خدمت خلق

abid-hassan-333x400

ڈاکٹر صاحب بھلے انسان ہیں، گزشتہ کئی سالوں سے سعودیہ میں مقیم ہیں اور ایک پرائیویٹ ہسپتال میں نوکری کرتے ہیں۔کچھ دن پہلے میرے گھر آئے تو پریشان سے محسوس ہوئے۔ میں نے پوچھا کیا لوگ آج کل کم بیمار ہو رہے ہیں اس لیئے پریشان ہیں؟بولے نہیں یار بس ایسے ہی چھوٹی موٹی چیزیں چلتی رہتی ہیں۔میرے مزید استفسار پر بولے، بس یار کیا بتاؤں لوگ برائی کر کے مشکل میں پڑ تے ہیں لیکن میں نیکی کر کے مشکلات میں پڑ جاتا ہوں۔میں نے تفصیل پوچھی تو لمبی سانس لے کر بولے، تھوڑی لمبی بات ہے تحمل سے سننی پڑے گی۔میں نے اثبات میں سر ہلایا اور چائے کا کپ ان کی طرف بڑھایا تو وہ گویا ہوئے۔
میں کافی سالوں سے ریاض میں کام کررہا ہوں، اللہ پاک کا دیا ہوا سب کچھ ہے۔معاشی طور پر بھی خوشحال ہوں اس لیئے پاکستان میں وقتاً ً فوقتاً کسی کی مدد کرتا رہتا ہوں ۔ کچھ سال پہلے پاکستان گیا تو محلے میں ایک صاحب کا انتقال ہو گیا۔ غریب خاندان تھا اس لیئے محلے کے لوگوں نے بیوہ اور چار بچوں کی امداد شروع کردی۔ میرے ذہن میں بھی آیا کہ بچوں کو پڑھائی متاثر نا ہو، اس لیئے میں نے بھی دو بچوں ( جن کی سکول کی عمر تھی) کے سکول کے ماہانہ اخراجات اپنے ذمہ لے لیئے۔ہر ماہ کے شروع میں باقاعدگی کے ساتھ پیسے ان کے گھر پہنچتے رہے۔کچھ سال بعدپھر پاکستان جانا ہوا توگلی سے گزرتے ہوئے بیوہ خاتون کے بڑے بیٹے کو اپنے گھر کے باہر بیٹھا دیکھا جو سمارٹ فون پر گیم کھیل رہا تھا۔ میں نے حال احوال کے بعد پوچھا بیٹا پڑھائی کیسی جا رہی ہے، کونسی کلاس میں پڑھتے ہو۔اس نے برا سا منہ بنا کر جواب دیا، میں اب پڑھتا نہیں، کام سیکھ رہا ہوں۔میں نے حیران ہو کر پوچھا کیوں؟ اس نے موبائل سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا کہ امی کہتی ہیں پڑھائی کا کوئی فائدہ نہیں، تم کب پڑھ کر ڈاکٹر بن جاؤ گے۔میں نے خود سے کہا، جاہل رہ کر شاید سیاستدان ضرور بن جائے گا۔ گھر آ کر میں نے سوچا شاید معاشی مجبوریوں کے وجہ سے بچوں کی فیس بھی گھریلو اخراجات پر خرچ ہو جاتی ہوگی اس لیئے ماں نے بچوں کی پڑھائی ختم کروادی۔محلے میں ایک دو لوگوں سے پوچھنے پر پتا چلا کہ اتنے بھی برے حالات نہیں ہیں، کئی لوگ باقاعدگی سے ان کی مدد کرتے ہیں۔ گھر میں ایل سی ڈی ٹی وی بھی آ گیا ہے، اورابھی گرمیاں شروع ہوتے ہی نیا اے سی بھی لگوایا ہے۔میں نے بچوں کی فیس کے معاملہ کو چونکہ خفیہ رکھا تھا اس لیئے میرے بتانے پر محلے دار بھی حیران ہوئے اور مجھے پیسے دینے سے منع کر دیا۔ اب تقریبا چھ مہینے سے میں اس کشمکش میں مبتلا ہوں کہ میں نے بچوں کی تعلیم کا وعدہ کیا تھا اور پیسے تو اس پر خرچ نہیں ہو رہے ، لیکن پھر یہ بھی خیال آتا کہ پیسے بھیجنا روکے تو کہیں ان کے لیئے مشکلات نا بن جائیں۔
ڈاکٹر صاحب رکے، چائے کا گھونٹ بھرا اور دوبارہ بولے،کچھ سال پہلے ایک جاننے والے کو ہارٹ اٹیک ہوا، مجھے پتا چلا تو فورا کچھ پیسے بھجوائے کہ ہسپتا ل کے اخراجات آج کل بہت ذیادہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کر لیئے۔بس وہ دن اور آج کا دن، ہر چند مہینوں بعد وہ مجھے کال کر کے پیسوں کا تقاضہ کرتے رہتے ہیں۔ایک دو بار تو میں نے دے دیئے لیکن ہر وقت انسان کے پاس گنجائش نہیں ہوتی۔معذرت کرنے کے باوجود بار بار کال کرتے ہیں اور فون نا اٹھاؤں تو میرے ہر جاننے والے کو ملتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیسے لینے ہیں دے نہیں رہا(جیسے میں نے ان سے لیئے ہوں)آپ سفارش کر دیں۔
اسی طرح محلے میں ایک غریب مزدور کی بیٹی کی شادی کا پتہ چلا تو کچھ پیسے بھجوائے کہ شادی کے معاملات میں ان کے لیئے کچھ آسانی ہو جائے گی۔چھ مہینے پہلے اسی مزدور کے بھائی( جو خود ایک جنرل سٹور چلاتا ہے، اور اپنے بھائی سے معاشی طور پر کافی بہترہے) کے بیٹے کی شادی تھی جو دبئی میں کام کرتا ہے۔ مجھے شادی میں شرکت کے لیئے کارڈ بھیجا گیا ۔ میں سعودیہ میں تھا اس لیئے شرکت نا کر سکالیکن میں نے کچھ پیسے سلامی کے طور پر ضرور بھجوا دیئے۔ کچھ مہینے پہلے پاکستان جانے کا اتفاق ہوا تو جنرل سٹور پران صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے شکایت کی کہ میرے بھائی کی بیٹی کی شادی پر تو آپ نے اتنے پیسے دیئے تھی، میرے بیٹے کی شادی پر اتنے کم کیوں دیئے۔ یہ سنتے ہی میں نے اپنا سر پکڑ لیا۔ ایک غریب مزدور کی بیٹی جس کو جہیز کے ساتھ رخصت کرنا ہوتا ہے اس کا موازنہ اس لڑکے سے کیسے ہو سکتا ہے جو کئی سالوں سے بیرون ملک کام کر رہا ہے اور جس نے اپنی شادی پر رقص وسرور کی محفل بھی سجائی ہو؟
میں نے کچھ کہنا چاہا لیکن ڈاکٹر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے روکا، اور اپنی بات جاری رکھتے ہوبولے۔ ایک دور کے رشتہ دار پچھلے سال سے اسرار کر رہے تھے کے ان کے میٹرک فیل بیٹے کو سعودیہ کا ویزہ لے کر دیں۔ میرے یہ پوچھنے پر کہ وہ یہاں آ کر کیا کرے گا، ان کا یہی کہنا تھا کہ کچھ بھی کام کرلے گا۔آ پ اگر سو روپے کما لیتے ہیں تو وہ اسی روپے بھی کما لے گا تو خیر ہے(ان کے خیال میں ڈاکٹر اور میٹرک فیل کا صرف اتنا سا ہی فرق ہے)۔میں اس بات کوہمیشہ مذاق کے طور پر ہی لیتاتھا۔ ان کے بار بار کہنے پر میں نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ ویزہ کی خریدوفروخت بہت ہی رسکی کام ہوتا ہے، اس کے لیئے کسی قابل اعتبار ایجنٹ اور کفیل کی ضرورت ہوتی ہے۔اور بات یہیں ختم نہیں ہو تی، ویزہ خریدنے کے بعد یہاں آ کرنوکری کی تلاش بھی کرنا پڑتی ہے جو کہ بذات خود مشکل کام ہے۔بحر حال ، ان کے بار بار کہنے پر میں نے آدھے پیسے اپنی طرف سے ملا کر اپنے ایک دوست کے ذریعے ان کے بیٹے کے لیئے ویزہ خریدا ، اوراب وہ میرے گھر پہ تین مہینوں سے رہائش پذیر ہے۔ محنت مزدوری وہ کرنا نہیں چاہتا اور آفس والی نوکری مل نہیں رہی،اب تنگ آ کر کہہ رہا ہے کہ مجھے واپسی کا ٹکٹ لے دیں، پاکستان جا کر ہی کوئی کام کر لوں گا۔اس کا باپ الگ ناراض ہے کہ میں نے صحیح گائیڈ نہیں کیا، اور ان کے پیسے ضائع کروادیئے،یعنی جوپیسے میں نے اپنی طرف سے لگائے وہ پاکستانی جمہوریت کی طرح جعلی تھے۔
ڈاکٹر صاحب نے چائے کا آخری گھونٹ پیا اور افسوس بھرے لہجے میں بولے،میں جب بھی کسی کی مدد کرتا ہوں تو کوشش یہی رہتی ہے کہ خاموشی سے کروں۔ لیکن جس کی مدد کرتا ہوں وہ دوسروں سے اس کا ذکر کردیتا ہے۔ اس طرح دوسرے لوگ بھی مجھ سے امید لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پہلی فرصت میں ہی مجھ سے رابطہ کرتے ہوئے کوئی ڈیمانڈ کردیتے ہیں۔ اگرمیں نا کر دوں تو ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلاں کے لیئے تو آپ نے کر دیا تھا، میرے لیئے آپ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے۔اب آپ ہی بتائیں میں کیا کروں۔
میرے پاس ڈاکٹر صاحب کی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھااس لیئے ادھر ادھر کی باتیں شروع کر دیں۔ تھوڑی دیر میں ڈاکٹر صاحب جانے کے لیئے اٹھے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ ڈاکٹر صاحب ایک چھوٹا سا کام تھا، میں پاکستان میں گھر کی تعمیر کروا رہا ہوں اس لیئے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے، اگر آپ چاہیں تو۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے بے بسی سے میری طرف دیکھا، اور اثبات میں سر ہلا کر چلے گئے۔ظاہر ہے جب ڈھیر سارے پیسے ہوں تو کسی کی مدد سے انکار کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *