عید الفطر اور صدقہ فطر کے آداب و مسائل

رضیہ رحمان

fitrana

عید الفطر کا مفہوم:۔
’’عیدالفطر‘‘عربی زبان کا لفظ ہے ۔’’عید‘‘کا لفظ ’’عَو د‘‘ سے مشتق ہے جس کے معنٰی ہیں بار بار آنا اور ’’فطر ‘‘افطار سے مشتق ہے جس کے معنٰی روزہ کھولنے کے ہیں۔ یعنی روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔یوں عید کے معنٰی ہیں خوشی ، فرحت اور چہل پہل کا بار بار آنا ۔عید الفطر کے دن کیونکہ روزوں کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے ، اس روز اﷲ سبحانہٗ وتعالیٰ بندوں کو روزہ اور عبادت رمضان کاثواب عطا فرماتا ہے لہٰذا اس تہوار کو ’’عید الفطر‘‘ قرار دیا گیا ہے ۔
عید الفطر کی رات کی فضلیت:۔
رمضان کے اختتام پر آنے والی یہ رات خصوصی برکتوں اور سعادتوں کی حامل ہے۔ یہ ہماری کم نصیبی ہے کہ ہم اس بابرکت رات کو شاپنگ کی نذر کر دیتے ہیں اور یوں اس کی فیوض و برکات سے مرحوم رہتے ہیں ۔حالانہ یہ تو وہ رات ہے جس میں ماہ صیام میں ہمہ وقت عبادات کرنے والوں کو اجر و ثواب ملتا ہے اور اس دن مزدور کو اس کی مزدوری دی جاتی ہے ۔احادیث مبارک میں اس رات کی بہت فضلیت بیان ہوئی ہے :۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’میری امت کو رمضان المبارک میں پانچ خصوصیات عطاء کی گئی ہیں جو اس سے قبل کسی امت کو عطا نہیں کی گئیں۔۔۔۔۔ان میں سے پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ آخری رات میں(روزہ داروں )کو بخش دیا جاتا ہے‘‘۔ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا ’’یا رسول اللہ ﷺکیا وہ رات’’ لیلۃ القدر‘‘ہے ؟
آپ نے فرمایا نہیں ،بلکہ جب مزدور اپنے کام سے فارغ ہوتا ہو تو اسے پوار اجر دے دیا جاتا ہے (مسنداحمد)
اس آخری رات سے مراد عید الفطر کی رات ہے یعنی جس رات عید الفطر کا چاند نظر آتا ہے ۔اس رات روزہ کا عمل ختم ہو جاتا ہے اور اسی رات روزے داروں کو ان کے اعمال کا اجرو ثواب مل جاتا ہے ۔صدقہ فطر دینے کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں ہے،اس لئے اگر سفر،بیماری یا کسی عُذر کی وجہ سے یابلا عذر(معاذاللہ)روزہ نہ رکھا تب بھی فطرانہ دینا واجب ہوگا۔صرف وہ شخص جس کے پاس ایک دن رات کی خوراک نہ ہو وہ صدقہ فطر ادا کرنے سے مثتثنہ ہے۔صدقہ فطر کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوٰۃکے مستحق ہیں۔
عید الفطر کے دن کی فضیلت ۔
عید الفطر کی رات کی طرح اس کے دن کی بھی بہت فضیلت ہے ۔یہ دعاؤں کی قبولیت کا دن ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے ملائکہ کے سامنے فخر کرتا ہے اور انہیں مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ :۔’’اے میرے فرشتو! اس اجیر (مزدور) کی جزا کیا ہے جس نے اپنے ذمہ کا کام پورا کر دیا؟فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس کی جزا یہ ہے کہ اس کی مزدوری اسے پوری پوری دے دی جائے۔ اللہ تعالیٰ جواب دیتا ہے کہ اے میرے ملائکہ ! میرے ان بندوں نے اپنا وہ فرض پورا کر دیا جو میں نے ان پر عائد کیا تھا ۔پھر اب یہ گھروں سے (عیدکی نماز ادا کرنے اور )مجھ سے گڑ گڑا کر مانگنے کے لیے نکلے ہیں ۔قسم ہے میری عزت اور میرے جلال کی ،میرے کرم اور میری بلند شان کی اور میری بلند مقامی کی ،میں ان کی دعائیں ضرور قبول کروں گا ۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے :۔ جاؤ میں نے تمہیں معاف کر دیا اور تمہاری برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیا ۔
عید کے دن کے آداب و اعمال
۱
صدقہ فطر ادا کرنا
۲
حجامت بنوانا
۳
ناخن تراشنا
۴
مسواک کرنا
۵
غسل کرنا
۶
نئے یا کم ازکم دھلے ہوئے صاف کپڑے پہننا
۷
خوشبو لگانا
۸
عید گاہ جانے سے پہلے طاق کھجوریں یا میٹھی چیز کھانا
۹
عید گاہ کی طرف جلد ی جانا
۱۰
عید گاہ کی طرف پیدل جانا
۱۱
راستے میں تکبیر کا ورد کرنا
۱۲
ایک دوسرے کو ان الفاظ میں مبارک باد دینا
تَقَبَّلَ اﷲُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ
۱۳
راستہ بدل کے واپس آنا
۱۴
گھر کے تمام افراد حتٰی کہ حائضہ عورت کا عید گاہ جانا اور دعا میں شامل ہونا ۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :۔
کَانَ النَبِی ﷺ لا یَخْرُجْ یَوْمَ الفِطْرِ حَتّٰی یَطْعَم وَ لَا یَطْعَمُ یَوْمَ الأَ ضْحٰی حَتّٰی یُصَلِّیْ
’’عید الفطر کے دن جب تک نبی ﷺ کچھ کھا نہ لیتے عیدگاہ تشریف نہ لے جاتے اور عید الاضحی کے دن اس وقت تک کچھ نہ کھاتے جب تک نماز عید ادا نہ فرمالیتے ‘‘۔
(جامع الترمزی ، ابو اب العید ین ، ۵۴۲صفحہ۱۴۲)
صدقہ فطر کے احکام و مسائل:۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے عیدا الفطر کے روز محتاج و ضرورت مند مسلمانوں سے صدقہ فطر کے ذریعے تعاون و مدد کا موقع فراہم کیا ہے ۔جب تک صدقہ فطر ادا نہیں کیا جاتا اس وقت تک بعض عبادتیں مُعَلَّقْ رہتی ہیں۔
صدقہ فطر کس شخص پر اور کب واجب ہے؟
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا جو ،ہر آزاد و غلام ، ہر مرد و عورت اور ہر چھوٹے بڑے مسلمان پر فرض فرمایا تھا اور حکم دیا تھا کہ لوگوں کے عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے یہ ادا کیا جائے۔ (صحیح بخاری ،1503)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو ،کھجور ،منقّہ وغیرہ کا ایک صاع صدقۃ الفطر میں ہر ’’کَس‘‘ کی طرف سے دیا جاتا تھا ۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :۔ رسول اللہ ﷺ نے صدقۃ الفطر کو فرض قرار دیا ہے تاکہ روزے کے لغو اقوال و افعال سے پاکیزگی حاصل ہو جائے اور مسکینوں کو طعام حاصل ہو۔ چنانچہ جس نے اسے نماز عید سے پہلے ادا کر دیا تو یہ ایسی زکوٰۃہے جو قبول کر لی گئی اور جس نے اسے نماز عید کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔ (سنن ابوداؤد،,1611ابن ماجہ،حاکم)
یعنی بہتر ہے کہ صدقۃ الفطر عید کا چاند نظر آنے کے بعد سے لے کر نماز عید سے پہلے ادا کر دیا جائے تاکہ غریب اور نادار مسلمان بھی مالداروں کے ساتھ عید کی خوشی میں شریک ہو جائیں اور کچھ کھا کر عید کی نماز پڑھنے جائیں۔
صدقہ فطر گھر کے سرپرست کو تمام افراد خانہ بیوی،بچوں اور ملازموں کی طرف سے ادا کرنا چاہئے۔
’’صاع‘‘ کا مطلب:۔ ’’صاع ‘‘عربوں میں ماپ کا ایک پیمانہ ہے۔ بعض علماء کے مطابق صاع ساڑھے تین کلو اور نصف صاع پونے دو کلو کا ہوتا ہے جبکہ بعض علماء کی تحقیق کے مطابق صاع ساڑھے چار کلو اور نصف صاع سوا دو کلو کا ہوتا ہے ۔
مقدار؟
صدقہ فطر میں گندم ، جو ، کجھور، کشمش یا اجناس میں سے کوئی جنس ادا کرنا چاہیں تو وزن کا لحاظ ضروری ہے ۔یعنی گندم سے ادا کریں تو نصف صاع (تقریباً دو کلو) اور جو، کجھور ، کشمش سے ادا کریں تو ایک صاع۔ اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے اتنا نوازا ہے کہ ان کے گھروں میں ایک وقت میں کئی کئی کھانے پکتے ہیں ، قیمتی مکان بناتے ، قیمتی لباس پہنتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے کہ عجوہ یا عام کجھور ، کشمش یا منقّٰی وغیرہ جیسی قیمتی چیزوں کے حساب سے صدقہ فطر ادا کریں تاکہ محتاج لوگ بھی احسن طریقے سے اپنی ضرورتیں پوری کر سکیں۔
صدقہ فطر میں کیا کچھ دیا جا سکتا ہے؟
صدقہ فطر یا فطرانہ دینے میں وہی چیز اختیار کی جائے گی جسے لوگ بطور خوراک استعمال کرتے ہیں مثلاً گندم، چاول، مکئی، چنے اور گوشت وغیرہ
بخاری و مسلم نے حضرت ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ :۔
’’ہم نبی کریمﷺ کے دورمیں عید الفطر کے دن ایک صاع غلّہ بطور فطرانہ ادا کیا کرتے تھے ۔ابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان ایّام میں ہماری خوراک جو اور منقّٰی اور پنیر اور کجھور تھی ۔
(صحیح بخاری حدیث نمبر1510، صحیح مسلم حدیث نمبر985)
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں:۔ ’’اہل مدینہ کی خورا ک غالباً یہی اشیاء تھیں لیکن اگر کسی علاقے اور محلہ والوں کی خوراک اس کے علاوہ ہو تو انہیں اپنی خوراک میں سے ایک ایک صاع فطرانہ ادا کرنا ہوگا ۔جس طرح کہ اگر کسی کی خوراک مکئی یا چاول یا پھر انجیر وغیرہ یا دوسرے دانے ہوں تووہ یہی اشیاء ادا کرے گا اور اگر ان کی خوراک کچھ اور ہو مثلا پنیر، گوشت یا مچھلی تو وہ اپنی خوراک میں سے ایک صاع فطرانہ ادا کریں گے چاہے وہ کچھ بھی ہو جمہور علماء کا قول یہی ہے اور صحیح بھی یہی ہے ،اس کے علاوہ کوئی اور قول نہیں کہا جائے گا‘‘
شیخ عثیمین رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں :۔
صحیح یہی ہے کہ جو چیز بھی خوراک ہو چاہے وہ دانے ہوں یا پھل اور گوشت وغیرہ تو وہ فطرانہ میں کافی ہو گی‘‘۔
کیونکہ فطرانہ کا مقصد تو مساکین و فقراء کی عید والے دن ضرورت پوری کرنا ہے اور علاقے کے لوگوں کی غم خواری کرنا ہے اس لیے آٹا دینا بھی جائز ہے ۔ اگرچہ اس بارے میں حدیث صحیح وارد نہیں ہے ۔رواں سال عام شخص کا فطرانہ کم ازکم ایک سو (100)روپے ہے ۔یعنی ہر مسلمان کی طرف سے100 روپے فی کس کے حساب سے کوئی مروجہ جنس خریدکر بطور صدقہ فطر دی جانی چاہیے۔البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی مسجد،مدرسہ یا کسی اور مناسب مقام پر لوگ 100روپے فی کس کے حساب سے نقد رقم جمع کروادیں اور پھر اس جمع شدہ رقم سے مختلف اجناس خرید کر حقیقی حق داروں میں تقسیم کردی جائیں ۔نبی کریم ﷺ کے زمانے میں لوگ مختلف اجناس مثلاً کھجور،جو وغیرہ مسجد نبوی ﷺ میں جمع کرواتے تھے اور اس سامان کی باقاعدہ رکھوالی کی جاتی تھی۔اس لئے بہتر یہ ہے کہ فطرانہ اجناس میں سے دیا جائے جیسا کہ مذکورہ بالا احادیث سے واضح ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نقدی کی صورت میں اس کی کبھی ادائیگی نہیں کی ۔ اللہ تعالی ہر مسلمان کو صدقہ فطر ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمائے (آمین ثم آمین)

حوالہ جات
-1احادیث مبارکہ
-2روزوں کے مسائل،محمد اقبال کیلانی
-3 ہفت روزہ شب وروز ۲۴ تا ۳۰جولائی۲۰۱۴ ؁ء
-4روزنامہ نوائے وقت ۲۵جولائی۲۰۱۴ ؁ء
-5صدقہ فطر کے مسائل۔ مفتی محمد صاحب
www.al.islam.org-6
www.ham or hamaridunian.com-7
-8 دولۃ الامارات العربیۃ المتحدہ الہیءۃ العامۃ للشؤون الاسلامیۃ والا وقاف

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *