آئی سی سی کی افغانستان کے حوالے سے 'انتظار کرو اور دیکھو' کی پالیسی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے افغانستان کے حوالے سے انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اپنالی ہے لیکن اگلے ماہ ہونے والے بورڈ اجلاس میں معاملے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں 15 اگست کو طالبان کے قبضے کے بعد ملک کی کرکٹ خطرات کی زد میں ہے اور کرکٹ آسٹریلیا نے بھی اگلے ماہ ہوبارٹ میں شیڈول ٹیسٹ کی میزبانی سے انکار کی دھمکی دی ہے کہ اگر کابل میں حکومت خواتین کو تمام کھیلوں کی اجازت نہیں دیتی ہے تو یہ میچ منسوخ ہوسکتا ہے۔

افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کی کرکٹ کے لیے پرعزم ہے لیکن اس کے مستقبل کے حوالے سے حکومتی ہدایات کا انتظار ہے۔

آئی سی سی کے قائم مقام سربراہ ایلراڈیس نے 17 اکتوبر کو شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے متعلق ورچوئل پریس کانفرنس میں کہا کہ 'ہمارا اولین کام ان ممالک میں بورڈ اراکین کے ذریعے کرکٹ کے فروغ میں تعاون کرنا ہے'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'ہم کہہ چکے ہیں کہ ملک میں نئی حکومت کے تحت معاملات کیسے طے کیے جاتے ہیں اس کو دیکھنے کے لیے انتظار کریں گے'۔

انہوں نے کہا کہ 'آئی سی سی بورڈ اس حوالے سے اگلے اجلاس میں اس کو دیکھے گا جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اختتام کے بعد متوقع ہے'۔

افغانستان کی کرکٹ ٹیم اس وقت قطر میں ٹریننگ کر رہی ہے اور 25 اکتوبر کو شارجہ میں کوالیفائر ٹیم کے خلاف میچ سے اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔

یاد رہےکہ طالبان کی پچھلی حکومت کے دوران لڑکیوں کو اسکول جانے کی اجازت نہیں تھی اور خواتین پر کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے پر پابندی عائد تھی۔

آسٹریلیا کی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان ٹم پین کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ٹیمیں ہوسکتا افغانستان سے کھیلنے سے منع کریں، لیکن ایلراڈیس نے کہا کہ ورلڈ کپ میں ان کی شرکت پر کوئی شبہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'وہ آئی سی سی کے رکن ہیں اور اس وقت ٹیم ایونٹ کے لیے تیاری کر رہی ہے اور گروپ بی میں کھیلے گی'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جہاں تک ایونٹ میں ان کی شرکت کا تعلق ہے تو یہ معلوم کے مطابق ہوگا'۔

آئی سی سی کے سربراہ نے تصدیق کی کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ڈیسیشن ریویو سسٹم کے ساتھ ٹیموں کو ہر اننگز میں دو ریویو کی سہولت دستیاب ہوگی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: