دمے کا باعث بننے والا جین کا پتہ چل گیا

ساؤتھ ایمپٹن -یونیورسٹی آف ساؤتھ ایمپٹن کے سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ دمہ کسی الرجی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ ADAM33 نامی ایک جین میں خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تحقیق کے نگراں اور یونیورسٹی کے سائنسدان کا کہنا  ہے کہ ’’اگر کسی طرح اس جین کو خراب ہونے ہی نہ دیا جائے، یا پھر مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا جائے تو دمے سے مستقل چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔ اب تک دمے کو الرجی کا نتیجہ سمجھتے ہوئے اس کا علاج کیا جاتا تھا، لیکن آج تک کوئی ایسی دوا تیار نہیں کی جاسکی جو دمے کا مستقل یا طویل مدتی علاج کرسکے۔ چند سال پہلے یہ امکان سامنے آیا تھا کہ دمے کی وجہ کسی جین میں خرابی بھی ہوسکتی ہے اور اس ضمن میں ADAM33 جین پر شبہ بھی کیا جارہا تھا لیکن مزید کچھ معلوم نہیں ہورہا تھا۔

مذکورہ تحقیق میں پہلی بار سارے ثبوتوں کے ساتھ اُس پورے نظام کی تفصیل بیان کی گئی ہے جس کے تحت ADAM33 جین میں خرابی دمے کو جنم دیتی ہے۔ ADAM33 جین ایک خامرہ (اینزائم) تیار کرتا ہے جو سانس کی نالی میں خلیات کی سطح پر چپک جاتا ہے لیکن اگر یہ خامرہ کسی بناء پر خلیے کی سطح سے الگ ہوجائے یا اس سے چپکنے ہی نہ پائے تو یہ پھیپھڑوں میں بھی پہنچ سکتا ہے اور وہاں پہنچنے کے بعد یہ دمے کی وجہ بن سکتا ہے۔ یعنی اگر کسی طرح یہ ممکن ہوجائے کہ ADAM33 جین کو خراب ہونے ہی نہ دیا جائے، یا پھر اسے ’’آف‘‘ کرکے متعلقہ خامرہ بنانے ہی سے معذور کردیا جائے تو دمے کا مستقل علاج بھی کیا جاسکے گا۔دمہ ایک عالمی مرض  ہے اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں دمے کے تقریباً 33 کروڑ 40 لاکھ  مریض موجود ہیں جن کی تعداد میں ہر سال تقریباً ڈیڑھ کروڑ کا اضافہ ہورہا ہے۔ خبروں کے مطابق، پاکستان کی 7 فیصد آبادی (اندازاً ڈیڑھ کروڑ افراد) دمے میں مبتلا ہیں جب کہ اگلے 20 سال تک یہ شرح 25 فیصد تک پہنچنے کا خطرہ ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *