آن لائن پروگرام، کلکتہ اور ہمارے شب و روز

مکمل یا غیر مکمل طور پر برطانیہ میں لاک ڈاؤن کو اب ایک سال پورے ہوجائے گا۔ کورونا وائرس کی مار سے بے حال برطانیہ کسی بھی اعتبار سے اب تک مکمل طور پر یہ نہیں سمجھ پارہا کہ کیا لاک ڈاؤن ہی کورونا سے نجات کا واحد راستہ ہے؟

حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ برطانیہ میں حالات پھر معمول پر آجائیں۔ لیکن فی الحال سوائے قیاس آرائی کہ کچھ بھی نطر نہیں آرہاہے۔ تاہم کورونا ویکسن نے کچھ حد تک لوگوں میں اعتماد کی روشنی پیدا کی ہے۔ جس سے زندگی کے واپس لوٹنے کی امیدیں پیدا ہونے لگی ہیں۔ان باتوں کے علاوہ دنیا بھر میں اردو لکھنے پڑھنے والوں نے اپنے اپنے طور پر انٹر نیٹ کے سہارے لوگوں کو طرح طرح سے محظوظ کیا ہے۔کہیں مشاعرہ تو کہیں افسانہ، تو کہیں گفتگو، گویا کہ مختلف تنظیموں نے کورونا سے مایوس لوگوں کے لیے ایک عمدہ اور بہترین مثال پیش کی۔

میں نے بھی پچھلے سال مارچ سے درجنوں آن لائن پروگراموں میں شرکت کی اور لوگوں کو سننے کا اتفاق ہوااور کچھ اپنی بات بھی سنائی۔تاہم اس بات سے بے حد خوشی ہوئی کہ عالمی وبائی دور میں بھی اردو زبان و ادب میں لکھنے پڑھنے والوں کی ایک اچھی خاصی تعداد دکھائی دی۔ جس سے اس بات کا اندازہ ہوا کہ لوگوں میں اردو زبان و ادب کی مقبولیت کافی ہے اورجو لوگ اردو زبان و ادب پر آنسو بہا رہے ہیں انہیں اپنی سوچ پر نظرثانی کرنی چاہیے۔یوں تو مسئلہ ہر زبان و ادب میں ہے بس کچھ لوگ مثبت پہلو کو چھوڑ کر منفی باتوں میں الجھے ہوئے ہیں۔مجھے اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ نئی نسلوں میں جذبہ، پرانی نسلوں میں کچھ جوش اوراس پر انٹر نیٹ کی فراہمی نے کچھ حد تک ہمارے اندرخوشی اور امید ضرور پیدا کیا ہے۔

آن لائن پروگرام کے ذریعہ ہمیں دوسروں کی تحریروں کو پڑھنے اور سننے کا موقعہ ملا۔ تاہم وہیں کچھ لوگوں نے آن لائن پروگرام کے ذریعہ ہمیں گمراہ بھی کیا۔ مثلاً ہر مشاعرے کے اشتہار میں عالمی لکھا جانے لگا اور شاعر کے نام کے ساتھ کسی بیرون ملک کا نام لکھ دیا جاتا۔جب کہ شاعر بہار یا یوپی کے کسی علاقے میں بیٹھا اپنا کلام پڑھ رہا ہوتا ہے۔ وہیں حجاب پہنی خواتین نے بھی خوب شاعری پڑھی۔ تاہم سوشل میڈیا پر الزام تراشیوں کا زور بڑھا کہ ان کے کلام یوپی،کشمیر یالاہور کے لیباریٹیری میں تیار کی گیاہے۔اس کے علاوہ وسرے ہی دن کسی اور شاعرہ نے دعویٰ کر دیا کہ’یہ غزل میری ہے‘۔ روز ایسے نئے اداروں اور انجمنوں کا سامنے آنا جس کے سرپرست سے لے کر صدر، سیکریٹری وغیرہ ایک ہی شخص ہوتاہے۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گزری، جس میں لکھا تھا کہ ’خواتین جتنی مرضی بھیانک اور بے وزن شاعری کر لیں، انکی شاعری مردوں کے نزدیک کلیاتِ غالب سے کم نہیں ہوتی‘۔ میں نے بھی اس بات کو محسوس کیا ہے کہ کچھ خواتین ہندوستان پاکستان سے شاعری لکھوا کران دنوں سوشل میڈیا پر خوب ہنگامہ مچارہی ہیں اور اب یہ علت تو بیرون ممالک میں بسنے والی ان خواتین تک بھی پہنچ گئی ہے جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے۔ اس طرح آن لائن سے جتنی اچھی باتیں سامنے آئیں ہیں اسی طرح نام نمود اور جھوٹی شہرت کے لیے کچھ لوگوں نے اپنی دکان بھی چمکانے کی کوشش کی ہے۔ جس سے ادب اور زبان کا کافی نقصان ہورہا ہے۔

اس دوران اپنے اسپتال کی دفتری مصروفیات،کورونا کی وجہ سے در آنے والا ذہنی دباؤ،مسلسل لاک ڈاؤن اورگھروں میں قید کی زندگی سے اس وقت تھوڑی راحت ملی جب آن لائن زوم کے ذریعہ لندن اور کلکتہ کے چند اہم پروگرام میں شرکت کرنے کا موقعہ ملا۔معروف شاعر اور ادیب جناب ظفر گورکھپوری کے صاحبزادے جناب امتیاز گورکھپوری جو ممبئی میں مقیم ہیں ان کے کلکتہ تشریف لانے پر مختلف تنظیموں نے کئی پروگرام کا انعقاد کیا۔ جس میں بذریعہ زوم آن لائن مجھے بھی شرکت کرنے کا موقعہ ملا۔اس کے علاوہ ان پروگرام میں کلکتہ کی کئی ہستیوں سے ملاقات اور کچھ بات کرنے کا نادر موقع بھی ملا۔

26/ جنوری کولندن کے’اسلام چینل اردو‘کی دعوت پرآن لائن پروگرام ’بزم سخنور‘ میں شرکت کرنے کا موقعہ ملا۔ معروف پریزینٹرسہیل ضرار خلش کے ساتھ اردو زبان و ادب پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اسلام چینل برطانیہ کا معروف چینل ہے جو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نشر ہوتا ہے۔میں یہاں اس بات کی بھی وضاحت کرتا چلوں کہ اسلام چینل برطانیہ پہلے صرف انگریزی زبان میں نشر ہوا کرتا تھا۔لیکن برطانیہ میں اردو بولنے والوں کی خاصی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے پانچ سال قبل اردو نشریات کا بھی آغاز کیا گیا۔اسلام چینل لندن میں اردو زبان کو فروغ دینے میں اہم رول نبھا رہا ہے۔

29 / جنوری کو کلکتہ کے معروف شاعر، ادیب اور مخلص انسان جناب حلیم صابر کو صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کلکتہ کے اردو بستی راجہ بازار کے مدرسہ رشیدیہ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔جس کی صدارت معروف صحافی و شاعرانجم عظیم آبادی نے کی۔اس تقریب میں شہر کی معروف ہستیوں نے شرکت کی۔ شرکاؤ اکابرینِ ادب میں نثار احمد(سیکریٹری۔ مسلم انسٹی ٹیوٹ کلکتہ)، ڈاکٹر عمر غزالی(ایسوسی ایٹ پروفیسر۔محسن کالج ہگلی) ڈاکٹر نہال احمد(سیکریٹری۔ الحمد ایجوکیشن ٹرسٹ کلکتہ)، اورجناب مضطر افتخاری کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ اس پروگرام کی نظامت صدر شعبہ اردو،پی جی سیکشن، بھیرب گنگولی کالج کے اسسٹنٹ پروفیسرطیب نعمانی نے کی۔حلیم صابر صاحب کو تمام لوگوں نے مبارک باد پیش کی اور ان کی ادبی کارہائے نمایاں کو کافی سراہا۔ شرکاء نے حلیم صابر صاحب کے متعلق اس بات کا اعتراف کیا کہ’حق باحق دار رسید‘۔حلیم صابر نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور مہمانوں،ادیبوں اور شاعروں کی آمد پردلی مسرت کا اظہار کیا۔معروف عالمی اناونسر شکیل انصاری کو بھی پہلی بار دیکھنے اور سننے کا موقعہ ملا جو کہ میرے لیے باعثِ مسرت ہے۔اس تقریب میں ممبئی سے تشریف لائے معزز مہمان، مدیر،ماہنامہ اردو آنگن، امتیازگورکھپوری نے کلکتے والوں کا شکریہ ادا کیا اور حلیم صابرصاحب کو مبارکباد پیش کی۔

30/ جنوری کونواب واجد علی شاہ کی نگری مٹیابرج کے، ’گلشنِ اقبال‘میں صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کلکتہ کی جانب سے مدیر ’ماہنامہ اردو آنگن‘ جناب امتیاز گورکھپوری کے اعزاز میں ’ایک شام امتیاز گورکھپوری کے نام‘کااہتمام کیاگیا۔ ادارے کے سیکریٹری محمد اقبال (ڈبلو بی سی ایس)افسر نے اس شاندار محفل میں مقامی لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔اس تقریب میں بہت سے لوگوں نے امتیاز گورکھپوری کواپنی طرف سے تحائف پیش کیے اوراس کے بعدشعری نسشت میں شعرا نے اپنے کلام سنائے۔مہمانِ اعزازی امتیاز گورکھپوری نے اپنی پر مغز تقریر اور سحر انگیزکلام سے سامعین کا دل جیت لیا۔اس پروگرام میں کلکتہ کے معروف ڈرامہ نگار ایس۔ایم۔راشد اور خورشید اکرم نے بھی شرکت کی۔نئی نسل کی شاعرہ درخشاں انجم نے اپنی پیاری آواز سے سامعین کا دل جیت لیا۔پروگرام کے آخر میں مہمانوں کو کلکتہ کی خاص بریانی سے ضیافت بھی کی گئی۔

31/ جنوری کو مغربی بنگال کے ضلع ۴۲ پرگنہ کے کمرہٹی علاقے کی اہم ادبی تنظیم ’کمرہٹی لٹریری اینڈ ایجوکیشنل سوسائٹی‘ کی ادبی نشست کا اہتمام سیکریٹری طیب نعمانی نے اپنے گھر پر کی۔اس ادبی نشست میں علاقے کے معزز شعرا اور ادباء کے ساتھ ممبئی سے تشریف لائے ہوئے مہمان امتیاز گورکھپوری صاحب نے بھی شرکت کی۔اس کے بعد ’قرطاس و قلم‘ جگتدل (شمالی ۴۲ پرگنہ، مغربی بنگال) کے زیر اہتمام امتیاز گورکھپوری صاحب کی شان میں ادبی نشست کا اہتمام کیا گیا۔جس میں بطور مہمان خصوصی محمد اقبال (سیکریٹری صوفی جمیل اختر لیٹریری سوسائٹی کلکتہ) کے علاوہ کئی معزز ہستیوں نے شرکت کی۔ اس نشست کی صدارت عبدالودود انصاری (سابق پرنسپل اردو میڈیم گورنمنٹ پرائمری ٹیچر س ٹریننگ انسی ٹیوٹ)نے کی۔ اس نشست کی نظامت پروفیسر طیب نعمانی نے بحسنِ و خوبی انجام دیا اور اس تقریب میں مقامی شعرا ء نے اپنے کلام سنائے۔ جبکہ جنرل سیکریٹری عظیم انصاری نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس طرح مجھے کلکتہ اور اس کے گرد و نواح میں منعقد ہونے والے ادبی تقریبات میں بذریعہ زوم لندن سے شرکت کرکے بے حد خوشی ہوئی۔اس طرح لندن کے لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے خوف سے کچھ پل کے لیے ذہنی سکون ملا اور اس بات کا بھی احساس ہوا کہ انٹرنیٹ کی برکات اور آن لائن کی سہولت ہمارے لیے کتنا مفید اور کار آمد ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: