آسٹریلیا کا دورہ پاکستان: آسٹریلیا اور پاکستان کی ٹیموں کے درمیان ہونے والے میچوں کی تلخ یادیں اور تنازعات

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلے گئے بین الاقوامی میچوں کو صرف چند کھلاڑیوں کی غیر معمولی پرفارمنسز کی وجہ سے ہی یاد نہیں رکھا جا سکتا۔

سرفراز نواز کا میلبرن ٹیسٹ میں بازی پلٹ دینے والا حیران کُن سپیل، سڈنی ٹیسٹ میں عمران خان کی وہ یادگار بولنگ جس نے پاکستانی ٹیم کو آسٹریلوی سرزمین پر پہلی ٹیسٹ جیت دلوائی یا پھر پاکستانی بیٹسمینوں کے اعصاب پر سوار شین وارن کی بولنگ۔

پاکستان اور آسٹریلیا کے یہ میچ متعدد بڑے تنازعات کا سبب بھی بنے جو اب کرکٹ کی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔

سلیم ملک کی ’میچ فکسنگ کی پیشکش‘

سلیم ملک

سنہ 1994 میں آسٹریلوی کرکٹ ٹیم مارک ٹیلر کی قیادت میں پاکستان کے دورے پر تھی۔ اس دورے میں کراچی میں کھیلا گیا پہلا ٹیسٹ پاکستان کی صرف ایک وکٹ کی سنسنی خیز جیت پر ختم ہوا۔

پاکستانی ٹیم کو جیتنے کے لیے 314 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن جب اس کی نویں وکٹیں گری تو وہ جیت سے 56 رنز کی دوری پر تھی۔

اس مرحلے پر انضمام الحق اور مشتاق احمد کی آخری وکٹ کی 57 رنز کی ناقابل شکست شراکت نے پاکستان کو ڈرامائی جیت سے ہمکنار کر دیا تھا۔

اس جیت کا سب سے یادگار لمحہ وہ تھا جب شین وارن کی گیند پر وکٹ کیپر ای این ہیلی نے انضمام الحق کو سٹمپ کرنے کا موقع ضائع کر دیا اور بائی کے چوکے کے ساتھ ہی پاکستانی ٹیم ٹیسٹ میچ جیتنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔

اس جیت کو شک و شبہات کی نظر سے اُس وقت دیکھا جانے لگا جب آسٹریلوی کرکٹرز شین وارن، ٹم مے اور مارک وا نے پاکستانی ٹیم کے کپتان سلیم ملک پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے مبینہ طور پر انھیں خراب کارکردگی دکھانے کے عوض معاوضے کی پیشکش کی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے آسٹریلوی کرکٹرز کے اس الزام کا سختی سے نوٹس لیا اور جسٹس فخرالدین جی ابراہیم پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی قائم کی۔

اس کمیٹی نے آسٹریلوی کرکٹرز کو پاکستان آ کر اپنے بیانات ریکارڈ کروانے کے لیے کہا لیکن آسٹریلوی کرکٹرز نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا۔

شین وارن

جسٹس فخرالدین جی ابراہیم نے سلیم ملک کو میچ فکسنگ کے اس الزام سے بری کر دیا لیکن سنہ 1998 میں جب پاکستان کی حکومت نے میچ فکسنگ کی تحقیقات کے لیے جسٹس ملک محمد قیوم پر مشتمل عدالتی کمیشن قائم کیا تو مارک ٹیلر اور مارک وا نے پاکستان آ کر اپنے بیانات ریکارڈ کرائے تھے جبکہ شین وارن کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کمیشن نے اپنا نمائندہ آسٹریلیا بھیجا تھا۔

جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن نے سلیم ملک پر میچ فکسنگ کی پاداش میں کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔

میانداد کو ڈینس للی کی لات

للی
،تصویر کا کیپشنڈینس للی

سنہ 1981 میں پاکستانی کرکٹ ٹیم پرتھ میں پہلا ٹیسٹ کھیل رہی تھی۔ جاوید میانداد بیٹنگ کر رہے تھے، انھوں نے لیگ سائیڈ شاٹ کھیل کر ایک رن لیا لیکن جب وہ بولر اینڈ کی طرف آ رہے تھے تو ڈینس للی ان کے راستے میں آ گئے اور انھیں کندھا مارتے ہوئے رن مکمل کرنے سے روکنے کی کوشش کی جس پر کمنٹیٹر نے بھی اس حرکت کو ’بیوقوفی‘ کہا لیکن بات اس سے بھی آگے بڑھ گئی جب ڈینس للی نے میانداد کی طرف بڑھتے ہوئے انھیں لات مار دی جس پر میانداد نے بھی انھیں دھمکانے کی غرض سے اپنا بیٹ اوپر اٹھا لیا۔

اس دوران کپتان گریگ چیپل بھی وہاں آ گئے اور وہ بھی ڈینس للی کی اس حرکت پر خوش نہیں تھے۔ اس میچ کے کمنٹیٹرز بھی للی کی اس حرکت کو شرمناک قرار دے دیا اور کہا کہ یہ معاملہ ڈینس للی نے شروع کیا تھا۔

اس واقعے کے فوراً بعد جاوید میانداد نے آسٹریلوی ٹی وی پر اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ جب وہ رن لے کر بولر اینڈ کی طرف جا رہے تھے تو ڈینس للی نے ان سے نامناسب زبان استعمال کی تھی۔

انھوں نے دیکھا کہ فیلڈر کی تھرو وکٹ کیپر راڈنی مارش کے ہاتھوں میں آئی تھی اور وہ میرے اینڈ کی طرف تھرو کر کے مجھے رن آؤٹ کر سکتے تھے لہٰذا انھوں نے ڈینس للی کو دھکا دے کر راستے سے ہٹانے کی کوشش کی تاکہ وہ کریز میں پہنچ جائیں۔

جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ للی نے نہ صرف انھیں لات ماری بلکہ وہ امپائر ٹونی کرافٹر کی جانب سے بیچ بچاؤ کروانے کے باوجود انھیں گالیاں دیتے رہے تھے۔

ڈینس للی نے اس واقعے کی ذمہ داری اپنے اوپر لینے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا تصویر کے دونوں رُخ دیکھنے چاہییں۔

میانداد کو لات مارنے کے بارے میں للی کا کہنا تھا کہ جب آپ کے ساتھ کوئی کچھ کرتا ہے تو پھر آپ کو حق حاصل ہے کہ آپ بھی اس کا جواب دیں حالانکہ یہ حرکت صحیح نہیں تھی۔

اس واقعے پر آسٹریلوی ٹیم کے مینیجر جان ایڈورڈز نے ڈینس للی پر دو سو آسٹریلوی ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا تاہم اپنے ٹی وی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو متعدد بار سلو موشن دیکھنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس کی ابتدا جاوید میانداد نے ڈینس للی کو دھکا دے کر کی تھی۔

جان ایڈورڈز نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ جاوید میانداد نے تین سال قبل میلبرن ٹیسٹ میں بھی راڈنی ہاگ کو غلط طریقے سے رن آؤٹ کیا تھا۔

راڈنی ہاگ، سکندر بخت اور ہلڈچ کے متنازع آؤٹ

سکندر بخت
،تصویر کا کیپشنسکندر بخت

جاوید میانداد پرتھ ٹیسٹ سے قبل بھی اس وقت شہ سرخیوں میں آ گئے تھے جب سنہ 1978 میں پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے دورے پر تھی۔

سیریز کا پہلا میلبرن ٹیسٹ عام طور پر سرفراز نواز کی نو وکٹوں کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے لیکن اس میچ میں آسٹریلوی فاسٹ بولر راڈنی ہاگ کا جاوید میانداد کے ہاتھوں رن آؤٹ ہونا موضوع بحث بن گیا تھا۔

ہوا یوں کہ راڈنی ہاگ نے سرفراز نواز کی گیند کھیلی۔ یہ نو بال تھی جس پر اُن کا رن لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا تاہم وہ کریز کے باہر تھے کہ اسی دوران جاوید میانداد نے بیلز اڑاتے ہوئے رن آؤٹ کی اپیل کر دی۔

امپائر نک ہاروے نے قانون کے تحت راڈنی ہاگ کو آؤٹ قرار دے دیا لیکن تماشائی اسے کھیل کے روح منافی تصور کرتے ہوئے خوش نہیں تھے۔

اس دوران پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان مشتاق محمد نے راڈنی ہاگ کی اننگز جاری رکھنے کے بارے میں امپائرز سے بات کی لیکن بات نہیں بنی۔

راڈنی ہاگ اس طرح آؤٹ کیے جانے پر اس قدر خفا تھے کہ انھوں نے جاتے ہوئے اپنے بیٹ سے وکٹیں اڑا ڈالیں۔

اسی سیریز کا پرتھ میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ اس سے بھی زیادہ ہنگامہ خیز رہا۔

اس میچ میں آسٹریلوی اوپنر اینڈریو ہلڈچ اور سکندر بخت کے آؤٹ ہونے کے طریقہ کار شہ سرخیوں کی زینت بن گئے۔

پاکستان کی دوسری اننگز میں سکندر بخت کو آسٹریلوی فاسٹ بولر ایلن ہرسٹ نے بولنگ کرتے ہوئے اس وقت رن آؤٹ کر دیا جب وہ اپنی کریز سے باہر تھے لیکن ایلن ہرسٹ نے انھیں پہلے سے کوئی وارننگ نہیں دی۔

اس طرح آؤٹ ہونا کرکٹ میں ’منکڈ‘ کے نام سے مشہورہے لیکن اسے کوئی بھی پسند نہیں کرتا۔

جس وقت یہ واقعہ ہوا اس وقت اینڈریو ہلڈچ کم ہیوز کی غیرموجودگی میں قائم مقام کپتانی کر رہے تھے لیکن انھوں نے سکندر بخت کو آؤٹ دیے جانے کی اپیل واپس لینے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔

پاکستانی ٹیم ایلن ہرسٹ کی اس حرکت پر سخت غصے میں تھی اور اسے اسی دن بدلہ لینے کا موقع مل گیا لیکن اس نے اس کے لیے جو راستہ اختیار کیا وہ بھی درست نہیں تھا۔

آسٹریلوی ٹیم کی دوسری اننگز میں رک ڈارلنگ نے سرفراز نواز کی گیند کو مڈ آف کی طرف کھیلا جہاں سکندر بخت نے فیلڈنگ کر کے بولر کی طرف گیند پھینکی۔

نان سٹرائیکر اینڈ پر کھڑے اینڈریو ہلڈچ نے گیند زمین سے اٹھا کر سرفراز نواز کو دی لیکن اس وقت سب کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب سرفراز نواز نے امپائر سے ہینڈل دی بال کے طریقے سے ہلڈچ کو آؤٹ دینے کی اپیل کر ڈالی۔

امپائر ٹونی کرافٹر کے پاس آؤٹ دینے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔

شاہد آفریدی کا گیند چبانا

شاہد

ایک بار پھر پرتھ کا گراؤنڈ تھا لیکن کردار مختلف تھا۔

جنوری سنہ 2010 میں پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے انٹرنیشنل کھیل رہی تھی۔

محمد یوسف کی جگہ شاہد آفریدی ٹیم کی قیادت کر رہے تھے کہ کیمرے کی آنکھ نے دو بار یہ منظر دکھایا کہ شاہد آفریدی فیلڈنگ کے دوران گیند کو چبا رہے تھے۔

امپائرز نے اس موقع پر گیند تبدیل کر دی اور میچ ریفری رنجن مدوگالے نے بال ٹمپرنگ کرنے پر شاہد آفریدی پر دو میچوں کی پابندی عائد کر دی۔

شاہد آفریدی نے بال ٹمپرنگ کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اپنی ٹیم کی جیت کے لیے ایسا کر رہے تھے لیکن ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہر ٹیم ایسا کرتی ہے۔

پاکستانی ٹیم کے کوچ انتخاب عالم نے شاہد آفریدی کی اس حرکت کو ’ناقابل قبول‘ قراردیا تھا۔

آسٹریلیا میں پاکستانی ٹیم کے اندرونی تنازعات

آسٹریلیا کے مختلف دوروں میں پاکستانی ٹیم کے اندرونی اختلافات اور تنازعات بھی رہے ہیں جن میں سنہ 1972 کے دورے کے موقع پر ٹیسٹ کرکٹرز سعید احمد اور محمد الیاس کو ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ٹیم سے الگ کر کے وطن واپس بھیجنے کا واقعہ قابل ذکر ہے۔

سعید احمد کے بارے میں مشہور ہے کہ سنہ 1964 کے آسٹریلوی دورے میں بھی ان کی بعض حرکات پر منیجر میاں محمد سعید نے انھیں وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا تھا لیکن سعید احمد کی مبینہ سیاسی دوستیاں انھیں بچانے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔

سنہ 1981 میں پاکستانی ٹیم آسٹریلیا کے خلاف میلبرن ٹیسٹ جیتی لیکن اسی ٹیم کے تقریباً سبھی کھلاڑیوں نے کپتان جاوید میانداد کی کپتانی پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ان کے ماتحت کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔