آکٹوپس کا بطور خوراک استعمال: پیچیدہ مگر ذہین دماغ کے مالک جانور کی مصنوعی افزائش ہونی چاہیے؟

کیا آپ کو آکٹوپس پسند ہے؟ دیکھنے کی حد تک یا بطور خوراک؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کیوں کہ عنقریب آکٹوپس کی تجارتی فارمنگ اور افزائش ایک حقیقت بننے والی ہے۔ لیکن سائنس دانوں اور ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ ایک ایسی ذہین اور حساس مخلوق کی جو درد محسوس کرتی ہے اور جذبات رکھتی ہے محض خوارک کی خاطر تجارتی فارمنگ نہیں ہونی چاہیے۔

سٹیسی ٹونکن کی نوکری کا ایک اہم حصہ روزانہ ڈیوی جونز کے ساتھ کھیلنا ہے۔ ڈیوی جونز ایک آکٹوپس ہے جسے پیار سے ’ڈی جے‘ کا نام دیا گیا ہے۔ عام طور پر آکٹوپس کی عمر چار سال سے تجاوز نہیں کرتی اور ڈی جے اس وقت ایک سال کا ہے۔ سٹیسی کے مطابق آکٹوپس کی عمر کے حساب سے بات کی جائے تو اس وقت ڈی جے کا لڑکپن چل رہا ہے اور اس کی حرکتیں بھی کچھ ایسی ہی ہیں۔

جب سٹیسی ڈی جے کو خوراک دینے کے لیے ٹینک کا ڈھکن اٹھاتی ہیں تو اکثر وہ اپنے چھوٹے سے مصنوعی غار سے باہر نکل آتا ہے۔ لیکن ایسا صرف تب ہی ہوتا ہے جب اس کا موڈ اچھا ہو۔

’موڈ کے ساتھ آکٹوپس کا رنگ بھی بدلتا ہے‘

آکٹوپس،
،تصویر کا کیپشنسٹیسی ٹونکن

سٹیسی کہتی ہیں کہ ’ڈی جے کسی ٹین ایجر کی طرح ہی حرکتیں کرتا ہے۔ کسی دن اس کا موڈ اچھا نہیں ہوتا تو سارا دن پڑا سوتا رہتا ہے۔ کسی دن وہ بہت خوشگوار اور کھیلنے کے موڈ میں ہوتا ہے اور ٹینک میں اِدھر اُدھر گھومتا پھرتا ہے۔‘

سٹیسی برسٹل اکویریم میں ڈی جے کے ساتھ وقت گزارنے والے پانچ اراکین میں سے ایک ہیں۔ لیکن سٹیسی کا خیال ہے کہ ہر ایک کے ساتھ اس کا برتاؤ مختلف ہوتا ہے۔ ’کبھی کبھار تو ڈی جے خوشی سے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیتا ہے۔‘

ڈی جے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ موڈ کے ساتھ اپنا رنگ بھی بدل لیتا ہے۔ سٹیسی نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ’جب یہ نارنجی بھورا ہو جائے تو سمجھ جائیں کہ اب اس کا کھیلنے کو دل کر رہا ہے۔ جب یہ تھوڑا متجسس ہوتا ہے تو اس کی جلد پر چھوٹے چھوٹے دھبے نظر آنے لگتے ہیں۔ تب یہ ادھر ادھر تیرتا ہے اور کبھی کبھار بالکل آپ کے نزدیک آ کر آپ کو دیکھتا رہے گا جو نہایت حیران کن ہوتا ہے۔‘

سٹیسی کہتی ہیں کہ آکٹوپس کی ذہانت اس کی آنکھوں سے جھلکتی ہے۔ ’جب وہ آپ کی طرف دیکھتا ہے تو آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ ان میں کچھ ہے۔‘

سٹیسی اور دیگر رکھوالوں کا کام آکٹوپس کی خوراک کا خیال رکھنا ہے جنھیں مچھلی، کیکڑے اور جھینگوں کے ٹکڑے کھلائے جاتے ہیں۔ سٹیسی کے مطابق ’کبھی کبھار ہم اسے تنگ کرنے کے لیے کھانا کتے کے کھلونے میں ڈال دیتے ہیں تاکہ اسے خود سے شکار کی مہارت بھی حاصل ہو۔‘

آکٹوپس

آکٹوپس کی جس حساسیت کا مظاہرہ سٹیسی نے کیا ہے اسے برطانیہ میں اب قانون کی شکل دی جانے والی ہے۔ سائنسی شواہد کی روشنی میں حیوانات کے تحفظ کے بل میں ایک ترمیم کے ذریعے آکٹوپس کو حساس مخلوق قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مجوزہ ترمیم کے مطابق آکٹوپس نہ صرف خوشی اور مسرت بلکہ غم اور تکلیف بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ قانون متعارف کرانے والے سائنس دانوں کے مطابق ان کو اس بات کا یقین ہے کہ ’خوارک کی غرض سے بڑے پیمانے پر آکٹوپس کی فارمنگ اور افزائش ناممکن ہے اور حکومت ایسے آکٹوپس کی درآمد پر پابندی لگا سکتی ہے۔‘

سمندر میں تیزی سے کم ہوتے ہوئے آکٹوپس

دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ساڑھے تین لاکھ ٹن آکٹوپس شکار کیے جاتے ہیں جو سنہ 1950 کے مقابلے میں دس گنا زیادہ مقدار ہے جس کی وجہ سے ان کی تعداد میں کمی اور قیمت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے کیوںکہ ایشیا سے لے کر امریکہ تک ان کو بطور خوراک استعمال کیا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا میں تو زندہ آکٹوپس کھانے کا رواج بھی پایا جاتا ہے۔

آکٹوپس کی مصنوعی طریقے سے افزائش کی کوششیں کئی سالوں سے جا رہی ہیں۔ مگر یہ مشکل کام ہے کیونکہ اس کا لاروا زندہ چیزیں کھاتا ہے اور انتہائی مخصوص ماحول ہی میں پرورش پا سکتا ہے۔

تاہم اس کام میں سپین کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی ’تنویوا پیسکانووا‘ نے میکسیکو، جاپان اور آسٹریلیا کی کمپنیوں کو مات دے دی ہے۔ اس کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے فارم میں تیار کردہ آکٹوپس آئندہ موسم گرما میں مارکیٹ کرنا شروع کر دے گی اور سنہ 2023 میں وہ عام خریدار تک پہنچ جائیں گے۔

اس کمپنی نے سپینِش اوشیانوگرافک انسٹیٹیوٹ کی تحقیق کی بنیاد پر عام پائے جانے والے آکٹوپس کی اپنے فارم میں افزائش کی ہے۔

یہ فارم تین ہزار ٹن آکٹوپس سالانہ پیدا کرے گا۔ کمپنی کا دعویٰ ہے اس سے سمندروں سے پکڑے جانے والے آکٹوپس کی مقدار میں کمی واقع ہوگی۔

تاہم کمپنی یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ ان آکٹوپسوں کو کن حالات میں رکھا جائے گا۔ یعنی یہ کہ انھیں کس طرح کے ٹینکوں میں رکھا جائے گا، انھیں خوراک کیا دی جائے گی اور انھیں کس طرح مارا جائے گا، یہ تمام باتیں صیغۂ راز میں ہیں۔

بعض عالمی محققین نے اس منصوبے کو ’اخلاقی اور ماحولیاتی لحاظ سے بلاجواز‘ قرار دیا ہے۔ کمیشن اِن ورلڈ فارمِنگ یا سی آئی ڈبلیو ایف نے سپین سمیت کئی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ آکٹوپس کی اس طرح فارمنگ پر پابندیاں عائد کرے۔

سی آئی ڈبلیو ایف کی ڈر ایلینا لارا کہتی ہیں، ’یہ بہت شاندار جانور ہیں۔ یہ الگ تھلگ رہتے ہیں اور نہایت ذہین ہیں۔ اس لیے ان کا ٹینکوں کے اندر رکھا جانا جن میں سوجھ بوجھ کی کوئی تحریک بھی نہ ہے بالکل غلط ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے سنہ 2021 میں آسکر جیتنے والی دستاویزی فلم ’مائی آکٹوپس ٹیچر‘ دیکھی ہے، وہ اس بات کو سمجھ سکتے ہیں۔

آکٹوپس بڑے اور پیچیدہ دماغ کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کی ذہانت کئی سائنسی تجربات سے ثابت ہو چکی ہے۔ وہ چھپنے اور اپنے دفاع کرنے کے لیے سیپیاں اور کھوپرے کا خول استعمال کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ اور بعض کام بھی بہت جلد سیکھ جاتے ہیں۔ یہ اکویریم سے بھاگنے اور ان کے لیے بچھائے گئے جالوں سے خوراک لے اڑنے میں بھی ماہر ہوتے ہیں۔

ان کے اندر ہڈیاں بالکل نہیں ہوتیں اور یہ اپنی علاقائی حدود کی بھرپور حفاظت کرتے ہیں۔ انھیں خوبیوں کی وجہ سے انھیں بند ماحول میں رکھا جانا ان کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایک ٹینک میں ایک سے زیادہ آکٹوپسوں کو رکھا جائے گا تو ہو سکتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو کھانے لگیں۔

اگر سپین کا یہ آکٹوپس فارم کام کرنا شروع کر دیتا ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ یہاں پیدا ہونے والے آکٹوپس کو یورپی قانون کے تحت تحفظ حاصل نہیں ہو گا۔ آکٹوپس اور ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے دوسرے جانوروں کو دماغ کے حامل اور حساس جاندار تصور کیا جاتا ہے، مگر یورپ میں جانوروں کی فلاح کا قانون صرف فَقارِیَہ یعنی ریڑھ کی ہڈی والے جانوروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔

ڈاکٹر جیکب ونتھر کا تعلق یونیورسٹی آف برسٹل سے ہے ان کو بھی کچھ تحفظات ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انسانوں اور آکٹوپس کے 560 ملین برس پہلے ہی اجداد تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک جاندار کی مثال موجود ہے جو کہ ارتقا کے عمل سے گزرتے ہوئے اور جس کا بہت حد تک ہم سے موازنہ ہو سکتا ہے۔ مثلاً ان کی مسئلے ہو حل کرنے کی صلاحیتیں، کھلنا اور ان کے اندر موجود تجسس کرنا انسانوں سے بہت ملتا جلتا ہے جبکہ ابھی وہ دوسری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ممکنہ طور پر یہ ایسے ہی ہے کہ اگر ہم کبھی کسی اور سیارے کی ذہین مخلوق سے مل رہے ہوں۔

آکٹوپس

نوئیوا پیسکانوا نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وہ اس پر سختی سے کاربند ہیں کہ فارمنگ کے ذریعے سی فوڈ پیدا کی جائے۔ کیونکہ ان کا خیال ہے کہ یہ طریقہ کار ماہی گیری پر موجود دباؤ کو کم کرے گا اور یہ یقینی بنائے گا کہ مسلسل، محفوط اور صحت مند طور پر ماہی گیری ہو سکے۔

ڈاکٹر لارا کی دلیل یہ ہے کہ این پی کے اقدامات مکمل طور پر کمرشل بنیادوں پر لیے جا رہے ہیں اور ماحول کے حوالے سے کمپنی کے دلائل بے تکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ماہی گیر آکٹوپس کا شکار کرنا چھوڑ دیں۔

وہ دلیل دیتی ہیں کہ آکٹوپس کی فارمنگ کرنے سے قدرتی طور پر موجود مچھلیوں کے سٹاک پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔

آکٹوپس گوشت خور ہیں اور انھیں خود زندہ رہنے کے لیے دو سے تین مرتبہ کھانا کھانا ہوتا ہے۔ اس وقت ایک تہائی شکار ہونے والی مچھلی کرہ ارض کے دیگر جانوروں کی خوراک بنتی ہے۔ اور تقریباً اس کی نصف سمندری حیات کی فارمنگ کی جانب چلی جاتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ فارم میں موجود آکٹوپس کو پہلے سے سٹاک میں موجود مچھلی میں سے مچھلی کی مصنوعات بطور خوراک دی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر لارا کا یہ بھی کہنا ہے کہ جو صارفین یہ چاہتے ہیں کہ وہ ٹھیک چناؤ کریں تو شاید وہ فارم والے آکٹوپس کو قدرتی طور پر موجود آکٹوپس پر ترجیح دیں۔

وہ کہتی ہیں کہ یہ کسی بھی طرح اخلاقی معیار پر پورا نہیں اترتا ہے۔ ایک جانور اپنی پوری زندگی کھو دے گا۔

آکٹوپسو

دنیا بھر میں فیکٹری فارمنگ کا عمل مختلف انداز میں آگے بڑھا ہے۔

مثال کے طور پر سوروں کو دیکھیے، انھوں نے ذہانت کا ثبوت دیا ہے۔ تو پھر فیکٹری فارمنگ میں پرورش پانے والے سور سے بننے والے بیکن سینڈوچ اور فیکٹری فارمنگ کے آکٹوپس سے بننے والی معروف ہسپانوی ڈش ’پلپو آ لا گالیگا‘ میں کیا فرق ہے۔

ماہرین ماحولیات اس بات پر دلیل دیتے ہیں کہ فارم میں پالے جانے والے جانوروں کے جذبات کے بارے میں جب انھیں نگرانی کے سسٹم میں رکھا گیا تو کچھ معلوم نہیں تھا اس لیے ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔

ڈاکٹر لارا کا کہنا ہے کہ سوروں کو کئی سال تک پالا گیا اور ان کے بارے میں ہم کافی معلومات رکھتے ہیں کہ اُن کی کیا ضروریات ہیں اور ان کی زندگی کو کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے۔

آکٹوپس

آکٹوپس کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ وہ مکمل طور پر جنگلی ہیں اور اس لیے ہم درست طور پر یہ نہیں جانتے کہ ان کی کیا ضروریات ہیں یا انھیں بہتر زندگی کیسے فراہم کی جا سکتی ہے۔

اسے دیکھتے ہوئے کہ ہم آکٹوپس کی ذہانت کے بارے میں کیا جانتے ہیں اور اس حقیقت کے پیش نظر بھی کہ وہ فوڈ سکیورٹی کے لیے لازمی نہیں ہے۔ تو کیا ایک ذہین اور پیچیدہ مخلوق کو بڑی مقدار میں خوراک کے لیے پیدا کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر ونتھر کہتے ہیں کہ یہ بہت پیچیدہ نوع ہیں۔ ’میرا خیال ہے بطور انسان ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے اگر ہم ان کو فارم میں رکھنا چاہتے ہیں یا کھانا چاہتے ہیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: