اپنے انتہاپسندوں سے کیسے نمٹاجائے؟

Ayesha Siddiqa
میں اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ 2006 ء کے اوائل میں ڈھاکا ائیرپورٹ پر اتری ۔ جب میں ائیرپورٹ ٹرمینل سے باہر نکلی تو چند لمحوں تک حیرت سے ساکت رہی گئی۔ مجھے ایسے لگا جیسے جہاز مجھے غلطی سے جدہ ائیرپورٹ لے آیا ہے ۔ پھر کسی نے وضاحت کی کہ آج کل یہاں ''اجتماع ‘‘ ہورہا ہے ، جو کہ حج کے بعد دنیا میں مسلمانوں کے اکٹھے ہونے کا سب سے بڑا موقع ہے ۔ میں بنگلہ دیش سول ملٹری تعلقات کا مطالعہ کرنے کے لیے ایک ماہ کے لیے گئی تھی۔ وہاں کے جو بھی سیاسی عوامل ہوں، آپ معاشرے میں عوامی لیگ اور بی این پی کے درمیان پائی جانے والی واضح تقسیم کو نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ آپ یا تو حسینہ شیخ کے حامی ہوتے ہیں یا خالدہ ضیا کے۔ تاہم بنگلہ دیش میں پائی جانے والی یہی واحد تقسیم نہیں تھی۔ ایک سیاح سرسری نظروںسے جائزہ لیتے ہوئے بھی دیکھ سکتا تھا کہ وہاں مذہبی تصورات اور سیکولر نظریات کے درمیان بھی خلیج گہری ہوتی جارہی ہے ۔ یقینا تمام مقامات ڈھاکا یونیورسٹی جیسا لبرل اور سیکولر ماحول نہیں رکھتے تھے ۔ اور پھر ایک مقام یا ادارے کا جائزہ لینا آپ کو مکمل حقائق سے آشنا نہیں کرتا ۔ 
تاہم ڈھاکا میں ہونے والی دہشت گردی کی وحشیانہ کارروائی ، جس میں تعلیم یافتہ نوجوان ملوث تھے جن کے ممکنہ طور پر داعش یا مقامی انتہا پسند تنظیموں، جیسا کہ جمعیت المجاہدین ، کے ساتھ روابط ہوسکتے ہیں، نے سب کو حیران کردیا ، حالانکہ اس سے پہلے بھی بنگلہ دیش میں مذہبی اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ بنگلہ دیش میں انتہاپسندی کا پھیلائو اُس سے کہیں سنگین مسئلہ ہوسکتا ہے جس کا حل چند ایک پھانسیاں یا پولیس اور فوج کا ایکشن سمجھ لیا گیا ہے ۔ پاکستان اور دیگر خطوں کی طرح بنگلہ دیش میں بھی مذہبی نظریات رکھنے والا دایاں بازو تقویت پاتا گیا اور اس نے اپنی سماجی ساکھ بنانے کے لیے غیر مذہبی سیاسی جماعتوں اور ریاستی عناصر کے ساتھ روابط قائم کرلیے ۔2000ء کی دہائی کے دوران جماعت ِاسلامی اور بی این پی کے ساتھ انتخابی شراکت داری کی خاطر دکھائی گئی نرمی کا مذہبی قوتوں کو بھرپور فائدہ ہوا۔ اس سے بھی اہم بات یہ کہ جس دوران دونوں بیگمات ایک دوسرے کے خلاف برسر ِپیکار رہیں، مذہبی انتہا پسندعناصر طاقتور ہوتے گئے ۔ مذہبی دائیںبازو کے بہت محنت سے کیے گئے کام نے اب اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ہے ۔ چنانچہ اس وقت بنگلہ دیش کے سامنے مسئلہ انتہا پسندی پر نظررکھنے اور اس سے نمٹنے کا ہے ۔ 
ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ڈھاکاتو صرف ایک مثال ہے ، ایسی تمام مثالیں جو ہم دیکھتے ہیں، ان سے ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ یہ تمام عفریت ہمارے اپنے پالے ہوئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم واویلا مچاتے رہیں کہ بغداد، استنبول، ڈھاکا اور مدینہ میں ہونے والے واقعات غیر ملکی سازش ہے ، لیکن ایسا کرتے ہوئے ہم اصل مسئلے سے چشم پوشی کا ارتکاب کریں گے ۔ اصل بات دیکھنے کی یہ ہے کہ یہ عفریت ہمارے ہاں پروان کیسے چڑھے ؟اس پرتشد د دنیا اور اس میں اس پنپنے والے تصور کے دوپہلو ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم عالمی سطح پر مذہب اور تہذیب کے درمیان ہونے والی کشمکش کاحصہ بن گئے ہیں، تاہم اس دوران ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ دنیا بھر میں دایاں بازو ز اور مذہبی بیانیہ زیادہ توانا ہوتا جارہاہے، اور اس کی وجہ ریاست پر سے اعتماد کا اٹھ جانا ہے ۔ ایسا نہیں کہ لوگ ریاست کے تصورکوختم کرنے پر تل گئے ہیں، بلکہ اسے اپنے کنٹرول میں لے کر اپنے نظریات کے سانچے میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ شدت پسندانہ نظریات رکھنے والے گروہ اپنے طریقے کے مطابق اپنے حریفوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افسوس ناک حقیقت یہ 
ہے کہ ریاست بہت سی دیگر قوتوں کو بھی اپنے اندر رکھتی ہے ، اور بعض ریاستوں میں یہ دیگر قوتیں بہت بڑی تعداد میں ہوتی ہیں ۔ 
دوسرا تصور یہ ہے کہ 1960ء کی دہائی سے شدت پسند نظریات کو مسلسل تقویت مل رہی ہے ، اور ایسا خاص طور پر مسلمان معاشروں میں ہورہا ہے ۔ اس حقیقت سے قطع نظر بہت سے مفکرین، جیسا کہ سید قطب اور مولانا مودودی نے مذہب اور سیاست کو ملانے کا تصورپیش کیا۔ دنیا کی سرحدیں سمٹنے کے ساتھ ساتھ اس نظریے کے نفاذمیں مزید شدت اور تندی آتی گئی۔ اخوان اور دیگر مذہبی تحریکوں کو 1960ء کی دہائی میں سعودی عرب کاسہارا مل گیا۔ مصر کے جمال عبدالناصرکا عدم تشدد پر مبنی عرب قوم پرستی کا تصور اور سعودی عرب کا اسلام پسندی کا تصور ایک دوسرے کے حریف دکھائی دیے ۔اس رقابت کااثر ریاست کی طاقت اور مذہب کے درمیان تعلق جوڑنے کی کوشش کرنے والوں پر بھی پڑا۔ اس کی وجہ سے ایسا ماحول پیدا ہوگیا جس میں تمام اپوزیشن کو ختم کرتے ہوئے ریاست پر قبضہ کرنے کا تصور پنپنے لگا۔ کئی حوالوں سے مدینہ میںہونے والی تخریبی کارروائی کوئی نئی پیش رفت نہیں، یہ 1979 ئمیں مقامات ِ مقدسہ کو بزور طاقت قبضے میں لینے کی کوشش کا تسلسل ہی ہے ۔ اُس وقت تین سو کے قریب باغیوں نے مسجد ِالحرام پر اپنا کنٹرول قائم کرتے ہوئے ریاست پر تسلط جمانے کی کوشش کی تھی تاکہ اسے اپنے عقائد کے مطابق چلایا جاسکے۔ تاہم اُس وقت ریاض نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے قبضہ چھڑا لیا، اور کسی حد تک مسئلہ حل ہوگیا، لیکن اس کے لیے قدامت پسند مذہبی عناصر کے ساتھ سمجھوتہ کرنا پڑا۔
اسلامی دنیا میں جدید مواد کی دستیابی کے بعد یہ سوچ پیدا ہونے لگی کہ طاقت کے لیے نظریاتی مرکز کو اپنے قبضے میں لیا جائے۔ اگرچہ کچھ مسلمان مفکرین، جیسا کہ مصری عالم ، عبدالرازق ، نے تفصیل سے اسلامی تعلیمات میں ریاست کے تصور کے بارے میں لکھا ہے ، لیکن زیادہ تر مسلمان معاشرے ریاست کے تصور کی وضاحت کرنے میں ناکام ہو گئے۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب اور پہلے افغان جہاد کے دوران امریکی ضروریات کے لیے انفرادی طور پر فعال باغی گروہوں اور انتہا پسندوں کو تقویت دینے سے ایک وسیع اسلامی ریاست اور مسلم معاشرے کا تصورزیادہ شدت سے پروان چڑھا۔ہم نے اپنے ہاں کچھ ذہنوں کو تربیت دینے کا پروگرام بنایا تھا ، لیکن وہ خود بخود ایک ''میگا پراجیکٹ ‘‘بن گیا۔ مجھے یاد ہے کہ 1990ء کی دہائی میں مجھے کئی ایک جہادی تنظیموں کے ارکان سے راولپنڈی میں بات کرنے کاموقع ملا۔ وہ اس وقت تک ''سکھائے گئے سبق ‘‘سے آگے بڑھ کر اپنے تئیں جہاد کی تشریح کرنا شروع ہوگئے تھے ۔ تین دہائیوں کے بعد ، آج اُن کا بیانیہ اور فعالیت کہیں زیادہ پیچیدگی اختیار کرچکی ہے ۔ 
اگرچہ انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے کئی ایک فارمولے بنائے جانے کی ضرورت ہے ، لیکن یہ سوچنا دانشمندی نہیں کہ اب مذہبی جنونیت سے واپسی کی کوئی راہ موجود نہیں ۔ بدقسمتی سے مذہبی جنونیت سے نمٹنے کی کوشش جزوقتی اور ہنگامی ہوتی ہے ، اس میں تسلسل اور یکسوئی کا فقدان ہوتا ہے ۔ زیادہ تر ممالک میں اس کے لیے شہریوں کی دلچسپی کو پرانی ثقافتی سرگرمیوں کی طرف موڑا جارہا ہے ۔ یقینا ایسی سرگرمیوں میں کشش ہوتی ہے ، لیکن یہ اسلامی دنیا کے خود سے مکالمے کی ضرورت کا نعم البدل نہیں۔ جب تک ہم نظریات کی مصنوعی تقسیم کو ختم نہیں کرتے انتہا پسندی ختم نہیں ہو گی، چنانچہ دہشت گردی کا خطرہ منڈلاتا رہے گا۔ ایک اور بات، پُرتشدد کارروائیوں میںکمی سے یہ اشارہ نہیں ملتا کہ خطرہ ٹل چکا ہے ۔ 

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *