ترکی کی فوجی بغاوت ، گولن اورمزاحمت!

naeem-baloch1تازہ ترین اطلاع کے مطابق ترکی کی بغاوت کو ناکام بنا دیا گیا ہے ۔ یہ اسلامی دنیا کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے ۔ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم قارئین کو اس کا تاریخی پس منظر بھی بتاتے چلیں ۔ ترکی صدیوں تک مسلمانوں کی سیاسی قیادت کا مرکز رہا ہے۔ اسے Ottoman Impire خلافت عثمانیہ کہا جاتا تھا۔ 1299کو قائم ہونے والی یہ خلافت یکم نومبر 1922ء کو اس وقت ختم ہو گئی جب جنگ عظیم اول (1914-1918)میں ترکی نے جرمنی ساتھ دیا اور اس کے نتیجے میں شکست سے دوچار ہوا۔ اس موقع پر جب برطانیہ اور اتحادیوں نے جنگ بندی کے باوجود یونان کو ترکی پر درپردہ حملے کا اشارہ کیا تو مصطفیٰ کمال ترکی کا نجات دہندہ بن کر سامنے آیا ، اور ملک کا کامیاب دفاع کیا۔ مصطفیٰ کمال ملک کا فوجی چیف تھا ، عوام کی حمایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے خلافت کا خاتمہ کرکے ترکی کااقتدار
سنبھال لیا۔ مصطفیٰ کمال کا خیال تھا کہ خلافت کی ناکامی کا سبب اس کے فرسودہ اور جامد مذہبی خیالات تھے چنانچہ اس نے ہر کسی قسم کی مذہبی شناخت پر پابندی لگا کر ترکی کو سیکولرسٹیٹ بنانے کا اعلان کر دیا ۔ فوج کو آئینی طور اقتدار میں شریک کر لیا ۔ یوں ترکی ایک  مذہبی بادشاہت سے سیکولر( یعنی بے دین نہ کہ لادین ) ریاست بن گیا جس پرفوجی آمریت تھی۔ اسی دوران فتح اللہ گولن(پیدایش27 اپریل1941 ) نے انتہائی خاموشی سے صرف اور صرف تعلیم اور خدمت خلق کے بینر تلے ایک تحریک برپا کر دی ۔ یہ ایک انتہائی غیر سیاسی تحریک تھی لیکن اس کی خیالات واضح طور پر اسلامی تھے ۔ حکومت نے اس کے غیر سیاسی تشخص کی وجہ سے اس کی کوئی مخالفت نہ کی ۔ اسی دوران گولن کی خدمت تحریک کے تحت سینکڑوں تعلیمی ادارے اور ترکی کے سرکردہ میڈیاہاؤس وجود میں آچکے تھے۔ اور گولن کی حیثیت ایک طاقت ور پریشر گروپ کے طور مانی جانے لگی۔ سابقہ وزیراعظم اور موجودہ صدرطیب اردگان بھی اس تحریک کی پیداوا رتھے۔ وہ نظریاتی طور پر گولن سے عقیدت مندی کی حد تک متاثر تھے۔ طیب اردگان پہلے استنبول کے میئر رہے (1994 سے 1998) اس کے بعد انھوں نے جسٹس اینڈ ڈیو یلپمنٹ پارٹی Justice and Development Party (AKP) ) کی بنیاد 2001 میں رکھی اور پھر پے درپے تین انتخابات (2002، 2007 اور 2011 ) میں کامیابی حاصل کی ۔ وہ پہلے وزیراعظم رہے اور موجودہ الیکشن جیتنے کے بعد اب صدر بن گئے ۔ گولن کے ساتھ اردگان کے اختلافات اس وقت سامنے آئے جب 2013ء میں گولن نے حکومت کے آمرانہ اقدام کی مخالفت کی ۔اس وقت گولن کے زیر اثر میڈیا نے اردگان اور اس کے خاندان پر کرپشن کے الزامات لگائے ۔ اسی دوران جب ایک ناکام بغاوت ہوئی تو طیب اردگان نے اسے گولن کی سا زش قرار دے کر ان پر بھی غداری کا مقدمہ قائم کر دیا ۔ گولن کسی نہ کسی طرح ملک سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور امریکہ میں سیاسی پناہ لے لی۔ اردگان نے اپنے سا بقہ نظریاتی استاد کی غیر موجودگی میں گولن کو دہشت گرد قرار دے کر انھیں عمر قید کی سزا سنا دی ۔ اس دوران ترکی میں جتنی بھی فوجی بغاوتیں ہوئیں ، اردگان نے اس کا الزام گولن پر لگایا اور فتح اللہ گولن نے ہر دفعہ اس کی مکمل تردید اور بھر پور طریقے سے مذمت کی ۔ اس دفعہ بھی یہی ہوا ۔ گولن نے پریس کانفرنس کے ذریعے سے اس کی تردید کی ہے جبکہ اردگان نے کہا ہے کہ باغیوں کو گولن کی حمایت حاصل تھی اور ان کا رابطہ پنسلویا میں مقیم جلاوطن گولن سے قائم رہا ہے۔ اصل حقیقت کیا ہے ، ہمارے خیال میں باغی فوجی ٹولے کا گولن سے کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ فوج کی نظریاتی اسا س سیکولر ہے جبکہ گولن اسلامی نظریات کے حامل ہیں ۔ اصل میں معاملہ طیب اردگان کے آمرانہ شاہی مزاج اور اور گولن کی عدم برداشت کا ہے ۔ البتہ یہ بات درست ہے اس صورت حال کو عالمی طاقتیں اپنے مفاد میں استعمال کر سکتی ہیں اور گولن ان کے ہاتھوں مین استعمال ہو سکتا ہیں ۔ البتہ اگر اب حکومت اس بغاوت کو پوری طرح کچلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کے لیے موقع ہے وہ اپنی کوتاہی پر قابو پائیں اور فوج میں گندی مچھلیوں کا مکمل طور پرصفایا کریں اور ساتھ ساتھ گولن سے اپنی غلط فہمیاں دور کریں جو فوج کے باغی لوگوں سے کہیں زہادہ قابل تصفیہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *