میڈیا، مفتی اور قندیل بلوچ

Seemi Kiran

ہمارا شتر بے مہار میڈیا ابھی جانے اور کیا کیا گل کھلائے گا۔ زیرو کو ہیرو بنانے اور ہیرو کو زیرو کرنے کے فن میں تو طاق ہے! کیا یہ کم بڑا المیہ ہے کہ میڈیا نے ہمارے ہیرو ہی بدل دئیے ! سب بھانڈ، میراثی اکٹھے کرکے انٹرٹینر کا لیبل پہنا کر سٹار بنا دیے۔ دن رات بے شمار چینلز سے انٹرٹینمنٹ بکتی ہے۔ یہ شعبہ بھی کم ہے کہ اسی میڈیا نے خبروں کو بھی چاٹ مصالحہ بنا دیا! چاٹ مصالحہ ڈالو، ڈال کر خبر کو بریکنگ بناؤ، اور پھر بار بار "بریک" کرتے چلے جاؤ!خبر بھی بکتی ہے سب کچھ ریٹنگ کی نذر چڑھ گیا! یہی چاٹ مصالحے، ریٹنگ کے دھندے اور پھندے قندیل بلوچوں کو جنم دیتے ہیں! روتوں رات شہرت کی سیڑھیاں چڑھا دیتے ہیں وہ جس قبیلے سے تھی اس کے لیے تو بدنامی بھی نعمت ثابت ہوئی!

مجھے نہ اس سے ہمدردی تھی نہ ہے! میں شخصی طور پہ اسے سخت نا پسند کرتی تھی، مجھے کہنے دیجئے میں اسی ہر عورت کو جو خود کو مرد کے ہاتھ کھلونا بنا لے یا دیکھنے کی چیز کے طور پہ پیش کرےمیں اسے سخت نا پسند کرتی ہوں، یہ میری ذاتی رائے ہے جس سے آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے، آپ مجھے شوق سے دقیانوسی بھی کہہ سکتے ہیں مگر یہ میرا موقف ہے! وہ جو کرتی پھر رہی تھی میڈیا کی قوت کے سر پر! میڈیا نے اسے "قندیل بلوچ" بنایا۔ ورنہ اس کے قبیل کی عورتیں خاموشی و گمنامی میں خود کو گھسا رہی ہیں ، بک رہی ہیں ، بیچ رہی ہیں، ذلالت کے گڑھوں میں سسک رہی ہیں ۔ کون پوچھتا ہے؟! اس کو ہنر آتا تھا خبر میں رہنے کا، وہ میڈیا کو اپنی انگلیوں پہ نچانا سیکھ گئی تھی! میڈیا بھی اس کے ساتھ چوبارے کی سیڑھیاں چڑھ اک دن منانے اس کے ساتھ پہنچ گیا۔ میں نے تب بھی رونا رویا تھا ، یہ کیا ہو رہا ہے، یہ کن لوگوں کو کیا بنا کر پیش کیا جا رہا ہے! اپنے اسی زعم میں وہ غلط ٹوپی پہ ہاتھ ڈال بیٹھی! میں نے اسی دن کہا تھا " اب یہ ماری گئی اس نے جس مقدس جن پہ ہاتھ ڈالا ہے اس سے تو بڑے بڑے سورما و حکومت وقت ڈرتی ہے"دن رات ہماری خبروں میں بریکنگ کے نام پہ مفتی جی کے چٹکلے اور قندیل کے بیانات چل رہے تھے! سر بازار پگڑیاں اچھل رہی تھیں! سارے مسئلے پس پشت چلے گئے تھے۔ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ ملک کے تمام مسائل بس ختم ہو گئے تھے جیسے ! میڈیا کے پاس بس ایک ہی موضوع رہ گیا تھا! غریب ، مجبور ، نادان، پاگل اور سستی شہرت کے طالب کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے نہ اخلاقی قدریں! وگر کیا ہمارا میڈیا بھی قندیل بلوچ کی طرح مجبور غریب اور سستی ریٹنگ کی ہوس میں اندھا ہو گیا؟ کیا دونوں میں کوئی فرق تھا؟ رہ گیا؟ میڈیا کو اخلاقیات کون سکھائے گا؟ اسی میڈیا نے اس کی گھنٹوں کے حساب سے نشریات چلا کر اسے سٹار بنایا! اسی میڈیا نے اسے مفتی عبدالقوی کی ٹوپی پہنے دکھایا اور اسی میڈیا نے بار بار مفتی جی کے وضاحتی بیان دکھائے! جس میں وہ کبھی اس سے شادی کے آرزو مند دکھائے گئے اور کبھی بند کمرے میں اس کو درس دینے کی وضاحت کرتے! حیرت ہے تب کسی کی دینی غیرت و حمیت نہیں جاگتی! خیر میڈیا کے بعد اس ملک میں گر آزاد ہیں تو ہمارے مفتیان کرام ہی ہیں!

وہ چاہے قندیل بلوچ کے ساتھ گلچھڑے اڑائیں

نشے میں بد مست ہو کر ٹی وی پہ آ جائیں

دل چاہے تو کسی دلی کھجلی کے تحت عورت پہ تشدد کی حمایت کرنے اٹھ کھڑے ہوں! جلسوں میں ننگی گالیاں بکنے لگیں! دھرنوں میں کفن پہن کر آ جائیں اور پھر اپین ہر بات سے مکر جائیں! تب ہماری دینی غیرت ، ہماری علاقائی غیرت کمبل اوڑھ کر سوئی رہتی ہے! اس پی اک سلوٹ بھی نہیں آتی! حیرت ہے اس غیرت کی بھینٹ چڑھتی ہے تو صرف عورت چڑھتی ہے! وہ عالم چڑھ جائے گا جو دلیری سے کوئی روشن خیال بات کرے ایسی تعبیر کہ معاشرے کے تعفن دیتے ماحول میں کوئی تازہ سانس کی کھڑکی کھل جائے ، کوئی روشنی در آئے تو اس عالم کو کوئی دینی غیرت مند قتل کر دے گا۔ وہ صحافی مار دیا جائے گا جو "ممنوعہ حدوں "میں گھسنے کی جرات کرے!

قندیل کا جرم بھی یہی تھا اس نے مقدس ٹوپیاں اچھالیں! اس نے سستی شہرت ، اپنے اندرونی انتقام کی آرزو کو جمع کیا اور اس معاشرے کو بتایا کہ مجھے فاحشہ کہنے والو، تم اور تمہارے یہ مفتی بھی اندر سے میرے جیسے بازاری ہیں! جب بریکنگ نیوز بار بار یہ کہتی ہے کہ "غیرت کے نام پہ قتل ۔۔۔۔۔" تو مجھے ہنسی آتی ہے! کیا مردوں کی بھی کوئی غیرت ہوتی ہے؟ یہ غیرت تب کہاں تھی جب ان نامناسب ویڈیوز اور حرکات کی کمائی کھا رہی تھی؟! یہ غیرت تب کہاں تھی جب وہ نہ صرف خاندان کی بلکہ سابقہ دو شوہروں کی کفالت کر رہی تھی؟ زندگی کو لاش میں بدل کر نقدی ، زیور چھینتے وقت یہ غیرت کیوں نہیں للکاری؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس غیرت کے نام نہاد پردے کے پیچھے کوئی پناہ ڈھونڈ رہا ہے؟ آپ جانتے ہیں کہ غیرت کے نام پہ قتل کیوں ہوتے ہیں؟ اس لئے کہ آپ جو اس پدرسری معاشرے کے مرد ہیں اس نام نہاد زعم میں مبتلا ہیں کہ عورت آپ کی غیرت ہے! وہ جہاں آپ کی غیرت اچھالے آپ کو اس کو قتل کرنے کی اجازت اور معاشرہ آپ کو غیرت مند، آبرو مند اور بہادر کہے گا، قاتل نہیں! مجھے بتائیے اس وحشیانہ اور قبائلی سوچ کا کونسا اور کیسا دینی جواز ہے آپ کے پاس؟

کیا آپ کا رب نہیں کہتا کہ " ہر مردو زن اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے" وہ جرم کی سزا متعین نہیں کرتا کیا؟ اس نے کب اور کہاں آپ کو اجازت دی کہ آپ کسی عورت کو گناہ گار ، سیاہ کار سمجھ کر اس کو قتل کرنے کا حق حاصل کر لیں؟ آپ کے گناہ کے معیار دوہرے کیوں ہیں؟ مفتی عبدالقوی کی صرف معطلی کافی ہے اور قندیل بلوچ سے جینے کا حق چھین کر بھی آپ خوش نہیں؟ کیا مفتی عبدالقوی جیسے لوگ زیادہ سیاہ کار و گناہ گار نہیں؟ کیا یہ بھی آپ کا میرا رب نہیں کہتا کہ پارساؤں کی سزا دوگنی ہوگی؟؟ کیا یہ مفتی، ملا واقعی کسی رب پہ یقین بھی رکھتے ہیں یا بس یہ صرف ان کا دھندہ ہے، پھندہ ہے۔۔۔۔۔ جو بھی ہے مگر بہت گندا ہے! اور میڈیا۔۔۔۔۔ اس کا رب کون ہے۔۔۔۔۔ ریٹنگ؟ کیا میڈیا بھی اپنے اعمال کے لیے کہیں اور کسی کو جواب دہ ہے؟ کیا غیرت کے نام پہ قتل آج کے کہلانے والے مہذب معاشرے میں بہت بڑا رستہ ہو ناسور نہیں؟! کیا غیرت صرف مرد کے پاس ہوتی ہے؟ ڈریے اس وقت سے جب عورت نے غیرت کے نام پہ قتل کرنے شروع کر دیے! پھر کیا ہو گا؟ شریف سے شریف مرد بھی کچھ معاشقوں کا خطاوار تو ہوتا ہی ہے، بیوی اچھی مل جائے تو اعتراف گناہ کر لیتا ہے ورنہ سینے میں داغوں کو چھپا لیتا ہے اور تمام عمر اس فارمولے پہ کاربند رہتا ہے چور چوری سے جائے، ہیرا پھیرا سے نہ جائے۔ قندیل بلوچ تو تماشا تھی اک، آخر تماشائی تو یہ مرد ہی تھے جو آنکھیں سینکتے تھے اس کی بے ہودہ ویڈیوز پہ ! تو یہ مجرم اور بے غیرت کیوں نہیں؟ وہ میڈیا بے غیرت اور مجرم کیوں نہیں جس نے دن رات یہ تماشا دکھایا؟؟ آخر اس میڈیا کو ٹوپی کون پہنائے گا؟؟؟! اگر ان میڈیا اینکرز اور چینلز کے پاس رتی بھر غیرت ہے تو برائے مہربانی اس پلانٹڈ قتل کو غیرت کے نام پہ قتل کہنا بند کر دیں۔ یہ دور حاضر کا سب سے بڑا لطیفہ ہے اور غیرت کے نام پہ ہونے والے قتل کے لیے سنجیدہ، بامعنی مکالمے کا آغاز کیا جائے! کوئی انسان خواہ کیسا بھی ہو زندہ رہنے کا حق اسے رب نے دیا ہے جسے سوائے ریاست و قانون کے کوئی نہیں چھین سکتا ، سو مجھے کہنے دیجئے کہ مجھے اس ناحق قتل پہ بہت دکھ ، رنج اور غصہ ہے!

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *