’غیر تربیت یافتہ دائی سے ڈیلیوری ماں اور بچے کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے‘

’جب میں پہلی بار فیلڈ میں گئی تو مجھے پتا تھا کہ اِن تمام علاقوں میں دائیوں کا کنٹرول ہے اور وہ کسی نئے بندے کو نہیں آنے دیتے لیکن میں نے پھر بھی گھر گھر جا کر خود کو متعارف کرایا تاکہ خواتین کو میرے کام کا پتا چل سکے۔‘

’دائیوں سے ہمارا کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اُن کے کام کے نتیجے میں حاملہ خواتین کی دورانِ ڈیلیوری طبیعت خطرناک حد تک ناساز ہو سکتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دائیاں ٹریننگ لے کر خواتین کی مدد کریں کیونکہ بغیر ٹریننگ ڈیلیوری کروانا بہت خطرناک ہے۔‘

یہ کہنا ہے ضلع چکوال کے نواحی علاقے بلکسر کی رہائشی رخشندہ نواز کا جو بطور کمیونٹی مِڈوائف کام کرتی ہیں۔

بظاہر کمیونٹی مِڈوائف اور دائی کا کام ایک ہی ہے لیکن رخشندہ جیسی دیگر کمیونٹی مِڈوائف تین سے چار سال تک کا کورس کرتی ہیں، جس میں انھیں حاملہ ماں اور بچے کی دورانِ پیدائش صحت سے متعلق تعلیم دی جاتی ہے۔

رخشندہ نے شادی کے بعد سنہ 2011 میں کمیونٹی مِڈوائف کا کورس کیا تھا جس کے بعد انھوں نے اپنے گھر میں ہی کلینک بنایا تاکہ وہ حاملہ خواتین ان سے رہنمائی لے سکیں جو ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے مشورہ لینا چاہتی ہوں۔

مگر اس دیہاتی علاقے میں جہاں برسوں سے غیر تربیت یافتہ دائیاں ہی پیدائش کا عمل سرانجام دے رہی ہیں لوگوں کا اعتماد حاصل کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔

رخشندہ نواز
،تصویر کا کیپشنرخشندہ نے سنہ 2011 میں کمیونٹی مِڈوائف کا کورس کیا اور اپنے گھر میں ہی کلینک بنایا جہاں وہ خواتین آ سکتی ہیں جو ڈاکٹر کے پاس جانے سے پہلے مشورہ کرنا چاہتی ہوں

رخشندہ بتاتی ہیں کہ ’کلینک کھولنے کے دو تین ہفتوں تک کوئی نہیں آیا تو میں نے سوچا کہ یہ سب کیسے آگے چلے گا۔ پھر میرے گھر کے پاس ایک موٹر سائیکل کا ایکسیڈنٹ ہوا اور ایک میاں بیوی کو میرے پاس مرہم پٹی کرانے کے لیے لایا گیا۔ اسی دوران انھوں نے مجھ سے میرے کام کے بارے میں پوچھا۔ پھر کچھ عرصے بعد انھی خاتون کے پہلے بچے کی پیدائش کرانے میں میں نے مدد کی ہے۔‘

رخشندہ کو حکومت کے ساتھ کام کرتے ہوئے تقریباً چار سال ہو چکے ہیں اور اب تک علاقے کے ڈیڑھ درجن سے زیادہ بچے ان کی نگرانی میں یا ان کے ہاتھوں پیدا ہوئے ہیں۔

بلکسر کے علاقے کے آس پاس ڈیڑھ درجن ہسپتال اور بنیادی صحت کے مراکز موجود ہیں جن میں بی ایچ کیو اور پاکستان کی فوج کی زیر نگرانی چلنے والا ایک ہسپتال بھی شامل ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے اتنی سہولیات کی موجودگی میں یہاں کہ لوگ کمیونٹی مِڈوائف کے پاس کیوں آئیں گے یا انھیں اپنے گھر کیوں بلائیں گے؟

اس کی ایک بڑی وجہ ہے پردہ ہے اور دوسرا ہر کوئی ان ہسپتالوں کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔

خان میٹرنٹی ہوم
،تصویر کا کیپشنیونیسیف کے مطابق دورانِ زچگی صرف 39 فیصد خواتین کے پاس تربیت یافتہ دائی موجود ہوتی ہے

اگر حکومتی اعداد و شمار دیکھیں تو پاکستان کی 60 فیصد آبادی گھروں میں بچوں کی پیدائش کو ترجیح دیتی ہے جبکہ عالمی ادارے یونیسیف کے مطابق دورانِ زچگی صرف 39 فیصد خواتین کے پاس تربیت یافتہ دائی موجود ہوتی ہے۔

ماضی میں ایک لمبے عرصے تک دائی کے پاس موجود محدود سہولیات کے نتیجے میں کئی حاملہ خواتین دوران زچگی زندگی کی بازی بھی ہاری ہیں۔

اب بھی بہت سے لوگ دائی سے ہی ڈیلیوری کرانا چاہتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ اسی دائی کے ہاتھوں خاندان کے دیگر بچوں کی پیدائش کرنا بتائی جاتی ہے۔

حالیہ دنوں میں رخشندہ اپنے گھر سے روز چار کلومیٹر دور پیدل سفر کر کے ایک خاتون کا علاج کرنے جاتی ہیں۔

اس خاتون کے حوالے سے رخشندہ بتاتی ہیں کہ ’انھوں نے جس دائی سے علاج کرایا انھوں نے دوا اور ٹوٹکے تو کر لیے لیکن یہ نہیں بتایا کہ زچگی کے عمل سے گزرنے والی خاتون کو پہلے سے ٹیومر تھا۔ اب ان کے بچے کی پیدائش تو ہو گئی ہے لیکن وہ خود ٹھیک حالت میں نہیں ہیں۔‘

رخشندہ نے بتایا کہ اُن کے علاقے میں زیادہ تر لوگ اس خوف سے ہسپتال نہیں جاتے کیونکہ انھیں اندیشہ ہوتا ہے کہ انھیں ’غلط انجیکشن‘ لگا کر مار دیا جائے گا۔ اور اس غلط فہمی کا براہِ راست اثر حاملہ خواتین کی دورانِ حمل دیکھ بھال پر پڑتا ہے۔

اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے کمیونٹی مِڈوائفز کو دیہی علاقوں میں متعارف کرایا گیا لیکن یہ پروگرام اب بھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس وقت پاکستان کے دیہی علاقوں میں ہر دو ہزار حاملہ خواتین کے لیے صرف 60 مِڈوائفز کی سہولت موجود ہے۔

ڈاکٹر انجم قدیر
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر انجم قدیر: ایک تربیت یافتہ دائی کا کام دراصل ڈاکٹر کی مدد کرنا اور ڈاکٹر اور مریض کے درمیان پُل کا کردار ادا کرنا ہے

اسی بارے میں چکوال میں مِڈوائف پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر انجم قدیر نے بتایا کہ ’یہاں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی تھا کہ کوئی شہر سے آ کر اگر ان دیہی علاقوں میں کام کرے تو لوگ اس کو گھر کے اندر تک نہیں بلاتے۔ تو ہماری کوشش تھی کہ جو بھی ڈاکٹر یہاں آئیں وہ اسی علاقے سے ہوں۔‘

ڈاکٹر انجم قدیر نے کہا کہ ایک تربیت یافتہ دائی کا کام دراصل ڈاکٹر کی مدد کرنا ہوتا ہے یعنی وہ ڈاکٹر اور مریض کے درمیان پُل کا کردار ادا کرتی ہے۔

مثال کے طور پر رخشندہ گھر گھر جا کر چیک آپ کرتی ہیں لیکن اگر کسی کو مدد کی ضرورت ہو تو اس کو اپنے کلینک بلا لیتی ہیں۔ اسی طرح وہ حاملہ خواتین کی طبیعت کے بارے میں نزدیکی ہسپتال میں موجود ڈاکٹروں کو بھی بتاتی رہتی ہیں تاکہ کسی ناگہانی صورتحال میں ہسپتال داخل کرنا پڑے تو کر سکیں۔

’میں اب چاہتی ہوں کے علاقے کی بچیوں کو بھی یہ تربیت دوں تاکہ کل کو یہاں پر رہنے والوں کو کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *