پرندوں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے

مستنصر حسين تارڑ‎MHT

 

پرندوں اور جانوروں سے محبت کرنے والوں کی دو قسمیں ہیں۔۔۔ ایک تو مجھ ایسے جن کے دل میں پرندے کی کُوک سے دل میں ہوک اٹھتی ہے۔ اُنہیں ہر پرندہ فرید الدین عطار کا وہ پرندہ نظر آتا ہے جو سچ کی تلاش میں اپنے آپ کو موت، تنہائی، خود فراموشی اور سناٹے سے بھری وادیوں میں اُڑانیں کرتا یا تو بھسم ہو جاتا ہے اور یا پھر قاف کی پہاڑیوں میں پہنچ کر اپنے آپ کو رو برو پاتا ہے کہ وہ خود ہی سچ ہوتا ہے۔۔۔ امام غزالی نے فرمایا تھا کہ درویش جب جنگل میں جاتا ہے تو اس کے گل بوٹے، شجر یہاں تک کہ پتھر بھی اس سے ہم کلام ہوتے ہیں اور میں ذاتی تجربہ بیان کرتا ہوں کہ اگرچہ میں درویش نہیں دنیا دار ہوں اس کے باوجود پرندے مجھ سے باتیں کرتے ہیں، ہم کلام ہوتے ہیں۔ باغ جناح میں قدیم اور گھنے درختوں کی گھناوٹ کے اندر ایک پرندہ پوشیدہ ہر سویر جب میں سیر کرتا اُدھر سے گزرتا تھا تو وہ نہایت سریلے انداز میں کو کتا تھا۔۔۔ ایک روز میں نے اُس شجر کے نیچے کھڑے ہو کر اُس کی کُوک کا جواب دیا۔کچھ دیر تو خاموشی رہی اور پھر یکدم اس نے نہایت پر مسرت ہو کر پھر سے چہکار کی۔۔۔ نہایت مترنم انداز میں پکار کی۔۔۔ میں نے پھر اس کی نقل اتاری تو سلسلۂ کلام باقاعدہ شروع ہو گیا۔ اب میں روزانہ اس شجر کے نیچے کھڑے ہو کر منہ اٹھا کر کُوکتا تو شاخوں کے گھنے اندھیرے میں سے جواب آجاتا۔۔۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس پوشیدہ پرندے کے بال و پر کیسے تھے، رنگین تھے یا سادہ تھے، وہ کونسی نسل کا تھا اور کبھی گمان گزرتا کہ وہ ہے بھی یا نہیں، یہ میں خود ہی ہوں جو وہاں درختوں کی گھناوٹ میں بسیرا کرتا ہوں اور اُن کے نیچے بھی میں ہوں، میں خود ہی پرندہ ہوں اور خود ہی اپنے آپ سے ہم کلام ہوتا ہوں۔۔۔ جیسے چیانگ چونے خواب میں دیکھا تھا کہ وہ تتلی بن گیا ہے اور پھر وہ عمر بھر اس مخمصے میں رہا کہ شاید میں دراصل تتلی ہوں جس نے خواب میں دیکھا کہ وہ چیانگ چوہے۔۔۔ کہیں یہ انا الحق کے سلسلے کی ایک کڑی تو نہیں ہے۔۔۔ سیر کے دوران ایک واقف کار صاحب نے یونہی پوچھا کہ تارڑ صاحب۔۔۔ میں نے نوٹ کیا ہے کہ ہر سویر آپ ایک درخت کے قریب رُک کر منہ اٹھا کر کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں تو کیا کرتے ہیں، میں نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔ وہاں اس شجر کی گھناوٹ میں پوشیدہ ایک پرندہ ہے جس کے ساتھ میں باتیں کرتا ہوں۔ ازاں بعد وہ صاحب مجھے دیکھ کر کترا کر اِدھر اُدھر ہو جاتے، اگر آمنا سامنا ہو جاتا تو مجھ سے خوفزدہ ہو کر فرار ہو جاتے کہ پرندوں سے باتیں کرنے والوں سے دور ہی رہنا چاہیے۔۔۔ دیوانے لوگ ہیں، فرزانے لوگ ہیں۔
پرندوں اور جانوروں سے محبت کرنے والوں کی دوسری قسم ذرا فیشنی اور جدید نوعیت کی ہے۔۔۔ یہ لوگ غیر ملکی سرمائے سے تحفظ حیوانات اور پرندہ جات کی انجمنیں قائم کرتے ہیں، کسی ایک آوارہ بلی کو جو کسی کتے کی زخمی کردہ ہوتی ہے اُسے گھر لا کر اُس کی مر ہم پٹی کرتے ہیں اور تصویریں اتروا کر کُل دنیا میں چرچا کرتے ہیں کہ اے لوگو ذرا دیکھو ہم پاکستانی کتنے رقیق القلب ہیں، بلیوں سے بھی پیار کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں اُنہیں تحفظ حیوانات اور بلی جات کے سلسلے میں منعقد کردہ بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کے سندیسے دھڑا دھڑ ملتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مارننگ شو میں جس کی میزبانی بھولی بھالی سی لگتی جگن کاظم کر رہی تھی، میرے برابر میں ایک کبھی کی نہایت مبحوت کر دینے والی شکل کی اور اب ادھیڑ عمر خاتون براجمان تھیں جن کے لباس کے بخیے اُن کے بے قابو ہوتے پژمردہ اور بے روح بدن کے زور سے اُدھڑتے جاتے تھے جانوروں سے اپنے عشق کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں، ہم تیسری دنیا کے لوگ جانوروں سے محبت نہیں کرتے، میں نے تو اپنی زندگی پرندوں اور جانوروں کی بہبود کے لیے وقف کر رکھی ہے بلکہ میرے گھر میں اس وقت بھی نوبلیاں، چھ خرگوش، ڈیڑھ درجن بطخیں اور طوطے اور ایک گدھا ہے جن کے ساتھ میں رہتی ہوں، ابھی دو چار روز پیشتر آدھی رات کے وقت ایک صاحب میرے گھر آئے اور وہ مجھے ایک لاوارث بلی دے گئے۔ اس پر میں نے ازراہ ہمدردی کہا کہ خاتون۔۔۔ اور یاد رہے کہ یہ خاتون ایک زمانے میں ٹیلی ویژن پر اداکاری کرتی تھیں اور اُن کی وجۂ شہرت قصر صدارت سے بھی منسلک تھی، نہایت اعلیٰ پائے کی انگریزی کالم نگار ہیں اور مسلسل اور بے وجہ بولنے میں مہارت رکھتی ہیں تو میں نے ان سے کہا کہ خاتون۔۔۔ اگر شہر میں کہیں بھی کوئی لاوراث بلی ہو تو بلا خطر اُسے آپ کے گھر آدھی رات کے وقت پہنچا دیا جائے تو وہ مجھ سے خشمگیں اور خفا سی ہو گئیں اور کہنے لگیں ہاں میں لاوارث بلیوں کو تو پناہ دے سکتی ہوں، لاوراث بلوں کو نہیں۔۔۔ کچھ دیر بعد انہوں نے پھر اپنی حیوانی محبت کے اظہار کے طور پر پر جوش ہو کر کہا میرے گھر میں اس وقت بھی نو بلیاں، چھ خرگوش، ڈیڑھ درجن بطخیں اور طوطے اور ۔۔۔ ایک گدھا موجود ہے۔۔۔ تو میں نے بصد ادب کہا کہ واہ۔۔۔ ایک گدھا بھی آپ کے ساتھ قیام پذیر ہے تو وہ چہک کر بولیں، آپ کو کیا اعتراض ہے تو میں نے کہا، مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے، اگر ہو گا تو گدھے کو ہو گا۔۔۔ اس پر وہ مزید خفا ہو گئیں۔۔۔ کہنے لگیں، آپ گدھے کی اہمیت سے واقف نہیں، ہمیں گدھوں سے بھی محبت کرنی چاہیے تو میں نے سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہا، ہاں خاتون، گدھا یوں بھی نہایت کار آمد جانور ہے۔ اس کے ہمراہ قیام پذیری میں بہت سے فوائد ہیں جن سے آپ تو بخوبی آگاہ ہوں گی۔ وہ خاتون آج تک میری دشمن جاں چلی آتی ہیں۔
میں نے یہ سلسلہ ہائے کالم نویسی کا آغاز اس لیے کیا تھا کہ میں الگ الگ مختلف حیوانات اور پرندہ جات کے بارے میں کالم باندھوں، اُن کے خصائل اور فضیلت کے حوالے سے اُن کے شخصی خاکے تحریر کروں کہ آج تک سوائے پطرس کے کتوں اور کرشن چندر کے گدھے نے کسی نے، بھی ادب عالیہ میں اُن کی ترجمانی نہیں کی۔۔۔ اور ہاں میں رفیق حسین کو بھولتا تھا جنہوں نے صرف جانوروں کے بارے میں حیرت بھرے افسانے لکھے۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں سب سے پہلے کس جانور کے خصائل بیان کروں، ایک مگرمچھ، شیر، گدھے، کتے، شتر مرغ، گدھ ، اودھ بلاؤ، مینڈک، ہاتھی، اونٹ، الو، بلی، دھک مکوڑے، مچھلی، بھینس یا بیل۔۔۔ کہاں سے آغاز کروں۔۔۔
ویسے ان سب میں سے کام کا اور فعال جانور گدھا ہے۔۔۔ تو بارے گدھوں کے کچھ بیان ہو جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *