ایک بے گھر دنیا

zakariaرفیعہ زکریا

ان میں نصف سے زیادہ بچے ہیں۔ پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، پناہ گزینوں، یعنی اپنے گھر چھوڑ کر آنے والے لوگوں کی تعداددوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار 5کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ وہ دنیا کے کئی حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ان 77ممالک میں کہ جہاں یہ پناہ گزین موجود ہیں، نہایت چھوٹے بچوں کو دارالامانوں میں پناہ دینے کے لئے تقریباً 28000درخواستیں جمع کرائی گئی ہیں، یعنی ان بچوں کے والدین اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
توقعات کے عین مطابق، ان پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد شام سے آئی ہے ۔ پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق، شامی پناہ گزینوں میں گیارہ لاکھ بچے ہیں اور ان میں سے 75فیصد کی عمریں بارہ سال سے کم ہیں۔اگر دنیا کے تمام پناہ گزینوں کو اکٹھا کر دیا جائے اور انہیں ان کا اپنا ایک ملک دے دیا جائے تو یہ دنیا کا چوبیسواں سب سے زیادہ گنجان ملک ہو گا۔
یوں آج کے دور میں زندگی گزارنے والے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے گھر میں رہنے کی آسائش سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک ترجمان کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ نے اس صورتِ حال کودنیا میں کسی جگہ،’’مسلط کردہ دربدری کی ایک لمبی چھلانگ‘‘قرار دیا ہے۔ دربدری کی وجوہات ہر جگہ مختلف ہیں۔ کچھ لوگ جنگوں کے سبب اپنا گھر بار چھوڑ کر بھاگے ہیں، دوسرے فاقوں یا ماحولیاتی مسائل کے سبب۔ کچھ لوگ اپنے ممالک چھوڑنے پر مجبور ہیں جبکہ کچھ اپنے ممالک کے اندر ہی دربدر ہیں۔ ۔۔ کبھی ایک سے دوسرے گاؤں جاتے ہیں تو کبھی چھوٹے چھوٹے دیہاتی علاقوں سے بڑے شہروں میں جاتے ہیں۔ ۔۔ یہ سب اپنے ان خاندانوں اور معاشرتی گروہوں کو خیرباد کہہ آئے ہیں جو اب تک انہیں سہارا دیتے رہے ہیں۔
ان کے لئے، جو سرحدیں عبور کر رہے ہیں، ان کی اگلی منازل بھی اکثر ویسی ہی بری اور بدقسمت ہوتی ہیں، جیسی وہ اپنے پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہوتے ہیں۔ شام کے تنازعے کے سبب لبنان اور اُردن میں پناہ لینے والوں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ گزشتہ تین عشروں میں، عراق اور افغانستان میں جنگوں کے سبب، پاکستان اور ایران دنیا بھر میں مہاجرین کے سب سے بڑے مراکز بن گئے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں16لاکھ جبکہ ایران میں 900000 مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔
پاکستان میں پناہ گزینوں کا مسئلہ صرف بیرون ملک ہی سے نہیں آیا۔ آپریشن ضرب عضب کی شروعات کے ساتھ ہی ، ان علاقوں سے، جہاں فوج مبینہ دہشتگردوں کو نشانہ بنا رہی ہے، لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد بے گھر ہو گئی ہے۔ابتدائی طور پر ان اندرون ملک بے گھر ہو جانے والے لوگوں کی تعداد کا اندازہ 2سے 3لاکھ لگایا گیا۔ تناسب کے اعتبار سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ میرانشاہ اور میر علی کی تقریباً80فیصد آبادیاں جنگ کی وجہ سے اپنے گھر چھوڑ گئی ہیں۔
ایک ایسے ملک میں کہ جہاں ایک کے بعد دوسرا تنازعہ جنم لیتا رہتا ہے، پناہ گزین پیداہوتے چلے جاتے ہیں اور ایک پر دوسرا گروہ ڈھیر ہوتا چلا جاتا ہے،ان لوگوں کو پھر سے آباد کرنے کے لئے امداد اور ذرائع فراہم کرنا ایک بہت بڑا کام ہے۔ وہ جواپنے گھروں میں بھی مشکل حالات چھوڑ کر آئے ہیں، انہیں اپنی نئی منازل پر نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہ بے رحم شہری سرزمین کا رخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اوراس سرزمین کا ان کے حالات کے لئے مہربان ثابت ہونا ضروری نہیں۔
از سر نو آباد ہونے کے یہ مقامی چیلنجز،اگرچہ عالمی تنازعات کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں مگر بین الاقوامی سطح پر پناہ گزینوں کی از سر نو آبادکاری پر ہونے والی بات چیت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک ، عراق اور افغانستان(اور اب ممکنہ طور پر ایک بار پھر عراق) جیسے ممالک پر حملہ آور ہونے سے تو مطلق نہیں گھبراتے، لیکن وہ ان پناہ گزینوں کی ازسر نو آبادکاری میں یا تو نہ ہونے کے برابر حصہ ملاتے ہیں اور یا سرے سے حصہ ہی نہیں ملاتے۔
پچھلے ہفتے پناہ گزینوں پر شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے فوراً بعد، نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے امداد دینے والے ممالک سے 16.9بلین ڈالرکا مطالبہ کیا ہے مگر ابھی تک انہیں صرف 30فیصد رقم موصول ہوئی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک نہ صرف یہ کہ خطوں میں سازباز کرکے تنازعات پیدا کرتے ہیں بلکہ وہ ان تنازعات کے نتائج سے عہدہ براء ہونے کے لئے مطلوب پیسے دینے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔ وہ پناہ گزینوں کی اپنے ممالک میں آبادکاری کے بھی شدید مخالف ہیں۔ چنانچہ جب کہ پاکستان میں پناہ گزینوں کی تعداد 16 لاکھ ہو چکی ہے، اور حتیٰ کہ چاڈ جیسے چھوٹے سے ملک میں ان کی تعداد تقریباً نصف ملین ہو گئی ہے۔ لیکن امریکہ میں صرف 263,600پناہ گزین ہیں۔ جرمنی اور فرانس جیسے مالک نے بھی بالترتیب صرف1876000 اور 232500مہاجرین کو پناہ دی ہے۔
تعداد کا یہ فرق قابل توجہ ہے۔ بالخصوص اس لئے کہ یہ فرق سٹریٹجک مفادات اور عالمی مستقبل پر بات چیت کے موضوعات میں شامل ہی نہیں ہے۔ترقی یافتہ ممالک، حتیٰ کہ وہ بھی کہ جو دیگر ملکوں میں شورشیں بپا کرانے اور وہاں کی آبادی کو ہجرت پر مجبور کرنے میں براہ راست ملوث ہیں، جاری سیاسی کشیدگیوں اور بظاہر نہ ختم ہونے والی حکومتی افراتفریوں پر محض روتے رہتے ہیں تقریباً کوئی بھی اس بات پر آمادہ نہیں ہے کہ وہ مختلف ذرائع سے معلومات کو اکٹھا کرکے مربوط کرے اور یہ دیکھے کہ کس طرح اس جاری سیاسی عدم استحکام کو پیار اور محبت سے سنبھالا جا سکتا ہے کہ جو لوگوں کے محدود مواقع کی حامل سرزمینوں پر ادھر سے ادھر جانے کے سبب جاری ہے۔
جیسا کہ عراق میں از سر نو مداخلت کی حالیہ بحث نے مظاہروں کی تعداد میں بہت اضافہ کر دیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی سٹریٹجک روایت یہ ہے کہ پہلے گند ڈالو اورمداخلت کرو اور پھر گوشہ نشینی اختیار کر لواور پھر کہو کہ عراق اور افغانستان کے بے گھروں کے لئے ان کے ہمسایوں کی سرحدیں کھلی رہنی چاہیں تاکہ وہ انہیں اپنے ممالک میں بسا سکیں۔ البتہ جہاں تک امریکہ، برطانیہ یا جرمنی یا فرانس جیسے ممالک کا تعلق ہے تو ان کی سرحدیں ان غیر مطلوب انسانوں کی آمد کے پہنچ سے باہر نتائج سے بچنے کے لئے ہر صورت مکمل طورپر بند رہنی چاہیں۔ اس وقت تک سب ٹھیک ہے۔۔۔ ان بے گھروں کی تکالیف بھی نظر انداز کئے جانے اور آسانی سے بھلا دئیے جانے کے قابل ہیں۔
بے گھری کی آفت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حتیٰ کہ ’گھر‘ کا تصور بھی اب ایک آسائش بن چکا ہے جو اس دنیا کی ایک بہت بڑی آبادی کو دستیاب نہیں ہے اور اس کا آسانی سے مطالبہ صرف وہ کر سکتے ہیں جو ایک ترقی یافہ ملک میں جنم لینے کی خوش قسمتی کے سبب، جنگ یا قحط کے خوف سے آزاد ہیں۔وہ جنہیں بند سرحدوں کے سامنے بھٹکتے پھرناچاہیے، وہ فرسودہ کیمپوں، نسلی تفصیلات، ٹوٹے ہوئے خاندانوں اور منقطع رابطوں کو بھگت رہے ہیں۔ اسی دوران، اقوام متحدہ رپورٹیں جاری کرتی ہے ، جیسے کہ یہ والی رپورٹ جو ہمیں بتاتی ہے کہ وہ اس خاص مقصد میں کس بری طرح ناکام ہو گئی ہے جس کے لئے اسے بنایا گیا تھا: یعنی جنگ چھیڑنے والی اقوام کو اس بات پر آمادہ کرنے میں ناکام ہو گئی ہے کہ وہ پل بھر کے لئے ہی سہی، مگر زندگیوں اور گھروں کی قدروقیمت کا اندازہ تو کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *