بے روح وجود

ijaz zakaاعجاز ذکاء سید

اگلے روز ایک دوست کا یہ ایس ایم ایس موصول ہوا: ’’کتابیں اکثر میری آنکھوں میں آنسو کیوں لے آتی ہیں۔۔۔جھمپا لہری کی ’’دوبارہ غیر روایتی سرزمین!‘‘ پڑھتے ہوئے۔
میں نے جواباً تحریر کیا کہ میرے ساتھ تو یہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے ۔۔۔ کہ میں کتابوں کے سبب آنسوؤں میں پھوٹ بہتا ہوں۔
کچھ کتابیں آپ کو خوشی دیتی ہیں؛کچھ آپ کو جوش دلاتی ہیں، کچھ تکلیف میں مبتلاکر دیتی ہیں، کچھ آپ کے دل ودماغ کو روشن کر دیتی ہیں اور کچھ آپ کو مالامال کر دیتی ہیں اور آپ کو مکمل طور پر ایک مختلف دنیا میں لے جاتی ہیں۔کچھ کتابیں عمر بھر آپ کے ساتھ رہتی ہیں۔وہ آپ کے ساتھ ساتھ جوان ہوتی جاتی ہیں اور ایک منفرد احساس کی حامل ہوتی جاتی ہیں۔ہر بار جب آپ انہیں پڑھتے ہیں توان کی تحریر آپ کوایک مختلف احساس دیتی ہے۔ آپ ان کی سطور میں ہر بارکچھ نیا دریافت کرتے ہیں۔وہ ہم سے ایک ایسی زبان میں بات کرتی ہیں جو براہ راست ہمارے اذہان وقلوب سے کلام کرتی ہے اور ہمیں اس قابل کر دیتی ہے کہ ہم تمام زمانوں اور اوقات کے عظیم ترین ذہنوں کے ساتھ کلام کرسکیں۔
مطالعے پر اپنے معروف مضمون میں، سر فرانسس بیکن سرراہ ہاتھ لگ جانے والی ہر چیز کو پڑھنے کے خلاف رائے دیتے ہیں: ’’اختلاف کرنے اور جھٹلانے کے لئے نہ پڑھیں۔نہ ہی بات اوردلیل تلاش کرنے کے لئے پڑھیں بلکہ بات کاوزن معلوم کرنے اور اسے سمجھنے کے لئے پڑھیں۔ کچھ کتابیں صرف چکھنے جبکہ دوسری نگلنے کے لئے ہوتی ہیں اور محض چند ایک کھانے اور ہضم کرنے کے لئے ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کچھ کتابیں صرف حصوں میں پڑھی جاتی ہیں، دوسری صرف پڑھی جاتی ہیں مگر بلا تجسس۔ اور کچھ دوسری مکمل طور پر پڑھی جاتی ہیں اور توجہ اور بھرپور محنت کے ساتھ۔‘‘
انگنت کتابیں جنہیں میں اور آپ پڑھتے ہیں،انہیں الزبتھ کے عہد کے مضمون نگار ناپسند کرتے تھے۔اسی دور کے ایک مضمون نگارکے خیال میں، آج کی جوش دلانے اوربکثرت فروخت ہونے والی کتابوں میں سے کئی محض معروف افسانوں کے طور پر جانی جاتی ہیں اور صرف کوڑادان میں رکھنے کے قابل ہیں۔
بیکن کے جھمپا لہری کی تخلیقات کے متعلق کیا خیالات تھے، میں اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا۔لیکن انہیں پڑھ کر مجھے ہمیشہ مزا آیا ہے۔یقیناً، اپنے دوست کی طرح، میں انہیں بار بار پڑھ کر مسرت حاصل کرنے کا جرم کر چکا ہوں۔وہ ایک ایسی مصنفہ ہیں جنہیں آپ ایک اچھی قدیم طرز کی داستان گو کہہ سکتے ہیں اور وہ مبالغہ آمیز تصورات کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتی ہیں۔ وہ قاری کو کسی تخلیقی اور ادبی نوعیت کے مخفی نقصان سے دوچار نہیں کرتیں۔سادہ اور سیدھی کہانی کہتی ہیں جو کبھی بھی قارئین کی زندگیوں کو چھونے میں ناکام نہیں ہوتی۔
میں نے ان کی شاندار اولین کتاب ’’بیماریوں کی ترجمان‘‘ سے انہیں پڑھنا شروع کیا اور پھر ان کی بعد کی تحریروں میں سے بیشترکو بھی پڑھ ڈالا۔ بلاشبہ میں مصنفہ کے لئے ذاتی حمایت بھی رکھتا ہوں۔اگر آج سے تقریباً 17برس قبل انڈین ایکسپریس نے مجھے نوکری کی پیشکش کی تھی تو ان عوامل میں سے ایک جس نے بظاہر اسے مجھے ملازمت دینے پر مجبور کردیا تھا، وہ ’’بیماریوں کی ترجمان‘‘پر لکھا ہوا میرا وہ تبصرہ تھاجسے میں نے انٹرویوکے دوران پیش کیا تھا۔
اخبار کے بنگالی ایڈیٹر نے بعد ازاں مجھے بتایا تھا کہ میرے انتخاب میں بڑا ہاتھ ایک پیشہ ور کے طور پر میری کلام کی مہارتوں یاخوداعتمادی کا نہیں بلکہ میرے لہری کی کتاب کے انتخاب کا تھاجس نے انہیں آمادہ کیا کہ وہ مجھے ملازمت دیں! ’’میں نے انہیں نہیں پڑھا لیکن میری اہلیہ ان کی بہت زیادہ گرویدہ ہیں،‘‘ ایڈیٹر نے اپنی اہلیہ کی رائے پر بھروسہ کرتے ہوئے کہا، ’’تاہم اب میں اسے پڑھنے کاارادہ رکھتا ہوں۔‘‘ان جملوں کے ساتھ ایک بہت عمدہ پیشہ وراور مشکل پسند شانتانو داتا کے ساتھ میرے عمر بھر کے تعلق کا آغاز ہوا۔
بدقسمتی سے مجھے زیادہ عرصے تک ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہ ملا۔لیکن وہ مختصر سا عرصہ جو میں نے ان کے ساتھ گزارا، اس کے دوران میں نے جو کچھ سیکھا، آنے والے دنوں میں اس نے ناقابل بیان حد تک میری مدد کی۔
کئی طرح سے کتابیں انسانوں کی طرح ہوتی ہیں۔ اگر وہ اچھی ہوں تو دوستوں، اساتذہ اور رہنماؤں کی طرح ان کی قدروقیمت بھی ناقابل بیان ہو سکتی ہے۔جو کچھ آپ شعوری یا غیر شعوری طور پر پڑھتے یا سرسری طور پر دیکھتے ہیں، وہ عمر بھر آپ کے ساتھ رہتا ہے اور ناقابل بیان حد تک آپ کی مدد کرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا کتاب کو بہترین ساتھی قرار دیتی ہے۔
سیسرو کا کہنا ہے کہ ایک کتابوں سے محروم کمرہ روح سے محروم جسم کی مانندہوتا ہے۔وہ،جو یہ راز جان لیتے ہیں، وہ ان سے اچھے ہوتے ہیں جو جلا وطنی میں، تنہائی میں اور پیار کرنے والوں سے دوررہتے ہیں۔اگر کوئی انسان کتابوں کی صحبت سے محروم رہتا ہے تو اس کی شخصیت مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ سکتی ہے ۔حالات اور زمانوں کی زیادہ تر آزمائشوں میں کتابیں تسلی دیتی ہیں، آرام پہنچاتی ہیں اور ایک مردہ دل اور روح کو خوش کر دیتی ہیں۔
کچھ کتابیں ایسی ہیں، جن کی طرف میں بار بار لوٹ جاتا ہوں۔ بالخصوص ان اوقات میں جب میں مایوسی، کمزوری اور شکست محسوس کر رہا ہوتا ہوں،اگرچہ ایسا کبھی کبھا ر ہی ہوتا ہے۔ایسی ہی کتابوں کی فہرست میں شامل، مشتاق احمد یوسفی کی ’زرگزشت‘ اور ’آب گم‘ ہمیشہ میرے پلنگ کی برابر والی میز پر دھری رہتی ہیں۔یوسفی نے بہت زیادہ نہیں لکھا۔ انہوں نے تقریباً نصف صدی کے عرصے میں صرف چار کتابیں تحریر کی ہیں۔لیکن ان میں سے ہر ایک اپنی قدروقیمت کے حوالے سے سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔یہ برجستگی، مزاح اور طرز تحریر کا ایک غیر معمولی مجموعہ ہے۔
اسی طرح ابن انشاء، ایک اور عظیم مزاح نگار اور صاحب طرز مصنف ہیں جن کی ’اردو کی آخری کتاب‘اور سحر انگیز سفری داستانوں اور ناقابل بیان حد تک بے مثال شاعری نے نہ صرف اردو ادب کو مالامال کیا ہے بلکہ لاکھوں دلوں کو چھوا اورروشن تر کر دیا۔
کتابیں خودنہ توپہاڑوں کو حرکت دے سکتی ہیں اور نہ ہی ہنگامی انقلابات بپاکر سکتی ہیں تاہم ان میں سے کچھ یہ شہرت ضرور رکھتی ہیں کہ انہوں نے دوسروں کو ایسا کرنے پر ابھارا۔ یہ یقیناً معقول ذہنی توازن کو برقرار رکھنے میں ہم جیسے لوگوں کی مدد کرتی ہیں اور اکثر معمولی سے مردوزن کوبھی ترغیب دے کر اس قابل کردیتی ہیں کہ لاکھوں انسانوں یا پوری قوم کی زندگیوں کو بدل کر رکھ دیں۔
گاندھی جی روزانہ گیتا پڑھنے کے بہت زیادہ شوقین تھے اور اس کتاب سے بے حد روحانی لگاؤ رکھتے تھے۔وہ لکھتے ہیں: ’’گیتا نہ صرف میری انجیل اور میر اقرآن ہے؛ یہ میری ماں بھی ہے۔ میں اپنی اس ماں کو تو طویل عرصہ قبل کھو چکا ہوں جس نے مجھے زمین پر پیدا کیالیکن اس ابدی ماں نے ہمیشہ میرے ساتھ رہ کر اس کی کمی پوری کئے رکھی۔ وہ کبھی نہ بدلی۔ اس نے کبھی مجھے ناکام نہ ہونے دیا۔جب کبھی میں مشکل اور تکلیف میں ہوتا ہوں، میں اس کے دامن میں پناہ لیتا ہوں۔‘‘
دوسری طرف،سکاٹ لینڈ کے مؤرخ اور فلسفی، تھامس کارلے نے کہا کہ اگر انہیں انتخاب کی آزادی دی جاتی تو وہ شکسپیئر کے ڈراموں کو جنت کی سلطنت پررجیح دیتا!
اگر میں پہلے پڑھنے اور پھر آخر کار لکھنے میں اس قدر کھو گیاکہ اب اسی کو متاع عزیز ترین جانتا ہوں تو اس کا بہت بڑا کریڈٹ میرے والد اور کتابوں سے ان کی صدا بہار محبت کو جاتا ہے۔ میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا کہ میں اپنے ساتھ کیا کر چکا ہوتا اگر مجھ پر ان کا یہ بہت بڑا احسان نہ ہوتا، نہ صرف ایک باپ کے طور پر بلکہ ایک استاد، دوست، فلسفی اور رہنما کے طور پر بھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *