آزاد کشمیر کی سیاست برادری ازم سے کب چھٹکارا حاصل کرے گی؟

"عابد محمود ہاشمی"

گزشتہ روز مجھے مظفر آباد سے ایک قریبی عزیز کا فون آیا۔ وہ گزارش کر رہے تھے کہ رواں سال ہماری پوری برادری نے ووٹ دینے کے لیے ایک پارٹی کا تعین کر لیا ہے اس لیے آپ بھی اس بار ووٹنگ کا حصہ بن کر اپنی برادری کی مدد کریں۔ جس پارٹی کا ذکر انہوں نے کیا اس کے انتخاب کا تعین کرنے کی وجہ جب پوچھی تو معلوم ہوا کہ وہ گاوں کی سڑک پکی کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اس پارٹی کی خصوصیات میں کہیں بھی اس کی سابق کار کردگی یا مستقبل میں ہمارے گاوں کے لیے تعلیم اور صحت کی سہولیات کا کوئی ذکر نہ تھا۔

گفتگو کے بعد جب میں نے اپنے علاقے کی سیاست پر پھرسے تنقیدی نگاہ ڈالنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ آج بھی کشمیر کے باسیوں کے لیے ترجیحات میں تعلیم روزگار اور صحت جیسے اہم معاملات کوئی خاص معنی نہیں رکھتے اور ووٹ دیتے وقت ترجیحی بنیادوں پر دیکھے جانے والے عوامل میں برادری، دوسری پارٹی سے مخاصمت، یا محلے کی سڑک میں بہتری شامل ہیں۔ لیکن پھر بھی حیرت اس بات پر ہے کہ اگر کشمیر کے لوگ اتنے ہی سڑکوں کو اہمیت دیتے ہیں تو آج تک ایک چھوٹے سے علاقے کی ہر سڑک پختہ کیوں نہ ہوئی۔ اس سوال کا حل ڈھونڈنے نکلا تو معلوم ہوا کہ پورے گاوں کی نہیں بلکہ گاوں سے کافی دور کی سڑک وہ بھی صرف 1 یا 2 کلو میٹر کی پختگی کے عوض ووٹ بیچ دیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے گاوں تک سڑک (تاحال کچی) کو پہنچنے میں پچھلے بیس سال کا وقت لگا۔ جہاں تک صحت کی سہولیات کا تعلق ہے تو آج بھی گاؤں کےقریب کوئی ڈسپنسری تک موجود نہیں اور شہر تک مریض کو لے جاتے وقت کچی سڑک کے کھڈوں کی وجہ سے مریض کی حالت مزید ابتر ہو جاتی ہے۔ اور مظفر آباد شہر میں بھی صحت کی سہولیات  قابل تعریف نہیں  کیونکہ کوئی بھی بڑی بیماری کسی مریض کو لاحق ہو جائے تو اسے اسلام آباد یا ایبٹ آباد شفٹ کرنے کی ہدایت کے علاوہ ڈاکٹرز کے پاس کوئی حل موجود نہیں ہوتا۔

ان تمام محرومیوں اور ان کی وجوہات پر غور کیا جائے تو دوسروں پر انگلی اٹھانے سے پہلے کشمیریوں کو اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تقریبا 50 فیصد سے زیادہ انتخابی عمل کا دارومدار برادری ازم پر ہے۔ اور برادری ازم  پر ووٹ دے تو دیے جاتے ہیں لیکن وہی برادری والا اپنے علاقے کو بھول کر اپنے مفادات کا اسیر بن جاتا ہے۔ اس لیے کشمیری عوام کو اگر اپنے علاقے کی تعلیم اور صحت کی سہولیات کو بہتر کرنا ہے تو برادری ازم کی بجائے competence کو ترجیح دینا ہو گی۔

صحت کی سہولیات سے صرف نظر کی بنیادی وجہ پیری فقیری کو میڈیکل سائنس پر ترجیح ہے۔ آج بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو مرغی اور بکری کا ایک بچہ کسی دم کرنے والی سرکار کے نام کر دیتے ہیں اور جسمانی کمزوری جیسے امراض کا حل بھی دم میں ڈھونڈتے ہیں۔ انہیں یہ سمجھنا چاہیے  کہ وہی مرغی یا بکری کا بچہ اگر وہ خود کھا کر غزاییت حاصل کریں تو یہ اس دم سے کہیں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ یا پھر وہی جانور کسی نیم حکیم خطرہ جان پر نچھاور کرنے کی بجائے میڈیکل سائنس سے حاصل کردہ سہولیات پر خرچ کریں تو بھی بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔

وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ کشمیری عوام اپنی ترجیحات کو بہچانیں، تعلیم اور صحت کی سہولیات کو باقی تمام ترجیحات پر مقدم رکھیں اور برادری ازم کی سیاست کو دفن کر کے کارکردگی کی سیاست کو پروان چڑھانے میں اپنا بھر پور کردار ادا کریں۔ اگر کشمیری عوام ایسا نہیں کرتے تو ایک بار پھر انہین پانچ سال صرف ایک یا دو کلو میٹر سڑک کے وعدے پر گزارنا ہونگے جس کا منفی اثر انہی کی آنے والی نسلوں پر مختلف پہلووں سے واقع ہوتا دکھائی دے گا۔ ایک آزاد کشمیر کا شہری ہونے کے ناطے میری اپنے ہم وطنوں سے درخواست ہے کہ اس بار تمام پارٹی بدلنے والے موسمی پرندوں کو مسترد کر کے پڑھے لکھے اور قابل افراد کو سیاست میں متحرک کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

آزاد کشمیر کی سیاست برادری ازم سے کب چھٹکارا حاصل کرے گی؟” پر ایک تبصرہ

  • June 14, 2021 at 8:38 pm
    Permalink

    زبردست۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *