کشمیر اورکھوکھلے بیان

احمد اجمل 

ahmed ajmal

پچھلے 70 سالوں سے کشمیر جنت نظیرظلم کی نہ ختم ہونے والی داستان بنا ہوا ہے ۔ ایسا ظلم کے پوری دنیا میں اس طرح کے ظلم کی مثال نہیں ملتی ۔ بھا رت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آٹھ لا کھ فو ج داخل کی ہوئی جس نے دن رات کشمیر میں قتل وغارت کا بازارگرم کر رکھا ہے ۔ کشمیری ما ؤں بہنو ں کی عزتوں کو تار تار کیا جا رہا ہے ۔ نو جو انوں کو گر فتا راور قتل کیا جا رہا ہے ۔ جب سے انڈیا میں نریندرمودی کی حکو مت آئی ہے اس وقت سے کشمیر یوں پرظلم و ستم میں بے پناہ اضا فہ ہو ا ہے ۔ ہسپتالوں میں گھس کر لو گوں کو شہید کیا جا رہا ہے، پر امن مظاہر ین کے خلاف مہک ہتھیا ر استعمال کیے جارہے ہیں ،جس سے سینکڑ وں کشمیر ی اپنی آنکھوں کی بینائی کھو چکے ہیں اور سینکٹر وں کی تعدادمیں کشمیری عمربھرکے لئے اپا ہج ہو چکے ہیں ۔ شہیدوں کے جنا زوں پر فا ئر نگ کی جاتی ہے اور فر ضی جھڑ یوں میں کشمیریو ں کو شہید کیا جا رہا ہے ، کشمیر کی ساری حر یت قیا دت کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔ برہان وانی جو ایک سیدھا سادہ کشمیری طالب علم تھا جسے بھارتی مظالم نے مسلح جدوجہد کی طرف مجبور کردیااوروانی کو ماورائے عدالت شہید کردیاگیا ، جس سے لا کھوں کشمیری اس کے جنا زے پر نکلے تو جنا زے پر فائر نگ کر کے لو گوں کو شہید کیا گیا۔ مگر سلام ہے کشمیر یوں کے جذ بہ آزادی کو کہ اتنا ظلم و ستم سہنے کے با وجو د بھی انہوں نے ہار نہیں ما نی وہ آج بھی اپنی تحریک کو سر گرم رکھے ہوئے ہیں بلکہ بر ہا ن دانی کی شہا دت کے بعد تو یہ تحریک عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ اس سے پہلے بھی کشمیر کے سینکڑوں لو گ سٹر کوں پر آتے اور پاکستا نی پر چم لہر اتے پھر ان پر تشد د کیا جا تا مگر مجا ل ہے کہ تشد د کا کوئی نیا حربہ ان کے قد مو ں کو ڈگمگا نے دیتا وہ اگلے دن اس سے زیا دہ جو ش اور دلو ے کے ساتھ اپنے گھر وں سے نکلتے اور ظالم بھارتی فو ج کا سامنا کرتے دنیاکو بتا تے کہ ہم پر کیابیت رہی ہے اور ہم کیا چاہتے ہیں اور پاکستانی پر چم لہر اتے ۔صرف نو جوان ہی نہیں بلکہ کشمیر کا بچہ ، بو ڑھے ،مرداورعو رتیں بھارتی فو ج کے خلا ف سینہ سپرہیں اور پاکستان کے ساتھ محبت کا اظہا ر کر تے ہیں ، دراصل کشمیر ی پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ ان کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور پاکستان سے محبت کرتے ہیں ۔ جب بر صغیر پا ک وہند کی تقسیم ہوئی اور بند ر با نٹ میں پاکستان کے ساتھ نا انصافی کی گئی اور پا کستان کے ایک حصہ کشمیر کو دھو کے سے بھا رت کے ساتھ ملا دیا گیا حالانکہ اس سے پچیس دن قبل 19 جولائی 1947ء کو کشمیر یوں نے پاکستان کے ساتھ الحا ق کا اعلا ن کر دیا تھا مگرظالم بھارت جو کہ ہمارا ازلی دشمن ہے۔پاکستان اور مسلمانوں کا سکون وچین اسے کسی بھی طرح بر داشت نہیں اس نے کشمیر پر غا صبا بہ قبضہ جما یا اور کشمیر یو ں کی آزادی کی آواز کو سلب کر نے کی کو شش شروع کردی ۔ مگر وہ اب تک اس میں ناکام ہے کشمیر ی اس وقت سے پاکستان اور اسلام کی جنگ لڑتے آرہے ہیں اور لا کھوں جا نو ں اور عز توں کی قر با نیا ں پیش کر تے آر ہے ہیں، کشمیر یوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑ کتے ہیں۔ کشمیر یو ں پر ہونے والے بے پناہ ظلم و ستم اور قتل و غا رت گر ی کے بعد بھی اقدام متحد ہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا اس مسئلے پر چپ رہنااس بات کی غمازی کر تا ہے کہ پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف یہ ساری صیہونی اور کافر لا بیاں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہیں ۔ پاکستان میں ایک قند یل بلو چ کا قتل ہوتا ہے تو انسانی حقوق کی نام نہا د تنظیموں کو یہ یا د آجا تا ہے کہ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے مگر کشمیر میں ہونے والے ظلم اور جبر پر یہ سار ے اند ھے ، گو نگے اور بہر ے ہو جاتے ہیں کہ ان کی زبا نوں سے مذ مت کے لئے ایک لفظ تک نہیں نکلتا۔ امریکہ یہ کہہ کر کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑ کتا ہے کہ کشمیر میں ہونے والے و اقعات بھا رت کا اند رونی معاملہ ہے ۔ جب کشمیر ایک متنا زعہ علا قہ ہے تو پھریہ بھار ت کا اند رونی معا ملہ کیوں ہے؟؟
آج جب کشمیر یوں کی تحر یک آزادی عر وج پر ہے اور کشمیری بھا ئیوں کی نظریں پا کستان پر لگی ہوتی ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں یانہیں تو اس وقت میں ہمار ے حکمر ان خو اب غفلت کا شکار ہیں اور کشمیر پر سیا ست کر رہے ہیں کشمیر الیکشن سے پہلے کشمیرمیں مختلف سیاسی جما عتوں کی طرف سے ہونے والی الیکشن کمپئین میں کشمیر پر سیا ست اور نعر ے بازی کی گئی ۔ جب ہم نے وو ٹوں اور سیٹوں کو حا صل کر نا ہوتا ہے تو کشمیر ہماراہو جاتا ہے اور جب ہم اپنا مطلوبہ مقصد حاصل کر لیتے ہیں تو پھرکشمیر کا نام تک بھو ل جا تے ہیں ۔ وزیر اعظم نو از شریف صاحب جو خود ایک کشمیر ی ہیں بلکہ وانی قبیلے سے ان کا تعلق ہے انہیں جب پانامہ لیکس کا معا ملہ پیش آیا اور وہ اس میں بر ی طرح پھنس گئے اس وقت انہوں سے قوم سے خطا ب پر خطا ب کیے مگر جب پورا کشمیر انڈ ین فو ج کا ظلم بر داشت کر رہا تھا اور جا نوں کی قر با نیاں پیش کر رہا تھا اس وقت پو ری پاکستان قوم کی نظریں اپنے وزیراعظم پر تھیں کہ وہ اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے لیے خطا ب کر تے ہیں کہ نہیں ، مگر مجال ہے کہ ایک دو کھو کھلے بیا نو ں کے علا وہ کچھ کہاہو ۔ کفر ٹوٹا خداخداکرکے جب میڈ یا پر خبر سنی کہ آج و زیر اعظم قوم سے خطاب کر یں گے تو بڑی خو شی ہو ئی اور انتظا ر شر وع کیا کہ ہو سکتاہے کہ آج و زیر اعظمپاکستان کوئی ایسا لا ئحہ عمل پیش کر یں جس سے کشمیر یوں کی قر بانیاں رنگ لے آئیں گی۔ مگر وہ انتظا رانتظار ہی رہا اور وزیر اعظم پاکستان نے قوم سے خطا ب نہ کیا ۔مگر جس دن الیکشن میں جیت کا معر کہ سر کر لیا اس پر مظفر آباد میں بڑی پر جو ش تقر یر کی اور کہاکہ کشمیر بنے گا پا کستان ۔ اللہ کر ے کہ وزیر اعظم کی یہ بات سچ ثا بت ہوا ور ہمارے بھا ئیوں کو ظلم وستم کی چکی سے نجا ت حا صل ہو۔ مگر یہ صرف بیا نا ت دینے سے اور یو م سیا ہ منا نے سے ممکن نہیں ہوگا اس کے لیے ہمیں ٹھو س اور عملی اقد امات کر نے ہوں گے ۔ لیکن اگر با طنی طور پر ہمارے وزیر اعظم صاحب کا ارادہ ایسا نہیں ہے اور وہ انڈ یا سے دو ستیاں اور تجا رت قائم رکھنے کے خو اہاں ہیں تو خدا رامہربانی !کشمیر یوں کے ساتھ مذ اق نہ کیجئے ان کے خون کو ضا ئع نہ کریں ۔ آپ نہ سہی لیکن پاکستانی قوم تو ہر حال میں اپنے کشمیر ی بھا ئیوں کے ساتھ کھڑ ی ہے۔ اس سلسلے میں امیر جماعۃ الد عوۃ پاکستان پر وفسیر حافظ محمد سعید صاحب مبار ک با د کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اتنی گر می اور سخت مشکلا ت کے با وجو د اپنے کشمیر ی بھا ئیوں سے اظہا ر یکجہتی کے لیے دو دن کا کشمیر کا رواں نکالا اور پھر پاکستانی عو ام نے بھی یہ ثا بت کیا کہ وہ دل و جان سے اپنے کشمیر ی بھا ئیوں کے ساتھ ہیں ۔ کئی کلومیٹر لمباکشمیرکا رواں ہزاروں بسوں ،ویگنوں اور کاروں پر مشتمل تھا۔ جس میں زند گی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لو گوں نے شر کت کی ۔ کارواں لا ہور مال روڈسے شروع ہوا اور اسلام آبادکشمیر ہائی وے پر اختتام پذیر ہو ا۔ کا رواں کی قیا دت امیر جما عت الدعوۃ پاکستان پر وفیسر حا فظ محمد سعید نے کی اور ان کے ساتھ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ،جنرل حمید گل مرحوم کے بیٹے عبداللہ گل سمیت کشمیر ی قیادت کے رہنما ؤں سمیت دیگر سیاسی ،مذہبی اور مختلف تنظیموں کے سربراہان اور نمائندے موجودتھے ۔ اختتامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پر وفیسر حافظ محمد سعیدنے کہا کہ بھا رت کشمیر سے اپنی آٹھ لا کھ فو ج نکا لے اور علی گیلانی کے چارنکاتی فارمولے کو تسلیم کر ے ۔اگر بھا رت کشمیر میں ظلم و ستم بندنہیں کر تا تو پھر ہم اپنے بھا ئیوں کے ساتھ کنٹرول لا ئن کو پاٹ دیں گے اور کشمیر کی آزادی کے لیے جو کچھ کر نا پڑا کر یں گے ۔ کشمیر کا رواں میں لا کھو ں لوگوں نے شر کت کر کے یہ ثا بت کر دیا کہ وہ اپنے کشمیر ی بھا ئیوں کے لیے کسی بھی قسم کی قر بانی دینے سے دریغ نہیں کر یں گے جہا ں پر کشمیر یو ں کا پسینہ گر ے گا وہاں ان کا خو ن گرے گا ۔ اللہ کر ے کہ کشمیر یوں کی قر با نیاں جلد رنگ لائیں اور کشمیر پاکستان کا حصہ بنے اور کشمیر ی بھائی بھی سکھ چین کی زند گی بسر کر یں اور کشمیر حقیقت میں جنت نظیر کا سماں پیش کر نے لگے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *