ڈزرائیلی کا دو قومی نظریہ اور تیسری مخلوق

قائد اعظم محمد علی جناح، خدا انہیں جنت نصیب کرے، عالی دماغ مدبر تھے۔ ان کی ذہنی پرداخت انیسویں صدی کے انگلستان میں ہوئی تھی۔ وکٹوریہ کا انگلینڈ جو ایک طرف صنعتی عہد کی سماجی ٹوٹ پھوٹ  سے گزر رہا تھا، دوسری طرف نوآبادیاتی مقبوضات کے تناظر میں اہم ترین عالمی طاقت تھا اور تیسری طرف رجعت پسند اور اصلاح پسند سیاسی افکار کی کشمکش سے جونجھ رہا  تھا۔ دادا بھائی نوروجی کی صحبت میں قائد اعظم نے وکٹورین عہد کے سیاسی مباحث اور سماجی حقائق کو پوری طرح جذب کیا تھا۔ وطن واپس آنے کے بعد قائد کی سیاسی رفاقت گوپال کرشن گوکھلے سے رہی۔ آج کے بھارت میں مودی اور امیت شاہ کی سیاست ولبھ بھائی پٹیل کا تسلسل ہے لیکن ہندوستان کی آزادی کا خواب گوکھلے، جناح، آزاد اور اینی بیسنٹ جیسے روشن خیال مدبروں نے تشکیل دیا تھا۔ پاکستان میں ہم نے قائد اعظم کو گویا جوڑیا بازار کا حاجی اللہ ڈینو بنا کے رکھ دیا ہے۔ خود قائد کی رفعت کو نہیں پہنچ پائے تو قائد کو کھینچ کے اپنے قد کے برابر کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔

ہم عصر عالمی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے قائد اعظم کے سیاسی افکار میں اکتساب و اخذ کے بہت سے اشارے ملتے ہیں۔ مارچ 1929 میں قائد اعظم نے نہرو رپورٹ کے مقابلے میں مسلم ہندوستان کے سیاسی مطالبات کو چودہ نکات کی شکل دی تھی۔ پہلی عالمی جنگ کے اختتام پر امریکی صدر وڈرو ولسن نے جنوری 1918 میں عالمی امن کے لئے اپنی تجاویز پیش کی تھیں جنہیں چودہ نکات ہی کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ قائد اعظم پر سرقے کا الزام نہیں کیونکہ دونوں مدبرین کا موضوع بالکل مختلف تھا، محض عصری بازگشت کی طرف اشارہ ہے۔

متحدہ ہندوستان میں قائد اعظم کا دو قومی بیانیہ ہم سب جانتے ہیں۔ برطانوی سیاست دان اور ادیب بینجمن ڈزرائیلی نے 1845 میں “Two Nations” کے عنوان سے ایک ناول لکھا تھا۔ دو دفعہ برطانیہ کا وزیر اعظم رہنے والے ڈزرائیلی نے اس ناول میں صنعتی عہد کے مزدور کی زندگی بیان کی تھی۔ اس تصنیف کے ایک جملے کو بہت شہرت ملی۔ کالم کی تنک ظرفی کے پیش نظر ترجمے پر اکتفا کرنا ہو گا۔ “دو قومیں، جن میں کوئی باہم رابطہ ہے اور نہ ہمدردی۔ جو ایک دوسرے کی عادات، افکار اور احساسات سے اتنی بے خبر ہیں، گویا دو مختلف سیاروں کی باسی ہیں۔ ان کی پرورش، خوراک اور روزمرہ ادب آداب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں، امیر اور غریب کے نام سے جانی جانے والی ان دو قوموں کے لئے قوانین تک مختلف ہیں۔”

ڈزرائیلی کے مشاہدے کی سچائی سے انکار ممکن نہیں لیکن امیر اور غریب میں منقسم معاشرت سے ایک تیسری مخلوق جنم لیتی ہے جسے متوسط طبقہ کہتے ہیں۔ نفسیات دان ولہلم رائخ نے اپنی تصنیف “Mass Psychology of Fascism” میں اس طبقے کی دولخت نفسیات، منافقانہ شخصی اخلاقیات اور چتکبری معیشت کا تجزیہ کرتے ہوئے تفصیل سے بتایا کہ متوسط طبقے کی سیاست میں بدیہی طور پر فسطائیت پسندی کے بیج موجود ہوتے ہیں۔ ہم آج کے پاکستان میں اسی نیم تعلیم یافتہ، نسبتاً خوشحال اور کجرو سیاسی شعور کے حامل متوسط طبقے کے استبداد کا شکار ہیں۔ بھٹو صاحب نے اپنی سیاست کی بنیاد غریب طبقے کے خوابوں پر رکھی تھی۔ اس کے ردعمل کی سیاست کو ضیا عہد میں تین عوامل سے مدد ملی۔ خلیجی ممالک سے ترسیلات زر، افغان جہاد میں برسنے والی ڈالر برسات اور سرد جنگ میں سرمایہ دار کے کلیدی ہتھیار یعنی مذہب کا سیاسی استعمال۔ 80 کی دہائی میں اسے شرافت کی سیاست کا نام دیا گیا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں، شرافت پر متوسط طبقے کا اجارہ ہے۔ امیر عیاش ہیں جب کہ غریب ان پڑھ اور غیر مہذب ہیں۔ متوسط طبقہ ٹیکس نہیں دیتا لیکن صدقہ خیرات میں پیش پیش ہے۔ اپنے بچوں کو مرضی کی شادی کی اجازت نہیں دیتا لیکن شادی کی تقریب پر کروڑوں روپے خرچ کرتا ہے۔ تعلیم کا مقصد اونچی ملازمت ہے، حصول علم نہیں۔ خاندانی منصوبہ بندی غیرملکی سازش ہے۔ پولیو کے قطرے نامنظور ہیں اور کورونا کی ویکسین کا انتظار ہے۔ سندھی، بلوچی یا پشتو کا نام لینا ملک دشمنی ہے، انگریزی ذریعہ تعلیم سے بے حیائی پھیلتی ہے، البتہ عربی کی تدریس نہایت ضروری ہے۔ جمہوریت مغرب سے درآمد شدہ ناقابل قبول نظام ہے، سیاست دان بدعنوان ہیں، صحافی لفافے کی ہڈی پر لپکنے والے چوپائے ہیں۔ مسلم امہ سے یکجہتی کے خدوخال ترجمان وزارت خارجہ کی تازہ ترین پریس کانفرنس کی روشنی میں طے کرنا ہوں گے۔ وطن عزیز چاروں طرف سے اغیار کی سازشوں میں گھرا ہے البتہ ہمیں انہی دشمن ممالک کی بے حیا معاشرت میں پناہ لینا مرغوب ہے۔ امید کی واحد کرن ایک مسیحا صفت رہنما کی مسلسل تلاش ہے۔ بدقسمتی سے یہ امید ہر دفعہ مایوسی پر ختم ہوتی ہے۔ اس کا واحد علاج چوراہوں میں پھانسی گھاٹ سجانا ہے، بیرونی قرضوں کی ادائیگی سے انکار کر دینا چاہیے۔ ملکی ترقی کے لئے شاہد آفریدی اور شعیب اختر سے رہنمائی لینی چاہیے۔ صحافت دفاعی تجزیہ کاروں کو سونپ دینی چاہیے، ثقافت کا بیانیہ محترمہ وینا ملک  کے سپرد کرنا چاہیے۔ فیض نے کہا تھا، سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد۔۔۔

یہ جو متوسط طبقے نے شخصی گھٹن، اجتماعی منافقت اور ناانصافی کی کھلے عام سرپرستی کا جال بچھایا ہے، لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کی تہذیبی حساسیت، سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف کی طالبانی اٹکل پچو، مولانا فضل الرحمن کی مذہبی سان پر رکھی سیاسی تلوار، چوہدری نثار علی کی خاندانی نجابت، سراج درانی کی موروثی حکمرانی، شیخ رشید کی استہزائیہ پیام بری اور شہر یار آفریدی کی خطیبانہ سوزش، یہ سب چٹکلے اسی تیسری مخلوق کے سیاسی اختلال سے برامد ہوئے ہیں۔ یہ وہ الجھاؤ ہیں جنہیں پیوستہ مفادات نے کاشت کیا اور جنہیں نیم تاریک دانش نے پانی دیا۔ یہاں سے دو راستے نکلتے ہپں۔ دستور کی بالادستی قبول کر کے حقیقت پسندی کی راہ اپنائی جائے یا واقعتاً فسطائیت کے ناگزیر ظہور کا انتظار کیا جائے۔ میر شکیل الرحمن کو قید کر کے اور ابصار عالم پر غداری کا مقدمہ بنا کے ہم راستہ نہیں نکال رہے، چراغ بجھا رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *