آسٹریلیا کے درمیان میں الورو سرخ چٹان

MHTمستنصر حسین تارڑ

اور آسٹریلیا کی ویران وسعت کے عین درمیان میں ایک ایسی ویرانی میں جہاں سے نزدیک ترین انسانی آبادی ایلس سپرنگ تقریباً چار سو کلو میٹر کے فاصلے پر تھی اور جہاں سیاحوں کے لیے ایک مختصر قصبہ تھا وہاں کی پہلی شب ہم صحرا کے اندر گئے۔۔۔ پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر دنیا کی سب سے بڑی چٹان ہموار میدان میں 9 کلو میٹر طویل سرخ چٹان الورو ابھی تک ڈھلتی دھوپ میں دکھائی دے رہی تھی۔۔۔ ہم سیاحوں کے اس مختصر گروپ کے ساتھ جنہوں نے ’’خاموشی کی آوازیں‘‘ نام کے بیچ صحرا ڈنر کے لیے سینکڑوں ڈالر جلائے تھے، ایک کوچ میں سوار ہو کر صحرا کی جانب گئے، پھر کچھ دور پیدل چلے اور پھر ایک نسبتاً بلند سطح پر جہاں سے سرخ چٹان کی عظمت پورے شباب پر تھی ہم ٹھہر گئے کہ ہم نے اس حیرت انگیز چٹان کو غروب کے منظر میں اترتے دیکھنا تھا۔ ایک موسیقار ابور خبل لوگوں کا ایک بھونپو نما سا ز پھونک رہے تھے اور اُس کی قدیم جنگلی آواز سرخ چٹان کے آس پاس پھیلے بارشوں سے سر سبز ہو چکے صحراؤں میں سرگرداں ہوتی تھی۔۔۔ یہ کسی حد تک سوئٹزر لینڈ کے قدیم زمانوں کے اُس ساز سے مشابہت رکھتا تھا جس میں پھونک مار کر پہاڑوں میں اپنے رشتے داروں کو بلایا جاتا تھا۔ تقریباً دو گز لمبے اس ساز میں پھونک مارنے کے لیے مضبوط پھیپھڑے اور سانس درکار تھا۔۔۔ میمونہ نہایت دھیان سے اس قدیم موسیقی کو سنتی رہی۔۔۔ یہاں سیاحوں کے لیے باریک اور پتلے گلاسوں میں آسٹریلیا کی مشہور وائن ’’شیراز‘‘ سرو کی جا رہی تھی اور جب میں نے ایک بہت موٹے آسٹریلوی کو بتایا کہ شیراز دراصل ایران کا ایک شہر ہے اور دنیا بھر میں وہاں کی انگوروں کی شراب مشہور تھی جس کا نام ہی ’’شیراز‘‘ تھا تو وہ غریب خوفزدہ سا ہو گیا ’’تمہارا مطلب ہے ملّاؤں کا ایران۔۔۔ وہ شراب بھی کشید کرتے ہیں‘‘ تو میں نے اُسے تسلی دی ’’یہ پرانے زمانوں کے قصے ہیں، شیراز کے لوگ اندلس میں اپنی انگور کی بیلیں لے گئے اور وہاں بھی ان سے شراب کشید کی جو یورپ بھر میں بے حد مقبول ہوئی۔۔۔ انہوں نے اپنے نئے قصبے کا نام بھی شیراز رکھا جو ابھی بھی ’’خیرنیر‘‘ کے نام سے موجود ہے۔۔۔ اور شیرازی انگوروں سے اب بھی وہاں وائن بنائی جاتی ہے‘‘۔
سورج الورو چٹان پر غروب ہونے لگا اور وہ جیسے ایک دھیمی آگ میں جلنے لگی، آس پاس ویرانے میں تاریکی اترتی تھی اور اس کے درمیان میں الورو چٹان کی سرخی بھڑکتی تھی اور پھر ہولے ہولے وہ مدھم ہوتی اور تاریکی میں اتر گئی۔۔۔ ایک کتا خوراک کی بو سونگھتا کہیں سے آ نکلا۔۔۔ میں قریب ہو کر تصویر اتارنے کو تھا کہ ہمارے گائیڈ نے منع کر دیا، یہ کتا نہیں ہے، صحرا کا لگڑ بگڑ ہے اور بے حد خطرناک ہے۔ اس سے دور رہیے۔
غروب کے مقام سے کچھ فاصلے پر اس جنگل میں کیا ہی زبردست منگل تھا بلکہ وہ بدھ یا جمعرات بھی ہو سکتا تھا کہ ڈنر کا اتنا پر لطف اہتمام تھا۔۔۔ الورو چٹان نیم تاریکی میں بھی نمایاں نظر آ رہی تھی اور خنکی بڑھتی جا رہی تھی جس کے سدباب کے لیے ہر میز کے پہلو میں ہیٹر نصب تھے۔۔۔ اسی کھانے کے دوران جب ہم اپنی پسند کی خوراکیں اپنی اپنی پلیٹ میں ڈال رہے تھے تو میں نے کنگرو کے گوشت کے کچھ ٹکڑے بھی منتقل کر لیے اور جب میں نے ’’مگر مچھ‘‘ لکھا دیکھا تو ظاہر ہے یہ سمندری خوراک تھی، حلال تھی، اس کے دو پارچے بھی پلیٹ میں ڈال لیے۔۔۔ کنگرو تو بکرے جیسا تھا اور مگر مچھ۔۔۔ پتہ نہیں کس جیسا تھا، حلق سے اترتا ہی نہ تھا۔
کھانے کے بعد تمام روشنیاں گل کر دی گئیں اور تاریکی کے ہمراہ ستارے بھی نیچے آ گئے۔ ’’خواتین و حضرات آپ سے درخواست ہے کہ خاموشی اختیار کریں اور خاموشی کی آوازیں دھیان سے سنیں۔۔۔ اور صحرا کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔۔۔ جانے کون کون سے جانور، جھینگر، چھپکلیاں اور ٹڈے بولتے تھے اور پھر ایک خاتون اُٹھیں اور انہوں نے نہایت ڈرامائی انداز میں آسمان پر روشن ستاروں کا تعارف کروایا اور ان میں مریخ بھی تھا، وہ سرخ تھا، الورو چٹان سرخ تھی اور ہمارے پاؤں تلے کی صحرائی زمین بھی سرخ تھی۔
اَساں اندر باہر لال ہے
ساہنوں مرشد نال پیار ہے
آسٹریلیا کے عین درمیان میں اس صحرائی شب میں ایک قدیم طلسم تھا اور میں سحرزدہ، سحر زدہ اور آج تک سحر زدہ۔۔۔
اُس ریسٹورنٹ کا نام یُولارا تھا۔ کہیں قریب ہی ابور خبل لوگوں کا ایک گاؤں تھا۔ وہ دن میں ایک بار بس پر سوار ہو کر یولارا آتے، گھریلو استعمال کی اشیاء اور خوراک خرید کر واپس چلے جاتے۔۔۔ سیاحوں سے دور رہتے۔۔۔ فوٹو گرافی ناپسند کرتے۔۔۔ شاید اُنہیں پسند نہ تھا کہ جس سر زمین پر وہ پچھلے ہزاروں برسوں سے آباد ہیں وہاں وہ مقدس چٹان الورو ہے جس کی پرستش اُن کا آبائی مذہب ہے وہاں باہر کے لوگ آئیں اور اُس کا تقدس پامال کریں۔ ریسٹورنٹ
میں ابور خبل رقاص بھی ناچتے تھے اور ایک صاحب ’’بُوم رنیگ‘‘ پھینکنے کے فن سے بھی آگاہ کرتے تھے۔
اگلے روز سلمان نے بمشکل ایک کار کرائے پر حاصل کی کہ کاریں کم تھیں اور اُنہیں حاصل کرنے کے تمنائی بہت۔۔۔ اور ہم الورو چٹان کے دامن میں چلے گئے۔۔۔ میں نے اور سلمان نے جلتی دھوپ میں اس کے دامن سے لگ کر ایک مختصر ٹریک کیا۔ اسے سو رنگ میں دیکھا۔ پانی کا وہ تالاب دیکھا جو چٹان پر برسنے والی بارشوں کے نتیجے میں لبریز ہو جاتا ہے۔ ازاں بعد ہم چالیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع چٹانوں کے ایک جمگھٹے ’’کاٹا ٹوٹا‘‘ تک گئے اور اُن پر آفتاب کو غروب ہوتے دیکھا۔۔۔ اس سرخ منظر کو بیان کرنے کے لیے کوئی معجزہ قلم درکار ہے جو میں تو نہیں ہوں اور پھر انہی سرخ چٹانوں کے درمیان میں سے کیا آپ یقین کریں گے، چودھویں کے چاند کا تھال ابھرا۔۔۔ اب میں اگر معجزہ قلم ہوتا تو بھی بیان نہ کر سکتا، کل چودھویں کی رات تھی ، شب بھر رہا چرچا ترا۔
اگلی سویر۔۔۔ ابھی نیم تاریکی تھی، میری آنکھوں میں نیند کی سیاہ تتلیاں پھڑ پھڑاتی تھیں اور ہم، میں اور سلمان الورو چٹان پر طلوع آفتاب کا منظر دیکھنے کے لیے پاگل پن میں چلے جاتے تھے۔ وہاں الورو چٹان کے سامنے راستے تھے جو اُن بلند سطحوں پر لے جاتے تھے جہاں سے طلوع آفتاب کا منظر کھلتا تھا اور وہاں اتنے لوگ پہنچ چکے تھے جیسے کسی میلے میں شرکت کرنے کے لیے آئے ہوں بلکہ سلمان نے کہا کہ سر ۔۔۔ لگتا ہے کہ لوگ جس طور کشاں کشاں چلے آ رہے ہیں، عید کی نماز پڑھنے کے لیے چلے آتے ہیں۔
زندگی نے وفا کی تو میں الورو چٹان پر غروب اور طلوع کے مناظر کو تفصیل سے لکھوں گا۔
مختصر یہ کہ۔۔۔ سحر زدہ، سحرزدہ!
کیا ایک کنگرو۔۔۔ ایک کوالا ریچھ۔۔۔ سڈنی آپرا کی بادبانی کشتی، آپرا ہاؤس کی عمارت اور ایک سرخ چٹان کے لیے آسٹریلیا تک کا طویل پر محویت سفر جائز ہے؟ ہاں جائز ہے بلکہ اس براعظم تک سفر نہ کرنا، ناجائز ہے!
ہم پاکستان کی جانب اڑے جاتے تھے اور میرے جوگرز کے تلوے سرخ تھے، اُن میں الورو چٹان کی مٹی سرایت کر گئی تھی۔ تھینک یو آسٹریلیا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *