تحریک انصاف کے بانیوں میں سے ایک اور عمران خان کے ’وفا شعار‘ نعیم الحق انتقال کر گئے

تحریک انصاف کے بانی رکن نعیم الحق عمران خان کے انتہائی قریبی اور وفادار ساتھی تھے۔

انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا اور سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔ کچھ عرصہ وکالت کرنے کے بعد انھوں نے نیشنل بینک میں ملازمت اختیار کرلی۔

وہ نیشنل بینک کی نیویارک برانچ سے 1980 میں لندن منتقل ہوئے تو یہیں ان کی عمران خان سے علیک سلیک شروع ہوئی اوردوستی کا نہ ٹوٹنے والا سفر شروع ہوا۔ ان دنوں میں عمران خان کرکٹ کی دنیا کے ایک سٹار تھے۔

عمران

عمران خان پاکستان کی قومی ٹیم کے علاوہ کاؤنٹی کرکٹ بھی کھیلتے تھے اور پیسے کی بھی ریل پیل تھی۔

عمران خان اور نعیم الحق کی دوستی اتنی پکی ہو گئی کہ نعیم الحق نے لندن کے ایک بینک سے بھی (مرچنٹ بینکر کی) ملازمت چھوڑ کر عمران خان کے مالی معاملات کے نگران بن گئے۔

لندن میں عمران خان نے کہاں کوئی جائیداد خریدنی ہے یا بینک میں ان کے اکاؤنٹس کے معاملات کیسے ہوں گے سب معاملات نعیم الحق کے ہاتھ میں آچکے تھے۔

عمران خان لندن میں نعیم الحق سے ملنے اکثر ان کے گھر چلے جاتے تھے۔

نعیم الحق

نازک مالی معاملات سے شروع ہونے والے یہ تعلقات دن بدن مضبوط ہی ہوتے گئے یہاں تک کہ جب عمران خان کا 1996 میں سیاسی سفر کا آغاز کیا تو نعیم الحق لبیک کہہ کر دس اولین سیاسی ہمسفروں کی فہرست میں شامل ہو گئے۔

نعیم الحق کا سیاسی سفر اصغر خان کی تحریک استقلال سے شروع ہوا اور اس پارٹی کے ہی ٹکٹ سے 1988 سے کورنگی کراچی سے انتخابات میں حصہ بھی لیا۔ نعیم الحق اور تحریک استقلال دونوں بعد میں تحریک انصاف میں ضم ہو گئے۔

تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد کی زندگی یکسر بدل گئی۔ اب ان کا زیادہ وقت سیاسی امور کی دیکھ بھال میں ہی گزرتا تھا۔

وہ تحریک انصاف سندھ کے صدر بھی رہے۔

جب 2008 میں ان کی اہلیہ نازلی جمیلی جنھیں وہ نازو کہہ کر پکارتے تھے کا کینسر کی وجہ سے انتقال ہو گیا تو پھر نعیم الحق کچھ عرصے بعد کراچی چھوڑ کر اسلام آباد میں ہی مستقل سکونت اختیار کرلی۔ ان کا زیادہ وقت بنی گالا اور تحریک انصاف کے دفاتر میں گزرتا تھا۔

نعیم الحق عمران خان کے ترجمان اور چیف آف سٹاف بھی رہے۔ جب عمران خان وزیر اعظم بن گئے تو نعیم الحق ان کے سیاسی امور پر معاون خصوصی بن گئے۔ آخری وقت تک یہ عہدہ ان کے پاس رہا۔

عمران خان ہر معاملے میں ان پر اعتماد کرتے تھے اور سیاسی پیغام رسانی بھی نعیم الحق کے ذریعے ہی ہوتی تھی۔ اگر اجلاس میں کسی سینیئر رہنما کو عمران خان کی خفگی کا پیغام بھی نعیم الحق کے سخت رویے سے ہی مل جاتا تھا۔

جب بیماری کی وجہ سے وہ سیاسی معاملات دیکھنے کے سے قاصر رہے تو عمران خان کو اس وقت ان کی کمی محسوس ہوئی اور جو کام اکیلے نعیم الحق کے حوالے تھا اب کمیٹیوں کے بعد کمیٹیاں بنا کر کیا جانے لگا۔ عمران خان کو اعتماد میں لے کر وہ خود اتحادیوں سے مذاکرات کرتے تھے۔ مسلم لیگ ق کے ساتھ ان کی ملاقاتیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

نعیم الحق اور عمران خان

تحریک انصاف کے اجلاسوں میں اکثر یہ جملہ کہتے تھے کہ غریبوں کے لیے کچھ ہونا چائیے اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر ہم بھی اشرافیہ کی پارٹی بن جائیں گے۔ دور دراز سے آئے کارکنان کی خاص طور پر سرپرستی کرتے تھے اور سیاسی امور نمٹاتے ہوئے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے بھی کام میں مگن رہتے تھے۔

مصروفیات کے باعث وہ خود کراچی نہیں جا پاتے تھے تو ان کے بچے اور رشتہ دار خود اسلام آباد ان سے ملنے آ جاتے تھے۔

عمران خان کی طرح وہ بھی بہت سے تنازعات کی زد میں رہے۔

نعیم الحق کے پسماندگان میں ایک بیٹا اور بیٹی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *