رحمتوں کے نزول کا مہینہ

faisal rasheed

رحمت ،برکت اور مغفرت کا ہر انسان طلب گار رہتا ہے مگر خالق خدا کا خاص انعام سمجھیں یا اُس کی کوئی خاص عطا کہ جس نے صرف مسلمانوں کو ہی ایک ایسا قمری مہینہ عطا فرمایا ہے جس کو تین عشروں (ایک تا دس) میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر ایک عشرہ اپنے اندر ایک خاص اہمیت اور فضیلت کا حامل ہے یعنی پہلا عشرہ ’رحمت‘ اور دوسرا ’برکت‘ جبکہ تیسرا عشرہ ’مغفرت‘ سے منسوب کیا گیا ہے۔ اس خاص مہینے کا نام ’’رمضان الکریم، رمضان المبارک یا رمضان امان‘‘ یعنی روزوں کا مہینہ پکارا جاتا ہے جس کاذکر خود خالق کائنات نے اپنی چوتھی الہامی کتاب ’’قرآن مجید‘‘ (کی سورۃ نمبر 2 ، البقرہ کی آیت نمبر 183 ) میں کچھ ان الفاظ میں فرمایا۔ ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ‘‘۔درج بالا آیت کریمہ تین سطحوں پر مشتمل تین سمتوں میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے ۔پہلی سطح میں خالق خدا کا اپنے بندوں کو کسی نام سے پکارنا یعنی’’اے ایمان والو‘‘ جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ خداتعالیٰ پر یقین رکھنے والے ایمان والے ہیں۔ دوسری سطح میں خدا نے اپنے ان ایمان والے بندوں پر روزہ کو فرض قرار دیتے ہوئے گزشتہ ایمان والوں کو بھی یاد فرمایا جو اس بات کی دلیل ہے کہ مذہب اسلام سے قبل اس دنیا میں آنے/ رہنے والوں میں بھی ایمان والے تھے / ہیں وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکار بھی ہو سکتے ہیں یا پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے، وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ماننے والے یا پھر حضرت یوسف علیہ السلام کو بیچنے اور خریدنے والے بھی ہو سکتے ہیں، وہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے قبیلے کے لوگ یا پھر حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے مسافر بھی ہو سکتے ہیں، غرض کہ حضرت انسان کی رہنمائی فرمانے کے لئے خدا کے بھیجے گئے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی،رسول اور پیغمبروں کے زمانوں میں جنم لینے والے ایمان پر یا مومن ضرور تھے۔ اور تیسری سطح جس میں پرہیز گار بننے یعنی تقوی کی سمت سوچنے کا ذکر ہے یہ قابل غور ہے کہ خدا نے ایمان والے کہہ کر یہ سند تو جاری کر دی کہ اُس کو ماننے والے یا والی سب برابر ہیں ،سب کا درجہ ایک سا (ایمان والے) ہی ہے۔ مگر پرہیز گاری کے درجے تک پہنچنے کے لئے روزے ہی کیوں فرض کیے گئے۔ یہ ہی کیوں کہا گیا کہ ’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے ان پر کیے گئے تھے جو تم سے پہلے تھے تاکہ تم پرہیز گار ہو جاؤ‘‘۔اب پرہیز گاری کے معیارات مختلف جگہوں پر مختلف ہو سکتے ہیں۔اگر پرہیز گاری کو مکمل خدا وندکی حضوری میں تلاش کرنے کا سفر شروع کریں تو مختلف روایات کی روشنی میں تین سطحوں پر رُکنا تقویٰ کی تعریف کی عکاسی کرتا ہے۔ الف ؛ اطاعت پروردگار ب؛ نافرمانی (گناہوں ) سے اجتناب اور ج؛ ترک دنیا۔ایک دوسری روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے روزہ کی فضلیت اور جنت کا چار طرح کے لوگوں کا مشتاق ہونے کا ذکر (مستدرک ۷: ۴۰۰)میں کچھ ان الفاظ میں فرمایا۔ ترجمہ : جنت چار لوگوں کی مشتاق ہے۔
۱۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانے والے
۲۔ اپنی زبان کی حفاظت کرنے والے
۳۔ قرآن کی تلاوت کرنے والے
۴۔ ماہ رمضان میں روزہ رکھنے والے
فضائل رمضان میں ہر نفل عبادت کا ثواب بڑھا کر فرض عبادت کے برابر جبکہ فرض عبادت کا ثواب 70 گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔غرض کہ اس ماہ کی برکت ہے کہ اس میں ادا کئے گئے ہر عمل کے درجات میں اضافہ کردیا جاتا ہے جو کہ اللہ کے بندوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت شمار ہوتی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اضافی اجر آخرت کی بجائے دنیا میں ہی مطلوب ہے ، خدا کی جنت کی سیر مرنے کے بعد نہیں بلکہ دنیاوی حیات مبارکہ میں ہی مطلوب ہے ۔تبی تو رمضان کریم رحمت اور برکت دنیا میں ہی امیروں اور سرمایہ داروں کے لئے ثابت ہو جاتا ہے۔ جی جناب ! کوئی شک نہیں ۔ ۔۔ بازار میں بکنے والی خردونوش چیزوں کی مالیت غریب روزہ دار کی پہنچ سے 70 گنا بڑھ جاتی ہیں۔ افطار سنت نبوی ﷺ کے مطابق کجھور مبارکہ سے کرنے کی غرض میں قیمت خرید خواب بنا کر رکھ دیتی ہے ۔ خوشنودی خدا وندکی خاطر سر بسجود ہونے کے اوقات میں عوامی ادارہ برائے پانی و بجلی روزہ دار کی خوب پختگی کا امتحان لیتا ہے۔ پنجاب سرکار کا 330 سستے رمضان بازاروں،25 ماڈل بازاروں اور 2 ہزار دستر خوانوں کا اعلان صرف ڈرامے کی جھلک لگتی ہے،خدا کے گھر کا متولی(امام و خطیب) ہر وقت لبوں پر ایک ہی جملہ سجائے، (جب آؤ گے کیا لاؤ گے۔۔۔ میاں۔۔۔ جب جاؤ گے کیا دے کر جاؤ گے)پیاسی نگاہوں سے نمازیوں کو غورتا ہے اورخدمت گزار کو نیک ،خدمت گزار اور کبھی کبھار خوش ہو کر جنتی کی اسناد بانٹ رہا ہوتا ہے۔خدا نے کیسا رحمتوں والا مہینہ عطا کیا ہے کہ جس میں اُس کے ہر گھر کی تعمیر،نئی قالین و صفوں کی ضرورت،خدا کے گھر کی زینت و آرائش کرنے کی جہدآسمان سے باتیں کرنے لگتی ہے۔مجھے پنجابی کے معروف شاعر کی خوبصورت بات یاد آتی ہے۔
اللہ دے کر کَلو دانے
پانویں اللہ نے نیں کھانے
ہر مسلمان خدا کی رحمت ،برکت ،خوشنودی اور جنت کے حصول کے لئے بھوکوں کو کھانا تو ضرور کھلاتا ہے مگر صرف اُن بھوکوں کو جو روزہ دار ہوں،درج بالا حدیث مبارکہ میں بھوکا شاید اُس شخص کو کہا گیا تھا جو کھانے کی نعمت سے قاصر ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے ایام میں کم یا پھر ایک وقت یا پھر دو یوم میں ایک وقت پیٹ بھر کر کھا رہا ہو۔ہم رمضان میں گھر کی دہلیز پر دیگوں کا شور محلے والوں کو خوب سناتے ہیں ،لذیز کھانوں کی مہک سے ہمسایوں کے جی تو خوب للچا رہے ہوتے ہیں مگر شاید بھوکوں تک اس کی بھنک تک نہیں پہنچ پاتی۔اپنے عزیز واقارب میں سے فوت شدگان کو ایصال ثواب کی غرض سے خوب ختم و درود کا اہتمام کرتے ہیں جو کوئی بری بات نہیں ۔ایساہونا چاہیے ۔مگر کیا ہی اچھا ہو کہ اُس ختم پاک میں صرف ہونے والی کثیر و قلیل رقم سے کسی بیوہ کی بیٹی کے ہاتھ پیلے کردیئے جاتے،کتنا ہی اچھا ہوتا کہ کسی ضعیف کا علاج و معالجہ کروا دیا جائے،کتنا ہی صدقہ جاریہ ہو کہ علاقہ میں پینے کے لئے صاف پانی کا پلانٹ نسب کر دیا جائے،کتنا ہی سود مند ہو کہ علاقہ میں موجود تعلیمی ادارے کی حالت بہتر کرنے پر صرف کیا جائے،کتنا بڑا صدقہ جاریہ ہو کہ علاقہ میں صحت کی صورتحال کی بہتری کی بات ہو رہی ہو،سرکاری سطح پر سستی خردونوش کی اشیاء کو صرف رمضان بازاروں،ماڈل بازاروں اور دسترخوانوں کی زینت بنانے کی بجائے گلی محلے کی دوکانوں تک دستیابی کو عام اور آسان بنایا جاتا ۔مگر جناب اللہ تعالیٰ کی خوشنودی تو صرف اُس کے گھر سے بلند ہونے والی آواز کہ فلاں بن فلاں نے ایک کثیر رقم خدا کے گھر کے لئے مختص کر دی ہے خدا اس کے درجات بلند فرما کر جنت کی وعید سنائے۔(آمین)یا پھر سرکاری عہدیداروں کے اسم مبارک اور تصویر ی بینر تلے میسر ہوتی ہے۔
بچپن میں والدہ محترمہ کہا کرتی تھیں کہ بیٹا خدا کی راہ میں ایسے خرچ کرو کہ اگر دائیں ہاتھ سے دے رہے ہو تو بائیں ہاتھ کو علم تک نہ ہو، مگر ہمارے دل کو تسلی تو لاؤڈ اسپیکر میں اعلانات یا ہمارے نام کی تختی کے لگ جانے تک نہیں ملتی۔آج ہمارے گھروں میں لذیز کھانوں کی مہک ہمسایے کے غریب بچوں کو مار پڑوا دیتی ہے مگر ہمارے کانوں تلے جوں تک نہیں رینگتی۔
ماہ رمضان المبارک کے اختتام پر خدا تعالیٰ کی جانب سے روزہ داروں کو انعام میں شوال کی یکم تاریخ کا دن عید سعید ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ کا روزہ داروں کو انعام عطا فرمانا کہ ایک ماہ (29-30 ) دن میرے بندوں نے خالصتاََ میرے لئے خود کو بھوکا رکھا،میرے بھوکے بندوں کو کھانا کھلایا،اپنی زبانوں کو روکے رکھا (یعنی میرے بندوں نے کسی کا دل نہیں دکھایا،کسی کو تکلیف نہیں دی)ہے،خود کو میری لاریب کتاب سے رہنمائی حاصل کرنے میں مصروف رکھاہے اب لہٰذا ان کے لئے انعام کے طور پر عید کا دن مقرر کیا ہے جس میں یہ خوشی کا اظہار کریں گے اور میرے ایسے بندے جو دنیاوی طور طریقوں کے مطابق اپنی خوشی کا اظہار نہیں کر سکتے یہ صاحب استعطاعت اُن کو اپنے مال سے فطرانہ دے کر اپنے ساتھ شامل کریں گے۔
رہی تیسری مغفرت کی بات اُس کی کوئی پروا نہیں ہے ۔۔ کیوں کہ۔۔ ہم جناب ٹہریں اُمتِ محمدیﷺ ۔۔جس کی بخشش کی ذمہ داری خود رسول اکرم ﷺ نے لے رکھی ہے۔ یہ بات تلخ تو ضرور ہے مگر جناب حقیقت اور سچائی اسی کے چہرے پر جھلک رہی ہے کہ رمضان رحمت اور برکت دنیا میں امیروں اور سرمایہ داروں کے لیے ہے۔ غریب اور مستحق افراد رحمتوں کے حصول کے لئے رمضان میں بھی کہیں دور چپ چاپ کسی مسیحا کے منتظر رہتے ہیں۔۔۔۔
اے رمضان کبھی آیا
ٖغریبوں کے آنگن میں
تجھے گزاریں تجھے منائیں
ہزار عقیدت میں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *