ذرا سی تھپکی، تھوڑی سی شفقت

 مفتی محمد وقاص رفیع

mufti waqas rafi

مسز تھامسن امریکہ کے ایک چھوٹے سے شہر ’’گارلینڈ‘‘ میں پرائمری سکول کی پانچویں کلاس کی ایک ٹیچر تھیں۔ ان کی عادت یہ تھی کہ وہ کلاس شروع کرنے سے پہلے کلاس کے تمام بچوں کو i love you بولا کرتی تھیں ۔ مگر وہ جانتی تھیں کہ وہ سچ نہیں کہتیں ، وہ کلاس کے تمام بچوں سے یکساں پیار نہیں کرتی تھیں ۔
کلاس میں ایک ایسا بچہ بھی تھا جو مسز تھامسن کو ایک نظر نہ بھاتا ، اس کا نام جیڈی تھا ۔ جیڈی میلی کچیلی حالت میں سکول آیا جایا کرتا ، اس کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ، جوتوں کے تسمے کھلے ہوئے ، قمیص کے کالر پر میل کے نشانات ۔۔۔ لیکچر کے دوران بھی اس کا دھیان کہیں اور ہوتا ۔
مسز تھامسن کے ڈانٹنے پر وہ چونک کر انہیں دیکھنے تو لگ جاتا مگر اس کی خالی خولی نظروں سے انہیں صاف پتا لگتا رہتا کہ جیڈی جسمانی طور پر تو کلاس میں موجود ہے لیکن دماغی طور پر وہ یہاں سے غائب ہے ، چنانچہ رفتہ رفتہ مسز تھامسن کو جیڈی سے نفرت سی ہونے لگی ، کلاس میں داخل ہوتے ہی جیڈی ٗمسز تھامسن کی سخت تنقید کا نشانہ بننے لگتا ، ہر بری مثال جیڈی کے نام سے منسوب کی جاتی ، بچے اس پر کھلکھلاکر ہنستے اور مسز تھامسن اس کی تذلیل کرکے تسکین حاصل کرتیں ، البتہ جیڈی نے مسز تھامسن کی کسی بات کا کبھی کوئی جواب نہیں دیا ۔ جیڈی مسز تھامسن کو ایک بے جان پتھر کی طرح لگتا ، جس کے اندر احساس نام کی کوئی چیز نہ ہو ، ہر ڈانٹ ، طنز اور سزا کے جواب میں وہ بس اپنے جذبات سے عاری نظروں سے مسز تھامسن کو دیکھتا اور سرجھکا لیتا ۔
مسز تھامسن کو اب جیڈی سے شدید چڑ ہوچکی تھی ، پہلا سیمسٹر ختم ہوا اور رپورٹیں بنانے کا مرحلہ آیا تو مسز تھامسن نے جیڈی کی پروگریس رپورٹ میں اس کی تمام برائیاں لکھ ماریں ۔پروگریس رپورٹ والدین کو دکھانے سے پہلے ہیڈ مسٹریس کے پاس جایا کرتی ، انہوں نے جب جیڈی کی رپورٹ دیکھی تو مسز تھامسن کو بلالیا : ’’مسز تھامسن! پروگریس رپورٹ میں کچھ تو پروگریس بھی نظر آنی چاہیے ، آپ نے تو جوکچھ لکھا ہے اس سے تو جیڈی کے والدین بالکل ہی ناامید ہوجائیں گے ‘‘ ہیڈ مسٹریس نے تعجب انگیز اور سوالیہ انداز میں پوچھا’’میں معذرت خواہ ہوں ، مگر جیڈی ایک بالکل ہی بدتمیز اور نکما بچہ ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ میں اس کی پروگریس کے بارے میں کچھ لکھ سکوں گی‘‘ مسز تھامسن نفرت انگیز لہجے میں بول کر وہاں سے اٹھ آئیں۔
ہیڈ مسٹریس نے ایک عجیب حرکت کی ، انہوں نے ا سکول کے چپڑاسی کے ہاتھ مسز تھامسن کی ڈیسک پر جیڈی کی گزشتہ سالوں کی پروگریس رپورٹس رکھوادیں ۔ مسز تھامسن کلاس میں داخل ہوئیں تو ان کی نظر رپورٹس پر پڑی ، اُلٹ پلٹ کر دیکھا تو پتاچلا کہ یہ جیڈی کی رپورٹس ہیں ، پچھلی کلاسوں میں بھی اس نے یقیناً یہی گل کھلائے ہوں گے ۔ انہوں نے سوچا اور تیسری کلاس کی رپورٹس کھولیں ، رپورٹ میں ریمارکس پڑھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ رپورٹس اس کی تعریفوں سے بھری پڑی ہیں ۔’’ جیڈی جیسا ذہین بچہ میں نے آج تک نہیں دیکھا ‘‘ ۔’’انتہائی حساس بچہ ہے اور اپنے دوستوں اور ٹیچر سے بے حد لگاؤ رکھتا ہے‘‘۔’’آج سیمسٹر میں بھی جیڈی نے پہلی پوزیشن حاصل کرلی ہے ‘‘۔
مسز تھامسن نے غیر یقینی کی حالت میں چوتھی کلاس کی رپورٹس کھولیں : ’’جیڈی نے اپنی ماں کی بیماری کا بے حد اثر لیا ہے ، اس کی توجہ پڑھائی سے ہٹ رہی ہے‘‘۔ ’’ جیڈی کی ماں کو آخری اسٹیج کا کینسر تشخیص ہواہے ، گھر میں اس کا اور کوئی خیال رکھنے والا نہیں ہے ،جس کا گہرا اثر اس کی پڑھائی پر پڑا ہے‘‘۔ ’’ جیڈی کی ماں مرچکی ہے اور اس کے ساتھ ہی جیڈی کی زندگی کی رمق بھی ۔۔۔ اسے بچانا پڑے گا اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے ‘‘۔
مسز تھامسن پر لرزہ طاری ہوگیا ۔کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے پروگریس رپورٹس بند کیں، آنسو ان کی آنکھوں سے ایک ایک کرکے گر رہے تھے ۔اگلے دن جب مسز تھامسن کلاس میں داخل ہوئیں تو انہوں نے اپنی ہمیشہ کی عادت کی طرح اپنا وہی روایتی جملہ : i love you all دہرایا ، مگر وہ جانتی تھیں کہ وہ آج بھی جھوٹ بول رہی ہیں ، کیوں کہ کلاس میں بیٹھے بکھرے بالوں والے بچے جیڈی کے لئے جو محبت آج وہ اپنے دل میں محسوس کر رہی تھیں وہ کلاس میں بیٹھے کسی اور بچے کے لئے ہوہی نہیں سکتی تھی ۔
لیکچر کے دوران انہوں نے حسب معمول ایک سوال جیڈی پر داغا اور ہمیشیہ ہی کی طرح جیڈی نے اپنا سرجھکالیا ، جب کچھ دیر تک مسز تھامسن کی طرف سے کوئی ڈانٹ پھٹکار اور ہم جماعت ساتھیوں کی جانب سے ہنسی کی آواز اس کے کانوں میں نہ پڑی تو اس نے اچھنبے میں آنکھ اٹھاکر مسز تھامسن کی طرف دیکھا ، مگر خلاف توقع آج ان کے ماتھے پر بل نہ تھے ،بلکہ آج وہ مسکرارہی تھیں ۔ انہوں نے جیڈی کو اپنے پاس بلایا اور اسے سوال کا جواب بتاکر زبردستی دہرانے کے لئے کہا، جیڈی تین ، چار دفعہ کے اصرار کے بعد بالآخر بول ہی پڑا ، اس کے جواب دیتے ہی مسز تھامسن نے نہ صرف خود پر جوش انداز میں تالیاں بجائیں بلکہ باقی تمام بچوں سے بھی تالیاں بجوائیں ، پھر تو یہ روز کا معمول بن گیا ۔ مسز تھامسن ہر سوال کا جواب جیڈی کو خود بتاتیں اور پھر اس کی خوب پذیرائی کرتیں اور ہر اچھی مثال جیڈی سے منسوب کرنے لگتیں ۔ چنانچہ رفتہ رفتہ جیڈی اپنے طویل سکوت کی قبر پھاڑ کر باہر آگیا اور اب مسز تھامسن کو ہر سوال کا جواب بتانے کی زحمت نہ اٹھانی پڑتی ، بلکہ جیڈی خود ہی درست جوابات دے کر کلاس کے تمام بچوں کو متاثر کرتا اور نت نئے سوالات پوچھ کر سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ۔ اس کے بال اب کسی حد تک سنورے ہوتے ، کپڑے بھی کافی حد تک صاف ہوتے، جیسے شاید وہ خود دھونے لگا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے سال ختم ہوگیا اور یوں جیڈی نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی ۔ الوداعی تقریب میں سب بچے مسز تھامسن کے لئے خوب صورت تحفے تحائف لے کر آئے اور مسز تھامسن کے ٹیبل پر ڈھیر کرنے لگے ، ان خوب صورتی سے پیک کیے ہوئے تحائف کے بیچوں بیچ ایک پرانے اخبار میں بدسلیقہ طرز پر پیک کیا ہوا ایک تحفہ بھی پڑا تھا ، بچے اسے دیکھ کر ہنس پڑے اور کسی کو یہ بات جاننے میں ذرا بھی دیر نہ لگی کہ تحفہ کے نام پر یہ چیز جیڈی ہی لایا ہوگا ۔ مسز تھامسن نے تحائف کے اس چھوٹے سے پہاڑ میں سے لپک کر اسی بدسلیقہ تحفہ کو نکالا ، کھول کر دیکھا تو اس کے اندر ایک لیڈیز پرفیوم کی آدھی استعمال شدہ شیشی اور ہاتھ میں پہننے والا ایک بوسیدہ سا کڑا تھا، جس کے زیادہ تر موتی جھڑ چکے تھے ، مسز تھامسن نے خاموشی کے ساتھ اس پرفیوم کو خود پر لگایا اور ہاتھ میں کڑا پہن لیا ۔ بچے یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ اور خود جیڈی بھی۔لیکن آخر جیڈی سے رہا نہ گیا اور وہ مسز تھامسن کے قریب آکر کھڑا ہوگیا ، کچھ دیر بعد وہ اٹک اٹک کر مسز تھامسن کو بتانے لگاکہ : ’’آج آپ سے بالکل میری ماں جیسی خوشبو آرہی ہے ‘‘ ۔
وقت پر لگاکر اُڑنے لگا، دن ٗ ہفتوں ، ہفتے ٗ مہینوں اور مہینے ٗسال میں بدلتے بھلا کہاں دیر لگتی ہے؟مگر ہر سال کے اختتام پر جیڈی کی طرف سے ایک خط مسز تھامسن کو باقاعدگی کے ساتھ موصول ہوتا ، جس میں لکھا ہوتا کہ : ’’میں اس سال بہت سارے نئے ٹیچرز سے ملا ، مگر آپ جیسا کوئی نہیں دیکھا‘‘۔پھر جیڈی کا اسکول ختم ہوگیا اور خطوط کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔ کئی سال مزید گزرگئے اور مسز تھامسن ریٹائر ہوگئیں ۔ ایک دن انہیں اپنی ڈاک میں جیڈی کا خط ملا جس میں لکھا ہوا تھا: ’’اس مہینہ کے آخر میں میری شادی ہے اور میں آپ کی موجودگی کے سوا شادی کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ ایک اور بات۔۔۔’’ میں اپنی زندگی میں بہت سارے لوگوں سے مل چکا ہوں مگرمیں نے آج تک آپ جیسا کسی کو نہ پایا ۔ ڈاکٹر جیڈی الفریڈ ‘‘۔
ساتھ ہی’’ ٹیکساس‘‘ کا ریٹرن ٹکٹ بھی لفافے میں موجود تھا ۔ مسز تھامسن خود کو ہر گز نہ روک سکتی تھیں ۔ انہوں نے اپنے شوہر سے اجازت لی اور’’ ٹیکساس‘‘ روانہ ہوگئیں ۔ شادی میں ابھی کچھ دن باقی تھے اور وہ جیڈی کو شادی کے دن ہی سرپرائز دینا چاہتی تھیں ، اس لئے وہ ایک ہوٹل میں رک گئیں ۔ عین شادی کے دن جب وہ چرچ پہنچیں تو تھوڑی لیٹ ہوچکی تھیں ۔ انہیں لگا جیسے شادی کی تقریب ختم ہوچکی ہوگی ۔ مگر یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ شہر کے بڑے بڑے ڈاکٹر ، بزنس مین اور یہاں تک کہ چرچ کا پادری بھی اکتایا ہوا کھڑا تھا ، مگر جیڈی رسومات کی ادائیگی کے بجائے گیٹ کی طرف ٹکٹکی لگائے مسز تھامسن کی آمد کا منتظر تھا ۔ مسز تھامسن کے پہنچتے ہی جیڈی نے ان کا ہاتھ پکڑا جس میں انہوں نے اب تک وہ بوسیدہ سا کڑا پہن رکھاتھا اور وہ انہیں سیدھا اسٹیج پر لے گیا اور مائیک ہاتھ میں پکڑ کر اس نے اعلان کیا: ’’حضرات گرامی! آپ سب ہمیشہ مجھ سے میری ماں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں نے سب سے وعدہ کر رکھا تھا کہ جلد ہی آپ سب کومیں ان سے ملواؤں گا ۔۔۔ یہ ہیں میری ماں۔۔۔‘‘۔
قارئین کرام ! استاد شاگرد کی اس لازوال داستان کو محض ان کے باہمی رشتے تک ہی محدود مت رکھیے گا بلکہ اپنے آس پاس بھی نظر دوڑایئے گا جہاں جیڈی جیسے کئی ایک خوبصورت پھول مرجھا رہے ہیں ، جنہیں آپ کی ذرا سے توجہ ، محنت ، محبت ، حوصلہ افزائی ، تھپکی اور شفقت ایک نئی زندگی فراہم کرسکتی ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *