آسٹریلیا کے سابق کرکٹر اینڈریو سائمنڈز کار حادثے میں ہلاک

کرکٹ آسٹریلیا نے کہا ہے کہ سابق آل راؤنڈر اور دو مرتبہ ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم کا حصہ رہنے والے اینڈریو سائمنڈز کوئنزلینڈ میں کار حادثے میں ہلاک ہوگئے۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق اینڈریو سائمنڈز کی عمر 46 سال تھی، انہوں نے آسٹریلیا کی جانب سے 1998 سے 2009 کے درمیان 26 ٹیسٹ میچز سمیت 238 میچ کھیلے۔

وہ 2003 اور 2007 میں آسٹریلیا کی ورلڈ کپ کی فاتح ٹیموں کے رکن بھی رہے اور 14 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کے علاوہ 198 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں بھی ملک کی نمائندگی کی۔

پولیس کے مطابق حادثہ ہفتے کی رات 'ٹاؤنس ویل' سے 50 کلومیٹر دور 'ہروے رینج' پر پیش آیا، اینڈریو سائمنڈز کار خود چلا رہے تھے، گاڑی پلٹ کر سڑک سے نیچے اتر گئی تھی جبکہ حادثہ ایک ہی گاڑی کا معلوم ہوتا ہے۔‎

کوئنزلینڈ پولیس کے مطابق حادثے کے بارے میں تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا کے چیئرمین لاشلین ہینڈرسن نے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا نے ایک اور بہترین کھلاڑی کو کھو دیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انڈریو سائمنڈز نے 2 ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔

سائمنڈز کو 2008 کے مشہور ‘منکی گیٹ ‘اسکینڈل کے حوالے سے بھی یاد رکھا گیا۔

اینڈریو سائنمڈز نے ہربھجن سنگھ پر 2008 میں سڈنی ٹیسٹ میچ میں الزام لگایا تھا کہ ہربھجن سنگھ نے انہیں’بندر‘ کہہ کر پکارا تھا۔

سنگھ نے بعد میں الزمات کو مسترد کیا تھا تاہم ان پر تین میچوں کی پابندی لگا دی گئی تھی لیکن بھارت کی جانب سے ٹور ختم کرنے کی دھکمی دینے کے بعد ان پر پابندی ختم کر دی گئی تھی۔

آسٹریلوی کھلاڑی نے بعد ازاں انکشاف کیا تھا کہ وہ بہت زیادہ شراب پینے لگے ہیں۔

کرکٹ آسٹریلیا نے ان کا الکحل سے متعلق معاملات کے باعث لندن میں 2009 میں جاری ٹی20 ورلڈ کپ سے واپس گھر بھیج دیے جانے کے بعد کنٹریکٹ ختم کر دیا تھا۔

بعدازاں سائنمڈز اور ہربھجن سنگھ بھارتی پریمیر لیگ میں ایک ساتھ کھیلے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے ٹوئٹ میں کہا کہ اینڈریو سائمنڈز کی موت کا سن کر تکلیف ہوئی اور دل ٹوٹ گیا۔ وہ حقیقی آزاد شخص اور غیرمعمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔

راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے جانے جانے والے پاکستانی کرکٹر شعیب اختر نے ٹوئٹ میں کہا کہ آسٹریلیا میں کار حادثے میں اینڈریو سائمنڈز کی موت کا سن کر بہت افسوس ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے میدان کے اندر اور باہر مثالی تعلقات تھے، ان کے اہل خانہ کے لیے دعا کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں سال 4 مارچ کو آسٹریلیا کرکٹ کے لیجنڈ اور عظیم لیگ اسپنر شین وارن بھی 52 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔

فوکس کرکٹ کی رپورٹ کے مطابق شین وارن کے منیجر نے مختصر بیان میں کہا تھا کہ شین وارن، تھائی لینڈ کے شہر کوہ سیموئی میں بظاہر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘شین وارن اپنے وِلا میں موجود تھے اور جواب نہیں دے رہے تھے، طبی عملہ تمام کوششوں کے باوجود انہیں جانبر نہ کر سکا‘۔

شین وارن نے ٹی20 کرکٹ بھی کھیلی تاہم بین الاقوامی سطح پر آسٹریلیا کی نمائندگی نہیں کرپائے۔

آسٹریلیا کی کرکٹ کے لیے ایک روز میں دو بُری خبریں ملیں جہاں عظیم وکٹ کیپر روڈنی مارش بھی دن کے اوائل میں انتقال کر گئے تھے۔

عظیم اسپنر کا انتقال ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب آسٹریلین ٹیم 24 سال بعد پاکستان میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہی تھی۔

شین وارن نے 24 سال بعد آسٹریلین ٹیم کے دورہ پاکستان کو خوش آئند قرار دیا تھا۔