آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ: انڈیا کی پاکستان کو 108 رنز سے شکست، سوشل میڈیا پر پاکستانی کپتان بسمہ معروف کی بیٹی اور انڈین ٹیم کی ویڈیو کے چرچے

ایک طرف انڈین کرکٹ ٹیم نے کھیل کے میدان میں پاکستانی ٹیم کو شکست دی تو دوسری جانب پاکستانی ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کی چھ ماہ کی بیٹی فاطمہ کے ساتھ کھیلتی انڈین کھلاڑیوں نے بہت سے لوگوں کے دل بھی موہ لیے ہیں۔

خیال رہے کہ بارہویں ویمنز ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہونے والے میچ میں انڈیا نے پاکستان کو 108 رنز سے ہرا دیا ہے۔ انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو 245 رنز کا ہدف دیا تھا جس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 43 اوورز میں صرف 137 رنز ہی بنا سکی۔

سوشل میڈیا پر گردش کرتی ویڈیو اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میچ ختم ہونے کے بعد بسمہ معروف اپنی بیٹی کو اٹھائے کھڑی ہیں اور ان کے ارد گرد انڈین کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی جمع ہیں جو انتہائی پیار بھرے انداز میں نہ صرف بچی کو دیکھ رہی ہیں بلکہ اسے بہلانے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔

صحافی مجیب مشال نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’یہ ویڈیو خوبصورت انداز میں آپ کے دل کو پگھلا دے گی۔‘

ایک انڈین صارف نے اس ویڈیو پر لکھا: ’نفرت نہیں بلکہ محبت پھیلائیں‘ جبکہ ایک صارف نے یہ بھی لکھا کہ ’یہ ویڈیو سوچ سے بڑھ کر ہے۔‘

انڈیا، پاکستان

سعد نامی صارف نے یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’یہ آج انٹرنیٹ کی بہترین چیز ہے۔ میدان سے ہٹ کر کرکٹ کبھی کبھی بہت خوبصورت ہوتی ہے۔‘

ایک اور صارف انڈین کھلاڑیوں کے ساتھ بسمہ معروف اور ان کی بیٹی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: ’یہ ویمنز ورلڈ کپ کی سب سے کیوٹ تصویر ہے۔‘

انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل، آئی سی سی نے بھی اس تصویر کو ٹوئٹ کیا اور

میچ میں کیا ہوا؟

پاکستان کی جانب سے سب سے بڑا سکور سدرہ امین کا تھا جنھوں نے 64 گیندوں پر 30 رنز بنائے۔ اس کے بعد وہ جھلن گوسوامی کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئیں۔

راجیشوری گائیکواڈ نے چار وکٹیں حاصل کیں جنھوں نے جویریہ خان، عالیہ ریاض، فاطمہ ثنا اور سدرہ نواز کی اننگز کا خاتمہ کیا۔

جھلن گوسوامی اور سنیہہ رانا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان اور انڈیا کی ویمنز ٹیموں کے درمیان اتوار کے میچ کو ملا کر اب تک 11 ون ڈے انٹرنیشنل کھیلے جا چکے ہیں جن میں سے تمام میچز انڈیا نے جیتے ہیں۔

اس کے علاوہ انڈین ویمنز ٹیم کا پلڑا ٹی 20 میں بھی بھاری نظر آتا ہے جہاں کُل 11 میچز میں سے پاکستانی ویمنز ٹیم صرف ایک میچ جیت پائی ہے۔

پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب بولرز ندا ڈار اور نشرح سندھو رہیں جنھوں نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔ اُن کے علاوہ ڈیانا بیگ، انعم امین اور فاطمہ ثنا نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔

انڈیا کی جانب سے سب سے بڑا سکور پوجا وستراکر نے کیا جنھوں نے 59 گیندوں پر 67 رنز کی اننگز کھیلی تاہم اس کے بعد وہ فاطمہ ثنا کی گیند پر آؤٹ ہو گئیں۔

یوں انڈین ٹیم نے بااعتماد انداز میں اپنی اننگز کا اختتام 244 رنز بنا کر کیا۔

انڈیا نے پاکستان کو 245 رنز کا بھاری ہدف دیا تو اس کے جواب میں پاکستانی ٹیم کا آغاز زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آیا اور پاکستانی ٹیم کی اوپنرز سدرہ امین اور جویریہ خان مجموعی طور پر 92 گیندوں پر صرف 41 رنز ہی فراہم کر پائیں۔

امیمہ سہیل، ندا ڈار اور نشرح سندھو اپنا سکور دو ہندسوں میں لے جائے بغیر پویلین لوٹ گئیں جبکہ انعم امین پاکستان کی اننگز کے اختتام تک پانچ رنز بنا پائیں۔

پاکستانی ٹیم 100 سے بھی کم رنز میں اپنی نصف سے زیادہ وکٹیں گنوا چکی تھی مگر اس کے بعد ٹیم کچھ حد تک مستحکم ہوئی اور مجموعی سکور کو 137 رنز تک لے کر گئی مگر راجیشوری گائیکواڈ اور سنیہہ رانا کی پے در پے وکٹوں نے پاکستانی بلے بازوں کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔

انڈیا، پاکستان

میچ پر سوشل میڈیا پر ردِ عمل

میچ پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹوئٹر صارف مزمل اورکزئی نے لکھا کہ پاکستان کھیل ہی کیوں رہا ہے؟ یہ ٹیم ٹھیک نہیں۔ انھوں نے گذشتہ 10 ون ڈے میں سے ایک بھی نہیں جیتا۔ یا تو ٹیم کو مکمل تیاری کے ساتھ بھیجیں یا پھر ایسے بڑے ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کریں۔

حجاب نامی صارف نے لکھا کہ پاکستانی ویمنز ٹیم سمجھ نہیں پائی کہ کیا ہو رہا ہے، مگر پھر بھی آگے اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے اپنی لڑکیوں کی حمایت کر رہی ہوں۔

انڈیا، پاکستان

عائشہ نے کھیل ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے لکھا کہ اب یہ میچ پاکستان ویمنز کے لیے کم و بیش پورا ہو چکا ہے۔ انڈیا نے بہت اچھا کھیلا۔'

اُنھوں نے لکھا کہ پاکستان میں جذبے اور بہتر بیٹنگ کی کمی تھی اور اس میچ میں ہماری حکمتِ عملی بھی مشتبہ تھی۔

انڈیا، پاکستان

نائلہ جاوید نامی صارف نے لکھا کہ انڈیا نے مناسب شروعات کی مگر ہم نے اُنھیں وسطی اوورز میں روک دیا۔ پھر وہ زبردست انداز میں واپس آئیں۔

اُنھوں نے لکھا کہ 'ہماری اوپنرز نے برا، مغلوب اور دفاعی انداز اختیار کیا۔ انڈیا نے دباؤ ڈالا اور ہم نے ہار مان لی۔'

انڈیا، پاکستان

جب سچن تندولکر نے دورانِ میچ اپنی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا تو ایک پاکستانی کرکٹ مداح نے بظاہر مایوسانہ انداز میں کہا کہ سر اگر آج کوئی ہاکی کا میچ ہے تو ہمیں بتا دیں، ہم وہ دیکھ لیں۔

انڈیا، پاکستان

زاہد نامی صارف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ ہم ویمنز ٹیم پاکستان سے کیسے کسی بڑی چیز کی توقع کر سکتے ہیں جب وہ سال میں ایک مرتبہ ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کھیلیں اور کوئی ہوم سیریز یا اوے سیریز نہ کھیلیں۔

انڈیا، پاکستان