آئی پی ایل کی ٹیم راجستھان رائلز: انڈین کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں چہل، اشون اور کرون نائر کی کہانیاں

انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم راجستھان رائلز نے اپنے سوشل میڈیا پر ٹیم میں شامل کھلاڑیوں کی جانب سے ایسی کہانیں سنانے کا سلسلہ شروع کیا ہے جس سے انھوں نے کوئی نہ کوئی سبق سیکھا۔ اس سلسلے کا نام رکھا گیا ہے ’سنبھال لیں گے‘۔

انڈین کرکٹ ٹیم کے رکن یوجوویندر چہل جو راجستھان رائلز ٹیم کا بھی حصہ ہیں، انھوں نے سنہ 2013 کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار ایک سینیئر کرکٹر نے شراب کے نشے میں انھیں پندرہویں منزل کی کھڑکی سے لٹکا دیا تھا۔

اپنی کہانی کو یاد کرتے ہوئے چہل نے کہا کہ ’میں نے یہ بات کبھی کسی کے ساتھ شیئر نہیں کی، صرف چند لوگ ہی میری کہانی جانتے ہیں لیکن اب میں اس کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔‘

چہل نے کہا 'یہ سنہ 2013 کی بات ہے، اس وقت میں ممبئی انڈینز کی ٹیم میں تھا۔ ہمارا بنگلور میں ایک میچ تھا۔ میچ کے بعد ایک پارٹی تھی۔ وہاں ایک کھلاڑی نشے میں تھا، میں اس کا نام نہیں لوں گا۔

'اس نے مجھ سے کہا کہ یووی یہاں آؤ۔ وہ کافی دیر سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس نے مجھے پندرہویں منزل کی کھڑکی کے باہر لٹکا دیا۔ میں نے اسے اس کی گردن کے پیچھے سے پکڑ رکھا تھا۔ اگر میں ہاتھ چھوڑ دیتا تو میں گر جاتا۔ میں اس وقت پندرہویں منزل پر تھا۔'

انھوں نے مزید کہا: 'وہاں بہت سارے لوگ موجود تھے، انھوں نے ہمیں دیکھا اور آکر چیزوں کو سنبھال لیا۔ میں بے ہوش سا ہو گیا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ جب ہم کہیں جاتے ہیں تو ہمیں کتنا ذمہ دار ہونا چاہیے۔ یہ میری زندگی کا ایک ایسا واقعہ ہے جس میں میں بال بال بچ گیا۔ اگر ذرا سی بھی غلطی ہوتی تو میں گر گیا ہوتا۔'

انڈیا کے ایک اور معروف سپنر روی چندرن اشون نے اپنی زندگی کی ایک کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ 'میری زندگی میں بہت سی کہانیاں رہی ہیں۔ ہم سب کی زندگی کے ایسے حصے ہیں جو کہانی بن جاتے ہیں۔ میرے انجینئرنگ کے دن بہت مشکل تھے۔ میرا خاندان کہتا تھا کہ پہلے انجینیئر بنو، پھر کرکٹر بننا۔ اگر آپ کرکٹر بن جاتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے، یہ ایک جیک پاٹ کی طرح ہے، لیکن اگر آپ انجینیئر بن گئے تو آپ یقینی طور پر اپنے خاندان کا خیال رکھ سکتے ہیں۔

'اس وقت میرا انتخاب رنجی ٹرافی کے لیے ہو گیا تھا اور میں زیادہ کالج نہیں جا پا رہا تھا۔ میں ہر وقت میدان میں رہتا تھا۔ میں تحریری امتحان کے لیے 30-40 دن مسلسل پڑھتا تھا۔ امتحان پاس کرنا آسان ہوتا تھا۔ پھر میں لیب کے امتحان کے لیے گیا اور وہاں ہمیں پروگرامنگ کرنا پڑتی تھی تاکہ ہم آؤٹ پٹ دکھا سکیں۔ عام طور پر باہر کے ٹیسٹرز اسے دیکھتے ہیں۔'

روی چندرن اشون
،تصویر کا کیپشنروی چندرن اشون

انھوں نے مزید بتایا 'میرا چوتھا سیمسٹر تھا۔ یہ فائنل امتحان تھا، میں نے کوڈ چلایا جس میں 1034 کے قریب غلطیاں ہوئیں۔ میں گھبرا گیا کیونکہ اگر وہ ہر غلطی کے لیے نمبر 0.1 کم کر دیتے ہیں، تب بھی مجھے صفر ملے گا۔ میں وہاں بیٹھا تھا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں، میرا ایک دوست بیٹھا ہوا تھا، اس نے کہا کہ کوڈ کی پہلی دو لائن کا کوڈ چلائیں پھر اسٹیٹمنٹ پرنٹ کر کے باقی چھوڑ دیں، ایگزامنر دیکھ لے گا، سب ٹھیک ہو جائے گا اور پھر تم ہمارے ساتھ آ جانا۔

’میں نے آدھا کوڈ چلایا اور اگزامنر کو بلا کر کہا کہ کوڈ چل گیا ہے۔ لیکن اگزامنر بہت دانشور تھے، انھوں نے پورا کوڈ پڑھا، پھر اوپر جا کر کہا کہ یہ پرنٹر سٹیٹمنٹ کیا ہے جو تم نے دیا ہے اور کونسا کوڈ کو چلا رہا ہے۔ میں کہہ رہا تھا سر، سر، سر، وہ مجھے سیدھا ایچ او ڈی اور پرنسپل کے پاس لے گئے۔ انھوں نے میرا ہال ٹکٹ لیا اور کہا کہ آپ مزید امتحان نہیں دے سکتے۔ میں وہیں بیٹھ گیا، انھوں نے میرے والدین کو بلا لیا، سب وہاں آگئے۔

'پھر میں نے کہا سر جو ہے یہی ہے، مجھ سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ میں صرف امتحان پاس کرنا چاہتا تھا، میں نے شارٹ کٹ لیا اور آئندہ کبھی شارٹ کٹ نہیں لوں گا، انھوں نے کسی طرح مجھے کلیئر کر دیا، آخر کار میں تمام پرچوں میں پاس ہو گیا۔ ایک انجینئر بن گیا۔'

جبکہ کرکٹر کرون نائر نے وہ لمحہ یاد کیا جب ان کی کشتی دریا میں ڈوب گئی تھی۔ اپنی کہانی سناتے ہوئے کرون نائر نے بتایا کہ جب انھوں نے 2016 میں انڈین ٹیم کے لیے ون ڈے ڈیبیو کیا تو وہ پانی میں ڈوبنے سے بچے تھے۔

نائر نے بتایا 'میری ماں نے منت مانی تھی کہ اگر میرا بیٹا انڈیا کے لیے کھیلتا ہے تو میں دریا کے پار مندر جاؤں گی اور پوجا کروں گی۔ ہم پوجا کرنے کے لیے ایک کشتی میں مندر جا رہے تھے۔ اس چھوٹی سے کشتی میں ہم 60-70 افراد سوار تھے۔'

چہل، نایر اور اشون
،تصویر کا کیپشنچہل، نائر اور اشون نے ایک ساتھ اپنی کہانیں سنائیں

انھوں نے مزید بتایا 'ہمارے پاس لائف جیکٹس نہیں تھیں۔ ملاح نے ہمیں یقین دلایا کہ کچھ نہیں ہوگا۔ ہم مندر پہنچنے ہی والے تھے کہ کشتی الٹ گئی اور ڈوب گئی۔ میں بالکل کشتی کے بیچ میں بیٹھا تھا۔ میں دعا کر رہا تھا کہ میں بچ جاؤں۔ میں نے کسی طرح کشتی کو پکڑ رکھا تھا اور ڈوبا نہیں۔ میں نے کشتی کو کافی دیر تک تھامے رکھا، جب وہ مکمل طور پر الٹ گئی تو میں اس پر چڑھ گیا۔ بعد میں ایک ریسکیو بوٹ آئی اور ہمیں بچا لیا گیا۔

'بعد میں ایک پجاری نے جو کشتی پر پوجا کر رہے تھے، مجھ سے کہا کہ ہمیں کشتی کو سیدھا کرنا ہے اور پوجا مکمل کرنی ہے، لیکن میں نے کہا کہ بہت ہو گیا، میں نے اس صورتحال سے بہت کچھ سیکھا ہے، میں سمجھ گیا ہوں کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ چند لمحوں میں پوری زندگی بدل سکتی ہے۔'

راجستھان رائلز نے ان کہانیوں کو اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیا ہے اور کھلاڑیوں کی ذاتی کہانیوں پر سوشل میڈیا صارفین بھی ردعمل کا اظہار کر رہے ہیں۔

نکیتا جین نامی صارف نے لکھا 'ان پُر اثر کہانیوں نے یقینی طور پر مجھے اور دوسروں کو متاثر کیا ہے۔ ہم نے سیکھا ہے کہ صبر اور ذمہ داری سے اور اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے بہتر دن آتے ہیں۔'

ایک اور صارف نے سوال کیا کہ ’وہ کون تھا جس نے چہل کو پندرہویں منزل سے لٹکایا تھا؟‘