کم ازکم کتابوں کی حد تک۔۔۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں زندگی خوبصورت ہے

zakariaرفیعہ زکریا

ہندوستان کے شہر دنیاکی ادبی توجہ کھینچتے ہیں: خشونت سنگھ کا ناول،’’چھالیہ چوستی بھاگ متی‘‘ ہمیں دہلی کے متعلق بتاتا ہے۔ ہندوستانی کہانی کے مرکزی خیال کے طور پر شہری زندگی کا یہ اسرار جسے صبوحی جیوانی کی ایڈٹ کردہ ایک نئی بیاض میں تھوڑاسا آشکار کیا گیا ہے۔
’’دنوں کے اختتام کی کہانیاں:ہندوستان کے چھوٹے سے قصبے میں غروب آفتاب کے بعد کی زندگی‘‘ میں موجود مضامین کا مجموعہ، ہندوستان کی کم معروف جگہوں کا ان کی انتہائی کم روشنی کے اوقات کے دوران کا حال سناتاہے۔ آسان انداز میں، لفظوں اور تشبیہات و استعارات کی مدد سے پٹنہ اور بیکانیر، احمد آباد اور سلی گری اور مکلوڈ گنج اور پانڈی چری اور کئی دوسرے قصبوں کی تاریکی کے ذریعے، یہ چھوٹی سی کتاب ایک اور ہندوستان کی منظرکشی کرتی ہے۔ تاہم ادبی عدم بصارت بالعموم ان تحریروں کو سمجھنا مشکل بنا دیتی ہے۔
یہ کتاب صوبہ بہار کے ان چھوٹے چھوٹے قصبوں بیتیا اورپٹنہ میں شام کے بعد گھومنے کے ذکر سے شروع ہوتی ہے جہاں کے مقامی افراد رات کو بجلی جانے کے سبب ہونے والی تاریکی کے اس قدرعادی ہیں کہ اب روشنی ان کو الجھن میں مبتلا کر دیتی ہے۔کتاب میں حصہ ملانے والے کئی مصنفین کی طرح، کمار بھی قصبوں میں واپس جا رہے ہیں اور ان کے نکتہ نظر کا خارجی رخ اور اپنے طے شدہ راستوں سے ہٹ کر ان کو محسوس ہونے والی بے چینی، اس احساس کے ساتھ ساتھ چل رہی ہے کہ مقامی افراد اس وقت کیسا محسوس کرتے ہیں جب تاریکی میں روشنی خلل ڈالتی ہے۔جب کمار کی گاڑی کی ہیڈ لائٹس جلتی ہیں تو لوگوں کے چہروں پر ناگواری کے تاثرات ابھر آتے ہیں جنہیں دیکھ کر کمار فوراً شرمندہ ہو جاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں،’’میں نے محسوس کیا کہ میں ایک جرم کا حصہ تھا کیونکہ ہم بیتیا کے لوگوں کو ان کی تباہ حال زندگیوں کے غیر محفوظ حصے دکھا رہے تھے۔‘‘
تاہم، مصنف کے لئے، چھوٹے سے قصبے کی زندگی کی روایات اور رنگا رنگی کی عدم موجودگی میں کرداروں کی مبالغہ آرائی، کسی خزانے سے کم نہیں ہیں اور اس مضمون میں، امیتاوا کمار دکھاتے ہیں کہ ان کا ناول، ’’گھریلو اشیاء‘‘ ان کے بیتیا کے تجربات میں سے کتنا کچھ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔جب ’’گھریلو اشیاء‘‘ کے مرکزی کردار پون سے پوچھا جاتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں وہ کون سے امیدوار کو ووٹ دے گا تو وہ جواب دیتا ہے، ’’اندھیرے میں وہ سب ایک سے نظرآتے ہیں۔‘‘
ہندوستانی انتخابات کے موسم میں یہاں سیاسی تبصرے بھی ہوتے ہیں جن میں شہر کے مکین اپنی پسند کی تنقیدی فطرت کے قائل اور اس پر ثابت قدم نظر آتے ہیں۔ چھوٹے سے قصبے کی زندگی کی باقاعدگی اور سرحدوں پر زندگی ، عظیم تر ہوشیاری اور چند انقلابی تبدیلیوں کی توقعات رکھتی ہے۔
تاہم یہ سب اس لئے نہیں ہے کہ ہندوستان کے چھوٹے قصبے تبدیل نہیں ہوئے۔علی گڑھ پر اپنے مضمون، ’’چھوٹی سی عورت: بہت تھوڑے آدمی ‘‘ میں ترن خان نوجوان مسلمان لڑکیوں کے متعلق یوں بات کرتے ہیں کہ جس طرح وہ مکمل طورپرانفرادی خلاؤں میں خود بخود جوان ہوتی ہیں جہاں شام نے حتیٰ کہ انہیں ان درختوں سے بھی دوررہنے کی تاکید کی ہے کہ جن کی شاخوں میں وہ روحیں گھات لگائے ہوئے ہوتی ہیں جو انہیں اپنے پاس رکھ سکتی ہوتی ہیں۔
اپنے چھوٹے، فراموش کردہ اورمحبت سے محروم قصبوں کی طرح،معروف، شہری اور محبتیں سمیٹنے والے علاقوں پر مسلط کردہ توقعات کے وزن کو سمجھتے ہوئے ، اس ہندوستان کو شاید ابھی مزید سچاملک بننا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *