اہلِ زر اور زرخرید

jam sajjad hussain

پچھلے دنوں ایک نجی ٹیلی ویثرن کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام میں ایک جمعیت علماء اسلام (فضل الرحمن )کے سینئر مذہبی و سیاسی رہنما اور ایک تجزیہ نگار خاتون کی آپس میں چپقلش جو دونوں حضرات کی جانب سے گالم گلوچ پر منتج ہوئی چند دنوں سے زیرِ بحث بنی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کی ٹیلی ویثرن سکرین پر ہرشخص اپنی مرضی و منشا کے مطابق اپنی رائے کا اظہار کررہا ہے۔ کچھ حضرات جنابِ مولانا موصوف کو عالمِ سوء اور کچھ افراد خاتون کو عہدِ حاضر کی مدر پدر آزاد نسل کی نمائندہ کے طور پر لے رہے ہیں۔ہر شخص اپنی رائے کو مضبوط بنانے بلکہ منوانے کے لئے ماضی و حال کے واقعات کو دلائل کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ ٹیلی ویثرن ایجاد ہی ایسی ہے کہ ہر شخص جب چاہے جو چاہے دیکھ سکتا ہے۔ ٹی وی مالکان بھی جب چاہیں جو چاہیں دکھا سکتے ہیں۔ اخلاقیات کو وجود جو کبھی پی ٹی وی پر ہوا کرتا تھا وہ کسی بھی نجی ٹی وی پر تو دوربین کی مدد سے بھی نہیں دیکھا جاسکتا۔ بلکہ اب تو سرکاری ٹیلی ویثرن پر بھی کچھ ایسے پروگرام اور مواد پیش کیا جارہا ہے جو ایک خاندان کم از کم چوبیس گھنٹے نہیں دیکھ سکتا۔ ایک دن اور رات کے مواد میں بہت کچھ ایسا دکھایا جارہا ہے جو مشرقی خاندان نہیں دیکھ سکتا۔ جب سرکار کا یہ حال ہو تو نجی ٹی وی کا کیا حال ہوگا؟ نجی ٹی وی کو قابو میں لانے کے لئے پیمرا نام کا ایک ادارہ وجود رکھتا ہے ۔ جو وقتاََ فوقتاََ اپنی اوقات اور وجود کے اظہار کے لئے ایک نوٹس نما کاغذ چھوٹے موٹے ٹی وی چینلز کو بھیج دیتا ہے تاکہ اہلیانِ پاکستان کو پیمرا کے وجود کی یاددہانی ہوتی رہے۔دراصل بات نہ پیمرا کی ہے اور نہ شاید نجی ٹی وی چینلز مالکان کی ہے۔ اصل امر کارِ سرکار کی روح میں پنہاں ہے۔ جب ریاست کے وزراء پارلیمنٹ کے اندر کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو ’’ٹریکٹر ٹرالی ‘‘ کہیں گے۔ جب پارلیمنٹ کے اندر کھڑے ہوکر ایک دوسرے کو اپنا شجرہِ نسب دیکھایا اور یاد کرایا جائے گا۔ کھلم کھلا ایک دوسرے کو گھسیٹنے ، جوتے مارنے اور پتا نہیں کیا کیا مارنے کی باتیں کی جائیں گی جنہیں نجی میڈیا بیک گراؤنڈ موسیقی اور من پسند گانوں کے ذریعے نشر کرے گا تو نجی ٹی وی چینلز اپنی مرضی کے پروگرامز کیں نہیں چلائیں گے؟ جو گفتگو اور اندازِ گفتگو پارلیمنٹ کے فلور پر اپنا یا جائے گا وہ باہر کیوں کر نہیں اپنا یا جائے گا۔ یہ دونوں واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں اور بیوروکریٹک حلقوں نے اس قوم کی ویسی نشو و نما ہونے ہی نہیں دی جس کا اظہار بابائے قوم جنابِ قائداعظم محمد علی جناح نے کیا تھا۔ اگر جنرل جنجوعہ سپہ سالارِ وقت کے سرپرستی میں بلوچستان کے روٹھے قبائل کو اکٹھا نہ کرتے تو شاید بلوچستان ہم سے کوسوں دو ر جاچکا ہوتا۔ ان سیاسی رہنماؤں اور بیوروکریسی نے اس ملک اور قوم کی شہ رگ کو دبائے رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہرطرف مولانا موصوف اور محترمہ جیسے القابات اور زبان استعمال کی جارہی ہے۔ طاقت کی راہداریوں میں بیٹھے ایسے حضرات جب کھلے عام خواتین کی عزت اچھالنا شروع کردیں تو اس قوم کی اخلاقی گراہٹ کا انداز بخوبی لگایا جاسکتاہے۔ آج مختلف ٹیلی ویثرن چینلز دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک ٹی وی پر ایک اینکر نے جنابِ شیخ رشید کو لائیو لیا ہوا تھا۔ جنابِ شیخ اپنی روایتی سیاست کے مطابق وزیراعظم وقت کو تنقید کا نشانہ بنارہے تھے اور سپہ سالارِ وقت کو کوئی ’’ٹھوس فیصلہ ‘‘ لینے پر آمادہ کررہے تھے۔ مجھے ذاتی طور پر جنابِ شیخ لگاؤ ہے کیونکہ ایسے سیاستدان ہمیشہ کامیاب رہے ہیں اس ملک کی سیاست ایسے ہی سیاستدانوں کی مرہونِ منت ہے۔ جنابِ شیخ نے مسلم لیگ ن کے حق میں نعرے لگائے، پھر چوہدری برادران کے ساتھ ڈٹ گئے اور جنرل مشرف کے رفیقِ خاص رہے۔ بعد ازاں انہوں نے اس عمران خان کے کنٹینر میں پناہ لی جس نے جنابِ شیخ کو ’’چپراسی بھی نہ رکھنے کا اعلان کیا تھا اور انہیں شیدا ٹلی کے لقب سے نوازا تھا‘‘۔ اب اگر سپہ سالارِ وقت واقعی کچھ ’’ٹھوس فیصلہ ‘‘کرتے ہیں تو جنابِ شیخ سپہ سالارِ وقت کے ساتھ کھڑا ہونے کی پوری کوشش کریں گے۔ ایک جنابِ شیخ اور دوسری اہم شخصیت ماروی میمن ہیں۔ موصوفہ نے اپنی اس عمر تک ابھی تک کوئی پارٹی نہیں چھوڑی جس میں انہوں نے شمولیت اختیار نہ کی ہو اور اس پارٹی کے لیڈر کی تعریف میں یہ جملہ نہ بولا ہو۔ ’’اس ملک کو بحران سے صرف ۔۔۔۔۔۔۔ہی نکال سکتے ہیں‘‘۔ خالی جکہ میں انہوں نے صرف نئے قائد کا نام لکھنا ہوتا ہے اور جملہ فٹ بیٹھ جاتا ہے۔ اسی طرح دوسرے ٹیلی ویثرن چینل پر حال ہی میں ایک انگریزی اور پھر اردو اخبار کی خبر پر دھوں اندھار پروگرام جاری تھا۔ جس میں ڈسٹرکٹ کوارڈی نیشن آفیسر لاہور کے عملے کی ملی بھگت سے جعلی لائسنس کا بڑا سکینڈل زیربحث تھا۔ یہ جان کر حیرانی ہوئی کہ اس قدر بڑا سکینڈل لاہو ر جیسے شہر اور پھر طاقتور ڈی سی او لاہور کی آنکھوں سے پوشیدہ رہا۔ عملہ اس قدر طاقتور ہوگیا ہے کہ وہ جعلی لائسنس جاری کرتا رہا اور اسلحہ افغانستان سے درآمد کیا جاتا رہا مگر کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ بلکہ جس پولیس افسر نے اس سکینڈل کا سراغ لگایا اُسے کمال مہربانی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے ایک ٹھنڈی پولیس (نیشنل ہائے ویز اینڈ موٹر وے پولیس)بھیج دیا گیا ۔ یعنی انہیں صلہ دیا گیا ہے کہ بھائی آئندہ اس طرح کی ’حرکت‘ کی جسارت نہیں کرنی۔ کیا کہنے۔ ایک اور ٹیلی ویثرن پر ایک اینکر انتہائی پراسرا ر انداز میں وطن عزیز کو تاریخ کی جانب سے چوتھا موقع دیے جانے پر منتقی دلائل دے رہے تھے کہ اگر اب پاکستان نے فائدہ نہ اٹھایا تو شاید تاریخ دوبارہ پاکستان کو موقع نہ دے۔ ایک ٹی وی پر ریاستی وزیر دوبارہ پارلیمنٹ کے فلور پر جنابِ خواجہ کی جانب سے ایک خاتون پارلیمنٹرین کو ٹریکٹر ٹرالی کے الفاظ کو مزے لے کر دہرارہے تھے اور اپوزیشن کو دھمکا رہے تھے کہ وہ اپنی اوقات میں رہیں۔ حکومت یہ مدت بھی پوری کرے گی بلکہ اگلے پانچ سال بھی اسی حکومت کے پاس رہیں گے۔ ایک ٹی وی چینلز پر ٹی او آر پر بحث جاری تھی۔ جس میں اپوزیشن کے نمائندگان وزیراعظم کو استعفیٰ دے کر گھر جانے پر اکسارہے تھے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ دوسری جانب حکومتی دفاع کرنے والے خیبر پختونخواہ میں ہیجڑوں پر شامت آنے کاذکر ررہے تھے۔ آدھا گھنٹہ ٹی وی دیکھنے کے بعد یوں محسوس ہوا کہ ملک میں ایک طوفانِ بدتمیزی ہے جو پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہے۔ کیونکہ کسی ایک ٹیلی ویثرن پر ایک جملہ بھی مہنگائی، غربت ، ظلم کی چکی میں پسے ہوئے افراد ، مشقتی افراد اور جلتی ہوئی خواتین کے لئے نہیں بولاجارہا تھا۔ ہر تجزیہ نگار اپنی حیثیت اور اوقات کے مطابق واقعاتی اور حادثاتی سیاست پر اپنی رائے کا اظہار کررہا ہے۔یوں لگتا ہے کہ اہلِ زر اور زرخرید کے درمیان چاپلوسی اور خوش آمد کا بازار گرم ہے۔ باقی کسی کو کسی کی پرواہ نہیں۔ دوسری طرف عوام مہنگائی کے جن میں پس رہے ہیں۔ بجلی سے لے کر دال تک مہنگائی نے عوام کی ’’دال‘ ‘ نکال دی ہے مگر کسی کو ہوش نہیں ۔ ہر کوئی نمبر سکورنگ میں لگا ہوا ہے۔ پھر بھی ابھی صورتحال قدرے بہتر ہے مگر جس طرف یہ جارہی ہے وہ ایک خونی انقلاب کا راستہ ہے۔ بلوائیوں کا راستہ ہے جس کا نتیجہ بہت ہی بھیانک ہوگا۔ بہت سارے ممالک کے اندر اس طرح کے خونی انقلاب برپا ہوچکے ہیں اور بعید نہیں کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو اس ملک کو بھی ایک خونی انقلاب دیکھنا پڑے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *