۔ کچھ تحریکوں نے امریکی فورسز کی جنگوں کے نتیجے میں جنم لیا۔ اس صورتِ حال میں واشنگٹن کے لیے سبق یہ ہے کہ بہت سی انتہا پسندی کی موجودہ تحریکیں دراصل عام لوگوں کا بدعنوانی اور بدعنوانی کی سرپرستی کرنے والی سیاسی قیادت کے خلاف ردِ عمل ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بدعنوان حکمران اُن پر مغرب کی طرف سے مسلط کردہ ہیں۔ یہاں لکیر کہاں کھنچی جائے ؟
حالیہ دنوں بدعنوانی پر یکا یک زور دینے کے لیے باوجود واشنگٹن کو اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے کی ضرورت ہے درحقیقت بدعنوانی اور دھشت گردی میں براہِ راست کو ئی تعلق نہیں، تاوقتیکہ اس کی وضاحت کا دائرہ پھیلادیا جائے ۔ اگر بدعنوانی اور مس مینجمنٹ ہی دھشت گردی اور انتہا پسندی کی اصل وجوہ ہوتیں تو مغرب کے بہت سے ممالک، بلکہ آئس لینڈ، جن کی قیادت بدعنوانی کے الزمات کی زد میں آئی، بھی انتہا پسندی کا گڑھ ہوتے ۔ یقیناًامریکہ میں سیاہ فام افراد کے ساتھ منفی سلوک اور عدالت کی طرف سے اس کا مداوہ کرنے میں ناکامی سے یہ تاثر ضرور ملتا ہے کہ امریکہ میں بھی یہ مسلہ موجود ہے ۔ اس کے ردِ عمل میں سیاہ فام افراد تشدد کا سہار ا بھی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم قابلِ غور سوال یہ ہے کہ دنیا کے کچھ حصوں میں بدعنوانی نے ویسی انتہا پسندی اور مذہبی عصبیت کیوں پیدا نہیں کی جیسی دنیا کے بعض حصوں میں دکھائی دیتی ہے ۔ مزید یہ کہ کیا سٹیٹ ڈپارٹمنٹ انتہا پسندی کی جامع تعریف کرنے کے قابل ہوچکاہے ؟
اگر امریکی افسران کچھ مزید پرانی فائلیں کھول کردیکھیں توایک سوال یہ بھی اٹھے گادنیا کے مختلف حصوں میں انتہا پسندی اور دھشت گردی کی آگ آخر بھڑکی کیسے ؟اگلے ہی لمحے اس کا جواب ملے گا کہ امریکی مفادات کے تحفظ اور سکیورٹی ضروریات کے لیے دنیا کے مختلف خطوں میں انتہا پسندی کی زہریلی فصل کاشت کی گئی۔کشمکش کا شکار علاقوں میں امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے مقامی پارٹنر کی تلاش اور تخلیق بدعنوانی کی سب سے خوفناک قسم تھی اور ہے ۔ جنوبی ایشیا ، خاص طور پر پاکستان کی طرف دیکھیں تو اس کے کئی ایک رہنماؤں نے اپنے قومی مفادات کا سودا کیا، اور بعض نے تو ’’مونگ پھلی ‘‘ کے عوض قومی مفادات بیچ دیے ۔ سوویت فورسز کو افغانستان سے نکالنے کے لیے لڑی جانے والی جنگ نے پاکستان اور افغانستان کے معاشروں کو انتہا پسندی سے بھر دیا۔ اپنی کتاب میں سابق سیکرٹری دفاع، رابرٹ گیٹس بتاتے ہیں کہ 1970کی دہائی میں مجاہدین تخلیق کرنے کے لیے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان عملی تعاون موجود تھا۔کئی عشروں کے بعد پاکستان تبدیل ہوگیا اور اس معاشرہ انتہا پسندی کا گڑھ گیا ۔
یقیناًیہ بات حیرت انگیز ہے کہ اب امریکہ بدعنوانی پر زور دے رہا ہے ، لیکن ماضی کا جائزہ لے کر غلطیوں کا احساس کرنے سے بھی بعض اوقات ہونے والے نقصان کا مداوہ نہیں ہوتا؟دنیا بھر کے فوجی ادارے غیر ریاستی عناصر کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاہم ’’مہذب اور طاقتور فوجیں ‘‘بدعنوانی کے ایجنڈے کو بھی سیاسی مخالفین کا اقتدار ختم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ امید ہے کہ ہم پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ میں اپنا کندھا کسی کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *