آہ فلسطین!

جب سے ہوش سنبھالا ہے اس بات پر افسوس کرتارہا کہ اسرائیلوں نے فلسطینیوں پر ظلم کی ہرانتہا پار کر دی ہے۔کبھی ہم اپنی بے بسی پر آنسو بہا کر خاموش بیٹھ جاتے تو کبھی احتجاجاً کچھ لکھ کر اپنی آواز کے ذریعہ دنیا کو آگاہ کرتے کہ بس اب فلسطینیوں پر ظلم بند ہونی چاہیے۔

تاہم اپنے اپنے طور پر دنیا بھر میں لوگ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی احتجاج کر رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اب تک اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔جس کی ایک وجہ فلسطینیوں کی کمزور لیڈر شپ اور عرب ممالک کی لاپرواہی کہا جاسکتا ہے۔ویسے بھی عربوں سے کس بات کی توقع کی جا سکتی ہے۔یوں تو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں میں تناؤ مسلسل بنا رہتا ہے۔ جس کی ایک وجہ اسرائیلیوں کا فلسطینی زمین پر ناجائز قبضہ ہے۔ جس کی مخالفت میں امریکہ اور مغربی طاقتیں اپنا منہ بند کئے بیٹھی ہیں۔ آئے دن سوشل میڈیا اور کبھی کبھار عالمی خبروں کے ذریعہ اسرائیلی لوگوں کو فلسطینی زمین ہڑپ کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔جس میں بے بس فلسطینی سوائے اپنی آواز بلند کرنے کے اور کچھ نہیں کر پاتے۔ اس پر ستم یہ کہ ان بے گھر فلسطینی کا کوئی پرسانِ حال بھی نہیں ہوتا ہے۔اگر کسی نے ان کی حمایت میں بات کرنے کی کوشش کی تو اس کو مختلف زاویے سے کسی نہ کسی طرح اسرائیلی مخالف بتا کر منہ بند کروادیا جاتا ہے۔

ایک صدی سے زیادہ عرصے یہودی اور عرب دریائے اردن اور بحیرہ روم کے سمندر کے درمیان سر زمین کے مالک بننے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ 1948میں اسرائیل کا قیام ہونے کے بعد سے فلسطینیوں کو کئی طرح کی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جبکہ تنازعہ اب بھی جاری ہے اور دونوں ہی محفوظ نہیں ہیں۔ ایک یقینی بات یہ ہے کہ ہر چند سالوں میں میں کم از کم ایک سنگین اور پر تشدد بحران ضرور پیدا ہوتا ہے۔پچھلے چند ہفتوں میں رمضان المبارک کے دوران اسرائیلی پولیس نے فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی اور مارا پیٹا گیا۔ مسجد اقصیٰ، (جو کہ مکہ اور مدینہ منورہ کے بعد مسلمانوں کے لئے سب سے مقدس مقام ہے)کے اندر سی ایس گیس اور اسٹن گرینیڈ استعمال کئے گئے۔ تاہم حماس نے اسرائیل کو مسجد اقصیٰ احاطے اور شیخ جراح سے اپنی فوجیں ہٹانے کے لئے الٹی میٹم جاری کیا تھا اور اس کے بعد حماس نے تل ابیب پر راکٹ فائر کئے۔جس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے ہوائی حملہ کرکے کئی فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے جس میں بچے بھی شامل ہیں۔

عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کے لئے یروشلم شہر کا تقدس صرف ایک مذہبی معاملہ نہیں ہے۔ یہودی اور مسلمان مقدس مقامات کو قومی علامت بھی سمجھتے ہیں۔ جغرافیائی طور پر یا لفظی طور پر ان مقدس مقامات کی دوری کوایک پتھر پھینکنے کی دوری سے بھی مشابہت کر سکتے ہیں۔اسرائیلی چوکی کے دوسری طرف، ہولی سیلچر چرچ بھی قریب ہے۔اس کے پاس ہی پرانے شہر یروشلم کی دیواروں کے باہرفلسطینیوں کاشیخ جراح کا وہ علاقہ ہے جہاں انہیں گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جس کا معاملہ اسرائیل کی عدالتوں میں چل رہا ہے جہاں یہودی آباد کار گروہوں فلسطینی زمین اور جائدادکا دعویٰ کر رہے ہیں۔

یروشلم کے جراح علاقے کی فلسطینی زمینوں کا معاملہ عام تنازعہ سے زیادہ ہے۔ یروشلم کو مزید یہودییوں کا علاقہ بنانے کی سازش کئی برسوں سے جاری ہے۔ جس کی اسرائیی حکومت حمایت بھی کرتی ہے۔بین الاقوامی قانون کو توڑتے ہوئے فلسطینیوں سے زمین چھین کر یہودیوں کے مکانات تعمیر کئے جارہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں حکومت اور آباد کارگروہوں نے پرانے شہر یروشلم کے فلسطینیوں کو بے دخل کر کے کئی مکانات تعمیر کئے ہیں۔ جس پر فلسطینی مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں۔

اسرائیل اور حماس کے مابین لڑائی یروشلم میں ایک مقدس پہاڑی کے احاطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے مابین بڑھتے ہوئے جھڑپوں کی وجہ سے شروع ہوئی۔اس جگہ کو مسلمان اور اسرائیلی دونوں احترام کرتے ہیں۔مسلمانوں کے لئے قبلہ اول بیت المقدس،(حرم الشریف،نوبل سینکچری) اور یہودیوں کے لئے ہیکل پہاڑ قابلِ احترام ہے۔حماس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ وہاں سے قریب عرب ضلع شیخ جراح سے پولیس کو ہٹا دیں، جہاں فلسطینی خاندانوں کو یہودی آباد کاروں کی وجہ سے بے دخلی کا سامنا کرنا پڑاہے۔

اپریل کے وسط میں اسلامی مقدس ماہ رمضان کے آغاز سے ہی اسرائیلی پولیس کے ساتھ محاذ آرائیوں کے نتیجے میں مشرقی یروشلم میں ہفتوں میں بڑھتی کشیدگی کی وجہ سے فلسطینیوں کا غصہ بڑھنے لگا تھا۔دونوں طرف کے لوگوں میں دن بدن تناؤ بڑھتا ہی جارہا تھا۔ دونوں طرف اپنی گہری مذہبی اور قومی اہمیت کے حامل لوگوں میں اس شہر کی تقدیر کئی عشروں پرانے اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کا مرکز رہا ہے۔اسرائیل نے 1980میں مشرقی یروشلم کو منسلک کر دیا تھا اور اس پورے شہر کو اپنا دارلحکومت سمجھا تھا۔ حالانکہ اس کو دوسرے ممالک کی اکثریت تسلیم نہیں کرتی ہے۔ وہیں فلسطینی امید اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یروشلم کے مشرقی نصف حصہ ان کی اپنی ریاست ہے۔

غزہ کی پٹی اور اسرائیلی فوج میں فلسطینیوں کے مابین ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔اقوام متحدہ کو مکمل پیمانے پر جنگ کا خدشہ ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسندوں نے 36گھنٹوں میں ایک ہزار سے زیادہ راکٹ فائر کئے ہیں۔ اسرائیل نے ایک مہلک فضائی حملے میں منگل 11/مئی کو غزہ میں دورہائشی ٹاور عمارتوں کو بم سے گرا دیا ہے۔جس میں کافی لوگوں
کی مارے جانے کی خبریں ہیں۔ وزارت صحت نے بتایا کہ اب تک چھ اسرائیلی اور پچاس سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں جن میں بہت سارے بچے بھی ہیں۔
اسرائیلی عربوں نے بھی کئی اسرائیلی شہروں میں پر تشدد مظاہرے کئے ہیں۔ اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب کے قریب واقع لود شہر میں ایمرجنسی لگا دی گئی ہے۔اسرائیلی پولیس اور فلسطینی مظاہرین کے مابین پر تشدد لڑائی ہفتوں میں یروشلم کے کئی جگہوں پر پھیل گئی ہے جو مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے لئے مقدس ہے۔وہیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے کہا ہے کہ وہ جاری تشدد پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔

کہیں اسرائیل کے قیام کرنے کے لیے دوسری جنگ عظیم ایک بہانہ تو نہیں تھا؟ اگر آپ اس پر غور کریں تو ہٹلر کو ایک خاص قوم یہودیوں کو نشانہ بنانا اور اس کی اس حرکت سے آخر کار 1948میں برطانیہ نے اپنی طاقت سے اسرائیل ملک کے قیام کا اعلان کر دیا۔یہ بات تو زیرِ بحث ہے اور رہے گی کہ آخر ہٹلر اپنی طاقت کا نشہ صرف یہودیوں کے خلاف ہی کیوں کر رہا تھا؟ لیکن ایک بات تو اب سمجھ میں آتی ہے کہ ہٹلر کے ذریعہ لاکھوں یہودیوں کو مارنے کانتیجہ یہ ہوا کہ یہودیوں کو ان کا ایک ملک مل گیا جس کا نام اسرائیل پڑا۔اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں کہ اسرائیل کا قیام فلسطینیوں کی زمین کو ہڑپ کر کے کیا گیاتبھی تو عالمی برادری منہ بند کئے محض تماشائی بنی ہوئی ہے۔

میں فلسطینیوں پر ظلم کے خلاف اسرائیل کی درندگی کی سخت مذمت کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ عالمی برادری اس معاملے کو سنجیدگی سے حل کرے تاکہ معصوم لوگوں کی جان نہ جائے اور خون مزید نہ بہے۔ میں اسرائیلی اور فلسطینیوں کو ایک ساتھ رہتے دیکھنا چاہتا ہوں جیسا کہ صدیوں سے وہ فلسطین میں رہ رہے تھیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *