اے پاک روح الوداع

جہاں ایک طرف اتنی بڑی شخصیت کے بارے میں کچھ تحریرکرتے ہوئے اپنی کم مائیگی کا احساس ہورہا ہے وہیں اس بات پر فخر بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایسے عظیم فرد کے دور میں پیدا کیا جس نے انسانیت کے لئے وہ عظیم خدمات انجام دیں جو کم ہی لوگوں کے حصے میں آئی ہیں ، عبدااستار ایدھی کے حوالے سے بچپن سے لیکر آج تک جو چند یادیں موجود ہیں وہ میرے لئے اثاثہ حیات سے کم نہیں ہیں ، یہ اسی کی دہائی کی بات ہے شاید عبد استار ایدھی کو اس وقت وہ مقبولیت حاصل نہ تھی جو آگے جاکر حاصل ہوئی لیکن ان کا انسانی خدمت کا مشن زور وشور سے جاری تھا ، اس وقت فیڈرل بی ایریا سہراب گوٹھ کے نزدیک واقع ا یدھی سینٹر ایدھی صاحب کے مشن میں اہم مرکز کی حیثیت سے موجود تھا ، جہاں نزدیک ہی میری پھوپھی رہا کرتی تھیں ، تقریباََ ہر ہفتے میرا وہاں جانا ہو تا تھا ، کرکٹ کا کھیل بھی اپنے عروج پر تھا خاص طور پر اس وقت تک جاوید میاں داد کا چھکا بھی شارجہ میں لگ چکا تھا لہذا پوری پاکستانی قوم ہی کرکٹ کی دیوانی ہوچکی تھی ، ان ہی دنوں ہم بھی کسی کرکٹ ٹورنامنٹ میں اپنے ہم عمر کزنز کے ساتھ مشغول تھے ، فائنل تک رسائی بھی حاصل ہوچکی تھی ، فائنل میچ میں کسی چیف گیسٹ کے آنے کی اطلاعات بھی تھیں اور پھر معلو م ہوا کہ معروف سماجی شخصیت عبد الستار ایدھی فائنل میچ کے مہمان خصوصی کے حیثیت سے تشریف لانے والے ہیں ، ہم بھی میچ شروع ہونے سے قبل تمام دوستوں کے ہمراہ مہمان خصوصی کی آمد کے انتظار میں تھے ، اور پھر ایدھی صاحب کی ایمبولنسیں تو ہر جگہ نظر آیا کرتی تھیں تو ذہن میں یہی تھا کہ جو غریبوں کے لئے اتنی گاڑیاں فری میں چلا رہا ہو وہ تو خود اپنے استعمال کے لئے کوئی بہت ہی نفیس سے گاڑی رکھتا ہوگا جبکہ اس کی حفاظت یا پروٹوکول کے لئے چند گارڈز بھی ہونگے ، کافی دیر تک کرکٹ گراؤنڈ میں کھڑے داخلی دروازے کو تکنے کے باوجود کوئی وی آئی پی تو گراؤنڈ میں داخل نہ ہوا البتہ سرمئی شلوار قمیض میں ملبوس ، ہلکی سفید داڑھی اور جناح کیپ زیب تن کیے اس زمانے کی معروف سہراب سائیکل پر کوئی شخص گراؤنڈ میں داخل ہوا، اس کی آمد کے باوجود جو لوگ ایدھی صاحب سے واقف نہ تھے وہ تاحال کسی چیف گیسٹ کی گاڑی کی راہ تکتے رہے ، میچ کی انتظامیہ نے سب کو آگاہ کیا کہ چیف گیسٹ جناب ایدھی صاحب گراؤنڈ میں تشریف لاچکے ہیں ، گراؤنڈ میں ایک جگہ سائیکل کھڑی کرنے کے بعد ایدھی صاحب نے میچ کے منتظمین سے دیر سے آنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ کافی دور سے سائیکل چلا کر آنا پڑا ہے اس لئے دیر ہوگئی ہے ، لیکن اب کچھ وقت اور عنایت کریں تاکہ میں کھانا کھالوں ، انھوں نے سائیکل کی پچھلی جانب لگے ٹفن کو نکالا اور ایک طرف بیٹھ کر کھانا کھایا اور پھر مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھنے میں مشغول ہوگئے ، اسی دوران میرے کزن نے ان سے دریافت کیا کہ ایدھی صاحب آپ اپنی کسی گاڑی میں یہاں آجاتے تو انہوں نے انتہائی شفقت سے جواب دیا کہ ایدھی سینٹر کی گاڑیاں غریب اور نادار لوگوں کی خدمت کے لئے ہیں میرے ذاتی کاموں کے لئے نہیں ہیں لہذا ذاتی کاموں کے لئے ذاتی سواری ہی استعمال کرتا ہوں جو یہ سائیکل ہے ۔
اٹھائیس برس قبل عبد الستار ایدھی سے وہ میری پہلی ملاقات تھی جس کی یادیں آج بھی میرے دماغ میں موجود ہیں ، عبداالستار ایدھی کے حوالے سے آگے چل کر ایک اور واقعہ بھی میری یادداشت میں ہے ، رمضان کے دن تھے میں گرمیوں کی چھٹیوں کے سبب اپنی پھوپھی کے ہاں موجود تھا ، اللہ جنت بخشے مرحومہ کی عادت تھی کہ افطار سے قبل لازمی افطاری ایدھی سینٹر بھجوایا کرتی تھیں جو میں اپنے کزن کے ساتھ ہی دینے جایا کرتا ، اس روز عبد الستار ایدھی صاحب بھی ایدھی سینٹر میں موجود تھے ، میرے کزن نے افطاری اس اصرار کے ساتھ ایدھی صاحب کے حوالے کی کہ ایدھی صاحب یہ افطاری آپ کے لئے ہے اور آج آپ نے اسی افطاری سے روزہ کھولنا ہے ، ایدھی صاحب نے میرے کزن کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا بیٹا یہ افطاری ان غریب لوگوں کے لئے ہوتی ہے جو بے سہارا ہیں اور جو اپنے طور پر افطاری کا بندوبست نہیں کرسکتے ، جبکہ میں اپنا کھانا اور افطاری اپنے گھر سے لاتا ہوں ، لہذا آپ افطاری سینٹر میں جمع کرادیں ، یہ دو چھوٹے سے واقعات ایدھی صاحب کی ایمانداری اور امانت داری کے حوالے سے میرے لئے مشعل راہ ہیں کہ جس انسان کے پاس لوگوں کی خدمت کے لئے اربو ں روپے کے اثاثے موجود ہوں وہ اس میں سے اپنی ذاتی کام کے لئے اپنی سائیکل استعمال کرتا ہو یا ایک افطاری کو بھی غریبوں اور بے سہارا لوگوں کی امانت سمجھتا ہو وہ کتنا بڑا نسان ہوگا ، وقت گزرتا رہا نوئے کی دہائی میں کراچی میں لاشیں گرنے کا سلسلہ شروع ہوا ، ایدھی صاحب نے خطرناک علاقوں میں جاکر زخمیوں اور بے گورو کفن لاشوں کو نکالا زخمیوں کو اسپتال پہنچایا جبکہ لاشوں کو غسل دیکر انکی تدفین کا بندوبست کیا ، اکثر جب بھی پاکستان میں کرپشن ، چور بازاری اور پسماندگی کی بات ہوتی ہے وہاں لوگ اپنے آپ کو یہ دلاسہ دیتے نظر آتے ہیں کہ چلو جہاں اتنی خرابیاں موجودہیں وہاں ہمارے ملک میں ایدھی صاحب جیسے نیک لوگ بھی موجود ہیں جنھوں نے انسانی خدمت کو اپنا مشن بنایا ہوا ہے ، وقت گزرتا گیا ، ایدھی صاحب سے پھر کبھی ملاقات کا اتفاق نہ ہوسکا لیکن پھر گزشتہ سال جاپان سے آنے والے قریبی دوست ناصر ناکاگاوا اور ان کے جاپانی صاحبزادوں نے ایدھی صاحب سے ملاقات کی ضد کی تو انھیں لیکر کھارادر میں ان کے ہیڈآفس جانے کا اتفاق ہوا ، کھارادر کی پتلی پتلی گلیوں سے ہوتے ہوئے ایدھی سینٹر پہنچے ، تو دفتر کے استقبالئے کے ساتھ ہی موجو د کرسی پر انتہائی شفیق ، نورانی چہر ہ بھرپور سفید داڑھی میں فرشتے جیسی شخصیت کے ساتھ عبد الستار ایدھی براجمان تھے ،بدن پر اسی طرح پرانی سرمئی رنگ کی شلوار قمیض زیب تن تھی جبکہ سر پر جناح کیپ ہمیشہ کی طرح ان کی شخصیت کا حصہ تھی ، میرے دوست جو ایدھی صاحب کے بہت بڑے مداح تھے اور جنکی ایدھی صاحب سے پہلی ملاقات تھی وہ کافی دیرتک ایدھی صاحب کا ہاتھ تھامے خوشی سے آنسو بہاتے رہے ، وہ ایدھی صاحب کی گردے کی بیماری سے آگاہ تھے اور آج وہ اپنا ایک گردہ ایدھی صاحب کو عطیہ کرنے کی پیشکش بھی کررہے تھے ایدھی صاحب نے شفقت سے ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے یہ پیشکش شکریئے کے ساتھ رد کردی، ایدھی صاحب پر بزرگی حاوی ہوچکی تھی میں بھی کافی دیر تک ایدھی صاحب کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہا میرے پاس ان سے گفتگو کرنے کے لئے الفاظ نہیں تھے لیکن میں بہت دیر تک ان کو دیکھتا رہا، شاید میں دیکھنا چاہ رہا تھا کہ جنتی شخص کیسا ہوتا ہے ،ایدھی صاحب بہت بڑی شخصیت تھے جنھوں نے بہت ہی سادہ زندگی بسر کی ، لیکن کیا کہنے نوبل انعام والوں کے جن کو ایدھی جیسا شخص نظر نہیں آیا ، شاید ہماری حکومت ہی ایدھی صاحب کا کیس صحیح طرح پیش نہ کرسکی لیکن نوبل انعام والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا نوبل انعام ہمارے ایدھی صاحب کے قد سے بہت ہی چھوٹا ہے جس کی ایدھی صاحب کو بالکل ضرورت نہیں وہ بہت بڑے مرتبے پر فائز ہیں، اللہ تعالیٰ ایدھی صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز کرے۔ آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *