فالج سے بچنے کے لئے معلوماتی تحقیق

15

لاہور۔ کینیڈا کی میکماسٹر یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ طرز زندگی میں چند چیزیں ہر 10 میں سے نو فالج کے کیسز کا باعث بنتی ہیں اور لوگ چاہیں تو اس سے بآسانی بچ سکتے ہیں۔

اس تحقیق میں ایسی 10 عام چیزوں کی شناخت کی گئی تھی، جو فالج کا باعث بنتی ہیں ،جن کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے ۔

فشار خون یا بلڈ پریشر: بلڈ پریشر کو خاموش قاتل کہا جاتا ہے اور یہ واقعی درست بھی ہے کیونکہ کسی شخص کو فشارِ خون کا مرض لاحق ہو، تو ایسی علامات نہیں، جس سے اس کے بارے میں جانا جاسکے۔ یہ مرض خون سپلائی کرنے والی شریانوں کو نقصان پہنچاتا ہے، جس کے نتیجے میں دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ غذا میں نمک کا کم استعمال اور جسمانی طور پر زیادہ متحرک رہنا بلڈ پریشر سے بچائو کا آسان نسخہ ہے اور فشار خون کو کنٹرول میں رکھنا فالج کا خطرہ 48 فیصد تک کم کردیتا ہے۔

ورزش سے دوری: اگر تو آپ اپنا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارتے ہیں، تو مختلف امراض کے ساتھ فالج کو بھی دعوت دے رہے ہوتے ہیں اور ہاں فالج کسی بھی عمر کے فرد کو اپنا نشانہ بنا سکتا ہے، یعنی صرف بوڑھے افراد ہی اس کا شکار نہیں ہوتے، اگر آپ جسمانی طور پر زیادہ متحرک ہوں، تو فالج کا خطرہ ایک تہائی حد یعنی 36 فیصد تک کم کرلیتے ہیں۔

ناقص غذا:بہتر غذا کا استعمال عادت بنا لینا فالج کے دورے کا خطرہ 19 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ طبی ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ غذا میں زیادہ فائبر، دالیں اور چربی سے پاک گوشت کا استعمال کرنا چاہئے جبکہ زیادہ چربی والی غذائیں اور میٹھے مشروبات کا کم از کم استعمال کرنا چاہئے۔

موٹاپا:موٹاپا اس وقت عالمی وباء بن چکا ،جو خون کی شریانوں کے امراض کا سب سے بڑا سبب بھی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں 2.1 ارب افراد موٹاپے کے شکار ہیں اور شریانوں کے امراض کے خطرے کے باعث فالج کا امکان بھی بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ جسمانی وزن میں معمولی کمی لاکر بھی اس جان لیوا مرض کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

تمباکو نوشی:سگریٹ یا تمباکو کے استعمال کو ترک کرکے فالج کے خطرے کو 12 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت تمباکو نوشی شریانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس میں چربی اکھٹا ہوجاتی ہے، جو ہارٹ اٹیک یا فالج کا باعث بنتی ہے۔

دل کے امراض:فالج کی دو قسمیں ہیں، یعنی ایک جو خون کی سپلائی روکنے سے ہوتی ہے، جو سب سے عام ہے جبکہ برین ہیمبرج، جس میں دماغی شریان پھٹ جاتی ہے، ایک صحت مند دل ان دونوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے اور ایسا ہونے پر 9 فیصد خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

ذیابیطس:ذیابیطس ایسا مرض ہے، جو لاتعداد بیماریوں کی جڑ ہے اور ان میں سے ایک فالج بھی ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد میں خون کی سپلائی میں رکاوٹ کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جو فالج کا باعث بنتا ہے جبکہ اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھ کر آپ موت یا معذوری کے سبب بننے والے فالج کے خطرے کو 4 فیصد تک کم کرسکتے ہیں۔

تناؤ:آپ کی عمر جو بھی ہو ذہنی تناؤ فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ خاص طور پر اگر بہت زیادہ تناؤ کے شکار ہوں، جس کی وجہ تناؤ کے شکار افراد کے طرزِ زندگی کا غیر صحت مند ہونا ہے، یعنی تمباکو نوشی، جسمانی طور پر متحرک نہ ہونا وغیرہ۔ ذہنی طور پر خوش باش رہنا، فالج کا خطرہ 6 فیصد تک کم کردیتا ہے:۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *