استحکام کا تسلسل

najam sethi

سیاسی پنڈتوں کی پیش گوئی ہے کہ اگلے تین ماہ نواز شریف حکومت کے بچائو کے لئے بہت اہم ہوں گے۔ اس دعوے کا دارومدار اس حقیقت پر ہے کہ پاناما انکشافات کے بعد رائے عامہ سیاست دانوں کی بدعنوانی کے سخت خلاف ہوچکی ہے ۔ عمران خان جیسے غیر ذمہ دار سیاست دان کی قیادت میں اپوزیشن جماعتیں عید کے بعد عوام کے ان جذبات کا فائدہ اٹھا کر اپنا مطلب نکالنا چاہتی ہیں۔ ان کا منصوبہ ہے کہ گلیوں میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے وزیر ِاعظم کو منصب سے ہٹنے پر مجبور کردیں۔
نواز شریف کے خلاف کیس کی بنیاد دو حقائق پر ہے ۔ ان کے بیٹے سمندر پار کمپنیوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائے گئے کاغذات میںاُنھوں نے اپنی بیٹی کو زیر ِ کفالت ظاہر کیا ہے جبکہ وہ بھی ایک سمندر پار کمپنی کی شیئر ہولڈر ہیں۔ جہاں تک پہلے پوائنٹ کا تعلق ہے تو وزیر ِاعظم کے بیٹے نہ تو اُن کے زیر ِ کفالت ہیں اور نہ ہی وہ پاکستان کے شہری ہیں، اور پھر سمندر پار کمپنی قائم کرنا پاکستانیوں کے لئے غیر قانونی بھی نہیں۔ چنانچہ اس اعتراض میں کوئی جان نہیں۔ دوسرا پوائنٹ البتہ پریشان کن ہوسکتا ہے بشرطیکہ اُن کی بیٹی یہ ثابت نہ کرسکے کہ وہ اس کمپنی سے فائدہ اٹھانے والے اپنے بھائیوں کے مالیاتی امور کی محض امانت دار (trustee)ہے۔
تاہم پی پی پی اور پی ٹی آئی ، دونوں نے الیکشن کمیشن کے سامنے مسٹر نواز شریف کے خلاف ریفرنس دائرکئے ہیں، اور دونوں ہی احتجاج کے ذریعے اُنہیں اقتدار سے باہر کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ کیا وہ اپنے مقصدمیں کامیاب ہوسکتے ہیں؟بظاہر تو پی پی پی اور پی ٹی آئی وزیر ِاعظم کو چلتا کرنے کے لئے کسی تیسرے عامل پر بھروسہ کررہے ہیں، تو دوسری طرف وزیر ِاعظم اپنی جگہ سے ہلنے کے لئے تیار نہیں۔ تو یہ تیسرا عامل کون ہے؟یہ تیسرا عامل نیشنل سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ ہے جو کئی ایک وجوہ کی بنا پر مسٹر شریف کو پسند نہیں کرتی۔ سب سے پہلے تو اُسے مسٹر شریف کی ’’آزاد خارجہ پالیسی‘‘ بنانے اور نافذ کرنے کی کوشش پسند نہیں۔ روایتی طور پر خارجہ پالیسی پر اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ طاقتور عامل سابق آرمی چیف پر غداری کا مقدمہ چلانے کو بھی ناپسندیدگی کی نظروںسے دیکھتا ہے ، نیز اس کے حلقوں میں مسٹر شریف کو مجموعی طور پر نااہل اور مالیاتی امور میں غیر شفاف سمجھا جاتا ہے ۔
اب زمینی حقائق یہ ہیں کہ نوازشریف ملک کے منتخب شدہ وزیر ِاعظم ہیں ، اور ان کی سیاسی طاقت کی جڑ پنجاب میں ہے، جو پاکستان کا دل ہے ۔ پنجاب کے عوام کی سیاسی حمایت بڑی حد تک پی ایم ایل (ن) کے ساتھ ہے، اورانہی کے بھروسے پر مسٹر شریف نے بہت سے سیاسی طوفانوں کا مقابلہ کیا ہے۔ چنانچہ پی پی پی اور پی ٹی آئی کا احتجاج اپنی جگہ پر ، لیکن انہیں اقتدار سے صرف مقتدرہ ادارےکا براہ ِراست اقدام یا سپریم کورٹ آف پاکستان ہی ہٹا سکتی ہے ۔ تاہم موجودہ معروضی حالات میں یہ دونوں ہی وقوع پذیر ہوتے دکھائی نہیں دیتے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فوج شب خون مارنے کے اندرونی اور بیرونی نتائج کا خطرہ مول نہیں لے گی، تو موجودہ چیف جسٹس کے دور کی سپریم کورٹ کسی کا سیاسی بازو بننے کے لئے تیار نہیں۔ اس سے پہلے ایک سابق چیف جسٹس کے دور میں فاضل عدالت سیاسی طو رپر اتنی فعال تھی کہ ایک وزیر ِ اعظم کو گھر بھیج دیا گیا، اور دوسرے کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا چاہتا تھا کہ اُن چیف جسٹس صاحب کی اپنی مدت تمام ہوگئی۔ تو پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
ایک ممکنہ تھیوری یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ وزیر ِاعظم سے چھٹکار ا پانے کی بجائے انہیں مناسب حد تک کمزور کرنا چاہتی ہے ، کیونکہ اس صورت میں وہ اُن کی ہر بات کی تعمیل کریں گے۔ جب اپوزیشن سڑکوں پر ہوگی تو وزیر ِاعظم لازمی پچھلے قدموں پر چلے جائیں گے۔ اُن حالات میں اُن سے تینوں سروسز چیفس کی مدت ِ ملازمت میں توسیع کی بات بھی آسانی سے منوائی جاسکتی ہے ۔ ایک توجیح یہ بھی ہے کہ اگرچہ موجودہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع لینے کے امکان سے انکار کرچکے ہیںلیکن شاید اُن پر اپنے ادارے کے بعض افسران کی خواہش کا دبائو ہوگا کہ وہ اپنے منصب پر موجود رہیں۔اور پھر یہ توسیع غیر قانونی نہیں ہوگی، تینوں چیفس تین کی بجائے چار سالہ مدت پوری کرلیں گے۔ چونکہ موجودہ آرمی چیف شیڈول کے مطابق اس سال نومبر میں اپنے منصب سے ریٹائر ہونے والے ہیں، چنانچہ جو کچھ بھی ہونا ہے ، اگلے تین ماہ تک ہوجانا چاہئے، کیونکہ ایک مرتبہ جب نئے آرمی چیف کے نام کا اعلان ہوجاتا ہے توحاضر سروس چیف عملی طور پر غیر فعال ہوجاتا ہے ۔
چنانچہ نواز شریف کو چاہئے کہ وہ بھی اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن جماعتوں کی طرح اپنے آپشنز پر غور کرتے رہیں۔ اگر وہ توسیع نہیں دیتے تو کیا اسٹیبلشمنٹ اُنہیں اقتدار سے ہٹا دے گی؟دوسری طرف اگر وہ توسیع دے دیتے ہیں تو کیا ضمانت ہے کہ اُنہیں کمزور پاکر مزید دبائو نہیں ڈالا جائے گا؟اس میں کوئی شک نہیں کہ جنرل راحیل شریف نے اب تک ثابت کیا ہے کہ وہ جرات مند شخص ہیں۔ اُنھوں نے قومی سلامتی کے حوالے سے کچھ بہت دلیرانہ فیصلے کئے ہیں۔ چنانچہ اس پالیسی میں تسلسل درکار ہے ۔تاہم مدت ِملازمت میں توسیع خود حساس ادارے کے اپنے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ اگرچہ موجودہ آرمی چیف نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے عسکری امور چلائے ہیں، لیکن ان کے ساتھی بھی مہارت اورصلاحیتوں کے اعتبار سے کم نہیں۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب نااہل سیاست دان اپنی مدت پوری کرنے کے بعدبھی منتخب ہونے کی آرزو رکھتے ہیں تو باصلاحیت افراد کو کیوں توسیع نہیں ملنی چاہئے ۔ تاہم استحکا م کے لئے ضروری ہے کہ تباہ کن عناصر کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفاد میں بہترین فیصلے کئے جائیں۔ اس کے لئے گلیوں میں ہنگامہ آرائی کی ضرورت نہیں ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *