آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

اکتوبر سے کچھ خبریں ایسی ہمارے آس پاس گھوم رہی ہیں جن کاتعلق آنے والے دنوں سے ہے۔ ان میں امریکی الیکشن کے نتائج، کورونا دوبارہ پھیلنے کاخوف، کورونا ویکسن کی ایجاد،ہندوستان کے صوبہ بہار میں ریاستی انتخاب کا نتیجہ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہار ماننے سے انکار وغیرہ ایسی خبریں ہیں جس پر اب تک لوگ الجھے ہوئے ہیں۔

الجھن اس بات سے ہے کہ جب انسان کا اعتماد اور یقین ہر بات سے اٹھ جائے تو بیچارہ انسان کرے بھی تو کیا کرے۔ پھر بھی مذہبی عقائد کے لوگ تو کچھ پل کے لیے اپنے خدا پر معاملہ کو چھوڑ کر اپنا پلو جھاڑ لیتے ہیں۔لیکن کچھ لوگ جنہیں محض اپنی ذات اور مفاد کی پرواہ ہوتی ہے وہ لوگ تو ہر حد پار کرنے کو تیار بیٹھے رہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر اگر نظر دوڑائیں تو لوگوں کی رائے اور پوسٹ سے آپ کو یوں محسوس ہوگا کہ اس کا استعمال کرنے والا کتنا اچھا اور بھلا انسان ہے۔ یعنی کوئی کسی دانشور کا قول تو کبھی کسی مذہبی پیشوا کی بات تو کبھی کسی کی اوٹ پٹانگ بیانا ت کو مسلسل پوسٹ کررہاہے۔ گویا ہر کوئی بلا جھجھک سوشل میڈیا پر اپنی بات رکھ کر دوسروں کی نظر میں اپنے مرتبہ کو اعلیٰ کرنے میں جٹا ہوا ہے۔وہیں کچھ سر پھرے اپنے مفاد کی خاطر ایسی ایسی باتیں پوسٹ کرتے ہیں کہ پڑھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ویسے سوشل میڈیا نے انسانی زندگی میں جو نشہ پیدا کیا ہے اس کا
فی الحال تو ختم ہونا ناممکن لگتا ہے۔

میرا اپنا تجربہ قدرے مختلف ہے۔ میں سوشل میڈیا کو مثبت پہلو سے دیکھتا ہوں۔ جس کی وجہ سے ہمیں ان باتوں سے فیضیابی ہوتی ہے جس سے ہم بے بہرہ ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم کہیں نہ کہیں دھوکہ کھا ہی جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ ہمارے ایک جاننے والے کے ساتھ ہوا جنہوں نے میرا جینا حرام کر رکھا تھا۔ ان صاحب نے امریکی الیکشن سے قبل، ایک ہی رٹ لگا رکھی تھی کہ اللہ کرے ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار ہو لیکن جو بائڈن بھی بہت خطرناک انسان ہے۔میں تو ان صاحب کی بات کو سن کر اس قدر کوفت میں مبتلا ہوا کہ میں نے پوچھ ہی ڈالا کہ آخر آپ چاہتے کیا ہیں۔ کئی بار ہم دونوں کے بیچ گرما گرم بحث بھی ہوئی لیکن آخر کار میں نے ان سے یہ کہہ کہ جان چھڑائی کہ بھائی میں صرف ٹرمپ کی ہار چاہتا ہوں۔جس پر انہوں نے بھی اتفاق کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تو ہار چکے ہیں جس کا اعلان پچھلے ہفتے ہی ہوگیا تھا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ بھی کمال کا انسان ہے۔ وہ اپنی اس بات پر اڑا ہواہے کہ امریکہ کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔سر پھرے ٹرمپ نے عدالت جانے کی بھی دھمکی دی ہے۔ لیکن اب تک مغرور ٹرمپ کو کوئی کامیابی نصیب نہیں ہے۔ٹرمپ تو کہہ رہے ہیں کہ چت بھی اپنی پٹ بھی اپنی،میں کہاں ہار ماننے والا۔ شاید اسی لیے ٹرمپ گولف کھیل رہے ہیں کہ تاکہ کسی طرح وہ اپنا غصّہ گولف کے اس بال کو مار کر نکالے جس کا اظہار حقیقی معنوں میں وہ نہیں کر پا رہے ہیں۔تاہم گولف کی بال کو مار کر شاید الیکشن کی ہار کاصدمہ ٹرمپ کے دل و جان سے نکلے تاکہ وہ اخلاقی طور پر امریکہ کے نئے ہونے والے صدر کو بڑھ کر جیت کی مبارک باد دے اور آئندہ اپنی زندگی میں جو غلطیاں کی ہیں انہیں درست کریں۔

ادھر برطانیہ میں دوبارہ 3نومبر سے لاک ڈاؤن لگا دیا گیاہے۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ برطانیہ میں کورونا وائرس دوبارہ تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔جس سے یہاں کی عوام ایک بار پھر خوف کی زندگی گزارنے لگے ہیں۔وزیراعظم بورس جونسن نے اپنے سائنسی اور طبی صلاح کاروں کے مشورے کے بعد لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اس بار کا لاک ڈاؤن پچھلی بار کے مقابلے میں نہ ہی تو اتنا سخت ہے اور نہ ہی اثر انداز ہے۔ سڑکوں پر گاڑیاں دوڑ رہی ہیں۔ زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔ اسکول، کالج اور یونیورسیٹیوں میں تعلیمی نظام بحال ہے۔ انڈر گراؤنڈ، ٹرین اور بسوں میں لوگ ماسک پہنے سفر کر رہے ہیں۔ پارک کھلے ہوئے ہیں۔ سپر مارکیٹ سے لے کر کاھنے پینے کی دکانیں ٹیک اوے کے طور پر اپنا سامان بیچ رہے ہیں۔ حکومت کے گھر سے کام کرنے کے اعلان کے باوجود بہت سارے لوگ دفتر جارہے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیاوزیراعظم بورس جونسن لاک ڈاؤن کی معیاد کو بڑھا کر 3 جنوری کر دیں گے؟ کیونکہ برطانیہ میں منائے جانے والا واحد تہوار کرسمس، 25دسمبر کو ہے اور نئے سال کا جشن 1جنوری کوہے اور اگلے مہینے ہی ہے۔ اُن دنوں برطانیہ میں زیادہ تر لوگ چھٹیاں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سارے لوگ اُن دنوں چھٹی گزارنے کے لیے دوسرے ممالک کا سفر کرتے ہیں۔ ایسا قیاس لگایا جارہا ہے کہ بہت ممکن ہے وزیراعظم لاک ڈاؤن کی مدت کو بڑھا کر 3جنوری کر دیں۔ تاہم فی الحال عوام کے گلے میں کانٹا اٹکا ہوا ہے کہ جو نہ کہ نگلتے بن رہا ہے اور نہ ہی اگلتے۔

ان ہی الجھی باتوں کے درمیان ایک امید افزا خبر یہ آئی ہے کہ کورونا وائرس کا ویکسن تیار ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق جرمنی کے دوسائنسداں جو میاں اور بیوی ہیں اور جن کے والدین ترکی سے آکر جرمنی میں بسے ہوئے ہیں، انہوں نے اس ویکسن کی ایجاد کی ہے۔ اس خبر سے ساری دنیا میں کورونا وائرس سے پریشان لوگوں کو راحت ملی ہے۔ برطانیہ نے تو اس بات کا بھی اعلان کر دیا ہے کہ کورونا ویکسن دسمبر سے لوگوں کو دینا شروع کیا جائے گا اور ضعیف، اورہیلتھ ورکر کو ویکسن دینے میں ترجیح دی جائے گی۔

اسی دوران ہندوستان کے صوبے بہار میں ریاستی الیکشن پر بھی دنیا کے کافی لوگوں کی نگاہ تھی۔دنیا بھر میں ریاست بہار کے بسے ہوئے لوگوں میں الیکشن کے متعلق ملاجلا ردعمل تھا۔ ایکزیٹ پول نے مہاگٹ بندھن کو الیکشن جیتنے کا اشارہ دیا تھا۔ لیکن جب تمام نتائج سامنے آئے تو پتہ یہ چلا کہ راشٹریہ جنتا دل ہی واحد پارٹی ہے جس نے سب سے زیادہ سیٹ جیتا ہے۔لیکن حکومت سازی کے لیے پریشان بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایسا جشن منایا ہے کہ معلوم یہ پڑرہا ہے کہ الیکشن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اکیلے ہی جیتا ہے۔ این ڈی اے میں شامل بی جے پی اور جے ڈی یو کی حکومت بننا طے ہے او ر نتیش کمار بہار کے وزیر اعلیٰ عہدہ کا ساتویں مرتبہ حلف لے کر تاریخ رقم کریں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے مخصوص انداز میں الیکشن جیتنے کا سہرا پارٹی ورکروں کے سر رکھتے ہوئے ان کی خوب سراہنا کی اور آنے والے دیگر ریاست میں الیکشن کے لیے تیار رہنے کی بھی تلقین کی ہے۔ظاہر سی بات ہے مودی بہار کے الیکشن کے نتائج سے اپنی خود اعتمادی کا فائدہ اٹھاکر عنقریب ہی دوسری ریاستوں میں ہونے والے الیکشن میں پارٹی کو جیت کا یقین دلانا چاہتے ہیں۔تاہم سابق وزیر اعلیٰ لالوپرساد کے بیٹے تیجسوی یادو نے بھی ہار نہیں مانی ہے۔ عام طور پر اکیلی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر حکومت بنانے کا دعویٰ کوئی بھی کر سکتا ہے جو کہ فی الحال ناممکن لگ رہا ہے۔ تاہم سیاست میں کچھ بھی ہونا حیرانی نہیں ہوگا۔

اس ہفتے دنیا بھر میں کہیں جوڑ توڑ کی سیاست ہو رہی تو کہیں امیدافزا بات ہورہی ہے۔کورونا سے کہیں حالات بدل رہے ہیں توکہیں حالت مزید خراب ہورہے ہیں۔ان تمام باتوں کے علاوہ کورونا ویکسن کی ایجاد سے لوگوں کو کچھ پل کے لیے راحت ضرور ملی ہے۔ جہاں امریکہ کے عوام ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار کا جشن منارہے ہیں تو وہیں ٹرمپ کے حمایتی اس بات کا احتجاج کر رہے ہیں کہ امریکی الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ کئی ممالک ٹرمپ کی ہار سے مایوس ہیں تو کئی ممالک میں ٹرمپ کی ہار سے ایک امید جاگی ہے۔یوں تو مایوسی کفر ہے، اس بات کو ہم اور آپ مانتے ہیں۔ اور اسی امید پر ہم کہتے ہیں کہ، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *