خود لذتی جائز یا ناجائز ؟مولانا مودودی اسے گناہ نہیں سمجھتے !

masnoi (1)
خود لذتی یا مشت زنی یعنی (Hand prectice .. Masterbation ) کہتے ہیں، غیر شادی شدہ افراد کا ایک عمومی فعل ہے ۔۔ عام طور پر اس کو مذہبی حوالے سے حرام اور گناہ کا کام سمجھا جاتا ہے ۔ لیکن اکثر علما ء اس کو گناہ یا حرام نہیں سمجھتے ۔ البتہ حنفی علماء اسے بے کار اور لغو قرار دیتے ہوئے مکروہ ضرور سمجھتے ہیں لیکن اہل حدیث علماء کے نزدیک یہ حرام نہیں ۔ان کے نزدیک بعض آثار میں اس کے

master

شواہد ملتے ہیں کہ یہ مباح ہے۔مولانا مودودی سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے رائے دی کی محلے کی عورتوں کو بری نظر سے دیکھنے کے بجائے بہتر ہے کہ آدمی اپنا پانی نکال لے ۔ البتہ بعض جھوٹی روایات یہ بیان کی جاتی ہیں کہ ایسا کرنے والا سخت سزا کا مستحق ہے اور اسے قیامت کے روز سخت عزاب دیاجائے گا اور اس کے ہاتھ حاملہ ہون گے ۔ یہ سراسر اور گھڑی روایات یں ۔ دراصل یہ کوئی مذہبی مسئلہ ہے ہی نہیں یہ طبی مسئلہ ہے ، میڈیکلی اس کے کوئی مضر صحت اثرات نہیں البتہ جو لوگ اس کے بری طرح عادی ہو جائیں اور اس عمل کو کثرت سے کریں گے وہ اس کے برے اثرات سے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ زیادتی ہر چیز کی بری ہوتی ہے ۔ ایسے افراد وقتی طور پر سرعت انزال اور ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں لیکن اس عمل کو اسی تعداد میں کرنا جس طرح ازدواجی عمل کیا جاتا ہے تو اس کے مظر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *