آزمائشوں کا مہینہ

عقیل خان 

aqeel khan of jambar

رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے خوشی کا مہینہ ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازہ ’’ریان‘‘ہے جس میں سے صرف روزہ دارداخل ہونگے۔انسان ہی نہیں اس ماہ ہر جاندار ، فرشتے اور جنات سب اللہ کی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں تاکہ وہ ان نیکیوں کے بہتے ہوئے سمندر میں نہا کر اپنی آخرت کو جہنم کی آگ سے بچالیں اوراپنے رب کو راضی کرکے جنت کے حقدار بن جائیں۔رمضان المبارک ایک برکتوں والا مہینہ ہے ۔اس ماہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خود اجر دیتے ہیں اوراس ماہ میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کا پہاڑکھڑا کرا دیتے ہیں۔ اب یہ مسلما ن پر منحصر ہے کہ وہ ان نیکیوں کے پہاڑ سے کتنا فائدہ اٹھا تا ہے؟ بڑے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس ماہ رمضان کواپنی زندگی میں پاتے تو ضرور ہیں مگر اس سے فائدہ نہیں اٹھا تے بلکہ اپنے لیے جہنم کی آگ مزیدبڑھاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رمضان آتا ہے تو شیاطین جکڑ دیے جاتے ہیں مگر اس کے چیلے شائد کھلے رہتے ہیں۔ دنیا بھرمیں جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی اس مہینے میں روزداروں کو خصوصی رعایت دیتے ہیں مگر افسوس واحد پاکستان وہ ملک ہے جہاں رمضان شروع ہوتے ہی ہر چیز کی قلت پیدا کردی جاتی ہے۔ مہنگائی کا جن کھول دیا جاتا ہے۔ حکام بالا سے لیکر افسران سب اچھا کا نعرہ بلند کرتے نظر آتے ہیں مگرکھانے پینے کی اشیا ء سے لیکر بجلی کی فراہمی تک نایاب ہوجاتی ہے۔رمضان سے ایک دن پہلے شیڈول کے مطابق لوڈشیڈنگ ہورہی ہوتی ہے مگر جیسے ہی روزہ دار نے پہلا روزہ رکھا اسی دن بجلی نے تو نہ آنے کی قسم کھالی اور اگر آئی توا یسے جیسے آٹے میں نمک۔
جہاں مسلمان اتنے ذوق و شو ق سے روزے کا اہتمام کرتے ہیں اد ھر لوڈشیڈنگ نے ان کے ارمانوں پر پانی پھیرا ہوا ہے۔ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی وزیراعظم ، وزراء سمیت واپڈا کے اعلیٰ حکام نے حکم صادرفرمانا شروع کردیا تھا کہ رمضان المبارک میں لوڈشیڈنگ کم سے کم کی جائے اور سحر و افطار کے وقت توبالکل بھی نہ کی جائے مگر ہمارے ملک میں یہ بات شروع سے چلی آرہی ہے جس چیز سے منع کیا جائے وہ کام لازمی ہوتا ہے۔ اگر کوئی حکومتی نمائندہ میڈیا پر آکر یہ بول دے کہ فلاں کام نہیں ہوگا تو عوام کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ کام ہرصورت ہونے والا ہے یا ہوگا۔ جس وقت یہ اعلان ہوا تو ہم سمجھ گئے کہ پچھلے کئی سالوں کی طرح اس بار بھی رمضان کے ماہ میں مسلمانوں پربجلی کے بحران کا ظلم ڈھایا جائے گا۔یہاں تک کہ سحر و افطاراکثر اندھیرے میں ہی کرنا پڑیں گے۔سو وہ ہم کررہے ہیں مگر حکومتی نمائندے اور واپڈا مزے میں ہیں۔
رمضان المبارک میں رات اتنی مختصر ہے کہ نماز تراویح پڑھتے ہوئے گیا رہ بج جاتے ہیں اور پھرسحری کے لیے دو بجے اٹھنا پڑتا ہے ۔اس طرح روزہ دار کی نیند پوری نہیں ہوتی اور اگراب روزہ دار دن میں آرام کرنا چاہیے تویہ لائٹ کم بخت نہیں کرنے دیتی۔ یہی نہیں بہت سے لوگ لائٹ کا بہانہ بنا کر نماز اور روزے سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ لوگوں کو یہ کہتا سنا ہے کہ یار ایک طرف اتنی بلا کی گرمی اور اوپر سے بجلی والوں نے مار رکھا ہے بھلا ایسے میں روزے کیسے رکھے جاسکتے ہیں ۔جو لوگ جو روزہ نہیں رکھ رہے وہ تو گناہ گار ہوں گے مگر اس میں کچھ حصہ حکمرانوں کا بھی ضروری ہوگا۔
کیا یہ کھلا تضاد نہیں کہ الیکشن کے دنوں میں پوراہفتہ ملک میں لائٹ فراہم کی جاسکتی ہے، عید کے تین دن لائٹ مل سکتی ہے مگر اس بابرکت ماہ میں اور اتنی شدید گرمی کو دیکھتے ہوئے کیا روزہ داروں کے لیے حکومت احساس نہیں کرسکتی ؟افسوس صد افسوس یہ ہے کہ ہمارے وزراء صاحبان فرما رہے ہیں کہ پورے ملک میں لوڈشیڈنگ چھ سے سات گھنٹے ہورہی ہے ۔میاں صاحب سے درخواست ہے کہ رمضان میں جس طرح دوسرے ممالک روزے داروں کا احترام کرتے ہیں اسی طرح آپ بھی زیادہ نہیں تھوڑا احترام کرلیں اور مہنگائی اور لوڈشیڈنگ پر ریلیف دے کر عوام کو مزید مرنے سے بچا لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *