موٹروے سانحہ پر غیر ذمہ دارانہ رویے

 زندگی میں بہت کچھ دیکھنے کے بعد بالآخر اب یہ جان لیا ہے کہ سیاست دانوں کا اصل مقصد حصول اقتدار ہوا کرتا ہے۔اس کے حصول کے لئے جمہوری ملکوں میں عوام کو خواب دکھائے جاتے ہیں۔اشرافیہ کے طاقت ور طبقات سے سازشی گٹھ جوڑ بھی ضروری ہوتا ہے۔ اقتدار مل جائے تو اسے بچائے رکھنا بنیادی ترجیح ہوجاتا ہے۔حکومتی مخالفین اس کے برعکس ہمہ وقت ’’صبح گیا یاشام گیا‘‘ والا ماحول بنانے کی کاوشوں میں مبتلا رہتے ہیں۔کئی معاملات مگر ایسے بھی نمودار ہوجاتے ہیں جو ’’ہمارے نمائندوں‘‘ سے تقاضہ کرتے ہیں کہ وہ سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پُرخلوص انداز میں ان کی وجوہات کا تعین کریں۔تمام تر توجہ اس جانب مبذول رکھی جائے کہ اگر کوئی ’’انہونی‘‘ ہوئی ہے تو اس کے دہرائے جانے کے امکانات کا تدارک یقینی بنایا جائے۔لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر حال ہی میں ہوا سانحہ میری رائے میں ایسا ہی ایک معاملہ تھا۔مجھ بدنصیب کو توقع تھی کہ 140اراکین کی بھاری بھر کم تعداد کی طاقت سے مالا مال مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی پیر کی سہ پہر قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی حکومت کو اس امر پر مجبور کردیں گی کہ تمام امور کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اس واقعہ کی بابت سنجیدہ بحث کروائی جائے۔ وہ یہ فریضہ نبھانے میں شرمناک حد تک ناکام رہیں۔حکومت نے مذکورہ اجلاس فقط یک نکاتی ایجنڈا کی تکمیل کے لئے بلایا تھا۔ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے باہر نکلوانے کے لئے چند قوانین کا متعارف کروانا لازمی تھا۔ اپوزیشن جماعتوں نے شاہ محمود قریشی کی طعنوں بھری تقریر کے باوجود اس ضمن میں چھ قوانین کو بآسانی منظور کروانے میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے خود کو ’’محب وطن اور ذمہ دار‘‘ ثابت کردیا۔ عمران حکومت کے چند ’’بااصول‘‘ اور اس ملک میں ’’کرپشن سے پاک‘‘ سیاست کے خواہاں نمائندوں نے مگر ان کے تعاون کی شکرگزار پذیرائی نہ کی۔ایوانِ بالا میں جہاں عمران حکومت قانون سازی کے لئے اپوزیشن جماعتوں کی کامل محتاج ہے ان قوانین کی سرعت سے منظوری کے بعد قائدِ ایوان جناب وسیم شہزاد کھڑے ہوگئے۔انتہائی رعونت سے انہوں نے قوم کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پاکستان آصف علی زرداری اور شریف خاندان کی جانب سے رواں رکھی ’’منی لانڈرنگ‘‘کی وجہ سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔ہمارے ازلی دشمن بھارت کی اب یہ خواہش ہے کہ پاکستان اس فہرست سے باہر آنے کے بجائے ’’بلیک‘‘ قرار پائے۔ ایسا ہوگیا تو پاکستانی معیشت بحال ہونے کے بجائے تباہ وبرباد ہوجائے گی۔’’وسیع تر قومی مفادات‘‘ کو نظرانداز کرتے ہوئے ایوانِ بالا میں موجود ’’شریف خاندان اور زرداری کے ذہنی غلام‘‘ مگر حکومت سے FATFکی تسکین کے لئے بنائے قوانین کی منظوری میں تعاون کے بدلے اپنے رہ نمائوں کے لئے NROکا تقاضہ کرتے رہے ہیں۔ کپتان مگر ڈٹ گیا۔اپوزیشن اسی تنخواہ پر گزارہ کرنے کو مجبور ہوئی۔قائدِ ایوان کی مذکورہ تقریر نے اپوزیشن جماعتوں کے پچھلی نشستوں پر بیٹھے کئی افراد کو چراغ پا بنادیا۔بالآخر دو مزید قوانین سینٹ میں منظوری کی خاطر آئے تو ان پر غور کرنے سے قبل ڈاکٹر وسیم شہزاد سے معذرت کا تقاضہ ہوا۔ معذرت نصیب نہ ہوئی تو یہ قوانین نظر بظاہر ایوانِ بالا سے ’’نامنظور‘‘ ہوگئے۔قومی اسمبلی سے منظور ہوا کوئی قانون سینٹ ’’مسترد‘‘ کردے تو اسے منظور کروانے کے لئے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلانا ہوتا ہے۔پیر کے روز حکومت نے قومی اسمبلی کا جو اجلاس طلب کیا اس کا واحد مقصد سینٹ میں ’’نامنظور‘‘ ہوئے قوانین مجوزہ اجلاس کو بھیجنا تھا۔ضرورت سے زیادہ دیر تک جاری رہے ’’وقفہ سوالات‘‘ کے بعد ڈاکٹر بابر اعوان نے اس ضمن میں قرارداد پیش کی اور وہ بغیر کسی مزاحمت کے منظور ہوگئی۔حکومت کو اپنا ہدف بآسانی میسر ہوگیا۔اپنی ترجیح کے مطابق ایوان چلانے کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (نون) کے صدر جناب شہباز شریف کو لاہور-سیالکوٹ واقعہ کی بابت جذباتی اور طولانی تقریر فرمانے کی اجازت مل گئی۔ ان کی تقریر کا حسبِ عادت تحریک انصاف کے ’’پھٹے چک‘‘ وزیر مراد سعید صاحب نے دیا۔بعدازاں ’’موراوور‘‘ کرنے کو عمران حکومت کے ایک طاقت ور ترین مشیر جناب شہزاد اکبر بھی کھڑے ہوگئے۔حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ہوئے واقعہ کی بابت تقاریر کو سنتے ہوئے مجھے کئی بار بہت کراہت محسوس ہوئی۔ مذکورہ سانحے پر توجہ مبذول رکھنے کے بجائے جس نے پاکستان کے بے پناہ صاحب دل افراد کو دہلادیا ہے حکومت اور اس کے مخالفین کے مابین مقابلہ یہ ثابت کرنے کا رہا کہ موٹروے کے قیام کا کریڈٹ کسے دیا جائے۔ ’’گڈگورننس‘‘ کے قیام پر شہباز شریف کا اجارہ رہا یا ان کا دس سالہ دورِ اقتدار فقط ’’شوبازی‘‘ تھی۔شہزاد اکبر صاحب کا بنیادی پیغام یہ رہا کہ حال ہی میں لاہور پولیس کے کماندار لگائے عمر شیخ صاحب ایک مثالی اور فرض شناس افسر ہیں۔ شریف خاندان کو ان کی تعیناتی کے بعد یہ خوف لاحق ہے کہ لاہور پر ان کے ’’سیاسی قبضے‘‘ کے دن ختم ہونے کو ہیں۔ نیب محترمہ مریم نواز صاحبہ کو چند سوالات کا جواب فراہم کو اب طلب کرے گی تو وہ لائولشکر سمیت اس کے دفتر پر ’’حملہ آور‘‘ ہوتی نظر نہیں ا ٓئیں گی۔ لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ہوئے واقعے کے بعد شیخ صاحب نے چند کلمات ٹی وی کیمروں کے روبرو برجستہ ادا کردئیے تھے۔ انہیں Out of  Contextاچھالتے ہوئے شیخ صاحب سے نجات حاصل کرنے کا کھیل رچایا جارہا ہے۔بخدا قومی اسمبلی میں پیر کے روز ہوئی تقاریر سننے کے بعد میں سونہیں سکا ہوں۔ ایک انتہائی دلخراش واقعہ اگر ’’ہمارے نمائندوں‘‘ کو سنجیدگی سے اچھی حکمرانی کے تصور سے جڑے سوالات اٹھانے اور ان کے جوابات ڈھونڈنے کو مجبور نہیں کرسکتا تو نجانے کس قیامت کا انتظار ہورہا ہے جس کے بعد میرے منہ میں خاک شاید ہمیں کچھ سوچنے کا موقعہ بھی نہ ملے۔تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم نے ہمارے دلوں کو بے حس بنادیا ہے۔سنجیدہ ترین واقعات اب حقائق کو تلاش کرنے کے بجائے ہمیں اپنی پسند کا ’’بیانیہ‘‘ اجاگر کرنے اور اسے دہرانے کومجبور کرتے ہیں۔ اہم ترین موضوعات پر غور کرنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی۔صحافت کا کلیدی فریضہ انگریزی زبان کے حرف Wسے شروع ہونے والے پانچ الفاظ پر مبنی سوالات کے جواب ڈھونڈنا ہوتا ہے۔سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ اگر کوئی واقعہ ہوجائے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ مختصر اور آسان زبان میں اپنے قارئین اور ناظرین کو یہ بتائیں کہ مذکورہ واقعہ کب،کہاں اور کیوں رونما ہوا۔اس واقعہ سے متعلق کردار کون ہیں۔کسی سنگین جرم کو رپورٹ کرتے ہوئے ہمیں یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ پولیس اس کا سراغ لگانے میں کیا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔انتہائی دُکھی دل کے ساتھ یہ اعتراف کرنے کو مجبور ہوں کہ ہمیں ’’ہر لمحہ باخبر‘‘ رکھنے کی دعوے دار آج کی صحافت نے لاہور-سیالکوٹ موٹروے پر ہوئے واقعہ کی بابت کلیدی اور بنیادی سوالات کے

کماحقہ انداز میں جوابات فراہم نہیں کئے۔اپنے بنیادی فرض کو نبھانے کے بجائے میرے ساتھیوں کی اکثریت یہ طے کرنے میں اُلجھ گئی کہ عمر شیخ صاحب کی جانب سے واقعہ کے فوری بعدادا ہوئے فقرے ’’مناسب‘‘ تھے یا نہیں۔ ’’سب سے پہلے خبر‘‘ دینے کے جنون نے اس سانحے کے مرکزی ملزم کو بھی دائیں بائیں ہونے کا موقعہ فراہم کردیا۔ بحث کا مرکزی نکتہ اب یہ طے کرناہے کہ عورتوں کے ساتھ درندگی کے مرتکب افراد کے ساتھ کیا برتائو ہو۔انہیں برسرِعام پھانسی دی جائے یا انہیں ’’مردانہ قوت‘‘ سے محروم کرتے ہوئے تاعمر پچھتانے کو مجبور کیا جائے۔ اصل سوال جبکہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ پاکستان کو ’’ریاستِ مدینہ‘‘ بنانے کے دعوے داروں نے وہ ماحول فراہم کردیا ہے یا نہیں جہاں کوئی تنہا خاتون ’’سونا اچھالتی‘‘ کسی ایک مقام سے دوسرے مقام کی جانب خوداعتمادی سے مالا مال اطمینان کے ساتھ سفرکرسکے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *