کراچی میں اوم کی علامت والے جوتوں کی فروخت

فوٹو/ رضا خان

اسلام آباد -پاکستان ہندو کونسل (پی ایچ سی) نے بازاروں میں بکنے والے جوتوں پر ہندوؤں کے مقدس لفظ ’اوم‘ کی موجودگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان ہندو کونسل کے سربراہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کا کہنا تھا کہ ٹنڈو آدم میں کچھ دکاندار عید کے موقع پر ایسے جوتے فروخت کر رہے ہیں، جن پر ہندوؤں کا مقدس لفظ ’اوم‘ تحریر کیا گیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان جوتوں کی فروخت کا مقصد ہندو برادری کے جذبات کا مذاق اڑانا ہے۔ انہوں نے جوتوں پر ہندوؤں کے مقدس لفظ 'اوم' تحریر کیے جانے پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے ان افراد کے خلاف سخت کارروائی کی اپیل کی۔ ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے خبردار کیا کہ اس قسم کے واقعات خوف اور عدم تحفظ کو ہوا دے رہے ہیں اور ٹنڈو آدم میں ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی ذمہ دار سندھ حکومت اور مقامی انتظامیہ ہوگی۔ پاکستان ہندو کونسل (پی ایچ سی) نے سندھ میں حال ہی میں ہندو بچوں کی ہلاکت میں اضافے پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ سندھ حکومت اقلیتوں کے مسائل پر توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی آئین کے آرٹیکل 20 (اے) (بی) اور آرٹیکل 36 میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ ریاست اقلیتوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی پابند ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *