منتخب تحریریں

عقل کی عیاری اور سیاسی عشق

Share

جمعہ کو خبر سنی کہ لاک ڈاؤن مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔ ابھی اس کی گونج کم نہیں ہوئی تھی کہ اتوار کو معلوم ہوا ‘پنجاب میں لاک ڈاؤن کی مدت کو 31 مئی تک بڑھا دیا گیا ہے‘۔ کیا کوئی صاحبِ عقل دونوں میں تطبیق تلاش کر سکتا ہے؟
اقبال کا کہنا ہے کہ عقل عیار ہے، سو بھیس بدل لیتی ہے۔ گویا قابلِ بھروسہ نہیں۔ وہ عشق کو برتر مانتے تھے۔ ایک فارسی شعر میں انہوں نے اپنا مقدمہ اتنے سادہ اسلوب میں پیش کیا ہے کہ کسی اردو دان کو ترجمے کی حاجت نہیں رہتی:
من بندہ آزادم عشق است امامِ من
عشق است امامِ من عقل است غلامِ من
گویا عشق ان آفات سے بے نیاز ہے، جو عقل کو لاحق ہیں۔ بات عشق کی ہو تو اسے عقل کے پیمانے پر پرکھنا بے عقل کی دلیل ہے۔ کیا معلوم عقل کا سامنا ہو تو وہ کس بھیس میں ہو؟ دلچسپ بات ہے کہ اپنے پہلے ہی خطبے میں اقبال علم بالوحی اور علم بالحواس میں تطبیق پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ عقل اپنے مقدمات اسی علم بالحواس پر قائم کرتی ہے۔ خیر اس بحث کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں کہ اقبال ہمیں کیا بتانا چاہتے ہیں یا اہلِ علم اس خطبے کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ اس لمحے تو وہ فیصلے ہمارے پیشِ نظر ہیں جو لاک ڈاؤن کے حوالے سے کیے جا رہے ہیں۔ اس وقت معاملہ ہے کیا؟ لاک ڈاؤن ہو گا یا نہیں ہو گا؟ ہم اس سوال کا جواب عقل سے مانگیں گے یا عشق سے؟
کچھ عرصے سے ہمارے سیاسی مباحث پر عشق کا غلبہ ہے۔ اب عشق کے بارے میں ذکر ہو چکا کہ جسے ہو جائے وہ دلیل سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ دلیل کا تعلق عقل سے ہے اورجب عشق امام ہو تو عقل غلام ہوتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ چراغِ رہگزر، دورنِ خانہ برپا ہنگامے سے بے خبر۔ جب سیاست عشق بن جائے تو پھر یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ بیک وقت دو متضاد فیصلے کیسے کیے جا سکتے ہیں۔ یہ سوال وہ اٹھائے جو عقل کا غلام ہو۔ یہاں تو ایک ہی تمنا ہے:
جاواں سوہنڑیاں دے بووے، بھاویں سٹے وچ کھووے
سیاست کا مزاج مگر عشق کو قبول نہیں کرتا۔ عقل کو عیار جانتے ہوئے بھی، اسی کی بات مانتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہرسیاست کدہ، بت کدہ بن چکا ہوتا۔ یہاں تو وقت پرکھتا ہے۔ انسان پرکھتے ہیں۔ کھوٹے اور کھرے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر بت گری یہاں کی روایت ہے تو بت شکنی بھی یہیں کا رواج ہے۔ اقبال نے بھی جب اس خطے میں اہلِ اسلام کے سیاسی مستقبل کے بارے میں سوچا تو ایک عقلی مقدمہ قائم کیا۔ ان کے لیے سیاسی راہنما تلاش کیا تو عقلی پیمانے پر۔
سیاست ریاست سے جڑی ہوئی ہے۔ یہاں کبھی دل کی حکومت نہیں ہوتی۔ یہاں تو لمحہ لمحہ زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن میں عوام کو دکھائے گئے خواب، اقتدار کے ایوانوں میں حکمرانوں کے پاؤں تلے روند دیے جاتے ہیں۔ زہر کا پیالہ سقراط جیسے پیتے ہیں جن کا اس طرف گزر کم ہی ہوتا ہے۔ یہاں تو اورنگزیب جیسا پارسا بھی جانتا ہے کہ اقتدار کا تخت بعض اوقات باپ اور بھائیوں کی قبر پر بچھانا پڑتا ہے۔
اقتدار تک پہنچنے والے، اس حقیقت کو جانتے ہیں۔ انہیں یہاں تک پہنچانے والے عوام بھی اگر حقیقت شناس ہوں تو کوئی ان کا استحصال نہ کر سکے۔ اگر وہ حکمرانوں سے عشق کر بیٹھیں گے تو پھر یہ سوال نہیں اٹھا سکیں کہ بیک وقت لاک ڈاؤن ختم اور نافذ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کرفیو ہو بھی، اور نہ بھی ہو؟ اسی لیے عرض ہے کہ حکمرانوں سے عشق نہیں کیا جاتا، ان کا احتساب کیا جاتا ہے۔
اس کے باوجود کہ عقل عیار ہے، سیاست کو عقل ہی کی لگام ڈالنا پڑے گی۔ واقعہ یہ ہے کہ عقل کی عیاری کو بھی عقل ہی بے نقاب کر سکتی ہے۔ عقل کی پیچیدگیوں کو اہلِ عقل ہی سمجھ سکتے ہیں۔ سیدنا عمرؓ ابن خطاب نے فرمایا تھا کہ مومن نہ دھوکہ دیتا ہے نہ دھوکہ کھاتا ہے۔ گویا مومن کے پاس وہ عقل ہوتی ہے جو عقل کی عیاری کو پہچان لیتی ہے۔ یہی عمر فاروقؓ تھے جنہوں نے اپنے قاتل فیروز ابو لولو کی دھمکی کو نظر انداز کر دیا تھا۔ اس کی قیمت پوری امت کو چکانا پڑی۔
اسدعمر نے فرمایا: وزیراعظم فیصلے مسلط کر سکتے تھے مگر انہوں نے نہیں کیے۔ گویا احسان فرمایا۔ کاش کوئی سوال کرتا کہ جمہوریت میں فیصلوں کے تسلط کا تصور کہاں سے آیا؟ یہ بادشاہت ہوتی ہے جہاں فیصلے مسلط ہوتے ہیں۔ جمہوریت میں مشاورت ہوتی ہے۔ دلیل کی بنیاد پر بات منوائی جاتی ہے اور رد بھی ہوتی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ انتشارِ فکر بڑھ جائے تو لیڈر کو مداخلت کرنا پڑتی ہے لیکن جمہوریت کی لغت میں تسلط کا لفظ نہیں ہوتا۔
جن معاشروں میں جمہوریت کمزور ہو وہاں، بادشاہ اور منتخب وزیر اعظم کا فرق مٹنے لگتا ہے۔ بے نظیر صاحبہ اور نوازشریف صاحب نے بھی اس فرق کو مٹادیا۔ ان کے حضور میں بھی کم ہی کسی کو دم مارنے کی اجازت تھی۔ اس کا نقصان ملک کو ہوا جہاں جمہوریت کی دیوار ریت پر کھڑی کی گئی۔ یہ دیوار اتنی کمزور تھی کہ بوٹ کی ایک ٹھوکر سے گرائی جاتی رہی۔ اور اگر قائم بھی ہوئی تو کسی سہارے پر۔ عوام کو سوچنا ہوگا کہ اس چلن کو باقی رکھنا ہے یا اسے تبدیل ہونا چاہیے؟
اس وقت قوم کو یکسوئی کی ضرورت ہے۔ یہ صرف مشورے سے آ سکتی ہے۔ یہ مشورہ کہیں نہیں ہو رہا۔ اگر ہو رہا ہے تو بہت محدود۔ قوم کے ایک بڑے حصے کو کسی فورم پر مشاورت میں شریک نہیں کیا گیا۔ جب سب ایک جگہ شریکِ مشورہ نہیں ہوں گے تو ایک حل پر اتفاق نہیں ہو پائے گا۔ پھر جتنے منہ اتنی باتیں۔ خان صاحب اس بحران میں اپنے لیے سیاسی مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ وہ صرف اپنے ٹائیگر تیارکرنا چاہتے ہیں۔ اب ٹائیگر تیار ہوں گے یا قوم۔ ٹائیگرسازی کا مطلب قوم کی تقسیم کے سوا کچھ نہیں۔
عمران خان پہلے ہی دن سے تحریکِ انصاف کے تنگنائے سے باہر نہیں آ سکے۔ یہ پہلی سیاسی حکومت ہے جس نے مشاورت کے دائرے کو صرف اپنی جماعت تک محدود رکھا ہے۔ خودپارٹی کا اپنا معاملہ یہ ہے کہ رجالِ کار سے تہی دامن ہے۔ لے دے کر ایک اسدعمر۔ وہی جنہیں خان صاحب خود ایک بار مسترد کر چکے۔ بے مائیگی کا یہ حال ہے کہ اطلاعات جیسی خالص سیاسی وزارت کے لیے بھی پارٹی کی صفوں سے کوئی ماہر نہ مل سکا۔
صورتِ حال جب یہ ہو تو اس کا ناگزیر نتیجہ انتشارِ فکر ہے۔ پھر کہیں لاک ڈاؤن ہوتا ہے اور کہیں بازار کھلے ہوتے ہیں۔ اپوزیشن نے حکومت کی طرح نااہلی کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ دونوں کا وجود ایک دوسرے کی ناکامیوں سے ثابت ہے۔ آج ایک طرف نااہلی ہے اور دوسری طرف عشق۔ دونوں سیاست کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔
اس فضا میں، کیا عقل کے بروئے کار آنے کا کوئی امکان ہے؟ آئے گی مگر عیاری کے ساتھ۔ جیسے سابق حکمرانوں کا قصہ چھیڑ دے گی۔ سوال یہ ہے کہ آپ نے انہیں برا مان لیا‘ تبھی تو آپ نے نئی قیادت کا انتخاب کیا۔ اب آپ کی ذمہ داری اس قیادت کی کمزوریوں کے لیے جواز تراشنا ہے یا اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا؟ اس سے عشق نبھانا ہے یا ملک اور عوام کی حالت کو سدھارنا ہے؟
اقبال کے نزدیک عشق امام ہے اور عقل غلام مگر اُس وقت جب عشق کو ایک شفاف جذبہ مان لیا جائے۔ اتنا شفاف کہ اس میں عقل کی عیاری صاف دکھائی دینے لگے۔ جو جذبہ کھلے تضاد کو نہ دیکھ سکے، وہ عشق نہیں ہوتا، فلمی طرز کا کوئی رومان ہی ہو سکتا ہے۔ یہ دراصل عقلِ عیار ہی ہے جس نے عشق کا بھیس بنا رکھا ہے۔ وہ عقل جو ادنیٰ فطری جذبات کی غلامی کو عشق باور کرانا چاہتی ہے۔ سیاست کے لیے یہی مناسب ہے کہ اپنی لگام، عقلِ خالص کے ہاتھ میں دے دے۔