آخر ماجرا کیا ہے

فی الحال دنیا دو باتوں میں الجھی ہوئی ہے۔ ایک تو کورونا وائرس کے دوبارہ شروع ہونے سے اور دوسرے ویکسن کی ایجاد سے۔ یعنی کہ امید اور خوف کا ایسا امتزاج ہوا ہے جہاں انسان یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے۔برطانیہ میں کورونا ویکسین کے حوالے سے اچھی خاصی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ اور روازانہ اسی بات پر بحث ہورہی ہے کہ کیا کورونا ویکسین محفوظ اور موثر ثابت ہوگا یا یہ محض ویکسین بنانے والی کمپنیوں کا پیسہ کمانے کا ایک طریقہ ہے؟

تاہم زیادہ تر لوگ اس بات سے بھی پریشان ہیں کہ کیسے کورونا کی ذہنی دباؤ سے باہر نکلا جائے۔جو فی الحال سمجھ سے باہر ہے۔لیکن اتنا ضرور ہو اہے کہ کورونا وائرس کے دوبارہ آنے سے جس جانی نقصان کا قیاس کیا جارہا تھا وہ نہیں ہوا ہے۔ جس سے لوگوں میں ایک اعتماد جاگا ہے جس کی ہم سب کو اسد ضرورت تھی۔

پچھلے ہفتے برطانیہ کے اخبارات، ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر بس ایک ہی خبر پڑھی اور سنائی جارہی تھی کہ برطانیہ میں کب اور کیسے کورونا ویکسن کی شروعات ہوگی۔کیونکہ برطانیہ کے ریگولیٹرزنے بڑے پیمانے پر فائزر /بائیو ٹیک کورونا وائرویکسین کی منظوری دے دی ہے۔ اس دوران ٹیلی ویژن پر اس لاری کو بھی دکھایا گیا جو ویکسن کو بیلجیم سے لے کر برطانیہ کی طرف چل پڑی تھی۔ تاہم یہ لاریاں برطانیاں میں کہاں جائے گی اسے سیکوریٹی وجہ سے ظاہر نہیں کیا گیا۔ خبروں میں یہ بھی دکھایا گیا کہ ویکسن والے فرج یا کنٹینر بیلجیم سے برطانیہ پہنچ رہے ہیں اور انہیں محفوظ مقامات سے پھر ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔اس ویکسین کو کارآمد اور اثر انداز رکھنے کے لیے -70درجہ حرارت میں رکھنا لازمی ہے۔

آخر کار جمعرات3 دسمبر کو فائزر اور بائیو ٹیک کی بنائی ہوئی کورونا وائرس ویکسین کی پہلی کھیپ برطانیہ پہنچی۔توقع کی جارہی ہے کہ ویکسین کی 800,000خوراکیں برطانیہ میں سب سے پہلے دستیاب ہوں گی۔اب تک حکومت نے کل 40ملی خوراک لوگوں کو دینے کا آرڈر دیا ہے۔ جو کہ 20میلین افراد کو دینے کے لیے کافی ہے اور جسے پہلے ویکسن کے 21دن کے بعد دوبارہ دیا جائے گا۔

ابتدائی طور پر محدود مقدار میں دستیاب ہونے کے بعد، سب سے پہلے جو بزرگ افراد ہسپتال میں پہلے سے بھرتی ہیں انہیں ویکسین لگائی جائے گی۔ اس کے ساتھ ان بزرگوں کو بھی ویکسین دی جائے گی جو ہسپتال سے گھر جانے کے لیے تیار ہوں گے۔اس کے علاوہ 80سال سے زیادہ عمر کے بزرگوں کو ہسپتال آنے کی دعوت دی جائے گی۔ جب کہ کئیر ہوم کے اسٹاف کو مقامی کلینک میں ویکسین دینے کا انتظام کیا جائے گا۔

این ایچ ایس کے قومی میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر اسٹیفن پووس نے کہا کہ تمام تر دشواریوں اور مشکلات کے باوجود پہلی خوراک پیر کے روز اسپتالوں میں پہنچ جائے گی اور منگل سے لوگوں کے لیے مہیا ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ، این ایچ ایس کے پاس فلو کے ٹیکے، ایچ پی وی ویکسن اور زندگی بچانے والی ایم ایم آر جیسے بڑے پیمانے پر ایکسن لگانے کے پروگرام فراہم کرنے کا مضبوط ریکارڈ موجود ہے۔

برطانیہ دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے سب سے پہلے کورونا ویکسن لوگوں کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ صحت نے بتایا ہے کہ این ایچ ایس منگل سے برطانیہ کی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں ویکسن لگانا شروع کر ے گی۔ یہ ویکسن سب سے پہلے فرنٹ لائن ہیلتھ عملہ،
80سال سے زیادہ عمر کے افراد اور کئیر ہوم ورکرز کے لوگوں کو دیا جائے گا۔انگلینڈ کے 50ہسپتالوں کو ابتدائی طور پر لوگوں کو ویکسن لگانے
کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

آخر کار انتظار کی گھڑی ختم ہوئی اور منگل 8دسمبر کو حسبِ اعلان برطانیہ میں کورونا ویکسن دینے کا آغاز ہوا۔برطانیہ کی 90 سالہ دادی دنیا کی پہلی کورونا ویکسن لینے والی شخص بن گئی۔مارگریٹ کینن نے کہا کہ’یہ ان کے اگلے ہفتے سالگرے کا بہترین تحفہ ہے‘۔ کووینٹری کے ہسپتال میں نرس، میری پارسن نے کورونا ویکسین سب سے پہلے مارگریٹ کینن کو دیا۔اس کے بعد پورے برطانیہ میں کورونا ویکسین لگانے کا کام زور و شور سے شروع ہوچکا ہے۔

برطانیہ کے ہیلتھ سیکریٹری میٹ ہینکوک نے ویکسن کو لگانے کی اسکیم کے آغاز کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا ہے۔ہیلتھ سیکریٹری نے ٹیلی ویژن پر نم آنکھوں سے کہا کہ آخر کار برطانیہ کے لوگ کورونا ویکسین لینے لگے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا، میں ہرکسی سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ اس وائرس کو دبانے کے لیے اپنا رول ادا کریں اور این ایچ ایس کی حفاظت کے لیے مقامی پابندیوں کی پیروی کریں،تاہم جب ہیلتھ ورکر اس اہم کام کو انجام دیں تو ان کے ساتھ تعاون کرے۔

رپورٹوں میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملکہ برطانیہ ان لوگوں میں نہیں ہوں گی جنہیں پہلے ہفتے میں ویکسین دیا جائے گا۔تا ہم اس بات کا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ ملکہ برطانیہ کو ویکسین لگانے سے عام لوگوں میں ویکسین لگانے کا حوصلہ بڑھے گا۔تاہم اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ محض ملکہ اور رائل فیملی ہونے کی وجہ سے کورونا ویکسین انہیں پہلے لگائی جائے گی، ایسا نہیں ہے۔ 94سالہ ملکہ اور ان کے99 سالہ شوہر کے ساتھ کوئی’ترجیح سلوک‘نہیں کیا جائے گا اور وہ اپنی باری کا انتظار کریں گے۔ کیونکہ 80سے زائد عمر کے کئیر ہوم کے بزرگوں کو سب سے پہلے ترجیح دی جائے گی۔
ان تمام باتوں کے علاوہ برطانیہ میں اس بات پر بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ کیا کورونا ویکسین جسے فائزر/ بایو ٹیک نے ایجاد کیا ہے، کس حد تک اثر انداز اور محفوظ ہے؟کوئی کہہ رہا ہے کہ کورونا ویکسین لگانے کے بعد اس بات کا کہنا مشکل ہوگا کہ کیا ویکسین لگانے کے بعد انسان کورونا وائرس سے محفوظ رہے گا تو وہیں کچھ لوگ کورونا ویکسین کو محض پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بتا رہے ہیں۔وہیں ویکسین بنانے کی دوڑ میں دیگر کمپنیوں نے بھی اپنی قسمت کو آزمائی ہے۔ جس میں آکسفورڈ کی بھی بات آئی تھی لیکن آکسفورڈ کی ویکسین میں ابھی تاخیر ہوئی ہے۔

فائیزر /بایو ٹیک کمپنی نے سب سے پہلے کورونا ویکسین کی ایجاد اور کامیابی کا دعویٰ کیا جسے 40,000رضاکاروں پر آزمایا گیا تھا اور جو کامیاب رہا۔ اس کے بعد برطانیہ کی ریگولیٹر زنے کورونا ویکسین کا دوبارہ معانہ کیا اور اس بات کی امید ظاہر کی کورونا وائرس کے خلاف فائیز/بایو ٹیک کی ویکسین محفوظ اور موثر ہے۔جس کے بعد حکومت نے کمپنی سے کو آرڈر دے کر اپنے لوگوں کو ویکسین لگانے کا اعلان کیا۔

کورونا وائرس جب سے دنیا میں پھیلی ہے تب سے ہر کوئی امید لگائے بیٹھا تھا کہ اس کا علاج کب سامنے آئے گا۔ چلئے خدا کا شکر ہے کہ اب ویکسین بھی ایجاد ہوگئی اور برطانیہ دنیا کا پہلا ملک بنا جس نے کورونا ویکسین لگانے کا اعلان کیا۔ اگر میں اپنی بات کروں تو شاید میرا نمبرعمر کی وجہ سے ویکسین لگانے کے لیے شاید کئی مہینے بعد آئے۔ تاہم ہسپتال میں نوکری کرنے کی وجہ سے ممکن ہے مجھے کورونا ویکسن لگوانے کی اجازت مل جائے۔ لیکن کیا میں کورونا ویکسین لگوانے کے لیے تیار ہوں؟ سچ پوچھیے تو ’نہیں‘۔

مجھے اس بات کا اندازہ ہوا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر میں ’جان لیوا کورونا‘ اتنی تعداد میں لوگوں کو نہیں مار سکا جتنی اس نے پہلی بار میں لوگوں کی جان لی تھی۔ یعنی کورونا اب بے اثر ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اور ممکن ہے اب یہ لوگوں کو نزلے بخار کی طرح جکڑے گا اور پھر کورونا ویکسین سے ہار مان کر فرار ہوجائے گا۔اس طرح کورونا ہماری زندگی میں محض ایک وائرس بن کر رہ جائے گا۔