بلاول اور سیاست کا لبرل بیانیہ

Photo Khurshid Ahmad Nadeem sbبلاول بھٹو کی سیاست کا آغاز،کیا کسی شاندار مستبقل کی خبر ہے؟ کبھی میں پر امید تھا۔آج میری امید مایوسی میں ڈھل رہی ہے اور اس کے بہت سے اسباب ہیں۔اس ملک میں اگر فی الواقعہ کوئی نوجوان سیاست دان ہے تو وہ بلاول ہیں۔ ان کے سیاسی ظہور سے پہلے، پاکستان کے سب سے 'نوجوان سیاست دان غالباً شیخ رشید تھے۔ وہ بھی ستربرس سے کیا کم ہوں گے؟اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ باقی سیاست دانوں کی عمریں کیا ہوں گی۔اگر کوئی ستر سال کا نہیں تو ستر کی دھائی میں ضرور ہے۔ اس قوم کے ساتھ جو سیاسی دھوکے ہوئے،ان میں ایک نوجوان قیادت کا دھوکہ بھی ہے۔کچھ لوگ سیاست میں آئے اور انہوں نے کہا کہ پاکستان کو نوجوان قیادت کی ضرورت ہے۔اس کے جواب میں انہوں نے خود کو پیش کیا۔کوئی وگ لگا کر آگیا اور کوئی بال کالے کر کے۔تاریخ پیدائش سے پتا چلا کہ جوان قیادت کا معاملہ یہ ہے کہ کم از کم ساٹھ کے پیٹے میں ہے۔اس فضا میں اگرپہلی بار کوئی نوجوان قیادت سامنے آئی ہے تو وہ بلاول ہی ہے۔سوال یہ ہے کہ نوجوان قیادت کا پیمانہ کیا محض ماہ و سال ہیں؟میرا خیال ہے سیاستدان کی جوانی کا تعلق اور بہت سی باتوں سے بھی ہے۔افسوس کہ بلاول ان پیمانوں پر پورا نہیں اترتا۔ابھی تک جو کچھ سامنے آیا، یہ وہ تھکا ہوا اسلوبِ سیاست ہے جس کا تعلق ستر کی دھائی سے ہے۔نہ ندرتِ گفتار نہ ندرتِ افکار۔مخالفین کو گاوں کی لڑاکا عورتوں کی طرح کوسنے دینا۔وہی کشمیر اور بھارت کارڈ جو کب کا متروک ہو چکا۔اس اسلوبِ سیاست میں پرانے لوگوں کے لیے کوئی کشش نہیں رہی تو نئی نسل کے لیے کیا کشش ہو سکتی ہے۔مجھے یوں لگتا ہے گہوارے ہی میں یہ سیاست امید کے بجائے ناامیدی کے سانچے میں ڈھلتی جا رہی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں ایک خلا ہے جو صرف پیپلزپارٹی پُر کر سکتی ہے۔پاکستان کا لبرل طبقہ سیاسی قیادت سے محروم ہے۔ عمران خان اُن کا انتخاب نہیں ہیں۔اگر ان میں سے کچھ تحریکِ انصاف کی طرف مائل ہیں تو صرف نواز شریف مخالفت میں۔جس نئی نسل کو ہم ان کے جلسے میں دیکھتے ہیں، اس کا لبرل ازم سے کوئی تعلق نہیں۔یہ گلیمر اور رومان کا مارا ہوا ایک طبقہ ہے جو سیاسی حرکیات سے بے خبرہے۔ایک لا ابالی طبقہ، جس کے جذبہ تحرک کو تحریکِ انصاف کے سیاسی کلچر اور عمران خان سے وابستہ گلیمر سے جلا ملتی ہے۔ ان کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ لبرل ازم کیا ہو تا ہے اور نظریہ کیا ہوتا ہے۔ جو جانتے ہیں وہ ہنوز کسی قیادت اور جماعت کی تلاش میں ہیں۔ ان کا فطری انتخاب پیپلز پارٹی ہے جس کی قیادت سے وہ مایوس ہو چکے۔بلاول اس طبقہ کو امید لوٹا سکتا ہے۔ وہ پیپلزپارٹی سے پیدا ہونے والی مایوسی کو امید میں بدل سکتا ہے۔ اس کے لیے لیکن ضروری تھا کہ وہ ایک نئے فکری پیرہن اور سیاسی اسلوب کے ساتھ سامنے آتا۔ نئی نسل کو بلاول کی ذات میں ایک امید دکھائی دیتی۔ اسے فکری تازگی کے ساتھ ایک نئے شائستہ اسلوبِ سیاست کی جھلک نظر آتی۔ ایک مثبت اندازِ نظرجو کسی نئے افق کی خبر دیتا۔ لبرل طبقے کے ساتھ وہ نئی نسل کو اپنی جانب متوجہ کرتا جس کا پیپلزپارٹی سے کوئی تعلق نہ ہوتا لیکن اسے قیادت کا نیاپن متاثر کرتا۔ آکسفورڈ کا پڑھا ہوا نوجوان سیاست دان جو روایتی سیاست کو چیلنج کرتا دکھائی دیتا۔ افسوس کہ ایسا کچھ نہیں ہو سکا۔بھٹو صاحب اوراپنی والدہ سے اسے جو سیکھنا چاہیے تھا، معلوم ہوتا ہے کہ بلاول اس سے ابھی تک محروم ہے۔ باپ بیٹی میں خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے لبرل روایات کو ایک مقامی تہذیبی رنگ دیا۔ انہوں نے اپنے عہد کے فکری نظام کو سمجھا اور پھراسے مقامی روایت میں اس سے طرح پیش کیا کہ نئی نسل اسے قبول کرتی چلی گئی۔ سوشلزم اس دور کا مقبول بیانیہ تھا۔ بھٹو صاحب نے اسے اسلامی سوشلزم بنا دیا۔ روایتی مذہبی طبقات کی مخالفت کے باوجود عوام سوشلزم کو کفر ماننے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ بھٹو صاحب نے پاکستانی سیاست میں عوامی مقبولیت کا ایک نیا معیار قائم کر دیا۔
آج کا مقبول بیانیہ سیکولرزم ہے۔ لبرل طبقہ جو کشش کل سوشلزم میں محسوس کرتا تھا، اسے آج یہ سیکولرزم میں دکھائی دیتی ہے۔ میرا احساس ہے کہ اگر کوئی اسے جاندار انداز میں مقامی روایات سے ہم آہنگ بنا کر پیش کرے تو اس میں اتنی صلاحیت ہے کہ یہ سیاست کا مقبول ترین بیانیہ بن سکتا ہے۔'اسلامی سوشلزمکی طرح 'اسلامی سیکولرزم کا بیانیہ اپنے اندر بڑی کشش رکھتا ہے اگر کوئی اسے ڈھنگ سے پیش کر نے والا ہو۔ لوگ اس اصطلاح میں تضاد تلاش کریں گے جس طرح کل اسلام اور سوشلزم میں تضاد ڈھونڈے جاتے تھے۔ اُس وقت اسلامی سوشلزم کا ناقدین فکری طور پر کہیں توانا اور تنظیمی طور پر کہیں زیادہ مضبوط تھے۔ آج صورتِ حال یکسر تبدیل ہو چکی۔آج پاکستانی سیاست میں مذہب کا بیانیہ علمی طور پر پیش کر نے والا کوئی نہیں۔ روایتی اسلام ہے جو سب کی فکری غذا ہے۔ اسلام کے نام پر صرف جذبات کا استحصال ہے۔ اسلام پسندوں کے فکری سوتے خشک ہو چکے۔ عوام کو دینے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں۔ سیاسی اسلام کا بیانیہ اب القاعد اور داعش کے ہاتھوں یرغمال بن چکا۔ سیاست میں صرف دیوبند کا بیانیہ ہے۔ اس کے جملہ حقوق مولانا فضل الرحمن کے نام ہیں۔ اس میں مولانا سمیع الحق کا کوئی حصہ نہیں تو کسی اور کے لیے کیا ہوگا۔ مولانا سمیع الحق سے اگر'فادر آف طالبان کی شناخت چھین لی جائے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں ہے۔ اس لیے ان کی بقا اسی میں ہے کہ ان کی یہ شناخت باقی رہے اور میرا خیال ہے کہ انہیں اس کی اچھی طرح خبر ہے۔ اسی لیے انہوں نے بزبانِ انگریزی، اپنی زندگی پر ایک کتاب لکھوائی جو ان کے نام سے شائع ہوئی۔ پاکستان اور دنیا بھر میں ان کا یہی امتیاز ہے۔
بلاول بھٹو ایک جوابی بیانیے کو سیاسی قیادت فراہم کر سکتے تھے۔ اگر وہ سیاست میں باقاعدہ قدم رکھنے سے پہلے،اس حوالے سے بھٹو صاحب اور بے نظیر صاحبہ کی سیاست کا مطالعہ کرتے۔ اگر وہ دقتِ نظر کے ساتھ بے نظیر صاحبہ کی کتاب Reconciliation ہی پڑھ لیتے تو انہیں نئے بیانیے کے بنیادی خدو خال مل سکتے تھے۔ بیانیے کے ساتھ انہیں ایک نئے سیاسی اسلوب کی بھی ضرورت تھی۔ ان کی تقریروں کے لب ولہجے میں جدت ہوتی ۔ وہ ان کی عمر کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی اور ساتھ ہی ان کی فکری تازگی کو بھی نمایاں کرتی۔ وہ نوازشریف صاحب اور عمران خان سے مخاطب ہوتے وقت اگر اپنی تہذیبی قدروں کا لحاظ رکھتے تو نئی نسل کو زیادہ اچھا لگتا۔ پیپلز پارٹی کے جس طبقے نے انہیں سیاست میں ڈالا، اسے بھی چاہیے تھا کہ پراڈکٹ کو مارکٹ کرنے سے پہلے، بازارکا جائزہ لے لیتے۔ افسوس کہ ایسا نہیں ہو سکا۔ آج ان کی سیاست بھٹو اور بے نظیر سے زیادہ زرداری صاحب اور پرویز اشرف صاحب سے متاثر دکھائی دیتی ہے۔ نہ جدتِ افکار نہ جدتِ گفتار۔ بھٹو صاحب کے مطالعے کی کوئی جھلک نہ بے نظیر کے وژن کا کوئی پرتو۔ مجھے افسوس ہوگا کہ اگر اس نوجوان آدمی کی سیاست اپنی نوجوانی نہ دیکھ پائے۔ میں پیپلز پارٹی کو پاکستانی سیاست کی ضرورت سمجھتا ہوں۔ بلاول اس وقت جس ڈھنگ کی سیاست کر رہا ہے، اس میں پیپلزپارٹی کے ساتھ ان کا مستقبل بھی مخدوش ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ستر کی دہائی میں جو فلم کامیاب ہوئی، اکیسویں صدی میں نہیں چل سکے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *