Site icon Dunya Pakistan

آزمائش کے اساڑھ میں چیت کا کرشمہ

ایک صاحب ہمارے بیچ پائے جاتے ہیں، برا کیونکر کہیے، خدا کی مخلوق ہیں۔ ایوب خان کی ساعت غروب میں صحافت کو اپنے ورود سے شرف بخشا، چندے کاوش سخت اٹھائی۔ کوہستان اور مساوات وغیرہ سے ہوتے ہوئے بالآخر ایجنسی افغان پریس میں لنگر ڈال دیا۔ چالیس برس سے سلگتے پختون استخواں کی تپش میں بہت سوں نے ہاتھ سینکے۔ ہمارے ممدوح نے تو ’فاتح‘ کا عنوان دے کر اس شمشان کی راکھ تک بیچی۔ سود ایک کا لاکھوں کے لیے مرگ مفاجات۔ تب نواز شریف ’دیدہ بینا‘ کی نگہ الطاف میں تھے۔ گرگٹ کی کھال سے بنے فروختنی قلم سے ایسا ایسا مضمون نواز شریف کی مدح میں اترا کہ باید و شاید۔ یہ کمان بھی 1993 میں اتر گئی۔ قاضی حسین احمد، ملک اکرم اعوان اور پروفیسر رفیق اختر تو آتے جاتے ہوئے موسم تھے، درحقیقت اس در حاجت روا سے توسل قدیمی تھا جو صنم تراشی کے کارخانے میں کھلتا تھا۔ سلوک کی انہی راہوں پر عمران خان سے تعارف ہوا، ہمارے ممدوح نے اس چوکھٹ کی مٹی پکڑ لی۔ اٹھارہ برس دیوتا کا سازینہ مرتب کرتے رہے۔ درویش طبعاً گوشہ نشین ہے، سو ملاقات کا امکان مفقود تھا۔ 2013 کی ابتدا میں گجرات یونیورسٹی میں اتفاقاً مجلس ہو گئی۔ یہاں ہمارے ممدوح اور پروفیسر شبیر حسین (شہید) میں مکالمہ تلخ ہو گیا۔ ممدوح مذکور اسی سرسامی کیفیت میں خطاب کرنے آئے اور تواضع کی آنکھ بند کر کے محفل پر ایسی گولہ باری کی کہ تقریب مکدر ہو گئی۔ ٹیپ کا مصرع وہی کرکٹ کے دیوتا کی فوق الفطرت خوبیاں اور قوم کے درماں کا سنیاسی نسخہ۔ حسن اتفاق سے استاذی آئی اے رحمن صدر نشین تھے۔ تقریر کرنے اٹھے، ایک نگہ نیم باز لال بھبوکا حکیم دوراں پر ڈالی اور آہستہ سے اقبال کا شعر پڑھا۔ خواجگی میں کوئی مشکل نہیں رہتی باقی / پختہ ہو جاتے ہیں جب خوئے غلامی میں غلام۔ لمحوں میں بھڑکتا ہوا مجمع شانت ہو گیا۔ خواجگی اور غلامی کے پیچاک ایسے ہی فسوں ناک ہوتے ہیں۔ گماں ہے کہ آئندہ دنوں میں غیرت اور غلامی کا بادہ دو شینہ پلا کر ایک پوری نسل کا مردہ خراب کیا جائے گا، اس لیے اس پر اب بات کرنا مناسب ہو گا۔

اب اس میں خبر کا کوئی پہلو باقی نہیں رہا کہ عدالت عظمیٰ نے ایک تاریخی فیصلہ دے کر دستور پاکستان کی آبرو بچا لی۔ قوم کو ایک پیچیدہ بحران سے بازیاب کر لیا۔ پون صدی پر پھیلی تاریخ میں کم از کم ایک مرتبہ در عدل پر دستک صدائے صحرا کی مانند نامعلوم خلائوں میں کھو جانے کی بجائے ایک سرمدی زمزمے کی صورت پلٹی ہے۔ Ram thou thy fruitful tidings in mine ears / That long time have been barren۔ اس دن کی آرزو میں ہماری تین نسلوں کی آنکھیں یعقوب ہوئی ہیں۔ قومی استخلاص کی اس گھڑی میں چند نکات پر توجہ ضروری ہے۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ دستور سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور دستور اس ملک کے ہر شہری کا مشترک اثاثہ ہے۔ اسے کسی فرد یا جماعت کی فتح و شکست کے زاویے سے دیکھا گیا تو قوم میں افتراق پیدا ہو گا۔ جن کے موقف کو پذیرائی ملی ہے ان پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس مبارک موقع کو دستور کی پاسداری اور عوام کی حتمی بالادستی کے ایک سنگ میل کے طور پر امانت سمجھ کر اٹھائیں۔ افتراق کو اتفاق میں بدلنے کا یہ بہت اچھا موقع ہے۔ سیاسی اختلاف جمہوری عمل کا حصہ ہے، اسے عناد کی ناقابلِ عبور خلیج میں بدلنے سے جمہوریت کا راستہ کھوٹا ہوتا ہے۔ ہمیں غداری کے منحوس سرٹیفکیٹ پھاڑ کر جمہوری مفاہمت کی کتاب کھولنی چاہیے۔ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام کی نامبارک روایت کو اب ختم کر دینا چاہئے۔ اگر کسی نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے لیکن حکومت کا کام بدعنوانی کا جھنڈا اٹھا کر سیاسی مخالفین کا تعاقب کرنا نہیں۔ آمریت کے اس نسخے سے جان چھڑانی چاہیے۔ کل اگر ایسا ہوا تو غلط تھا۔ آئندہ ایسا کیا گیا تو وہ بھی غلط ہو گا۔ اس سے قوم کی توانائی اور وسائل حقیقی اہداف کی بجائے ایک سراب کے تعاقب میں ضائع ہوتے ہیں۔ مبینہ مکتوب اور غیرملکی سازش کے ناٹک کو طول دینے سے ملکی ساکھ اور مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم پیداواری شعبے، معاشی وسائل اور علمی اہلیت میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کا علاج احساس کمتری میں ڈوبی ہوئی نعرے بازی نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار قوم کے طور پر بیرونی دنیا سے تعاون ہے۔ ہمیں یہ بھول جانا چاہیے کہ مذہبی چک پھیریوں یا نادیدہ مداخلت کو ریاستی پالیسی کے طور پر باقی رکھ کے ہم داخلی استحکام حاصل کر سکتے ہیں یا دنیا کا اعتماد جیت سکتے ہیں۔ قوم کا یک نکاتی نصب العین معاشی ترقی ہونا چاہیے۔ اس کا قلیل مدتی حل بیرونی سرمایہ کاری ہے، جس کے لیے ہمیں اپنے اجتماعی تشخص اور ہم عصر دنیا میں مطابقت پیدا کرنا ہو گی۔ انفراسٹرکچر کی ضرورت سے انکار نہیں لیکن ہماری طویل مدتی سرمایہ کاری معیاری تعلیم میں ہونی چاہیے۔ ہماری نوجوان نسل ہمارا واحد حقیقی اثاثہ ہے۔ منفعت بخش تعلیم کی مدد سے ہم اس اثاثے کو انسانی سرمائے میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ایسی سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے جو آئے روز کے بحران کی دستکاری سے نجات پا کر طویل مدتی نصب العین مرتب کر سکے۔ ہم قوم کو خیرات اور امداد کے بل پر خودکفیل نہیں کر سکتے۔ پائیدار معاشی بنیادوں کے لیے ہمیں اپنے اخراجات کی ترجیحی فہرست پر بنیادی نظرثانی کرنی چاہیے۔ اگر ملک میں دستوری تسلسل اور سیاسی استحکام ہو گا تو معاشی ترقی کی راہیں کھل سکیں گی اور حتمی تجزیے میں عوام کا معیار زندگی ٹھوس بنیادوں پر بہتر بنایا جا سکے گا۔ ہم آزمائش کے اساڑھ سے گزرے ہیں لیکن چیت کا کرشمہ ابھی باقی ہے۔ اس کا انحصار اس امر پر ہے کہ ہماری سیاسی قیادت کس حد تک کوتاہ نگاہی سے رہائی پا کر حقیقی جمہوری اقدار کو اپنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

Exit mobile version