سرگرم کارکنوں کی موت کے بعد۔۔۔

رفیعہ زکریاzakaria

سلویٰ بگے غیث کو ایک مختلف اور بہترمستقبل کا یقین تھا۔ حتیٰ کہ جس طرح قذافی کے بعد کالیبیا انتشار کے سبب درہم برہم ہوا، اور انقلابوں کے بعد ابھرنے والی امیدیں بھی پیچیدگیوں میں کھو گئیں، تب بھی انہوں نے یہ ایمان برقرار رکھاکہ جمہوریت کے کل پُرزے کوئی نہ کوئی بہتری ضرور پیدا کریں گے۔
25جون کو جب انتخابات ہوئے،وہ۔۔۔ایک سینئر وکیل جنہوں نے قذافی کے خلاف 2011کی بغاوت میں حصہ لیا تھا۔۔۔ووٹ ڈالنے کے لئے بن غازی گئیں۔ وہ ان چندلوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے ایسا کیا۔
جب وہ واپس آئیں، حملہ آور ان کے منتظر تھے۔ان کے چہرے زیرنقاب تھے اور ان کی بندوقیں نشانہ باندھے ہوئے تھیں۔ انہوں نے گولی چلا دی، سلویٰ کے جسم میں گولیاں اتاری اور انہیں ہلاک کر دیا گیا۔انہوں نے سلویٰ کے شوہر کواغواء کر لیا۔آخر کار جب پولیس آئی تو اس نے سلویٰ کے مالی کو قید کر لیا، جو خود بھی حملے میں زخمی ہوا تھا۔ دو روز بعد، سلویٰ کا سکیورٹی گارڈ اور حملے کا اکلوتا گواہ بھی مردہ پایا گیا۔
سلویٰ بگے غیث کی موت لیبیا کے جنرل خلیفہ حِفتر کی زیرِ قیادت جاری ایک فوجی یورش کے دوران واقع ہوئی،یہ یورش ان اسلامی ملیشیاؤں کے خلاف جاری ہے جو حالیہ دنوں میں شہر پر اپنا قبضہ مضبوط کررہے ہیں سلویٰ پر حملے کے اچانک پن اورشدت نے حتیٰ کہ ان کو بھی حیران کر دیا جوجنگ کی ناختم ہونے والی غیر یقینی صورت حال کے بیچ زندہ ہیں ۔
ان کے جنازے میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی جو نہ صرف یہ کہ ایک کارکن کی موت پر ماتم کناں تھے بلکہ اس سوچ کے بکھر جانے پر بھی افسردہ تھے، جس کا سلویٰ اظہار کرتی رہی تھیں، یعنی: لیبیا بطورایک آئینی آزاد جمہوریہ، جہاں خواتین کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ان کی موت نے حتیٰ کہ انتخابات کو بھی تاریک کر دیا۔ یہ قتل شاید انتخابی نتائج کا ایک دوٹوک استعارہ تھا۔
وِجے پریشد، ایک مصنف اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی سرگرم شخصیت جو بگے غیث کو جانتے تھے، نے لکھا ، ’’بگے غیث جیسے وکلاء نے لیبیا میں قانون کی حکمرانی کے قیام کے لئے بے کار جدوجہد کی۔‘‘آخر میں وہ مایوس کن انداز میں نتیجہ نکالتے ہیں کہ شہری ملیشیاؤں کے ساتھ جلد بازی میں کئے گئے معاہدوں کے سبب دقیانوسیت یا قدامت پرستی کے دباؤ میں اسلام پسندوں، پرانے سماجی طبقات اور خواتین کے حقوق کی قربانی دینی پڑسکتی ہے۔
وہ خوفناک رنگ، جنہوں نے سلویٰ بگے غیث کے آخری گھنٹوں کو تاریک کیا، اس پاکستان کے لئے جانے پہچانے ہیں جو آپریشن ضربِ عضب اوراس سے پہلے گزرچکنے والے آپریشنوں کے زیر سایہ سانس لے رہا ہے۔ ہمارے بالکل حال ہی میں زبح کردہ کارکنوں کی قبروں کی مٹی بہرحال ابھی تک تازہ ہے اور گولیاں، جن پر ان کانام لکھا ہے جو ابھی زندہ ہیں، انہیں بھی شاید پہلے ہی بندوقوں میں بھرا جا چکا ہے۔
دو ماہ سے کم عرصہ قبل، وکیل راشد رحمٰن کوقتل کر دیا گیا تھا کیونکہ وہ یہ یقین رکھتے تھے کہ کسی پاکستانی شہری کو شفاف مقدمہ چلائے بغیراوروکیل کے ذریعے نمائندگی دئیے بغیر اس کے جرم کی سزا نہیں دی جانی چاہئے۔ بگے غیث کی طرح، ان کے حملہ آور بھی شام گئے ملتان میں بڑے دھڑلے سے ان کے دفتر میں حملہ آور ہوئے۔
عین ایک برس قبل، پروین رحمٰن کی موت واقع ہوئی تھی، جو ملک میں کچی آبادیوں کے لئے کام کرنے والی سب سے زیادہ بے غرض سماجی کارکن تھیں۔لیبیا میں سلویٰ بگے غیث کے کیس کی طرح، ان اموات نے بھی غصہ، ماتم پیدا کیا۔۔۔ اورپھر کسی کا کچھ نہ ہوا۔حملہ آور کبھی پکڑے نہیں گئے۔ موت درموت گواہیوں کی حامل آبادیاں آگے بڑھتی جا رہی ہیں۔ ماتم کرنے والوں کو ماتم کرنے کے لئے نئی لاشیں ملتی جا رہی ہیں۔
یہ بہت عام بات ہو گی اگر ہم ان اموات کو مقامی سچائیوں کا اظہاریہ سمجھیں۔ سلویٰ بگے غیث ایک بے چین خاتون تھیں۔وہ قذافی کے بعد کے منظرنامے میں تر عہدوں کے خواہشمنداپنے آزاد خیال سلسلوں کی کرپشن نہیں دیکھناچاہتی تھیں۔ نہ ہی وہ یہ چاہتی تھیں کہ کندھے اچکائیں اوریہ قبول کر لیں کہ نئے لیبیا میں بھی خواتین کبھی مساوی حقوق حاصل نہیں کر پائیں گی۔
اسی طرح، پاکستان میں سماجی کارکنوں کی اموات کو مقامی تفصیلات سے منسوب کیا جاتا ہے۔ راشد رحمٰن نے ایک متنازعہ کلائنٹ کا کیس لے لیا تھا۔پروین رحمٰن نے ممکنہ طورپر شہری مافیاؤں کی ایک بڑی تعداد کوناراض کر لیاتھا کیونکہ وہ کراچی کی سب سے بڑی کچی آبادی کی حالت کی تبدیلی کے لئے کوششیں کر رہی تھیں۔
پس انفرادی اموات کی انفرادی وجوہات، اس انداز کو غیر واضح کر دیتی ہیں جس کے تحت ہر قتل کے تانے بانے بُنے جاتے ہیں۔ پاکستان میں گنے جاسکنے والے تقریباً تمام جاں بحق کارکنان ایک نقطہ نظر یا سوچ یا نظریہ رکھتے تھے۔ ایک ایسے ملک کا نظریہ کہ جہاں حکومت قانون پرمنحصر ہو۔ جہاں رائے عامہ کو اقلیتوں کے ناگفتہ بہ حالات دیکھ کر غصہ آتا ہو۔ جہاں عدم مساوات ایک اخلاقی برائی ہواور شناخت اور وراثت کسی کی قسمت کا تعین نہ کرتی ہوں۔
آسانی سے بک جانے والے اور تیزی سے بدل جانے والے معاشروں کے برخلاف، جانیں دینے والے تمام عالمی کارکنان کم سیاسی طاقت، محافظوں اورذاتی محافظوں(اگر کوئی تھا)کی تھوڑی تعداداور یہ باحوصلہ ایمان رکھتے تھے کہ ان کے ممالک جو عسکریت پسندی
اور آمریت کے بیلوں کی جوڑی کے زیر عتاب آگئے تھے، بہت جلدآئینی جمہوریتوں کا مستقبل حاصل کر لیں گے۔
انفرادی اخلاقیات کے اس اجتماعی قتل عام میں، اس کا خودکاریت کا خواب پنہاں ہے۔ جہاں کوئی فیصلے کرنے باقی نہ ہوں اور جہاں طاقتور ہمیشہ اچھے اور درست نہ ہوں۔ اس کہانی میں اب قانون یا انصاف یا مساوات کے لئے جگہ نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ یہ جواہر موجودہ کارروائیوں کے دوران پیدا نہیں ہوا کرتے۔خودکار انداز میں قانونی یا حق بجانب بن جانے والی یہ کارروائیاں سیدھا سیدھا طاقت اور تذویراتی مفادات کے گھن چکر کے ذریعے پیداہوتی ہیں۔
سماجی کارکن مر جاتے ہیں، ماتم کئے جاتے ہیں اور پھربھلا دئیے جاتے ہیں۔۔۔ کیونکہ دنیا ، جس کے لئے وہ لڑتے رہے ہوتے ہیں اورجس کی انہوں نے نمائندگی کی ہوتی ہے، وہ ان کے بعد مزید مبہم ہو جاتی ہے اور مزید ایسی تاریکیاں اس پر غالب آجاتی ہیں کہ جن میں مساوات یاانصاف ، احمقوں کی جنت کی طرح لگتے ہیں۔ حالیہ ادوار کی طوائف الملوکی کہ جس میں لیبیا اور پاکستان اور مصر اور شام، سب بے چین جنگوں میں گھرے ہوئے ہیں، ان کی یہ طوائف الملوکی، ایسے کارکنوں کے قتل عام کی اجازت دیتی ہے۔۔۔ خوفزدہ ہجوم کی خاموشی کو یقینی بنانے کے لئے بہادر افراد کی اموات کے بیمے کرا لئے جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *