معصوم لڑکی ’’کبوتری ‘‘کیسے بنی؟لفظ لفظ سچی کہانی !

kabotry
شبیر سومرو
’’اس نے مجھے میلے سے اٹھایا اور بازار میں بٹھا دیا۔ مجھے اس پر اتنا اعتماد تھا کہ جب تک مجھے صورتحال کا صحیح طور پر پتا چلتا، تب تک ’’آپاں‘‘ میرے پہلے ’’جوڑی دار‘‘ سے پہلا ’’ٹائم لگانے‘‘ کے پیسے وصول کر کے اپنی ڈب میں اڑس چکی تھیں۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، کہروڑ پکا کی کنیز کورنگی کے کوارٹر ایریا میں اپنی قسمت پھوڑ رہی ہے‘‘۔
میں دفتر میں بیٹھاایک فیچرکو ایڈٹ کر کے مکمل کرنے کی تیاری کر رہا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے اسے سستی میں اسے بجنے دیا کہ یہ فون میرے لیے نہیں ہو گا اور دوسرا ساتھی ریسیو کر لے گا کیونکہ میں آپریٹر کو کہہ چکا تھا کہ صرف ضروری کال ملا دے کیونکہ لکھنے کا بہت سارا کام پڑا تھا۔
خیردفتری ساتھی نے فون سنا اور اپنے چہرے کے تاثرات کو خوشگوار بناتے ہوئے بتایا کہ آپ کی کال ہے۔ کوئی خاتون بات کر رہی تھیں ،جنھوں نے پہلے دو تین سوالات کے ذریعے تصدیق در تصدیق چاہی کہ میں وہی ’’سومرو‘‘ بول رہا ہوں جس سے بات کرنے کا اسے کہا گیا ہے پھر وہ پوچھنے لگیں:
’’ آپ مجھ سے مل سکتے ہیں؟‘‘
’’کس سلسلے میں؟‘‘
’’میں،جی!۔۔۔وہ۔۔۔ میں آپ کو اپنی اسٹوری بتانا چاہتی ہوں۔ ایسا کریں کل دوپہر میں آجائیں آپ‘‘۔
انھوں نے میری مرضی معلوم کرنے کا تکلف کیے بغیر آرڈر سنا دیا تو الجھن ہونے لگی کہ خاتون کو کم از کم اگلے بندے کی مصروفیت اور فراغت کا تو پوچھنا چاہیے تھا۔ بہرحال بات آگے بڑھائی۔
’’آپ ایسا کریں کہ کل چھوڑیں پرسوں تشریف لے آئیں تو یہاں دفتر میں تفصیلی بات چیت ہو سکتی ہے‘‘۔
’’نہیں جی! میں نہیں آ سکتی اتنا دور۔ مجھے تو نیاز صاحب نے کہا تھا کہ تم ایک فون کر دو تو سومرو صاحب دوڑے چلے آئیں گے‘‘۔ انھوں نے میرے ایک واقف کار کا حوالہ دیا۔
’’خیر بی بی! دوڑنا تو اب اپنے بس کی بات نہیں مگر یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی درمیان کی جگہ رکھ لیں جہاں آپ کو بھی آسانی ہو اور دو دن بعد رکھیں‘‘۔
اس طرح کنیز فاطمہ سے نیاز حسین ہی کے ’’زیرِ انتظام‘‘ ملاقات ہوئی جو کہ پولیس میں ہوتے ہوئے بھی ابھی تک گداز دل اور نرم مزاج رکھتے ہیں اور آرٹ موویز کے شیدائی ہیں۔ میری طرح وہ بھی ہر شخص کو کہانی سمجھتے ہیں، صرف فرد قرار دے کر نظرانداز نہیں کرتے۔
کنیز فاطمہ کا تعارف کراتے ہوئے نیاز نے بتایا:
’’یار! یہ لڑکی کیچڑ میں کنول ہے، اس نے خود اپنے پیروں پر کلہاڑی نہ ماری ہوتی تو آج یہ کسی بڑے گھر کی بہو ہوتی کیونکہ اس کا اپنا تعلق بھی بہت اچھے گھرانے سے رہا ہے، تم اسے شبانہ اعظمی والی فلم ’’منڈی‘‘ کی سمیتا پاٹیل سمجھ سکتے ہو جس نے گندے ماحول میں رہ کر بھی اپنی روح کی معصومیت کو مرنے نہیں دیا۔ یوں سمجھو یہ اپنی غلطی کا کفارہ ادا کر رہی ہے‘‘۔
’’اگر تمھیں ہی بولنا تھا تو پھر ان کو آنے کی کیا ضرورت تھی؟ پولیس ولے ہی رہو، سوشل ورکر نہ بنو‘‘۔
اس جھاڑ سننے کے بعد نیاز کو چائے پانی کا بندوبست کرنے کی بات یاد آنا ہی چاہیے تھی۔
کنیز نے بتایا کہ وہ پنجاب کے شہر کہروڑپکا کی رہائشی تھی اور گذشتہ کچھ عرصہ سے کراچی میں ہے جہاں قابلِ نفرت زندگی اس کا مقدر بن گئی ہے۔
’’مگر ابمیں نے کچھ سوچ لیا ہے۔ پہلے عزت گنوانے کے لیے گھر سے بھاگی تھی اور اب رہی سہی عزت بچانے کے لیے بھاگوں گی۔ آپ یہ لکھ لیں کہ "Kaneez Fatima is no more in Red Light Area of Karachi" اس نے شستہ انگریزی میں یہ جملہ ادا کیا تو یقین ہو گیا کہ وہ پڑھی لکھی لڑکی ہے، ہماری فلمی ہیروئنوں کی طرح ’’طوطا۔ٹیوٹر‘‘ کے رٹائے ہوئے انگریزی جملے اپنی مادری زبان میں بول کر رعب جھاڑنے کی مضحکہ خیز کوشش نہیں کر رہی ہے۔
’’مگر یہ نوبت آئی کس طرح کہ آپ جیسی نستعلیق لڑکی کا یہ حشر ہو گیا؟‘‘
میں نے عموماً دیکھا ہے اس قسم کے سوال پر سخت سے سخت دل والی لڑکی بھی کچھ لمحوں کے لیے بولنے سے معذور ہو جاتی ہے۔ یہی حال کنیز فاطمہ کا ہوا۔ اس کو چپ لگ گئی، پہلے اس کی خوبصورت آنکھیں نم ہو کر چمکنے لگیں پھر یہ نمی آنسوؤں کی صورت بہہ نکلی۔ چند لمحوں میں اس نے کوشش کر کے خود پر قابو پایا اور اب انہی نرم اور نم آنکھوں میں نفرت کی چنگاریاں بھڑک رہی تھیں:
’’ہم ہر سال گاؤں سے داتا کے میلے میں لاہور جاتے تھے۔ دو سال پہلے وہیں پر سفیر سے میری ملاقات ہوئی۔ میرے والد بہشتی دروازے پر قطار میں کھڑے تھے جن کے آگے وہ کھڑا تھا۔ میں اور میری بہن ذرا فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ والد صاحب ایک بار تھک کر قطار سے نکل آئے تو سفیر کو جگہ کا خیال رکھنے کا کہہ آئے تھے۔ اس طرح جب ابو واپس قطار میں گئے تو سفیر نے ان کا دل جیتنے کے لیے انھیں اپنی جگہ پر آگے کھڑا کر دیا اور خود پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اس طرح اس نے ابو کے ساتھ ساتھ میری توجہ بھی حاصل کر لی اور یہی اس کا مقصد تھا۔ فارغ ہونے کے بعد ابو اسے اپنے ساتھ ہی ہمارے پاس لے آئے۔ اس طرح اس سے واقفیت ہوئی۔ اس نے بتایا کہ اسے فلموں میں کام کرنے کا شوق ہے اور ہر سال یہی منت ماننے آتا ہے۔ فلموں کے حوالے پر میرا دل دھڑک اٹھا کیونکہ اسے صرف شوق تھا، مجھے تو جنون تھا۔ یہ مجھے بہت بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے میرے ہاتھ میں فلمی میگزین دیکھ کر یہ بہانہ گھڑ لیا تھا۔ میلے میں ہمیں کئی بار یکجا ہونے کا موقع ملا اور ہر بار جب میں فلم وغیرہ کا تذکرہ نکالتی، وہ میری حوصلہ شکنی کرتا اور کہتا کہ تم جیسی معصوم لڑکی فلم لائن میں تباہ ہو جائے گی، کوئی اور بات کرو۔ اس طرح اس نے میری شوق کو اور بھرکا دیا اور میرا یہ حال ہو گیا کہ جس دن ہم لوگ لاہور سے واپس آرہے تھے‘‘۔
کنیز کی بات نیاز حسین نے کاٹ دی: ’’لاہور والیو! کراچی واپس آجاؤ، تم ذرا یہ سامان پلیٹوں میں نکال کر لے آؤ، اس کے بعدچائے لے آنا۔ ٹھنڈی ہو گئی تو ہمارا یار! پھر اپنے مشہور زمانہ جملے سے حملہ کرے گا کہ ’’چائے اور۔۔۔ گرم گرم‘‘ نیاز نے ایک ہی وقت میں ہم دونوں کو لپیٹ لیا۔
کنیز اٹھی اور سعادتمند گھریلو لڑکیوں کی طرح پکوڑے، فروٹ اور دوسری اشیا پلیٹوں میں سجا کے لے آئی۔ اس نے خود بہت کم کھایا اور ہمیں کھلانے میں زیادہ دلچسپی لی جبکہ نیاز اور میرے درمیان مقابلے کی فضا پیدا ہو گئی جو کہ چند منٹوں میں پلیٹیں صاف ہونے پر دم توڑ گئی۔
’’آپ نے یہ نہیں پوچھا کہ میں نے آپ کے ہاں آنے سے کیوں انکار کیا تھا؟‘‘ اس نے برتن سمیٹتے ہوئے سوال کیا تو میں نے اسے بتایا کہ اس نے دفتر دور ہونے کا کتنا بھونڈا بہانہ پیش کیا تھا جبکہ اس وقت وہ اس سے بھی دگنے فاصلے پر ’’بہ راضی و رضا‘‘ موجود تھی۔
’’اصل میں مَیں آپ کا اخبار بہت دیر سے (بہت عرصے سے) پڑھتی ہوں، آپ مجھے جو بھی سمجھیں مگر یہ حقیقت ہے کہ مجھے اتنے پاکیزہ ماحول میں آنا غلط لگ رہا تھا۔ میں سنجھی وہاں سب بزرگ اور باریش لوگ ہوں گے جو مجھ سے نفرت کریں گے یا بات کرنا بھی پسند نہیں کریں گے‘‘۔
’’مگر آپ نے ان کو دیکھا تو آپ کو خیال آیا کہ یہ تو اپنا ہی بھائی بند لگ رہا ہے۔ ہے نا؟‘‘ یہ نیاز تھے جو چوٹ لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے تھے، اس لیے ان کو خاموش کرنے کے لیے میں بھی اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آیا:
’’اچھا نیاز بھائی! یہ بتاؤ کہ تمہارا بیٹا اب بھی تمھیں ’’ماموں‘‘ بولتا ہے یا اب اسے پتا چل گیا ہے کہ تم ماموؤں کی قطار سے باہر ہو؟‘‘
اصل میں نیاز کی پھڈے باز فطرت کے باعث آئے دن اس کی پوسٹنگ بدلتی رہتی تھی، اس لیے ان کی بیگم بچوں سمیت میکے میں رہتی ہیں اور ان کے بچے گھر میں باافراط پائے جانے والے ماموؤں کے باعث باپ کو بھی عرصے تک ’’ماموں‘‘ کہہ کر ہی بلاتے رہے تھے۔ یہ چوٹ ذرا گہری تھی اس لیے اسے برداشت کرنے کے لیے اس نے کمال ضبط کا مظاہرہ کیا اور آخرکار مسکراہٹ دباتا ہوا نکل گیا۔
’’ہاں تو کنیز بی بی! آپ لاہور سے واپس گاؤں آنے کی بات بتا رہی تھیں‘‘۔
’’ہاں جی! تو اس دن سفیر نے ہمیں کافی تحفے وغیرہ لے کر دیے اور موقع پا کر مجھے ایک لفافہ بھی پکڑا دیا جس میں اس نے مجھے خط لکھا تھا۔ اس خط میں تین دن بعد اس نے میرے گاؤں آنے کا وعدہ کیا تھا اور وہاں کے کسی دوست کا ایڈریس لکھا تھا جہاں مجھ سے وہ ملنا چاہتا تھا۔ اس ملاقات میں اس کے دوست کی بیوی ناہید بھی موجود تھی جس نے سفیر کی بہت زیادہ تعریفیں کیں۔ اس طرح اس کمینے سے میرا تعلق بنا اور اگلے سال جب ہم لاہور گئے تو آخری دن میں اپنے گھر والوں کے ساتھ واپس جانے کے بجائے اس کے ساتھ کراچی چلی آئی‘‘۔
’’یہاں اس نے آپ کو کہاں ٹھہرایا؟ کوئی گھر یا کسی اور کے پاس لے آیا؟‘‘
نہیں جی! اس۔۔۔ (گالی دے کر) نے پورا بندوبست پہلے سے کیا ہوا تھا۔ مجھے رنچھوڑ لائن کے علاقے میں ایک بہت پرانے ہوٹل میں لے آیا جہاں اس نے مجھے بیوی ظاہر کر کے کمرہ لیا۔ ادھر ہم دو دن ٹھہرے مگر اس دوران اس نے میرے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی۔ کہتا تھا جب ہم نے شادی کرنی ہے تو پھر تیری معصومیت کو داغدار کر کے میں تمھاری اور اپنی نظروں میں گرنا نہیں چاہتا۔ مگر یہ بھی اس کمینے کی کاروباری چال تھی‘‘۔
’’وہ کس طرح؟‘‘
’’اگر وہ مجھے داغدار کر دیتا تو پھر میری قیمت گر جاتی جس کا نقصان اسے ہونا تھا‘‘ یہ جملے بولتے ہوئے کنیز نے سر جھکا لیا جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ اتنے خراب حالات سے گزرنے کے باوجود اس کے اندر کی عورت ابھی مری نہیں تھی۔
’’تیسرے دن اس نے مجھے بتایا کہ کام مل گیا ہے اور ساتھ میں رہنے کا انتظام بھی ہو گیا ہے۔ شام کو ہم لوگ ٹیکسی میں بیٹھ کر ایک بڑے سے گھر میں آئے جہاں ایک عورت مجھے دیکھتے ہی بے تابی سے آگے بڑھی اور مجھے گلے لگا کر پیار کیا لیکن مجھے اس عورت کی چال ڈھال، ہار سنگھار اور انداز و اطوار دیکھ کر پریشان ہو رہی تھی اور میرے اندر سے آواز آرہی تھی کہ گڑبڑ کی ابتدا اسی وقت ہو گئی تھی جب میں نے اپنے ماں باپ کا گھر چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب واپسی کا کوئی راستہ نہ تھا، سفیر جیسا بھی تھا، مجھے اس کے ساتھ زندگی بتانی تھی۔ اب تک اس کے شریفانہ برتاؤ سے میں اس کی گرویدہ ہو چکی تھی۔ بہرطور مجھے وہ عورت ایک کمرے میں لے آئی جہاں میز پر کھانے پینے کی اشیا چنی ہوئی تھیں۔ اس نے اصرار کر کے مجھے کھانے پر مجبور کیا۔ جب گھنٹہ بھر اس طرح گزر گیا تو میں نے سفیر کا پوچھا کہ وہ کدھر ہے۔ اس عورت نے مجھے کہا کہ وہ کام کے سلسلے میں ایک صاحب کے پاس گیا ہوا ہے اور مجھے فکرمند نہ ہونا چاہیے۔ یہ بھی میرا ہی گھر ہے۔ مگر مجھے فکر کیسے نہ ہوتی؟ جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا میری گھبراہٹ بڑھ رہی تھی۔ وہ عورت مجھے آرام کرنے کا کہہ کر خود باہر نکل گئی۔ اس نے اپنے پیچھے کمرے کا دروازہ بند کر دیا تھا۔ میں نے تھوڑی دیر بعد باہر نکلنا چاہا تو پتا چلا دروازہ باہر سے لاک ہے۔ اس طرح دروازے کے ساتھ ساتھ میری قسمت بھی لاک ہو گئی‘‘۔
کنیز نے وقفہ دے کر پھر بولنا شروع کیا۔
’’آپ نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ آپنے لوگوں کے نام تبدیل کر دیے ہیں، مگر برائے مہربانی میرا اصل نام لکھیے گا تاکہ جو لوگ مجھے جانتے ہیں، کل وہ میری کہانی سے بھی واقف ہو جائیں۔ اب مجھے اپنی بدنامی کا کوئی خوف نہیں۔ عورت کی عزت ایک بار خراب ہوتی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ مضمون پڑھنے والی لڑکیاں میری کہانی سے عبرت پکڑیں۔ اگر ان کی زندگی میں بھی سفیر جیسا کوئی کمینہ آ گیا ہے تو اسے پہچان لیں اور میری غلطی نہ دہرائیں۔ میں آپ کو بتا رہی تھی کہ دروازہ باہر سے بند تھا جو کہ شام کو میرے شور مچانے پر اسی عورت نے کھولا۔ اس کا چہرہ بگڑا ہوا تھا اور اس نے آتے ہی مجھے ڈانٹنا شروع کر دیا۔
’’بی بی! یہ بڑے لوگوں کا گھر ہے۔ شور مچا کر ہمیں بدنام نہ کرو۔ تیرا بندہ ایک لاکھ روپے نقد و نقد لے کر تجھے ہمارے حوالے کر گیا ہے۔ زیادہ ٹرٹر کرو گی تو ایک کے بجائے دس بندے کمرے میں بھیج دوں گی‘‘۔
اس کی باتوں سے مجھے ایک دم چکر آ گیا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہو گیا ہے؟ سفیر نے یہ کیسی ’’سفارتکاری‘‘ دکھائی تھی مجھے؟ میرے رونے دھونے اور منت کا اس عورت اور اس کے دوسرے ساتھیوں پر کوئی اثر نہیں ہوا جو میری چیخ و پکار پر وہاں جمع ہو گئے تھے۔ عورت جسے سب ’’آپاں‘‘ کہہ رہے تھے، اس نے علونامی ایک شخص کو کہا کہ اس کو ترکیب نمبر تن (تین) سے زیر کرو۔ اس پر علو اور اس کے دو ساتھیوں نے ایک دم مجھے پکڑ کر گرا دیا اور میرے دونوں بازو پیچھے موڑ کر میرے دوپٹے سے باندھ دیے۔ دوسرے کپڑے کی پٹی میرے منہ سے لگام کی طرح گزار کر باندھ دی جس سے میری آواز بھی بند ہو گئی۔ اس کے بعد انھوں نے مجھے مردے کی طرح اٹھا کر بیڈ پر پٹخ دیا اور رسی سے وہاں باندھ دیا گیا۔ میرے بازو میری پشت پر بندھے ہونے کی وجہ سے میں بہت تکلیف میں تھی مگر ان ظالموں نے اس پر کوئی توجہ نہ دی اور مجھے ایسے ہی چھوڑ کر کمرہ بند کر کے چلے گئے۔ 12 سے 15 گھنٹے میں اسی طرح پڑی رہی۔ بھوک، پیاس اور جسمانی تکلیف سے رات میں کسی وقت بے ہوش بھی ہو گئی مگر بجلی چلے جانے پر گرمی سے میری آنکھ کھل گئی۔ اس گھر میں مجھے ایک ہفتے تک رکھا گیا جس کے دوران دو دو وقت تک بھوکا رکھا جاتا، ناشائستہ حرکات کی جاتیں۔ آخرکار دسویں دن کنیز فاطمہ کو ایک ’’بڑے آدمی‘‘ کی کنیز بنا کر اس کا ’’دسواں‘‘ کر دیا گیا۔ اس آدمی نے 4 دن تک مجھے ذلیل کیا۔ جس کے بعد ’’آپاں‘‘ کے مرد ساتھیوں کی باری آئی۔ ان حرامیوں نے اس دوران مووی بھی بنائی تاکہ آئندہ بھی مجھے بلیک میل کر سکیں۔ بعد میں جب میں ان کے بقول ’’سیدھے راستے‘‘ پر آگئی تھی تو ایک دن موقع پا کر وہ مووی میں نے چرا کر ضائع کر دی تھی۔ مگر میرے بعد کے جو دو سال گزرے ہیں، اس میں میری اتنی ’’فلمبندی ‘‘ ہوئی ہے کہ کسی ٹاپ کلاس ہیروئن نے بھی اتنی فلمیں نہیں بھرائی ہوں گی۔ اس طرح فلموں میں کام کرنے کا میرا شوق تو بہرحال پورا ہو گیا‘‘۔
کنیز کے آخری جملے میں جو کاٹ تھی، اس کے آگے نئے بلیڈ کی دھار بھی کچھ نہ تھی۔
’’اب میں رہتی تو کورنگی میں ہوں مگر میرا اٹھنا بیٹھنا ڈیفنس، کلفٹن اور پی ای سی ایچ ایس میں ہوتا ہے‘‘۔ ’’آپاں‘‘ اور اس کے گروہ سے ایک سال کے اندر میں نے اپنے تعلقات کے زور پر نجات حاصل کر لی تھی۔ نہ صرف اتنا بلکہ ان کو کراچی سے بھاگنے پر بھی مجبور کر دیا تھا۔ اس دوران چھپ چھپا کر دو مرتبہ گاؤں کا چکر لگا آئی ہوں مگر کسی سے ملنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ صرف دور دور سے ایک بہن کو دیکھا۔ ابا کا میرے واقعے کے ایک سال بعد انتقال ہو گیا تھا۔ بھائی دوسرے شہر شفٹ ہو گئے تھے۔ ایک بہن ہے جو گاؤں ہی میں بیاہی گئی ہے، وہ اب تک وہاں رہتی ہے۔ ماں کا سایہ بچپن سے اٹھ گیا تھا۔ مجھے یہ بھی پتا چلا کہ میرے والد اور بھائی نے میرے گھر سے بھاگنے کی ’’رپٹ‘‘ درج نہیں کرائی تھی اور نہ ہی دور پاس کے عزیزوں کو اس واقعے سے متعلق خبر ہونے دی گئی تھی۔ عزیز رشتہ داروں کولاہور میں میری شادی کرا دینے کا بتایا گیا تھا۔ لیکن سمجھنے والے پھر بھی سمجھ گئے تھے۔ علاقے میں ہونے والی سرگوشیوں سے والد صاحب بھی واقف ہو گئے تھے اور اسی صدمے سے وہ جان سے گزر گئے‘‘۔
’’آپ کا اب کیا سلسلہ ہے؟ آپ کہہ رہی تھیں کہ آپ بہت جلد کراچی چھوڑ رہی ہیں؟‘‘
’’ہاں دیکھو کیا ہوتا ہے۔ ابھی تو آپ کے یہ دوست اپنا دوسرا گھر آباد کرنے کی فکر میں ہیں۔ میں انھیں سمجھاتی رہتی ہوں کہ پاگل! اتنی ہمدردی کرو جتنی ہضم ہو سکے۔ تمھیں اس سماج میں جینا ہے جہاں میرے دن رات سب پر عیاں ہیں۔ بہرحال اتنا ہے کہ اب میں کس کی پابند نہیں رہی۔ اس لیے یہ خواہش ہے کہ اس شناخت کو یہاں دفن کر کے نئے نام اور نئے چہرے کے ساتھ کسی دوسرے شہر میں زندگی گزارنے کی کوشش کروں‘‘۔
’’مگر پلاسٹک سرجری تو بہت مہنگا نسخہ ہے۔ نیا چہرہ کس طرح حاصل کریں گی آپ؟‘‘ میں نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔
’’میں اتنی انتہا تک نہیں جانا چاہتی۔ اس کے علاوہ دو سال میں اتنا کما لیا ہے کہ چہرے کے ساتھ ساتھ اگر ذہن و دل بدلنے کی ضرورت ہوئی تو وہ بھی afford کر سکتی ہوں اور میرا حلقہ احباب اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ اس میں کوئی تو پلاستک سرجن بھی ضرور ہو گا۔ بس ڈائری دیکھنے کی دیر ہے۔ سب کے نام اور کام لکھ رکھے ہیں مَیں نے۔ نجانے کس وقت کس کی ضرورت پڑ جائے۔ ہمارے کام میں تو Professional Hazards بھی زیادہ ہوتے ہیں نا!‘‘
’’میں تو سمجھتا ہوں کہ آپ نے پروفیشنل کا لفظ اضافی لگایا ہے۔ صرف Hazards ہی Hazards ہیں‘‘۔
’’ہاں واقعی‘‘ کمرے کی محدود گنجائش میں اس کی ہلکی ہنسی گونج اٹھی۔ اگر ہنسی کا کوئی رنگ ہوتا ہے تو اس وقت وہ اس کے چہرے پر پیلا پن بن کر جھلک اٹھا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *