ایرانی انقلاب کا مرکز اور مرکزی رہنما

ZUILFIQAR AHMAD CHEEMAایران میں شہنشاہیّت کے خلاف جدوجہد کے دو بڑے مرکز تھے ۔ سب سے بڑا گڑھ قُم اور دوسرا تہران یونیورسٹی۔ دونوں جگہ جانے کا ارادہ تھا مگر پہلے قُم کا پروگرام بنا ۔ قُم، تہران کے جنوب میں ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ مذہبی تعلیم وتدریس کا مرکز ہونے کے علاوہ اہلِ تشیعہ کے آٹھویں امام علی رضاؒ کی ہمشیرہ بی بی فاطمہ معصومہؒ کا مزار بھی یہیں ہے جس کے باعث اس شہر کی اہمیّت اور تقّدس میں بے پناہ اضافہ ہوگیاہے۔ سولہویں صدی میں صفوی حکمرانوں نے (جو ایران کے پہلے شیعہ حکمران تھے) اس شہر کے مذہبی مدرسوں کی بہت زیادہ سرپرستی کی۔ آیت اﷲ خمینی قُم کومرکزِ اسلام اور مرکزِ انقلاب قرار دیتے تھے اور آیت اﷲ علی خامینائی اسے شہرِ علم و جہاد کہتے ہیں۔ قُم کو اِسوقت دنیا بھر میں مذہبی تعلیمات کا سب سے بڑا مرکز قرار دیا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے ہزاروں شیعہ نوجوان قُم میں تعلیم و تربیّت حاصل کررہے ہیں۔
قائد انقلاب آیت اﷲخمینی قم ہی میں مدرسۂ فیضیہ میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیاکرتے تھے، یہیں سے انھوں نے بادشاہت کو للکارا اور کہاکہ شاہ سے وفاداری کا مطلب ہے اسلام کی توہین، مسلمانوں کے حقوق کی پامالی اور قرآن اور اسلام پر وار تو وقت کے جابر حکمران نے انھیں گرفتار کرلیا، مذہبی قیادت انھیں پھانسی سے بچانے کے لیے آیت اﷲشریعت مدار کی قیادت میں شاہ عبدالعظیم کے روضے پر اکھٹی ہوئی اور اعلان کیا کہ خمینی آیت اﷲ اور مجتہد ہیں آئین کی دفعہ 2کے تحت آیت اﷲ کو معمولی سی سزا بھی نہیں دی جاسکتی لہٰذا شاہ نے انھیں قُم سے نکال کر جلاوطن کر دیا مگر قُم کو بادشاہت کے خلاف جدوّجہد کے مرکز کی حیثیّت حاصل ہوگئی۔
میں اور صفدر قُم کے لیے روانہ ہوئے تو باگیں سفیر صاحب کے ڈرائیور کے ہاتھ میں تھیں۔ ڈاکٹر راشد نقوی نے جہلم سے تعلق رکھنے والے سید معیصم عباس کو( جو قُم کی جامعہ میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں) فون کردیا تھا۔ وہ شہر سے باہرٹول پلازہ پرہی آگئے جہاں سے انھوں نے ایک بہترین گائیڈ کی طرح ہماری رہنمائی کی اور بہت کم وقت میں سارے اہم مقامات دکھادیے۔ بی بی فاطمہ معصومہؒ کے روضے پر دعا کرنے کے بعد ہم مدرسۂ فیضیہ پہنچے اور وہ خصوصی کمرہ دیکھتے رہے جہاں امام خمینیؒ درس دیا کرتے تھے۔ وہاں سے نکل کر امام کی رہائش گاہ پرپہنچے۔ سادہ سا مکان تھا، اسی مکان کی بالکونی میں کھڑے ہوکر مردِ فقیرنے وقت کے شہنشاہ کو للکارا تھا جس پر انھیں گرفتار کرلیا گیا۔
ہم اس بالکونی پر جاکر کھڑے ہوئے تو اقبالؒ کا شعر زبان پر آگیا ؂ دارا وسکندر سے وہ مردِ فقیر اولیٰ۔ ہو جسکی فقیری میں بوئے اسد اللھٰی۔ امام خمینی پہلے ترکی اورپھرفرانس میں رہے اور آخر میں عراق کو اپنا مسکن بنالیا۔ مگر جلاوطنی میں بھی آڈیو اور وڈیو تقریروں کے ذریعے ان کا پیغام پھیلتا گیا اور بالآخرلوگ مرگ برشاہ اور رہبرما۔ روح اﷲکے نعرے لگاتے ہوئے شہنشاہیّت کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ شاہی فوجوں نے قوّت کے استعمال سے اس تحریک کو کچلنے کی کوشش کی، جلوسوں پر گولیوں کی بوچھاڑ ہوتی رہی۔نوجوان خون میں لت پت ہوتے رہے مگر خون بہنے سے تو فدایانِ اہلِ بیت کے جذبوں کو جلا ملتی ہے۔نظامِ حکومت کی تبدیلی کے لیے ایرانی نوجوانوں نے اتنی قربانیاں دیں کہ بہشتِ زھرا کے قبرستان کا ایک ایک کونہ اس کی گواہی دے رہا ہے اور پھر دنیا نے وہ دن بھی دیکھا کہ ادھر شہنشاہ کی فوج سڑکوں پر ٹینک لے آئی اُدھر سرفروش سینے تان کر ٹینکوں کے آگے کھڑے ہوگئے ۔
فولادی عزم اور جذبوں نے آہنی ٹینکوں کو شکست دے دی۔ شہنشاہ کو تہران سے فرار ہونا پڑا۔ اس کے چند روز بعد امام خمینی پیرس سے تہران کے لیے روانہ ہوئے تو تہران کا ہر شخص ان کے استقبال کے لیے سڑکوں پرآگیااور جب مردِ قلندر نے اپنی سرزمین پر قدم رکھا تو پورا ایران اس کے قدموں میں تھا۔ برسوں پہلے جلاوطن کیا جانے والا مردِ فقیرآج ایران کا حکمران تھا۔ انقلاب کی کامیابی کے بعد یہ سوال اٹھا کہ خود امامِ انقلاب کس عہدے پر فائز ہونگے؟ یہ جان کر کہ صدر اور وزیر اعظم کے عہدے ان کے مقام اورمرتبے سے کمتر ہیں ، آئین کی بنیادولایتِ فقیہہ (Governance of the Jurist) کے نظریئے پر رکھی گئی جسکے تحت جناب خمینیؒ کے لیے راہبر (سپریم لیڈر) کا عہدہ تخلیق کیا گیا۔آیت اﷲخمینی سب سے پہلے راہبر بنے اور ان کی وفات کے بعد سے اب تک آیت اﷲ علی خامینائی ایران کے سپریم لیڈرہیں۔ بہت سے قارئین راہبر کے اختیارات اور ایران کے موجودہ نظامِ حکومت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، ان کی دلچسپی کے لیے مختصر ساخاکہ پیش کیاجارہا ہے۔
ایران کے نظامِ حکومت میں ممبرانِ پارلیمنٹ اور صدر انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں مگر ملک کا سب سے بااختیار عہدہ سپریم لیڈر (راہبر) کاہے، چار اہم ترین ادارے۔ ملٹری، مذہب(مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی ادارے)، میڈیا اور عدلیہ اس کے انتظامی کنٹرول میں ہیں، اس کا اپنا سیکریٹریٹ ہے جہاں مختلف اداروں کے مشیر اور دیگر اسٹاف افسران بیٹھتے ہیں یعنی ملک کی نظریاتی سمت کا تعیّن بھی وہی کرتا ہے۔ ابلاغ کے تمام ادارے بھی اس کے ماتحت ہیں۔ عوام کوٹی وی اور فلم کے ذریعے کیا دکھا نااور کیا سنانا ہے، اس کا فیصلہ بھی بالآخرراہبر کرتا ہے۔ عدلیہ کے اہم ترین عہدوں پر بھی وہی تقرّری کرتا ہے اور ملٹری کمانڈر بھی وہی تعینات کرتا ہے۔
اس لیے آرمی بھی اسی کے احکامات کی منتظر رہتی ہے یعنی طاقت کا سب سے بڑا مرکز راہبر کی ذات اور اس کا ادارہ ہے ۔ اس وقت پارلیمنٹ کے ارکان کی تعداد 290ہے اور اس کی مدّت چار سال ہے۔ راہبر کے بعد اختیارات کا حامل صدر ہے جو چار سال کے لیے منتخب ہوتا ہے۔ ملک کی تعمیر و ترقّی اور اندرونی امن و امان قائم رکھنا اُس کی ذمّہ داری ہے۔ ایران میں لوکل گورنمنٹ سسٹم بڑا موّثر اور توانا ہے، تہران شہر کا میئر شہر میں اربوں ڈالر کے منصوبے بناتا اوران پر عمل درآمد کراتا ہے، اس میں کسی اور کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ ایران کے سیاسی اور حکومتی نظام میں تین کونسلیں بڑے اہم کردار کی حامل ہیں۔ بارہ رکنی شورائے نگھبان قانون اساسی (TheCouncil of Guardians) سب سے بااختیار کونسل ہے۔
اسمیں چھ رکن اسلامی فقہ کے ماہرین ہوتے ہیں جنھیں راہبر نامزد کرتا ہے اور چھ رکن ماہرین قانون (وکلاء ) میں سے لیے جاتے ہیں جنھیں چیف جسٹس نامزد کرتا ہے۔ یادرہے کہ چیف جسٹس کو نامزد کرنے اور ہٹانے کا اختیار بھی راہبرکے پاس ہے۔ ایرانی آئین کی تشریح کرنا اور انتخابات کی نگرانی کرنا اسی کونسل کے دائرہ اختیار میں ہے۔ پارلیمنٹ یا صدر کے انتخابات میں یہ کونسل الیکشن کمیشن کا کردار ادا کرتی ہے اور جس امیدوار کو چاہے نااہل قرار دے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے کٹّر مذہبی حکمرانوں کی سوچ سے ہم آہنگی نہ رکھنے والے امیدواروں کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں ملتی اور انھیں نااہل قرار دے دیا جاتا ہے، اس کونسل کے موجودہ چیئرمین احمد جنّتی ہیں جو ایک مذہبی عالم ہیں ۔
اٹھاسی رکنی مجلس خبرگان رہبر (The council of Experts) مجتہدین پر مشتمل ہے۔ آئینی طور پرراہبر کا تقرر کرنا اور اسے ہٹانا اس کونسل کی ذمے داری ہے۔ اس کے موجودہ چیئر مین محمد یزدی ہیں، اس کے ممبران آٹھ سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں ، اگرچہ راہبر کے ادارے کی نگرانی اس کونسل کی ذمے داری ہے لیکن کونسل کبھی راہبر کے کسی فیصلے کو چیلنج کرنے کی ہمّت نہیں کرسکی بلکہ کچھ عرصہ قبل سپریم لیڈر جناب علی خامینائی نے کونسل آف ایکسپرٹس کے ایک ممبر احمد آزری قمی پر تنقید کی اور اسے غدار قرار دے دیا جس کے نتیجے میں ان کی ممبر شپ منسوخ کردی گئی اور بعد میں انھیں گرفتار بھی کرلیا گیا۔
مجلس تشخیص مصلحت (The Expediency Discernment Council) گارڈین کونسل اور پارلیمنٹ کے درمیان پیدا ہونیوالے تنازعات کو حل کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے ۔ اسوقت اس کے اڑتیس ممبر ہیں۔ اس کی مدت پانچ سال کے لیے ہوتی ہے اوراس کے تمام ممبر راہبر نامزد کرتا ہے ، یہ کونسل راہبر آفس کے لیے ایڈوائزری کونسل کا کردار ادا کرتی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سابق اسپیکر اور سابق صدر ہاشمی رفسنجانی اسوقت کونسل کے چیئر مین ہیں،
دنیا میں اگر کہیں تھیوکریسی قائم ہے تو وہ ایران میں ہے۔ فرقہ پرستی اور تنگ نظری کونظر انداز کردیا جائے تو حکومت کو ناکام قرار نہیں دیا جاسکتا، مسائل کے باوجود کئی شعبوں میں اس نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ پاکستان میں اسلام سے بغض رکھنے والے اور علماء سے نفرت کرنیوالے لبرل خواتین وحضرات، ایرانی تھیوکریسی پر کبھی معترض نہیں ہوتے۔ ایران میں حکومت کے اندر اعتدال پسندوں اور شدت پسندوں کے درمیان شروع سے ہی سرد جنگ جاری ہے۔ انقلاب کے فوراً بعد مہدی بازرگان اور نبی صدر جیسے اعتدال پسندوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ اب خاتمی صاحب جیسے اعتدال پسندوں کوکونے سے لگا دیا گیا ہے۔ (جاری ہے)
حزنیہ نوٹ:میں جب لمبی ڈرائیو پر نکلتا تو گاڑی میں امجد صابری کی تاجدارِ حرم والی قوالی سنتا تھا۔ آج ڈرائیور نے گاڑی میں بیٹھتے ہی پوچھا سر !لگادوں تاجدارِ حرم تو میں خاموش رہا، زبان سے کچھ نہ بول سکا ۔ دل دکھی اور افسردہ ہے ۔ قوالی کے فن میں پورے ساوتھ ایشیامیں کوئی بھی ہمارے صابری برادران کے پائے کا نہیں تھا۔ یہی مقام اب امجد صابری کو بھی حاصل ہوچکا تھا۔
عقیدے کی صحت اور حفظِ مراتب کی اہمیّت اپنی جگہ اور جسطرح معروف کالم نگاراور دانشور جناب خورشید ندیم نے لکھا ہے کہ بعض اوقات قوالی اور نعت کے بعض شعر اورمصرعے مبالغے اور افراط وتفریط کا شکار ہوجاتے ہیں بلاشبہ ہرچیزکا بلاشریک مالک ، سزا اور جزادینے والا، جنت اور دوزخ کا فیصلہ کرنیوالا صرف اور صرف ربِّ ذوالجلال ہے مگر سرکارِ دوعالمﷺ سے مسلمانوں کی عقیدت ، محبت اور عشق ایسی حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا، آقاﷺ کی شفاعت مسلمانوں کا بہت بڑا سہارا ہے لہٰذا کلمہ گو، پریشانی اور دل گرفتگی کے عالم میں شاعرانہ انداز میں اپنے راہبر و رہنما آقائے دوجہاں ﷺ سے نگاہِ کرم کی یا نورِ ہدایت سے جھولی بھر دینے کی درخواست کریں تو یہ عقیدت اور عشق کے اظہارہی کا چلن ہے۔
قدیم و جدید علوم اور فلسفوں کا شناوراور شاعرِاسلام اقبالؒ بھی پریشان ہو کر اسی نورِ ہدایت کی طرف دیکھ کر پکاراٹھتا تھا کہ ؂تواے مولائے یثرب ﷺ آپ میری چارہ سازی کر۔ اپنے والد مرحوم اور نصرت فتح علی کی طرح امجد صابری نے دنیا بھر میں اپنے ملک کی بھرپورنمائیندگی کی اور پاکستان کی ثقافت اور موسیقی کو خوب متعارف کرایا ۔ اﷲتعالی سے دعا ہے کہ مرحوم کی کوتاہیاں معاف فرماکر اس کی مغفرت فرمائیں اور اس مقبو ل و محبوب شخص کے قاتلوں کو دنیا میں بھی عبرتناک سزا دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *