آٹو انڈسٹری: پاکستان میں نئی آٹو کمپنیاں چھوٹی گاڑیوں کے بجائے ایس یو ویز کیوں بنا رہی ہیں؟

ایک وقت تھا جب پاکستان میں گاڑی کو ایک لگژری تصور کیا جاتا تھا لیکن اب بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ضرورت بن گئی ہے۔ ملک میں گذشتہ دہائی میں متوسط طبقے میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک میں گاڑیوں کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

البتہ گذشتہ کچھ عرصے سے ملکی معیشت میں گراوٹ، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کے باعث ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے اور کورونا کی وبا کے باعث کاروں کی صنعت متاثر ہوئی ہے۔

تاہم حکومتِ پاکستان کی جانب سے نئی آٹو پالیسی متعارف کروانے کے بعد ملک میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے انٹری کی۔ ان کمپنیوں کے مارکیٹ میں آنے سے پاکستانی صارفین کو سستی اور معیاری گاڑیوں کی آس لگ گئی لیکن ان کمپنیوں نے متوسط طبقے کی توقعات کے برعکس مارکیٹ میں ایسی گاڑیاں متعارف کروائی جو چھوٹی گاڑی لینے والے صارفین کی پہنچ سے بہت دور ہیں۔

ان نئی کمپنیوں نے ہیچ بیک (چھوٹی گاڑی)، سیڈان (ڈگی والی گاڑی) کے بجائے کراس اوور یا کمپیکٹ ایس یو ویز یعنی سپورٹس یوٹیلیٹی وہیکل کو پاکستان میں متعارف کیا جو دیکھتے دیکھتے پاکستانی مارکیٹ میں مقبول ہو گئیں۔

پاکستان کی مارکیٹ جہاں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ صارفین کی قوت خرید کم ہے اور پاکستانی زیادہ تر چھوٹی یا سیڈان گاڑیاں خریدنا پسند کرتے ہیں تو پھر ان نئی کمپنیوں نے ایس یو ویز کو پاکستانی کار مارکیٹ میں کیوں متعارف کروایا؟

اس سوال کے جواب پر گاڑیوں کے آن لائن پورٹل پاک ویلز کے چیئرمین سنیل سرفراز منج کا کہنا تھا پاکستان کی کار انڈسٹری میں آنے والی نئی گاڑیوں کی کمپنیاں جن گاڑیوں کو پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کروا رہے ہیں انھیں ہم مکمل طور پر ایس یو ویز نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ کراس اوور کمپیکٹ ایس یو ویز ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں یہ رحجان پیدا ہوا ہے کہ لوگ سیڈان گاڑیوں سے جنھیں عام طور پر 'ڈگی والی گاڑی' کہا جاتا ہے سے کراس اوور، ایس یو ویز پر منتقل ہو رہے ہیں۔

ہنڈائی کمپنی کی متعارف کروائی گئی ایس یو وی ٹیوسون
،تصویر کا کیپشنہنڈائی کمپنی کی متعارف کروائی گئی ایس یو وی ٹیوسون

سنیل منج کا کہنا تھا کہ پاکستانی مارکیٹ میں کراس اوور کپمیکٹ ایس یو ویز کی کٹیگری واحد تھی جہاں اب تک پہلے سے موجود گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے زیادہ کام نہیں کیا تھا۔ اسی وجہ سے مارکیٹ میں آنے والی نئی کمپنیاں اس کیٹیگری میں اپنی گاڑیاں بنا رہے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کوئی صارف ہنڈا سوک یا ٹویوٹا کرولا سے بڑی گاڑی خریدنا چاہتا ہے تو پاکستان میں اس کے بعد ایس یو ویز میں ٹویوٹا فورچونر یا لینڈ کروزر وغیرہ آتی ہیں جن کی قیمت تقریباً ایک کروڑ اور اس سے زیادہ ہے اور وہ اس صارف کی قوت خرید سے باہر ہو جاتی ہیں۔

اس چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی آٹو انڈسٹری میں نئی آنے والی کمپنیوں نے اس چیز کو ٹارگٹ کر کے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

شبیر الدین ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز چینگان موٹرز بھی اس نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں 40 لاکھ سے 70 لاکھ کے درمیان کوئی گاڑی موجود نہیں تھی۔ یہ مارکیٹ میں ایسا خلا تھا جس کو پر کرنا اور یہاں موجود صارفین کو اپنی جانب متوجہ کرنا بہت اہم تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کٹیگری کے صارف کو پیسے کا اتنا مسئلہ نہیں ہے اور یہ ایک اہم وجہ ہے کہ نئی آنے والی کمپنیوں کے لیے یہ ایک آسان حل ہے کہ وہ اس کیٹگری میں گاڑیاں بنا کر صارفین کو اپنی جانب کھینچ لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دو قسم کی گاڑیاں بہت بکتی ہیں ایک چھوٹی گاڑیاں جنھیں ہیچ بیک کہا جاتا ہے جس کی قیمت دس لاکھ سے 17 لاکھ کی ہیں اور دوسری سیڈان جو 30 لاکھ سے چالیس لاکھ کی گاڑیاں ہے۔

اس لیے نئی کمپنیوں کی کمپیکٹ ایس یو ویز ان 35، 40 لاکھ روپے خرچنے والے صارفین کو مدنظر رکھ کر مارکیٹ میں لائی جا رہی ہیں۔

محمد فیصل چیف آپریٹنگ آفیسر کیا موٹرز کا کہنا تھا کہ 'کیا' کمپنی کے پاکستان میں دوبارہ آنے سے قبل پاکستان میں کوئی بھی کمپیکٹ ایس یو وی گاڑی موجود نہیں تھی اور شاید لوگوں اور کمپنیوں نے یہ ہی سوچا تھا کہ پاکستان میں سیڈان ہی سب سے مقبول گاڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ کے اس پوٹینشل کو دیکھتے ہوئے 'کیا' نے پاکستان میں اپنی پہلی گاڑی 'کیا سپورٹیج' متعارف کروائی، جس کے بعد دیگر کمپنیوں نے اس کیٹگری میں کام کیا۔

پاکستانی مارکیٹ میں نئی آنے والی گاڑیاں کون سی ہیں؟

کیا سپورٹیج
،تصویر کا کیپشنکیا موٹرز کی متعارف کردہ ’کیا سپورٹیج‘ ایس یو وی

سنیل منج کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں سب سے پہلے کورین کمپنی 'کیا' جو پاکستان میں لکی گروپ کے اشتراک سے ایک مرتبہ پھر آئی ہے نے اپنی کمپیکٹ ایس یو وی 'کیا سپورٹیج' کا ماڈل دیا ہے۔

اس کے بعد ہنڈائی کمپنی نے ٹیوسون، چینی کمپنی ایم جی نے 'ایچ ایس' ماڈل کی گاڑی پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کروائی ہے۔ اس کے علاوہ ملائیشین کمپنی پروٹون نے الحاج فا گروپ کے اشتراک سے پروٹون 'ایکس 70' متعارف کروائی ہے، ریگال آٹوز پرنس کی 'گلوری 580' متعارف ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا تقریباً پانچ چھ کمپنیاں اس کٹیگری میں کام کر رہی ہیں۔

نئی کمپنیاں چھوٹی گاڑی کیوں کم بنا رہی ہیں؟

اس سوال پر سنیل منج کا کہنا تھا چھوٹی گاڑیوں کی مارکیٹ میں مقابلہ بہت زیادہ ہے، جس میں اگر پاکستانی مارکیٹ کی بات کی جائے تو سوزوکی مارکیٹ لیڈر ہے۔ سوزوکی کے چار ماڈل آلٹو، ویگن آر، سوئفٹ، کلٹس اس وقت مارکیٹ میں اس کٹیگری میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں دو اور وجوہات بھی اہم ہیں ایک یہ کہ اس کٹیگری کا گاہک ایک دو لاکھ روپے کے فرق سے گاڑی چھوڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے مقابلہ اور سخت ہو جاتا ہے۔ جبکہ 40 سے 65 لاکھ روپے خرچنے والا گاہک ایک دو لاکھ پر فکرمند نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کیٹیگری میں نئی کمپنیوں کے پاس منافع کمانے اور کھیلنے کے زیادہ مواقع ہیں۔

محمد فیصل کا کہنا تھا کہ 'کیا' نے جب پاکستان میں دوبارہ قدم رکھا ہے تو وہ اس ذہن کے ساتھ آئی ہے کہ پاکستان میں ہر کٹیگری میں صارفین کو بہترین اور آرام دہ سفر والی گاڑی مہیا کی جائے۔ اس ضمن میں 'کیا' اور یقیناً دوسری کمپنیاں بھی کام کر رہی ہے۔

پاکستان میں کراس اوور کمپیکٹ ایس یو ویز کی مارکیٹ کتنی ہے؟

چینگان آٹوز کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز شبیر الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیڈان گاڑیوں کی مارکیٹ تقریباً 90 ہزار یونٹس سالانہ کی ہے اور اس میں دس سے 20 فیصد ایسے صارفین بھی ہیں ہو چالیس لاکھ سے 60 لاکھ روپے تک رقم خرچ کر سکتے ہیں تو اگر کوئی کمپنی چالیس لاکھ سے چند لاکھ زیادہ پر انھیں ایک کمپیکٹ ایس یو وی پیش کرے گی تو یقیناً وہ اس کو خریدیں گے۔ لہذا کم از کم ایسے صارفین کی تعداد دس فیصد تو ضرور ہے۔

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پاک ویلز کے سنیل منج کا کہنا تھا کہ اگر ہم اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو پاکستان میں سالانہ دو لاکھ کے قریب نئی گاڑی فروخت ہوتی ہے اور 'کیا' نے گزشتہ ایک برس کے دوران اپنے 'کیا سپورٹیج' کے 20 ہزار یونٹس فروخت کیے ہیں جو کہ ایک اچھی تعداد ہے۔ اس حساب سے پاکستانی مارکیٹ میں کمپیکٹ ایس یو وی خریدنے والوں کی شرح تقریباً دس فیصد ہے۔

پروٹون ایکس 70
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں جلد متعارف کروائے جانے والی گاڑی پروٹون ایکس 70

نئی آنی والی ایس یو ویز کے لیے مقابلہ کتنا سخت ہوگا؟

سنیل منج کا کہنا تھا کہ اس کٹیگری کی پاکستان میں مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ہنڈائی نے ٹیوسون متعارف کروائی اور چند ماہ میں ہی اس کی بکنگ کا دورانیہ سات آٹھ ماہ پر چلا گیا۔

اسی طرح ایم جی نے پاکستانی مارکیٹ میں اس رحجان کو دیکھتے ہوئے اپنی کمپیکٹ ایس یو وی ایچ ایس ماڈل کو باہر سے درآمد کر کے یہاں بیچنا شروع کر دیا ہے جبکہ انھوں نے یہاں پلانٹ چلنے کا انتظار بھی نہیں کیا۔ اسی طرح ریگال آٹوز کی گلوری کی بھی چھ سو گاڑیوں کی بکنگ یہاں تیاری سے قبل ہی ہو چکی تھی۔

ایک طرف یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں گاڑی بہت مہنگی ہے اور دوسری جانب پاکستان کی معیشت بھی نیچے جا رہی ہے اور عوام کی قوت خرید بھی متاثر ہے تو پھر یہ گاڑیاں کون خرید رہا ہے۔

اس سوال پر سنیل منج کا کہنا تھا کہ مارکیٹ سروے کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات بالکل درست ہے کہ 600 سے ہزار سی سی والی گاڑی کی فروخت میں 25 فیصد کمی ہوئی ہے کیونکہ کورونا کی وبا کے دوران معاشی طور پر سب سے زیادہ یہ طبقہ متاثر ہوا ہے تاہم جو 40 سے 60 لاکھ روپے کی قوت خرید رکھنے والا شخص اس سے اتنا متاثر نہیں ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا ایک ثبوت یہ بات بھی ہے جو کپمیکٹ ایس یو ویز بنانے والی کمپنیاں سمجھتی ہیں کہ یہ گاڑیاں مارکیٹ میں اپنی اصل قیمت سے زیادہ پر اوون یا پریمیم پر بک رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ گاڑیاں صارفین کے لیے اپنی اصل مالیت سے زیادہ وقت رکھتی ہیں۔

مثال کے طور پر کیا سپورٹیج یا ہنڈائی ٹیوسون اگر مارکیٹ میں سات سات لاکھ روپے اوون پر بک رہی ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ صارف ان گاڑیوں کو ساٹھ لاکھ روپے سے مہنگی گاڑی کی ویلیو سمجھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کے پاکستانی مارکیٹ میں آنے والی نئی کارساز کمپنیوں نے مارکیٹ میں موجود صارفین کی نبض کو سمجھ لیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب کمپنیوں کو پتا چل گیا ہے کہ یہاں صارفین کو کیا چاہیے، کیونکہ پہلے سے موجود گاڑیوں کی کمپنیوں نے اپنی گاڑیوں میں سیفٹی اینڈ سکیورٹی اور ملٹی میڈیا فیچرز بہت کم متعارف کروائے جبکہ اب نئی کمپنیاں اپنی گاڑیوں کو تمام فیچرز سے آراستہ کر کے مارکیٹ میں متعارف کروا رہی ہیں۔

سنیل منج کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نئی آنے والی کمپنیوں کی ایس یو ویز کی کامیابی کا راز ہی یہ ہے کہ انھوں نے صارفین کو گاڑیوں میں 'ششکے' ڈال کر دیے ہیں۔

جبکہ چینگان موٹرز پاکستان کے شبیر الدین کا کہنا تھا کہ ایک اچھے فیچرز والی گاڑی چلانا پاکستانی صارف کا حق ہے جسے آج تک اس سے محروم رکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا جب پانچ چھ کمپنیاں اس کیٹگری میں آ رہی ہے تو یقیناً ان کے لیے مقابلہ سخت ہوگا اور مارکیٹ سیچوریٹ ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل المدت میں وہ ہی کمپنی مارکیٹ میں بچ پائے گی جو پاکستانی مارکیٹ کو لے کر سنجیدہ ہے، جس نے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رکھی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم چینگان انٹرنیشنل کی بات کریں تو سنہ 2018 میں یہ واحد کمپنی ہے جس نے پاکستان کے ماسٹرز گروپ کے ساتھ 100 ارب ڈالر کی مشترکہ سرمایہ کاری کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صارف اگر کوئی ایسی گاڑی خریدتا ہے جس کی پیرنٹ کمپنی نے پاکستان میں سرمایہ کاری کر رکھی ہو تو ایسی کمپنی کہیں بھاگ کر نہیں جاتی۔

پاکستانی مارکیٹ میں متعارف کروائی جانے والی چینی کمپنی کی گاڑی ایم جی ایچ ایس
،تصویر کا کیپشنپاکستانی مارکیٹ میں متعارف کروائی جانے والی چینی کمپنی کی گاڑی ایم جی ایچ ایس

جبکہ 'کیا موٹرز' کے چیف آپریٹنگ آفیسر محمد فیصل اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں کتنے جوائنٹ ونچرز اور ملٹی نیشنل کمپنیز کی مثالیں موجود ہیں جنھوں نے جب چاہا مارکیٹ سے نکل گئے ایسا نہیں ہے کہ اشتراک والی کمپنیاں باہر نہیں نکلتیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر ہم نظر دوڑائیں ملک میں سوزوکی موٹرز اپنے بل بوتے پر چل رہی ہے جبکہ دیگر دو کمپنیاں مقامی کمپنیوں کے اشتراک سے موجود ہیں لیکن ان تمام نے ماضی میں گاڑیوں کے کتنے ایسے نئے ماڈل متعارف کروائے جو بین الاقوامی سطح پر لانچ ہو رہے تھے حالانکہ وہ جوائنٹ ونچر میں تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی مارکیٹ بہت بدل رہی ہے۔ اب جو اچھی پراڈکٹ دے گا وہی مارکیٹ میں رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر 'کیا' کی بات کی جائے تو اس نے عالمی سطح پر کار انڈسٹری میں دو چیزوں پر بہت کام کیا ہے، ایک اپنی گاڑیوں کے سٹائلنگ پر، اسے نوجوانوں میں مقبول بنانے کے لیے جاذب نظر بنایا ہے اور دوسرا گاڑی کی کوالٹی پر بہت کام کیا ہے۔

'پاکستان میں اگلے چھ ماہ بہت دلچسپ ہوں گے'

چیف آپریٹنگ آفیسر کیا موٹرز محمد فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اگلے چھ ماہ کار انڈسٹری میں بہت دلچسپ اور ہنگامہ خیز ہوں گے کیونکہ پاکستانی حکومت کی جانب سے آٹو پالیسی کے تحت دی جانیوالی مراعات جون 2021 میں ختم ہو جائے گی اور نئی کمپنیاں اس کے اختتام سے پہلے پہلے اپنی مصنوعات (گاڑیاں) مارکیٹ میں لانے کی خواہشمند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگلے چھ ماہ پاکستان کی کار انڈسٹری اور خصوصاً صارفین کے لیے بہت فائدمند ہوں گے کیونکہ ہر کمپنی اس حکومتی آٹو پالیسی کے مدت ختم ہونے سے پہلے پہلے مختلف گاڑیاں مارکیٹ میں لائیں گیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں پاکستان میں سیڈان گاڑیوں کا کلچر کم ہو جائے گا اور ملک میں زیادہ تر چھوٹی گاڑیاں اور ایس یو ویز چلتی پھرتی نظر آئیں گی۔ مگر اس سے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ سیڈان کی کیٹگری میں مقابلہ ختم ہو جائے گا کیونکہ ابھی چینگان نے 'آلز ون' متعارف کروائی ہے جبکہ ایک دو اور کمپنیاں بھی سیڈان کیٹگری میں گاڑیاں متعارف کروانے جا رہے ہیں جن میں ملائیشن کمپنی کی 'ساگا' بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں ملک میں دونوں کیٹگریوں میں رہے گی، سیڈان میں بھی اور ایس یو وی میں بھی۔ جبکہ 'کیا پاکستان' کے متعلق بات کرتے ہوئے محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اگلے برس جنوری میں ہم ایک اور ایس یو وی سورنٹو متعارف کروانے جا رہے۔

اس ضمن میں چینگان کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز شبیر الدین کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کی توجہ اس بات پر ہے کہ ہم متوسط آمدنی والے صارفین کو اچھی اور بین الاقوامی معیار سے مطابقت رکھنے والی گاڑیاں آفر کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف ایس یو ویز ہی نہیں بلکہ دیگر کیٹگریوں میں بھی کمپنیاں اپنے ماڈل لا رہی ہیں جیسے چینگان موٹرز نے سیڈان کی کیٹگری میں 'آلزون' کے نام سے ایک نئی گاڑی متارف کروائی ہے جو چھوٹی گاڑی خریدنے پر مجبور صارفین کو اپنی جانب راغب کرے گی۔

تاہم فی الوقت اس کی قیمت مارکیٹ میں جاری نہیں کی گئی لیکن جنوری میں اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

شبیر الدین کا کہنا تھا 'اس کی قیمت متوسط طبقے کو مدنظر رکھ کر جاری کی جائے گی۔' شبیر الدین کا کہنا تھا کہ 'ہم یہ نہیں کہتے کہ ہم سستی گاڑی لے کر آئے گے، ہمارا وژن یہ ہے کہ جوگاڑی آپ کو دی جا رہی ہے اس کی وقت اس کی قیمت سے بہت زیادہ ہے۔'

مقامی سطح پر تیاری یا لوکلائزیشن کیوں ضروری؟

شبیر الدین کا کہنا تھا کہ اگر پانچ یا چھ کمپنیاں اپنے پانچ چھ ماڈلز لے کر صرف دس فیصد صارفین کے لیے مارکیٹ میں آتی ہیں تو ان کے لیے اس میں زیادہ منافع کمانا اور زیادہ دیر تک ٹکے رہنا مشکل ہوگا اور وہ اتنا منافع نہیں کما پائیں گی۔

اس لیے انھیں اپنی گاڑیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہو گا اور یہ تب ہی ممکن ہے جب کچھ پارٹس مقامی سطح پر تیار کیے جائے جس سے مقامی پارٹس کی صنعت میں نہ صرف روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے بلکہ ان کمپنیوں کو سیڈان کیٹگری کے صارفین کو کمپیکٹ ایس یو ویز کی جانب راغب کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ لوکلائز کرنے کے لیے آپ کو حجم چاہیے یہ تب ہی ممکن ہے جب یہاں نئی کمپنیاں سنجیدگی کے ساتھ سرمایہ کاری کریں، یہاں گاڑیوں کی آفٹر سیلز سروس فراہم ہو اور حکومتی آٹو پالیسی کی مدت ختم ہونے سے پہلے نئے کمپنیاں مارکیٹ میں اپنی گاڑیوں کا حجم بڑھا سکیں۔

'کیا موٹرز' کے محمد فیصل کا کہنا تھا کہ صارفین کا یہ اعتراض ہے کہ نئی گاڑیوں کے پارٹس پہلے سے موجود کمپنیوں سے مہنگے ہیں۔

جیسا کہ نئی کمپنیاں گاڑیوں کے مختلف ماڈلز متعارف کروا رہی ہیں جیسے جیسے ان کے پارٹس کی مقامی سطح پر تیاری شروع ہوتی جائے گی تو یقیناً اس سے ان کی قیمت کم ہو گی اور صارف کو سہولت ملے گی۔

گاڑیاں

ایس یو ویز کی مارکیٹ میں مقبولیت کی وجہ؟

گاڑیوں کی خرید و فروخت کرنے والے ایک نجی کار شو روم ڈیلر سہیل وحید کا کہنا تھا کہ نئی کمپنیوں کی کمپیکٹ ایس یو ویز پاکستانی مارکیٹ میں بہت مقبول ہو رہی ہیں کیونکہ ان گاڑیوں میں سہولت اور آرام سیڈان گاڑی کا اور ڈرائیو فور ویل ایس یو وی کی ہے۔

سہیل وحید کا کہنا تھا ایک اور وجہ اس صنعت سے جڑا اوون یا پرمیئم کا منافع بخش کاروبار بھی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس وقت تقریباً تمام کمپنیوں کی ایس یو ویز پانچ سے سات لاکھ روپے اوون پر بک رہی ہیں کیونکہ سرمایہ کاروں نے گاہکوں کا اس طرف رحجان دیکتھے ہوئے گاڑیاں بک کر لیں ہیں اور اب یہ منافع پر بیچ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں نے بھانپ لیا ہے کہ اب گاہک بھیڑ چال میں ایس یو ویز خریدنے کی کوشش کرے گا لہذا انھوں نے گاڑیاں بک کرو دی ہیں، اصل یا بلواسطہ صارف بہت کم ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والی کمپیکٹ ایس یو وی رکھنے والی ایک خاتون صارف نمرا منیر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان گاڑیوں کی مقبولیت کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ زیادہ آرامدہ ہیں، ان کی گراؤنڈ کلیرنس بہت بہتر ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ تیسری اور سب سے اہم بات کراس اوورز یا کمپیکٹ ایس یو ویز ان صارفین کے لیے ہیں جنھیں سیڈان اور ایس یو ویز دونوں پسند ہیں جیسے مجھے ایس یو وی پسند تھی اور میرے شوہر کو سیڈان لہذا ہم دونوں یہ خریدنے پر آمادہ ہو گئے۔

ان گاڑیوں کے معیار کے متعلق نمرا منیر کا کہنا تھا کہ صارف کے ذہن میں جاپانی گاڑی کی کوالٹی بہتر ہے جبکہ ان نئی کمپنیوں کو اپنا معیار منوانے میں وقت لگے گا۔

کیا مارکیٹ میں پہلے سے موجود کمپنیوں کو فرق پڑے گا؟

'کیا' کمپنی کے محمد فیصل کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت ان کمپنیوں کا جائزہ لیں تو انھیں مارکیٹ میں مقابلے کی فضا کے باعث گھبراہٹ محسوس ہو رہی ہے اور ان کے مارکیٹ شیئر پر یقیناً فرق پڑا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ جتنا عوام توقع کر رہے تھے ہم اتنا فرق نہیں ڈال سکے لیکن ابھی نئی آنے والی کمپنوں کو سال ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا ہے کچھ وقت گزرے گا، صارفین کے اعتماد اور نئے پراڈکٹس مختلف کیٹگری میں آنے سے پرانے مارکیٹ پلیئرز کو ایک واضح فرق ضرور پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے چھ ماہ میں نئی کمپنیوں کے درمیان سر توڑ مقابلہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ نئی کمپنیاں ابھی مارکیٹ میں قدم جما رہی ہیں لیکن جون 2021 میں جب تمام کمپنیوں کے سب ماڈلز متعارف ہو چکے ہوں گے تب آج کے مارکیٹ لیڈرز تب کے مارکیٹ لیڈرز نہیں رہے گے۔

کار ڈیلر سہیل وحید کا کہنا تھا چینی برانڈ کمپنیاں صرف اس صورت میں مارکیٹ میں کامیاب ہوں گی اگر وہ اپنی گاڑیوں کی قیمت کو دیگر کمپنیوں کی قیمت سے واقعتاً کم رکھیں کیونکہ پاکستانی صارف کے لیے چینی کمپنی کا نام آتے ہی دو چیزیں ذہن میں آتیں ہیں، ایک سستی اور دوسری گھٹیا یا بری کوالٹی کی حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بس اگر ان کی قیمت کم ہوگی اور ری سیل بہتر ہوگی تو یہ کامیاب ہوں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: