میرٹ ویزا

zakariaرفیعہ زکریا

’’امریکہ کے پاس دنیا کی بہترین تحقیقاتی جامعات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا بھر سے بہترین طلباء کو کھینچ لیتے ہیں۔انہیں امریکہ میں رہنے اوراس کی معیشت میں اپنی مہارتوں اور علم سے اضافہ کرنے کی اجازت دینے کی بجائے امریکہ چھوڑنے پر مجبور کرناہماری انتہائی تنگ نظر حکمت عملیوں میں سے ایک ہے۔‘‘
یہ الفاظ سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے صدرمائیکل ہینے سی نے بولے تھے۔ اوبامہ انتظامیہ کے لئے مائیکل کی جانب سے امیگریشن اصلاحات کے لئے کوششوں کی تشکیل نوکی تحریک بہت واضح تھی: اگر امریکی معیشت کو وسیع رہنا ہے تو یہ بہت مشکل ہو گا کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے گریجوایٹس کی ملک میں آنے والی کمک کو سہارا دیا جائے اور پھر انہیں زندہ رہنے کے لئے فوائد فراہم کئے جائیں۔
محرکین ان تحقیقات کا بھی حوالہ دیتے ہیں جو یہ تجویز دیتی ہیں کہ امریکہ کی چوٹی کی تحقیقاتی جامعات میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضٰی کے گریجوایٹس امکان ہے کہ عدم تناسب کے ساتھ تجارتی اداروں کا آغازکرنے لگیں۔ یہ ادارے ملک کی معیشت اور مجموعی دانش میں اپنا حصہ ملاتے ہیں اور یہاں اپنے گھر بناتے ہیں۔ اس کی ایک حالیہ مثال واٹس ایپ ہے۔ جسے حال ہی میں19بلین ڈالر میں فیس بک کو بیچا گیا ہے۔ اسے یوکرین سے آئے ہوئے ایک مہاجر نے بنایا تھا۔
آبادکاری کی یہ بحث، اور یہ کہ کون اچھا آباد کار کہلاتا ہے اور کون اچھا آباد کار نہیں کہلاتا،اب کافی پرانی ہو چکی ہے ۔ یہ بحث نہ صرف یہ کہ امریکہ جیسے میزبان ممالک سے تعلق رکھتی ہے بلکہ پاکستان، ہندوستان اور انگنت دوسرے مزدور فراہم کرنے والے ممالک سے بھی متعلق ہے جو اپنے بہترین اور ذہین ترین دماغ غیر ملکی ساحلوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔
امریکی جانب، یہ گفتگو یوں لگتا ہے کہ مزیدبہتر میرٹ پر مبنی امیگریشن کے نظام کی تخلیق کی حمایت میں جاری ہے۔ ایک ایسے نظام کے حق میں جو انتہائی ماہر، پیشہ ور، اعلیٰ تعلیم یافتہ درجات سے متعلق پابندیوں اور قوانین کو ختم کر دے گا۔
امیرکن ہاور انسٹیٹیوٹ کے آبادکاروں پرایک ورکنگ گروپ کے پالیسی سازوں کے ایک حالیہ سروے سے پتہ چلا ہے کہ 89 فیصد لوگوں نے مزید بہتر میرٹ کی بنیاد پر امیگریشن کے نظام کی طرف پھر جانے کی حمایت میں ووٹ دیا۔
ہاور انسٹیٹیوٹ کا گروپ، امریکی آبادی کا نمائندہ نمونہ نہیں ہے۔یہاں بہت سے یہ یقین رکھتے ہیں کہ آبادکاروں کی ایک بڑی تعداد مقامی آبادی سے انگنت ملازمتیں چھین لیتی ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ پالیسی سازی کی سطح پران ہدایات کو سنجیدگی سے لیا جانا ایک ایسے مستقبل کے امکان کو ظاہر کرتا ہے جس میں انتہائی ماہر آبادکاروں، بالخصوص، سائنسدانوں، انجینئروں، ڈاکٹروں، محققین اور ایسے دیگر لوگوں کے لئے امریکہ میں روزگار کا حصول موجودہ سطح کی نسبت کہیں زیادہ آسان ہو جائے گا۔
اگر آبادکاروں سے متعلق یہ سوچ، عالمی شمال میں موجود متعدد ممالک تک پھیلتی ہے اورحقیقتاً ایک حکمت عملی کے طور پراختیار کر لی جاتی ہے تو وہ وقت قریب ہی ہو سکتا ہے کہ جب ترقی یافتہ ممالک انتہائی ماہر کارکنوں کو اپنی طرف کھینچنے کے حوالے سے ایک دوسرے سے مقابلہ کیا کریں گے۔
ہندوستان کی تقریباً 25ملین طاقتور تارکِ وطن مزدوروں کی فوج، جو کہ دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے کی جانب سے ہندوستانی معیشت کے لئے سالانہ24بلین ڈالربھیجے جاتے ہیں۔ یہ رقم مقامی منڈی کو پھر سے جوان ہونے اور سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ایک قابل بھروسہ ذریعہ فراہم کرتی ہے۔ مالی جیسے ممالک میں عالمی بینک کی جانب سے کی گئی دیگر تحقیقات بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بیرونی دنیا سے کی جانے والی ترسیلات زر،ان ممالک میں غربت کی شرح میں کمی کا باعث ثابت ہوئی ہیں۔
ہم تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اعدادوشمار بہت تھوڑے ہیں اور یہ کہ اپنے ممالک کی معیشتوں کے لئے بیرونی دنیا سے رقوم بھجوانے والے تارکین وطن کی تعداد کو صلاحیت کے اعتبار سے درجہ بند بھی نہیں کیا گیا(یعنی کہ انتہائی تربیت یافتہ اور غیر تربیت یافتہ،ہر دو طرح کے مزدوروں کو اکٹھا دیکھا گیا ہے)۔
پاکستان کے تناطر میں بھی بیرون ملک سے کی جانے والی ترسیلات زرکو دیکھنا مفید ہو گا کیونکہ مقامی طور پر پیسے کمانے کے دوسرے ذرائع کے برعکس ، یہ ترسیلات ایک ایسے ذریعے کو ظاہر کرتی ہیں جو ملک میں جاری امن و امان کی غیر یقینی صورت حال سے متاثرنہیں ہوتا ۔ وہ لوگ جو بیرون ملک پیسے کماتے ہیں، وہ ملک کے اندر اپنے خاندان کواس وقت بھی پیسے بھیج سکتے ہیں جب حتیٰ کہ ملک جنگ اور تنازعات کے پیدا کردہ عدم استحکام کے سبب تباہیوں اور بربادیوں سے دوچار ہے۔
میرٹ ویزا کی بحالی محض ایک سر پر لٹکتی ہوئی حقیقت ہی نہیں ہے۔جب صنعتی شمال کی ترقی یافتہ اقوام کے پالیسی سازاس مسئلے پر غور کریں گے تو مقامی سیاست کی حقیقتیں اورمقامی پن اور نسل پرستی کی برائیاں، انہیں وہ کچھ کرنے سے منع کریں گی جو وہ کرنے کے قابل ہوں گے ۔
تاہم، باصلاحیت افراد کے لئے ایسی پالیسی سازی، کچھ پانے کومحض قسمت یا تکہ یا پیدائشی حق نہیں رہنے دے گی بلکہ ان کے مستقبل کو کہیں دور دانش اور قابلیت کے مساوی دائرے میں لے جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *