آزادی کے 74 سال بعد بھی!

پاکستان کے قیام کو 74 برس ہو گئے۔ محترم مجیب الرحمان شامی صاحب نے اپنے کالم میں  لکھا ہے کہ اس سال کو پاکستان کا ڈائمنڈ جوبلی  سال قرار دیا جائے۔ اپنے تازہ کالم کا اختتام انہوں نے اس پیراگراف پر کیا ہے ۔۔۔۔ "آج جب ہم  مستقبل پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہیں، جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کس سے کہاں کیا غلطی ہوئی کہ ہم معاشی طور پر وہ کچھ حاصل نہ کر سکے جو باآسانی حاصل کیا جا سکتا تھا۔ پوری قوم کو  اپنی توانائی اس نقطے پر لگانی چا ہئے کہ کیا ہماری  گاڑی پٹری  پر چڑھ چکی ہے یا ہم ابھی تک  ٹامک ٹوئیاں مارنے میں مصروف ہیں۔ سٹرک کے بغیر بس اور پٹری کے بغیر گاڑی چلانے میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سوال ہر پاکستانی کو،ہر پاکستانی سے اور اپنے آپ سے ضرور کرنا چایئے کہ اسی کے جواب پر ہمارے آئندہ سفر کا انحصار ہے۔ ہم بگٹٹ  دوڑتے رہیں گے یا واویلا کرتے کرتے ہی سانس پھول جائے گی؟ پاکستان کے دفاعی، عدالتی، احتسابی، انتظامی  اور قانون سازاداروں کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ جب تک آمدنی، اخراجا ت کے مطابق نہیں ہوگی ، مستقبل محفوظ نہیں ہو گا۔"

پاکستان کی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے ایک سینئر صحافی اور مبصر  کے طور پر  شامی صاحب نے نہایت اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ یقینا ان سوالات کے جواب تلاش کرنا ہر پاکستانی پر لازم ہے۔  یہ تجویز بھی بہت اچھی ہے کہ پندرہ اگست 2021 سے چودہ اگست 2022 تک کے سال کو  ڈائمنڈ جوبلی سال کے طور پر منایا جائے۔  سرکار میں اس طرح کی تجاویز کو کم ہی اہمیت دی جاتی ہے۔  دی بھی جائے تو خود احتسابی کے بجائے سب کچھ تقریبات ، بے معنی  بیانات، جھنڈیوں، جھنڈوں، عمارتوں پر چراغاں  اور ترانوں اور اخباری اشتہارات کی نذر ہو جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم  غور و فکر کرنے ، اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے اور تلخ زمینی حقیقتوں  کا سامنا کرنے  کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں۔  گزشتہ 74 برس کے دوران ایسے حالات پیدا کر دئیے گئے کہ ہم ایک ڈری سہمی قوم بن کر رہ گئے ہیں۔  دلیری کے ساتھ اپنی بات کہنے ، غلط کو غلط اور درست کو درست کو قرار دینے اور اس حق گوئی کے نتائج بھگتنے  کا حوصلہ تو بہت دور کی بات ہے، ہم تو حضور پاک ﷺ کے فرمان کے مطابق ایمان کے ضعیف ترین درجے سے بھی نیچے آ گئے ہیں اور برائی کو دل سے  بھی  برائی  نہیں سمجھتے۔ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ کوئی ہمارے دل یا دماغ کے اندر جھانک کر ہمارے خیالات نہ پڑھ لے اور ہمیں اس کا خمیازہ نہ  بھگتنا پڑے۔ نسل در نسل یہ خوف ہماری ہڈیوں کے اندر تک گھس  گیا ہے۔ کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے کہ ہم قوم کی بجائے بھیڑ بکریوں کا ایک ریوڑ بن گئے ہیں۔  جس کے پاس لاٹھی  ہو ہمیں جدھر چاہے ہانک کر لے جاتا ہے۔

جب میں پاکستان کی تاریخ کا  مطالعہ کرتی ہوں، ناکامیوں اور کامیابیوں کی فہرست پر نگاہ ڈالتی ہوں اور پاکستان کے مسائل اور مشکلات کو دیکھتی ہوں تو ناچاہتے ہوئے بھی خیال بھارت کی طرف چلا جاتا ہے۔  کوئی شک نہیں کہ وہ ہمارا دشمن ہے۔ ہمارے وجود کے در پے ہے۔  اس کی سوچ تعصب سے بھری ہے۔ اقلیتوں ، خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ اس کا سلوک نہایت ظالمانہ ہے۔ یہ سب کچھ بجا لیکن بھارت کی معیشت، سیاست، اور عالمی حیثیت کا جائزہ لینا اس لئے ضروری ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا۔  ہم نے ایک ہی دن غلامی سے نجات حاصل کی اور آزاد ممالک کے طور پر اپنا سفر شروع کیا۔ جہاں ہمیں اپنے بارے میں، خود سے باز پرس کرنی چائیے وہاں یہ دیکھنے میں کیا حرج ہے کہ ہمارے دشمن کے پاس جادو کی کونسی چھڑی ہے  کہ وہ مختلف شعبوں میں چھلانگیں لگاتا ہوا ہم سے آگے نکل گیا ہے۔ ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر کا انحصار خون پسینے سے ڈالر کمانے والے سمندر پار پاکستانیوں پر ہے یا پھر درد دل رکھنے والے کچھ دوست ممالک پر۔ یا پھر آئی ایم ایف پر ، جس کی طرف سے ملنے والا ہر ڈالر معلوم نہیں کتنی شرائط سے جڑا ہوتا ہے۔  لوگوں کے ذاتی اکاونٹس میں پڑے ڈالرز یا پاونڈز کو  بھی ہم زر مبادلہ کے ذخائر میں  شمار کر لیتے ہیں۔  اس کے باوجود جب یہ رقم بیس بائیس ارب ڈالر سے بڑھتی ہے تو حکومت وقت اسے اپنی بہت بڑی کامیابی قرار دے کر  عوام کو خوشخبری سناتی ہے کہ ہماری اقتصادی حالت کتنی مضبوط ہو گئی ہے۔  بھارت ، دنیا کے ان پانچ ممالک میں شامل ہے  جو سب سے زیادہ زر مبادلہ رکھنے والے ممالک میں سرفہرست ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق بھارت کے ذخائر چھ سو ارب ڈالر کی حد عبور کر گئے ہیں۔ وہ چین ، جاپان اور سوئٹزر لینڈ کے بعد چوتھا ملک ہے۔ روس اس کے بعد آتا ہے۔  فرانس تیرھویں نمبر پر، برطانیہ چودھویں اور امریکہ انیسویں نمبر پر ہے۔  پاکستان پینسٹھویں نمبر پر ہے۔ جنگوں کا شکار افغانستان بھی ہم سے کوئی زیادہ دور نہیں۔  اس کا نمبر 78 ہے۔ بنگلہ دیش ہم سے کہیں اوپر 44 نمبر پر  ہے جس کے ذخائر ہم سے دوگنے ہیں۔  شرح نمو کے حوالے سے بھارت  ، امریکہ، چین، جاپان، اور جرمنی کے بعد پانچویں نمبر پر ہے۔  اس فہرست میں پاکستان میلوں نیچے ، چالیسوں نمبر پر ہے۔  یہی حال ہماری کرنسی کا ہے جو بھارت ، بنگلہ دیش،  حتی کہ افغانستان کی کرنسی سے بھی نیچے گر گئی ہے۔  معیشت کے حوالے سے اور بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔  میں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ آزادی کی ستر سالہ تقریبات کے موقع پر ایک بڑے بھارتی ٹی وی چینل نے ایک بڑا شو کیا تھا۔  اس شو میں بھارت کے ان سابق وزرا  ئےاعظم کو  شرکت کی دعوت دی جو زندہ تھے۔ سب کے سامنے ایک سوال رکھا گیا " آ پ کے خیال میں بھارت کی سب سے بڑی کامیابی کیا رہی ہے؟" سب کا جواب ایک ہی تھا کہ "  ہر طرح کے حالات کے باوجود ہماری گاڑی جمہوریت کی پٹڑی پر چلتی رہی۔"

عوام کے حقوق ، اقلیتوں کے مسائل اور بھارتی حکمرانوں کی تعصب سے بھری سوچ، بالخصوص مقبوضہ کشمیر کے نہتے عوام پر توڑے جانے والے مظالم کسی بھی حوالے سے مہذب جمہوریت نہیں کہلا  سکتے۔ لیکن یہ تو ماننا پڑے گا کہ 1947 سے آج تک  جمہوری پارلیمانی نظام کے حوالے سے اس راستے پر چل رہا ہے جو اس کے آئین میں طے کر دیا گیا ہے۔  ہر حکومت جمہوری طریقے سے بنی، جمہوری طریقے سے گئی۔ پاکستان کے ساتھ جنگیں لڑتے ہوئے بھی جمہوری نظام  پٹڑی سے نہیں اترا۔ بھارت میں انتخابی عمل کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوری مشق قرار دیا جاتا ہے۔  ووٹرز کی تعداد نوے کروڑ سے زائد ہے۔ انتخابات کے لئے کوئی  نگران   یا غیر جانبدار حکومت نہیں بنتی۔ موجود حکومت ہی انتخابات کراتی ہے۔ وزیراعظم بدستور وزیراعظم رہتا ہے۔ اس کے باوجود  انتخابی نتائج کو تسلیم کیا جاتا ہے، نہ دھرنے ہوتے ہیں نہ مظاہرے، نہ کوئی دھاندلی کمیشن بنتا ہے۔

سوچنے کا مقام یہ بھی ہے کہ ہم دنیا میں "اچھوت" کیوں   بن گئے ہیں؟  بھارت کس طرح چوہدری بن گیا ہے؟ ہمارے مقابلے میں بھارت کی بات پر کیوں اعتبار کیا جاتا ہے۔؟ مقبوضہ کشمیر ہڑپ کرنے  اور کشمیریوں کے قتل عام کے باوجود  ہم کسی بھی عالمی فورم سے  ایک قرار داد  تک منظور نہ کرا سکے۔  فاٹف نے کیوں ہمیں گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے؟ افغانستان میں خانہ جنگی اور دہشت گردی میں سب سے زیادہ قربانیاں ہم نے دی ہیں لیکن دنیا ہمیں ہی الزام دے رہی ہے۔ آج بھی افغانستان کی صورت حال پاکستان کے لئے بہت بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔  یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ امریکہ دنیا سے مل  کر ہم پر سخت پابندیاں لگانے کا سوچ رہا ہے۔

شامی صاحب کی تجویز پر ڈائمنڈ جوبلی سال ضرور منایا جائے لیکن پٹاخے چھوڑنے ، چراغاں کرنے اور جھنڈے لہرانے کی بجائے کیوں نہ سارے بڑے  سر جوڑ کر بیٹھیں اور سوچیں  کہ ہم اس حال کو کیوں پہنچے؟ اور اس حال سے نکلنے کا نسخہ کیا ہے؟ آزادی کے 74 سال بعد بھی پاکستان کے سامنے کوئی منزل ہے، نہ راستہ۔۔۔۔۔ اور ہم پھر بھی ہر روز ڈھول پیٹتے ہیں کہ "نیا پاکستان"  دجود میں آ گیا۔

error: