رمضان ایک عبادت،حقیقت اور۔۔۔ایک پیغام

حبیب الرحمن

habib ul rehamn

رمضان ہدایت کا مہینہ ہے او ر قرآن ہدایت کی کتاب۔رات کو نمازوں کا قیام اوردن کو روزے میں گہرا تعلق ہے۔کھانا پینا اور سو لینا دنیا کا بیکار ترین مشغلہ ہے اگر کھانا اور سو لینا ترک بھی کر دیا جاتا ہے تواس کے پیچھے بھی کوئی دنیاوی خوشی یا مقصد ہوتا ہے ۔ہدایت دراصل یہ ہے کہ آدمی جینے کی غرض جانے اور بہتر زندگی کا زر پائے۔تقوٰی اس اعلیٰ اور ارفع زندگی کا دوسرا نام ہے یوں سمجھیں کہ روزے اور قیام کی ایک ماہ کی مدت کی محنت اسی مقصد کے لئے ہے اس ماہ میں اگر بندگی کا عہد پختہ نہ ہوا،اپنے روزوں کی شکل میں اللہ کواپنا آپ پیش نہ کر سکے تو اللہ کو اناج اور غلے کی کمی تو درپیش نہیں اس سے بڑی غلطی اور جرم کیا ہو گاکہ روزوں کی عبادت جو ہے ہی ایک مقصد کا نام وہ ہمارے ہاتھوں بے مقصد ہو کر رہ جائے۔تب اسے عبادت کہا ہی نہیں جا سکتا۔
نبی اکرمﷺ نے اپنی امت کے روزے داروں کے لئے پانچ خصوصیتیں ارشاد فرمائی ہیں جس کے مطابق ماہِ رمضان روزہ دار کے لئے محنت کا مہینہ ہے اور اس کے آخر میں مزدور(روزہ دار) کو مزدوری دی جاتی ہے’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور اکرمﷺسے نقل کیا ہے کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں خصوصی طور پر دی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں (۱)یہ کہ ان کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے(۲)یہ کہ ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں (۳)جنت ہر روز ان کے لئے آراستہ کی جاتی ہے پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے(دنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کراتری آویں (۴)اس میں سرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں(۵)رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ شبِ مغفرت،شبِ قدر ہے فرمایا نہیں بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے‘‘
روزہ اگرچہ عادت نہیںِ ،مگر عبادت ہے اس لئے اس مہینے میں نیکیاں ضرور پھوٹنی چاہئیں اور برائی مکمل ختم ہونی چاہیے۔ماہِ رمضان کو روزوں کے علاوہ قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے اور تنگ دستوں کوکھلا کھلا کر خوش کرنے کا مہینہ بھی کہا گیا ہے ویسے تو قرآن ہروقت زیادہ سے زیادہ پڑھا جائے مگر ماہِ رمضان میں خصوصاََتلاوت قرآن کا اہتمام کیا جائے۔قرآن پڑھنے سے اگر کچھ وقت بچے توسنت و سیرتِ نبویؐ کا مطالعہ کیا جائے۔سیرت کی کتب ایسی نہیں جو پڑھ رکھی ہونا ہی کافی نہیں بلکہ سیرت باربار پڑھنے کی چیز ہے اگر کسی صاحب کو اعتکاف بیٹھنے کی سعادت نصیب ہو تو وہ دوسری چیزوں اور عبادات کے ساتھ ساتھ مطالعہِ سیرت کا بھی اہتمام کرے۔
روزہ رکھ کر بھوکے اور نادار مسلمان کا احساس ہوجانا بھی روزے کا ایک مقصد ہے مسکینوں کھلانا بھی اس مہینے کا ایک بہترین عمل ہے اگر کچھ پکایا جائے تو غریبوں اورپڑوسیوں کا حصہ نکال کر بھیجا جائے۔کسی کو اگر کچھ دیا جائے تو عزت و احترام سب سے پہلے۔۔۔جو غریب کو کچھ بھی نہیں دے سکتاوہ محبت اورپیار تو دے سکتاہے۔
آ ج کل بڑی بڑی افطاریاں عموماََ پیسے کی نمائش ہوتی ہیں اگر ایک مالدار شخص افطاری کا اہتمام کروائے بھی تو وہ مالداروں کو نہیں بھولتا،یاد تو بس غریب نہیں رہتے۔۔ اگر مالدار کو افطاری پر بلانا بھول بھی جائیں تو کتنی بار معذرت ہوتی ہے اسِ ’’گناہ‘‘کا’’ کفارہ‘‘ تک ادا کیا جاتا ہے۔جواب میں دوسرے مالدار بھی ان کے ساتھ خوب’’ نیکی‘‘ کرتے ہیں ۔اور اگر کوئی غریب قسمت کا مارا ایسی دعوت پر چلا بھی جائے تو شاید وہ واپس بھوکا ہی جانا پسند کرے گا۔۔۔
یہاں مطلب یہ نہیں کہ کھانے پینے ،عزیزوں اور دوستوں کوروزہ افطار کروانے میں کوئی حرج ہے مگر یہ مقصد ضرور ہے کہ اصل نیکی توغریب کا پیٹ بھرنا ہے اگر یہ کام ہو رہا ہے توپھر کسی کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں۔۔۔۔مگر کیا ہم نے کبھی مالداروں کو ماہِ رمضان میں غریبوں اور یتیموں کا پتا پوچھتے ان کے گھر تلاش کرتے پایا ۔۔۔یا امیر کوکھانا اٹھا کر غریب کے گھر کارخ کرتے پایا ۔۔۔اس کے علاوہ امیر کو غریب کے ساتھ ایک برتن میں کھاتے ہوئے کتنی بار دیکھاہاں البتہ۔۔۔اپنی کلاس کے لوگوں کے ساتھ توپارٹیاں نوش فرمائی جاتی اکثر ملاحظہ ہوئی ہوں گی۔آج کل تو اچھے اور بڑے بڑے ہوٹلوں میں بھی یہ ’’عبادت‘‘ہو رہی ہے۔۔۔۔۔تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ہر کلاس کے لوگوں کواسی کلاس کے مولانا بھی مل جاتے ہیں۔۔۔مگر اللہ پاک کا شکر ہے کہ کھا پی کر نمازباجماعت تو ہر جگہ ہوتی ہے۔۔۔۔۔!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *