Site icon Dunya Pakistan

آن لائن امتحان کا مطالبہ: گرفتار طلبہ کا جسمانی ریمانڈ، اسلام آباد اور لاہور میں احتجاج

لاہور میں آن لائن امتحانات کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کی گرفتاری کے بعد جمعے کو پنجاب کے مختلف شہروں میں یونیورسٹیوں کے طلبہ نے ’یوم احتجاج‘ کا اعلان کیا ہے جبکہ لاہور پولیس نے جمعرات کی صبح حراست میں لیے جانے والے پانچ طلبہ کو مقامی عدالت میں پیش کر کے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ تین دن قبل شروع ہوا تھا جب لاہور میں نجی جامعہ یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے طلبہ و طالبات اس مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے کہ ان کے آنے والے امتحانات آن لائن لیے جائیں۔

اس احتجاج کے دوران بدھ کو یونی ورسٹی کے باہر طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جن کے بعد پولیس نے 40 سے زائد طلبہ کے خلاف مقدمہ درج کر کے متعدد طلبہ کو حراست میں لے لیا تھا۔

ان گرفتاریوں اور آن لائن امتحان کے مطالبے کے ساتھ جمعے کو اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں میں احتجاج کی کال دی گئی ہے۔

نامہ نگار اعظم خان کے مطابق اسلام آباد میں شاہین چوک میں بحریہ یونیورسٹی، ایئر یونیورسٹی اور نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی کے علاوہ کئی دیگر جامعات کے طلبہ نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

اس احتجاج میں شامل ایک طالبہ نے بی بی سی کو بتایا ہماری کلاسیں آن لائن ہوئیں اس لیے ہمارے امتحان بھی آن لائن ہونے چاہیے یا پھر ہمیں کیمپس میں تعلیم کا موقع دیے جانے کے بعد کلاس روم میں امتحان لیے جائیں۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاج میں شامل طلبہ آن کیمپس امتحان کے فیصلے کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں اور انھوں نے پلے کارڈز اٹھائے رکھے ہیں جن پر ’کلاس زوم پر، تو امتحان روم میں کیوں؟‘ جیسے نعرے بھی درج ہیں۔

لاہور میں طلبہ نے جمعے کی دوپہر چیئرنگ کراس پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ بی ب یسی کے علی کاظمی کے مطابق اگرچہ تاحال وہاں احتجاجی طلبہ تو نہیں پہنچے لیکن صبح سے ہی پولیس کی نفری وہاں موجود ہے۔

لاہور کی سماجی کارکن اور طالبہ عروج اورنگزیب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ’چند لوگوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پنجاب پولیس کو اس سارے معاملے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔‘

طلبہ کے حقوق کے لیے سرگرم استاد پروفیسر عمار علی جان نے الزام عائد کیا ہے کہ یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے سکیورٹی گارڈز کے ساتھ مل کر پولیس نے آن لائن امتحانات کے حق میں احتجاج کرنے والے طلبا پر تشدد کیا۔

پروفیسر عمار علی جان نے دعوی کیا کہ یہ سب اس نجی یونیورسٹی کے مالک کے کہنے پر کیا گیا ہے۔ تاہم جب بی بی سی نے یو سی پی کے مالک میاں عامر محمود سے اس الزام پر ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا تو انھوں نے نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ یونیورسٹی کے امور چلانے والے ان کے نمائندے امجد نیاز نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا کچھ نہیں ہے۔‘

طلبہ کو گرفتار کس وجہ سے کیا گیا؟

خیال رہے کہ تین روز قبل ہونے والے احتجاج کے بعد لاہور پولیس نے طالب علم رہنما زبیر صدیقی سمیت متعدد طالب علموں کے خلاف مقدمات درج کیے تھے۔

درج مقدمے کے مطابق زبیر صدیقی کی قیادت میں پچاس سے ساٹھ نامعلوم اور چند معلوم طلبا نے، جو مسلح تھے، یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے گیٹ نمبر دو پر ہنگامہ آرائی، پتھراؤ اور اشتعال انگیزی کی۔

پولیس ترجمان کے مطابق ہنگامہ آرائی کے بعد پولیس نے 36 طالب علموں کو گرفتار کیا، جنھیں عدالت میں پیش کر کے جیل بھیجا جا چکا ہے۔

پروفیسر عمار علی جان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ نے پولیس کو فون کر کے بلایا اور پھر ان طلبا کا احتجاج روکنے کے لیے تشدد کا رستہ اختیار کیا گیا۔

ان کے مطابق لاہور میں اپنے مطالبات کے حق میں مختلف تعلیمی اداروں کے طلبا جمعے کو دو بجے پھر احتجاج کریں گے۔

عروج اورنگزیب کے مطابق یہ کافی عجیب بات لگتی ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ریاست سے کے ساتھ کوئی جنگ لگ رہی ہے۔

عروج اورنگزیب کے مطابق جس طرح کا جو ردعمل ہے وہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

’ابھی تو پورا نظام بدلنے کی بات ہی نہیں کی ہے۔ ابھی تو ہم نے پرائیویٹ مافیا پر بات کرنی شروع کی ہے۔ یہ سب یونی ورسٹی والے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یہ کر رہے ہیں۔‘

طلبا احتجاج کیوں کر رہے ہیں؟

واضح رہے کہ لاہور کی نجی جامعہ یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے طلبا کیمپس امتحانات کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور آن لائن پیپرز کے انعقاد تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان طلبا کا یہ مطالبہ ہے کہ اس سال آن لائن کلاسز ہوئیں تو پھر امتحانات بھی آن لائن ہی ہونے چائیں۔

عروج اورنگزیب کے مطابق جس طرز کی تعلیم دی ہے، اسی طرز کے امتحانات بھی ہونے چائیں۔

ان کے مطابق نجی تعلیمی اداروں کی انتظامیہ چاہتی ہے کہ زیادہ طلبا فیل ہوں تا کہ ایک سمسٹر اور کی بھی فیس آ جائے۔

پروفیسر عمار علی جان طلبا کے ان مطالبات کے حامی ہیں۔ ان کے مطابق وہ خود پروفیسر ہیں اور وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ آن لائن کلاسز کا وہ معیار نہیں تھا جو کیمپس میں تعلیم کا ہوتا ہے۔ ا

نھوں نے تجویز دی کہ پرانے طرز کے امتحانات کے بجائے ایسے آن لائن امتحانات کا انقعاد ممکن بنایا جا سکتا ہے، جس میں طبا سے تجزیاتی طرز کے سوالات پوچھے جائیں۔

پروفیسر عمار کے مطابق کچھ نجی تعلیمی ادارے اس مطالبے کو صرف فیسیوں کے لیے تسلیم نہیں کر رہے ہیں جبکہ دیگر تعلیمی اداروں نے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا ہے۔

جمعرات کی صبح ثنا اللہ امین کی رہائش گاہ پر کیا ہوا؟

صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پانچ طلبا کے اہلخانہ اور ساتھیوں کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کی صبح تقریباً چار بجے پولیس نے زبیر صدیقی، ثنا اللہ امین اور دیگر کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گئی۔

دعوے کے مطابق تمام گرفتاریاں ثنا اللہ امین کی رہائش گاہ سے ہوئی ہیں تاہم لاہور پولیس کے ترجمان نے زبیر صدیقی کی گرفتاری کی تصدیق تو کی ہے مگر باقی چار افراد کی گرفتاری سے انکار کیا تھا۔

ثنا اللہ امین کی اہلیہ سدرہ بانو جو خود اس گرفتاری کی عینی شاہد ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، کا کہنا ہے کہ اس رات پولیس ان کے گھر سے ان کے شوہر ثنا اللہ اور ان کے دوست اور لاہور میں تحریک چلانے والے طالب علم رہنما زبیر صدیقی کے علاوہ علی اشرف ملک، سلیمان سکندر اور حارث احمد کو گرفتار کر کے لے گئی تھی۔

سدرہ بانو کے مطابق صبح کے چار بجے پولیس نے دروازہ کھٹکھٹایا اور ان کے خاوند کے کزن نے دروازہ کھولا تو اس کو گردن سے پکڑ لیا گیا۔

’اس موقع پر تین چار افراد سادہ کپڑوں میں تھے باقی سب کے سب پولیس وردی میں تھے۔ ان میں کوئی بھی خاتون پولیس اہلکار نہیں تھی۔ انھوں نے کمرے میں جا کر زبیر صدیقی کو پکڑ لیا۔ ایک پولیس اہلکار نے کہا کہ باقیوں کو بھی ساتھ لے چلو۔‘

سدرہ بانو کا کہنا تھا کہ جب میں نے ان سے پوچھا کہ کدھر لے کر جا رہے ہو تو انھوں نے کہا کہ ہمیں صرف زبیر صدیقی سے مطلب ہے جب کہ باقی لوگوں کو صرف پوچھ گچھ کے لیے لے کر جا رہے ہیں۔

’گرفتاریوں کے موقع پر میں نے زوردار تھپڑوں کی آوازیں بھی سنی تھیں، جس سے خوفزدہ ہو کر میں کمرے میں چلی گئی تھی۔‘

،تصویر کا کیپشندعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ تمام گرفتاریاں ثنا اللہ امین کی رہائش گاہ سے ہوئی ہیں

سدرہ بانو کا کہنا تھا کہ صبح انھوں نے پولیس والوں سے پتا کیا تو وہ اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ انھوں نے کسی کو گرفتار کیا ہے۔

’اب تک میں سارے لاہور کے تھانے تلاش کرچکی ہوں۔ مجھے میرے خاوند، زبیر صدیقی اور باقی تین لوگوں جن کا طلبا احتجاج سے کوئی لینا دینا نہیں کہ بارے میں کچھ نہیں بتایا جا رہا ہے۔‘

پولیس کا مؤقف کیا ہے؟

لاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کا کہنا ہے کہ پولیس نے زبیر صدیقی کو گرفتار کیا ہے تاہم انھوں نے کسی قسم کے تشدد کی تردید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’زبیر صدیقی نے جس مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کروائی تھی، انھیں اس میں گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ ان کو ایک اور مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کی سوشل میڈیا پر کئی ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں۔ جس میں ان کو تشدد کرتے اور تشدد پر اکساتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔‘

،تصویر کا کیپشنلاہور پولیس کے ترجمان رانا عارف کا کہنا ہے کہ پولیس نے زبیر صدیقی کو گرفتار کیا ہے تاہم انھوں نے کسی قسم کے تشدد کی تردید کی ہے

رانا عارف کا کہنا تھا کہ پولیس 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کی پابند ہے اور اس سے پہلے ملزم کسی سے بھی ملاقات کا استحقاق نہیں رکھتا۔ انھوں نے کہا کہ ہم زبیر صدیقی کو 24 گھنٹوں میں عدالت میں پیش کر دیں گے۔

تاہم رانا عارف کا کہنا تھا کہ باقی چار افراد کی گرفتاری کے دعوے میں صداقت نہیں کیونکہ پولیس نے مزید لوگوں کو گرفتار نہیں کیا۔

حکومتی مؤقف حاصل کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کی مشیر برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس میں کامیابی نہیں ملی اور بتایا گیا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ میٹنگ میں ہیں۔

طلبا پر تشدد کا خدشہ

طالب علموں کی وکیل بیرسٹر جنت علی کلہیار کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ پولیس نے زیبر صدیقی سمیت پانچ طالب علموں کو گرفتار کیا ہے۔

انھوں نے کہا ’صبح سے سارے لاہور میں ان کو تلاش کیا جا رہا ہے مگر پولیس ان کی گرفتاری سے انکاری ہے۔ جس وجہ سے ہمیں یہ خدشہ ہے کہ ان پر تشدد نہ کیا جا رہا ہو۔‘

بیرسٹر جنت علی نے مزید کہا: ’زبیر صدیقی ایک مقدمے میں نامزد ہیں مگر انھوں نے عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔ ان کی گرفتاری عدالتی احکامات کی شدید خلاف ورزی ہے۔‘

جنت علی کلہیار کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ بھی خدشہ ہے کہ باقی چار طالب علموں کو، جن کا مقدمے میں نام تو نہیں، پولیس نے دیگر افراد لکھ کر گرفتار کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے گرفتاری کو ظاہر نہ کرنا بھی آئین، قانون اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے، جس پر عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

پروگریسو سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی طالب علم رہنما حیدر علی کا کہنا تھا کہ پولیس اور حکومت غیر قانونی ہتھکنڈے اخیتار کر رہے ہیں، جس پر چپ نھیں رہا جائے گا اور جمعے کو دن دو بجے لاہور سمیت پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔

Exit mobile version