خیبر پختونخوا: پہلی بار پورنوگرافی کےکیس میں سزا

aaaaa

خیبر پختونخوا میں بچوں کے تحفظ کی ایک مقامی عدالت نے کل بروز منگل 23 جولائی کو پہلی مرتبہ چائلڈ پورنوگرافی کے جرم میں ایک کم سن مجرم کو دو مرتبہ چار سال قید اور تین لاکھ تیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

مجرم کا تعلق پشاور کے مضافاتی علاقے کے گاؤں اورمر سے ہے، جس پر الزام تھا کہ اس نے ایک کم عمر لڑکی کی فحش وڈیو بنا کر اسے انٹرنیٹ، سی ڈیز اور موبائل فون کے ذریعے پھیلا دیا تھا۔

اس لڑکے کی عمر تقریباً سولہ سال ہوگی، جو پہلے ہی پولیس کی حراست میں تھا۔

بچوں کے تحفظ کے جج کی حیثیت سے پشاور کے ڈسٹرکٹ اور سیشن جج شہہ بار خان نے یہ واضح کیا کہ مجرم لڑکے کو سزاد ینے کا یہ فیصلہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے بچوں کے تحفظ اور بہبود کے ایکٹ 2010ء کے چائلڈ پورنو گرافی کے سیکشن 48 اور گمراہی کی ترغیب کے سیکشن 50 کےتحت دیا ہے۔

پہلے سیکشن کے تحت مجرم کو چار سال قید کی سزا اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی، جبکہ دوسرے سیکشن کے تحت انہوں نے چار سال قید اور تیس ہزار روپےجرمانے کی سزا دی ہے۔

تاہم عدالت نے حکم دیا کہ دونوں سزاؤں پر ایک ساتھ عملدرآمد کیاجائے۔

اس سے پہلے عدالت نے مجرم کے مسلسل مفرور رہنے پر اس کی گرفتاری کےوارنٹ بھی جاری کیے تھے۔

اس کیس کی ایف آئی آر اورمر پولیس  اسٹیشن میں 5 جنوری 2012ء کو درج کرائی گئی تھی۔ متاثرہ لڑکی جس کی عمر سولہ سال کے لگ بھگ ہے، نے پولیس کو بتایا کہ فحش وڈیو بنانے والے لڑکے اپنے ایک دوست کو آمادہ کیا کہ وہ اس کی فحش وڈیو بنائے تاکہ اس کے ذریعے اسے بلیک میل کیا جاسکے۔

متاثرہ لڑکی نے کہاکہ چونکہ اس پر بہت دباؤ تھا اس لیے اس نے اپنے گھر کی قیمتی اشیاء اس کو دے دیں، جن میں سونے کے زیورات اور رقم بھی شامل تھی، اور جب اس نے کہا کہ اب وہ مزید رقم نہیں دے سکتی تو مجرم نے سب سے پہلے اس کی وڈیو اور تصویریں انٹرنیٹ کے ذریعے اور بعد میں پورے گاؤں میں سی ڈیز کے ذریعے پھیلادیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *